Mahdi ahs
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    عود دینا


    پانی کو عود سے خوشبودار کرکے بندگانِ خدا کو پلانا امر مسنون باعثِ اجر و ثواب ہے۔ چناچہ ایک حدیث صحیح میں ہے کہ
    ایک سائل نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میری تمنا یہ یے کہ صدقئہ جاریہ کے طور پر ایک کنواں کھدوادوں، لیکن اتنی مقدرت نہیں رکھتا ہوں۔ پس میری یہ آرزو کس طرح پوری کروں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک گھڑا لے اور اس کو خوشبودار کر کے ٹھنڈا پانی اس میں بھر اور بندگانِ خدا کو پلادے ایک کنواں کھدوانے کا اجر خدائے تعالی تجھے دیگا۔

    لیکن یہ عمل دورِ نبوت عام نہیں ہوا تھا۔ حضرت مہدی علیہ السلام کے حکم و اجازت سے گروہ مہدویہ میں ہر بزرگ کی نیاز، عرس یہ بہرۂعام اور ہر مرحوم کے ایصال ثواب کے موقع پر کم از کم صرف عود دیا ہوا پانی ہی بندگانِ خدا میں تقسیم کرنے کا عمل رائج ہوا ہے اور عمل بہرۂعام کی ابتدء حضرت مہدی علیہ السلام کے حکم سے حضرت بی بی الہدادی رضی اللہ عنہا کے بہرۂعام سے ہوئی ہے۔ نقل مشہور و متواتر سے ثابت ہے کہ حضرت بی بی الہدادی رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد دوسرے سال یعنے دوسرا سال شروع ہونے سے ایک دن پہلے دو ماہ ذیحجّہ ۸۹۲ ھ کو حضرت مہدی علیہ السلام نے بی بی الہدادی رضی اللہ عینہا کا بہرۂعام کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میرے اصحاب کو جو بہرۂ ولایتِ محمدی پہونچا ہے، سب کے برابر بی بی کو مِلا ہے۔ آج کا دن بی بی کی وفات سے پہلے کا دن ہے۔ آج بی بی کے فیض کی نیت سے عام طور پر جو ما حضر غذا کی قسم سی خدا نے دیا ہے، سب میں تقسیم کرو کچھ نہیں ہے تو صرف پانی ہی کو عود دے کر سب بندگانِ خدا میں تقسیم کردو۔ اسی فرمان واجب الاذعان کی تعمیل میں گروہِ مہدویہ میں ہر بزرگ کے نیاز عرس و بہرۂعام اور ہر مرحوم کے اِیصال ثواب کے موقع پر پانی کو عود دینے کا عمل عام ہوا ہے۔

    اس باب میں ایک اور نقل شریف بھی آئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہیکہ ایک دفعہ حضرت مہدی علیہ السلام کے عرس کے موقع پر آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے اپنی اپنی جگہ نذر اللہ کر کے غربا و فقراء کو کھانا کھلایا تھا۔ پھر ہر ایک نے آنحضرت علیہ السلام کی روح مبارک کی طرف توجہ باطنی کی تو دیکھا کہ آنحضرت علیہ السلام نے شاہ نظام رضی اللہ عنہ کے دائرہ مقدس میں نزول اجلال فرمایا ہے اصحب رضی اللہ عنہم اس مشاہدے سے بے حد متاثر ہوۓ اور سب کے سب اپنے اپنے دائروں سے حضرت شاہ نظام رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لاۓ اور اپنے مشاہدہ کا حال حضرت شاہ نظام رضی اللہ عنہ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سال میرے پاس عرس شریف کے لۓ کسی قسم کے پخت کا انتظام نہ ہو سکا، البتہ پانی کو عود دیکر سب فقراء و مساکین کو پلایا گیا ہے۔ یہ سن کر سب اصحاب رضی اللہ عنہم کی حیرت دور ہوئی اور سب اپنی اپنی جگہ سمجھ گۓ کہ آنحضرت علیہ السلام کی توجہ خاص اِدھر مبذول ہونیکی یہی وجہ ہوئی ہے اور یہ واقعہ حضرت ثانی مہدی علیہ السلام میراں سید محمود صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد کا ہے کیونکہ آنحضرت رضی اللہ عنہ کے زمانئہ حیات میں آنحضرت رضی اللہ عنہ کے حکم سے جو اصحب رضی اللہ عنہم آنحضرت رضی اللہ عنہ کے قریب قریب ہی سکونت رکھتے تھے حضرت امام علیہ السلام کے بہرہ عام و عرس کے موقع پر آنحضرت رضی اللہ عنہ سے جدا ہوتے ہی نہ تھے۔

    حاصلِ کلام پانی کو عود دینا جو ایک امر مسنون ہے، ہر نذر و نیاز و ایصال ثواب کے موقع پر خصوصاً ہماری قوم ہی میں رائج ہے۔ اور ایصال ثواب کے لۓ پانی کو عود دیتے وقت اگر میت مرد ہو تو اس کے لۓ گھڑا یا لوٹا یا صراحی اور عورت ہو تو اس کے لۓ ہانڈی بتخصیص منگوانا عورتوں کا اختیاری فعل ہے، جو کسی حکم دینی کے تحت نہیں ہے۔ بعض نادان مخالفین کہتے ہیں کہ مہدویوں کے پاس ہانڈی کو عود جو دیا جاتا ہے کیا ہانڈی میں روح آجاتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے اِن لوگوں کے یہاں کھانے کی دیگ پر جو فاتحہ پڑھتے یا پڑھواتے ہیں کیا دیگ میں مردہ اتر آتا ہے؟ پانی کو عود دینے سے تو صاف ایصال ثواب مقصود ہونا ظاہر ہے، لیکن کھانے پر فاتحہ پڑھنا سواۓ بدعت کے نہیں ہے۔

    ایک لطیفہ: ایک امی مہدوی سے کسی صاحب نے سوال کیا کہ آپکے پاس برتن کو عود دے کر پانی کیوں بھرتے ہیں؟ کیا اس میں مردے کی روح آتی ہے؟؟ اس امی مہدوی نے جواب دیا ہماری روح کو کھانا بھی ملتا ہے اور پانی بھی ملتا لے مگر آپ کی روح کو صرف کھانا ملتا ہے، پانی نہیں ملتا اسی لۓ وہ پیاسی جاتی ہے۔

    ماخوذ: قوت الیمان
    مؤلفہ : حضرت زبدتہ العارفین مولانا سید نجم الدین صاحب مد ظلہ العالی





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.