![]() Mahdi ahs Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed Mahdia & Esaa |
قرآن مجید میں لفظ ” مہدی“ کا ذکر
قرآن مجید میں بہت سارے مسائل ایسے ہیں جن کا تفسیر و تطبیق احادیث شریفہ کے بغیر ممکن نہیں مثلاً قرآن مجید میں صرف اقیمو الصلوة ہے لیکن صلوة الفجر و صلوة الظہر وغیرہ نمازوں کی خصوصیتیں اور ان کو ادا کرنے کی ترکیبیں ‘ ذات سرور کائنات ہی سے معلوم ہوئی ہیں۔ ان خصوصیتیوں اور ترکیبوں کا قرآن میں مذکور نہونا مخالف استدلال کے لئے مفید نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ یہ سب ان آیات ہی کی تفسیر تسلیم کی جاتی ہیں۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت رسول میں ایک شخص کی بعثت کا ذکر قرآن میں احبالاً موجود ہے جیسا کہ آنحضرت کا ذکر اگلے کتب سماویہ میں اجمالاً پایا جاتا ہے۔ اس کی توضیح ۱ ان آیا ت کی بحث میں آگے معلوم ہوجائےگی ان آیات میں صرف ایک شخص کی بعثت کا ذکر ہے اس کا نام و لقب مخصوص کہیں کیا گیا ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ جو مہدی موعود علیہ السلام کی بعثت کے متعلق پائی جاتی ہیں وہ فی الحقیقت ان آیات ہی کی تفسیر ہیں صرف آنحضرت کے فرامین ہی سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس شخص کا نام ” محمد “ اور لقب ” مہدی“ ہے ۔ اور وہ نسلاً نبی فاطمہ سے ہوگا ۔ اور اس کے والدین کا نام آنحضرت کے والدین کے نام پر ہوگا ۔ یہ توضیحات جبکہ ان آیات کی تفسیر و تطبیق ہیں تو ماننا پڑےگا کہ قرآن میں جس شخص کی بعثت کا ذکر ہے وہ مہدی علیہ السلام ہی ہیں ۔ اسی لئے احادیث شریفہ میں مہدی علیہ السلام کیلئے مامور من اللہ کی خصوصیت بھی بیان ہوئی ہے۔
اس سے ظاہر ہیکہ لفظ ” مہدی “ قرآن میں نہونا مخالف استدلال کی بنا نہیں ہوسکتا ۔ ورنہ نعوذ باللہ احادیث صحیحہ و متواترہ مخالف ِ قرآن ہونا لازم آئےگا ۔ حاصل یہ کہ ” مہدی “ حضرت رسول اللہ کا دیا ہوا خطاب ہے اس لئے کلام رسول میں موجود ہے ۔ لہذا کلام اللہ میں نہ پایا جانا خارج از بحث ہے۔ اسی لئے حضرت بندگیمیاں عبدالرشید رضی اللہ عنہ نے خطبہ افتتاحیہ میں یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔
|