Mahdi ahs
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    پیرِ کامل کی تلاش فرض ہے

    بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

    اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو اور اسکے قرب کا وسیلہ تلاش کرو اور اسکے راستے میں جہاد کرو تاکہ فلاح پاؤ۔
    O ye who believe! Do your duty to Allah, seek the means of approach unto Him, and strive with might and main in his cause: that ye may prosper.
    Al-Qur'an, 005.035 (Al-Maeda [The Table, The Table Spread])
    Ref: Yusuf Ali

    سراپا دین دو باتوں میں ہے، ایک اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچنا اور دوسرا اللہ کا قرب حاصل کرنا اور اسکے لئے وسیلہ تلاش کرنا۔ سب سے بڑا وسیلہ تو خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ و صلعم) تھے اور آج بھی آپ (صلی اللہ علیہ و صلعم) کی اتباع وسیلہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح قرآن شریف بھی اللہ کی رسی ہے۔ وہ بھی وسیلہ بن سکتی ہے۔ چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ و صلعم) نے خور فرمایا کہ میں تم میں دو بھاری چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب ہے اور دوسری میری عترت۔ اب عترت مطلق لفظ ہے، جب لفظ مطلق کہا جاتا ہے تو اسکی فرد کامل ہی مراد ہوتی ہے اور عترت محمد (صلی اللہ علیہ و صلعم) میں کامل فرد جس کی طرف خود حضور (صلی اللہ علیہ و صلعم) نے ارشاد فرمایا ہے وہ ہے المہدی منی یقفو اثری و لا یخطی پس حضرت مہدی موعود (علیہ السلام ) بھی وسیلہ ہیں اسلئے کے بحثیت خلیفتہ اللہ آپ کی آمد ہی بندوں کو اللہ سے ملانے، بندوں کو اللہ کے دیدار سے مشرف کروانےکے لئے ہوئی ہے۔ اسی طرح وہ مرشدین کرام جو صاحبِ رشد و ہدایت کے منصب پر ہیں وہ بھی وسیلہ بن سکتے ہیں۔
    - ماخوذ: نورِ ایمان از مولانا عابد خوندمیری صاحب


    واضح رہے کہ اس آیتہ کریمہ میں اللہ تعلی نے ایمان والوں کو مخاطب فرمایا ہے۔ صرف اسلام لانے والے مسلمانوں کو مخاطب نہیں فرمایا۔ اس آیتہ کریمہ آمنوا سے قرآن اور احادیث صحیحہ حضرت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و صلعم) پر ایمان لانا مراد ہے ۔ ایسے ہی ایمان لانے والے مومن کو اللہ تعلی مخاطب کرکے فرما رہا ہے کہ اتقوا اللہ یعنی اللہ سے ڈرو۔ اس حکم میں تمام اوامر و نواہی شمل ہے جن کی تعمیل مومن پر فرض ہے۔

    پیرِ کامل کی تلاش فرض ہے پیرِ ناقص کے ہاتھ پر بعیت جائز نہیں۔ یعنی نلاش کرو اسکی طرف وسیلہ سے مراد بعیتِ پیرِ کامل ہے یعنی منازلِ سلوک، عرفان حق، دیدارِ حق، نفس و رب کی پہچان اور ذاتِ الہی کے حصول کےلئے پیرِ کامل کی ذات وسیلہ ہے۔

    تلاش کرو اے اس بات کا صاف اِشارہ ہے کہ پیرِ کامل تلاش کرو۔ کیونکہ پیرِ ناقص یا پیرِ رسمی اس راستہ میں رہبری نہیں کر سکتا۔ چنانچہ حضرت امام الکائینات امامنا سیدنا مہدی موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ "خوب پرکھ ٹھوک کر جس طرح دو پیسے کی ہانڈی خریدتے ہیں اسی طرح جانچ پڑتال اور پرکھ کر پیرِ کامل کو اپنا پیر بناؤ اور اس کے ہاتھ پر بعیت کرو"۔
    ماخوذ: وسیلہ۔



    Is the word "Murshid" ( مُرْشِد) mentioned in the Holy Quraan??

    وَتَرَى الشَّمْسَ إِذَا طَلَعَتْ تَزَاوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَهُمْ فِي فَجْوَةٍ مِنْهُ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُرْشِدًا ۝

    018.017 Thou wouldst have seen the sun, when it rose, declining to the right from their Cave, and when it set, turning away from them to the left, while they lay in the open space in the midst of the Cave. Such are among the Signs of Allah: He whom Allah, guides is rightly guided; but he whom Allah leaves to stray,- for him wilt thou find no protector to lead him to the Right Way. - (Translation : Yusuf Ali)

    018.017 And thou mightest have seen the sun when it rose move away from their cave to the right, and when it set go past them on the left, and they were in the cleft thereof. That was (one) of the portents of Allah. He whom Allah guideth, he indeed is led aright, and he whom He sendeth astray, for him thou wilt not find a guiding friend. - (Translation : Pickthall)

    Al-Qur'an, 018.017 (Al-Kahf [The Cave])



    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.