Mahdi ahs
  • His Nasab
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    Nooriana Audio Player

    Download urdu fonts   
    for better viewing


    میراں حضرت سید محمد مہدی موعود جونپوری علیہ السلام کی آخری وصیت

    روایت ہے کہ وہاں سب کو جمع کر کے آخری وصیت کی۔ فرمایا جو کوئی عدم سے وجود میں آیا ہے اس کو یہی راہ درپیش ہے۔ ولی ہو یا نبی۔ حتی کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و صلعم بھی یہاں نہ رہے، اسی طرح بندہ بھی نہ رہےگا۔ جو کچھ کہ تم کو کہا گیا وہ بامر اﷲ کہا گیا ہے، بندے کا کام تبلیغ کاتھا۔ اس بوجھ کو بندہ نے تمہارے سر اتار دیا ہے۔ اب عمل کرنا تمہارے ہاتھ ہے۔ اگر عمل نہ کرو گے۔ کف افسوس ملوگے۔ اس فرمان سے حاضرین پر بڑی رقت طاری ہوئی۔ سب نے نہایت ہی گریہ و زاری کی۔ اور کہا۔ افسوس ظل اﷲ ہمارے سر سے نکلا جاتا ہے۔ جناب شاہ نعمت رضی اللہ عنہ نے ایک آہ کا نعرہ مارا۔ حضرت علیہ السلام نے فرمایا۔ سچ ہے جو بندے کے روبرو گئے وہ سبقت لے گئے اور جو رہ گئے ان پر سارا بار پڑ گیا۔ فرمایا۔ خدایا ! میں ان تمام کو تجھ کو سونپ جاتا ہوں، تو انہیں اپنی حمایت میں لے، صاحب !محمد نبی (صلی اللہ علیہ و صلعم) اور محمد مہدی (علیہ السلام) کو فنا نہیں ہے انہیں صرف ایک گھر سے دوسرے گھر کو جانا ہے اور اگر کسی کو میری مہدیت یا میرے قول میں شک ہو یا آزمائش منظور ہو تو قبر میں رکھنے کے بعد مجھ کو دیکھو۔ جب مجھ کو وہاں پاؤ تو سمجھو کہ میں مہدی موعود نہیں ہوں۔ جب تک تم میرے مدعا اور میرے لائے ہوئے احکام پر عمل کرو گے۔ میں تم میں ہوں۔ جب یادِ خدا اور طلبِ دیدارِ خدا جو میری دعوت کی اصل اصول ہے، تم میں سے جاتی رہے تو جانو کہ اس وقت میں تم میں نہیں ہوں۔ اس فرمان کے بعد عمل کے دور ہو جانے کے بعض علامات کو اس طرح بیان فرمایا کہ خدا کی یاد اور اس کی طلب تمہارے دل سے نکل جائے۔ اغنیاء، اہل دنیا کا میلان تمہاری جانب ہو جائے اور تم سے نفرت اور بیزاری اور مخالفت نہ کریں اور تمہارے تکلیف کے درپے نہ ہوویں اور نفسانی خواہشات سے تمہارا نفس مراد مند رہے تو جانو کہ اس وقت یہ بندہ تمہارے میں نہیں ہے لیکن انشاء اﷲ تعلی مہدی و مہدیاں قیامت تک رہیں گے۔




    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.