Mahdi ahs
  • His Nasab
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    Nooriana Audio Player

    Download urdu fonts   
    for better viewing


    
    مہدی و عیسیٰ علیہما السلام ایک زمانہ میں نہ ہونے کی بحث:
    Union of Mahdiahs, Esaahs in one era

    ماخوذ: توضیحات از فاضل العصر اسعد العلما حضرت ابو سعید محمود صاحب تشریفاللہی۔
    English Translation: Hazrat Faqir Syed Ziaullah Yadullahi

    عام طور پر مسلمان‘ مہدی موعود علیہ السلام کی نسبت صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ قیامت کے زمانے میں ظہور پائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام ایک زمانے میں ہوں گے۔ یہ معلومات بھی بالکل سطحی درجہ کی بے تحقیق کتابوں کا نتیجہ ہے

    حضرت رسول اللہ صلعم نے تو یہ فرمایا ہے کہ:۔



    Generally, the Muslims know about Mahdi-e-MauoodAS that he would appear in the period close to Doomsday, and that Imam MahdiAS and Prophet EsaAS (Jesus) will appear at the same time. This information is superficial and the result of books written without any research.

    Prophet MuhammadSLM has said,


    اذا بویع الخلیفتان فاقتلوا ا حدھما
    جب دو خلیفے بیعت لیں تو ایک کو قتل کرڈالو

    “When two vice-regents (khalifas) claim loyalty (or fealty), kill one.”.


    اور اسی بناءپر نودی نے ذکر کیا ہے کہ:۔



    On the basis of this, Imam NowawiRA has said,


    اجمع السلف فی عدم جواز اجتماع الخلیفتین فی زمان واحد
    دوخلیفے ایک زمانے میں جمع ہونا جائز نہونے کے بارے میں سلف نے اجماع کیا ہے۔

    “The salaf (the scholars of the yore) have achieved consensus in respect of two vice-regents not being allowed at one and the same time [that is, ijtima’—unity].”


    اس سے ظاہر ہے کہ مہدی علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام ایک زمانہ میں جمع ہونے کا خیال باطل اور مخالف اجماع ہے۔

    اصل یہ ہے کہ بخاری و مسلم وغیرہ بعض کتابوں میں چند روایتیں ایسی ہیں جن میں حبیش ۔ امیر امام وغیرہ الفاظ آئے ہیں۔ اس پر سے بعض لوگوں نے یہ شبہ کیا ہے کہ جیش سے لشکر مہدی علیہ السلام اور امیر سے امام مہدی علیہ السلام مراد ہے۔ علامہ قاضی منتجب الدین جونیری جو حضرت امامنا مہدی موعود علیہ السلام کی تصدیق و بیعت سے مشرف ہوئے ہیں انھوں نے ثبوت مہدیت پر عربی زبان میں ” مخزن الدلائل“ ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام ایک زمانہ میں ہونے کے خیال پر تفصیلی بحث کی ہے ۔ اور دلائل قطعیہ سے ثابت کیا ہے کہ یہ خیال غلط ہے۔ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ:۔



    This shows that the concept of the union of Imam MahdiAS and Prophet EsaAS is void and violates the consensus.

    The reality, however, is that in books like Bukhari, Muslim and others, there are some parables, wherein words like jaish (army), amir (commander), imam (leader) etc. have been used. On the basis of this, some people thought that jaish meant the army of Imam Mahdi and amir meant Imam Mahdi. Allamah Qazi MuntajibuddinRZ Junairy, who had confirmed Imam MahdiAS and sworn fealty to him, has written a book in Arabic language, by the name Makhzan-ad-Dalail (Treasury of Arguments), wherein he has elaborately dealt with the proof of Imam MahdiAS. In it he has discussed the issue of the both Imam MahdiAS and Prophet EsaAS appearing at one and the same time. He holds that the concept is wrong with convincing arguments. At one point in his book, the AllamahRZ states:


    واماما قالو ابان المھدی یومِ و یقتدی عیسی خلفہ و ذالک قول لا نفاذ لہ لوجہ من الوجوہ لا نہ مخالف لھٰذا الحدیث الصحیح کیف تھلک امة انا فی اولھا و عیسیٰ فی آخرھا والمھدی من اھل بیتی فی وسطھا وقد صرح بطلانہ فی شرح المقاصد الامام سعد الدین تفتاز انی فقال فما یقال ان عیسیٰ یقتدی بالمھدی او بالعکس شئی لا مستند لہ فلا ینبغی ان یعول علیہ انتھی کلامہ‘
    اور لیکن جو یہ کہتے ہے کہ مہدی علیہ السلام امامت کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتدا کریں گے۔ یہ بات کئی وجوہ سے نا قابل نفاذ ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح کے مخالف بھی ہے (جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) امت کیونکر ہلاک ہوسکےگی جو کہ اس کے شروع میں ہوں اور عیسیٰ اس کے آخر میں اور مہدی جو میرے اہل بیعت سے ہیں اس کے درمیان ہوں گے۔ اور(عیسیٰ و مہدی کے جمع ہونے کے بارے میں) امام سعد الدین گفتاز انی نے اپنی کتاب شرح مقاصد میں اس خیال کا صریح بطلان کردیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہیکہ پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ مہدی کی اقتدا کریں گے یا وہ ان کی کریں گے یہ ایک ایسی بے سند بات ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہئیے۔

    “And saying that Imam MahdiAS will lead the prayers and Prophet EsaAS will follow him in them is incapable of being enforced for many reasons. It is opposed to the correct hadis wherein (the ProphetSLM said), ‘How can the community be annihilated when I am in its beginning, EsaAS is at its end and Mahdi, who is from among my descendants, is in the middle.’ Further, Iman Sa’aduddin TuftazaniRA, in his book, Sharah-e-Maqasid, has clearly denied the concept of the appearance of Imam MahdiAS and Prophet EsaAS at one and the same time. He has also said that the saying that EsaAS will follow Imam MahdiAS, or vice versa, in prayers, is an unauthenticated saying which cannot be relied upon.”


    حضرت منتجب الدین رضی اللہ عنہ نے جس حدیث صحیح کو پیش فرمایا ہے اسکی شرح میں صاحب مرقاة نے لکھا ہے (عن جعفر) ای صادق (عن ابیہ) ای محمد باقر (عن جدہ) ای زین العابدین علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ویسمی مثل ھذا السند سلسلة الذھب۔ یعنی اس حدیث کی جیسی سند کو سلسلة الذہب یعنی سونے کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ اور یہ روایت مسند امام احمد بن حنبل میں عبداللہ بن عباس سے اور کنز العمال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور اشعتہ اللمعات جلد چہارم میں زرین سے اور مشکوة میں باختلاف الفاظ مروی ہے۔

    جب یہ بات ثابت ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ مسلم و بخاری کی جن حدیثوں میں جیش امیر امام کا ذکر ہے اس سے امام مہدی موعود علیہ السلام مراد نہیں ہے ۔ ورنہ اجتماع ضدین لازم آئے گا جو محال ہے !!!

    نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ بخاری و مسلم میں مہدی علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے تو پھر بخاری مسلم کی روایتوں کے ان الفاظ (حبشیں۔امیر ۔امام) سے مہدی مراد نہیں کیجاسکتی اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری و امام مسلم نے صحیح بخاری و مسلم میں ” باب المہدی“ قائم ہی نہیں کیا ہے۔

    مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے ایک روایت کی ہے جسمیں ” اما مکم منکم “ اور ”فامکم منکم“ آیا ہے ۔ امام بخاری نے بھی یہ روایت درج کی ہے۔ اس حدیث کی شرح میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ



    Explaining the hadis, which Allamah MuntajibuddinRZ has quoted, the author of Mirqat1 says: “The authority of this kind of Hadis is called silsilat-az-zahb (the golden chain) and this has been reported in the Masnad of Imam bin HanbalRA as narrated by Abdullah bin AbbasRZ and in Kanz-al-Amal as narrated by Hazrat AliRZ, in Ashi’at-al-Lama’at2 as narrated by Zarrin and in Mishkat with some differences in words.

    When it is proved that this Hadis is correct, it is also proved that the jaish, amir and imam, mentioned in Muslim and Bukhari do not connote Imam Mahdi MauoodAS. Otherwise, ijtima’-e-ziddain (combination of the two opposites) would become necessary.

    Further, it is also to be noted that when it is admitted that there is no mention of Mahdi in Muslim and Bukhari, the use of the words like jaish, amir and imam cannot be deemed to purport Mahdi. And this is the reason why Imam BukhariRA and Imam MuslimRA have not set up a separate chapter on Mahdi in their books.

    The book of Hadis, Muslim, has narrated from Abu HurairaRZ a Tradition, in which the terms, imamukum-minkum3 and fa-mkum minkum4 occur. Imam BukhariRA too has reported this Tradition. In an explication of this Tradition, Sheikh Abdul Haq Muhaddis Dahlavi writes,


    مرا دبہ ” امام “ عیسیٰ است و مراد بہ بودن اواز شما حکم کہ دن اوست با حکام شریعت نہ بہ احکام انجیل ودر روایتے دےگر آمدہ است ” فیومکم بکتاب ربکم دسنة نبیکم“ پس امامت می کند شمارا بہ کتاب پروردگار شما و سنت پیغمبر شما پس معنی چنیں باشد کہ امامت می کند شمارا عیسیٰ در حال بودن او از دین شما و ملت شماو حاکم بہ کتاب و سنت شما۔
    (اشعتہ اللمعات جلد ۴ صفحہ ۳۵۳)
    یعنی امام سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں ان کے تم میں ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ تمہاری شریعت کے مطابق حکم دیں گے انجیل کے مطابق نہیں ۔ دوسری روایت میں فیومکو بکتاب ربکم ومنة نبیکم “ آیا ہے یعنے وہ امامت کریں گے تمہاری ‘ تمہارے پروردگار کی کتاب(قرآن ) اور تمہارے نبی کی سنت کے مطابق پس معنی یہ ہونگے کہ عیسیٰ علیہ السلام تمہاری امامت کریں گے اور وہ اس حال میں ہونگے کہ وہ تمہارے دین و ملت سے ہوں گے اور تمہاری کتاب و سنت سے حکم دیں گے۔

    “The term imam purports to mean Prophet EsaAS (Jesus). The term, his being from among you, purports to mean that he will command you in accordance with your Shariat, not in according to the Bible. In the other Tradition, the Arabic expression, Fa-yomakum bi-kitab rabbakum-o-Sunnat Nabi-yakum, means “He will lead you, in accordance with the Book (Quran) of your Lord and the sunnat of your ProphetSLM. Its meaning, thus, is that EsaAS will lead you (imamat) and that he would be in a condition that he would be from among your religion and millat (community) and he would rule you on the basis of your Book and Traditions.”


    اس سے ظاہر ہے کہ امیر یا امام سے مراد امام مہدی علیہ السلام نہیں۔ بلکہ کوئی اور ہے

    چنانچہ حضرت قاضی منتجب الدینعلیہ السلام نے توضیح فرمائی ہے کہ:



    This shows that the words, amir or imam, do not connote Imam MahdiAS; it refers to somebody else.

    Hazrat Qazi MuntajibuddinRZ has explained it thus:


    فثبت ان فاتح قسطنطنیہ جیش من نبی اسحاق والمصلی مع عیسیٰ امیر ھم فلا یفھم منہ انہ المھدی لانہ‘ من بنی اسمٰعیل لکونہ من اولاد فاطمة بنت رسول اللہ صلعم لقولہ المھدی۱ من عترتی من اولاد فاطمة راواہ‘ ام سلمہ‘ علیہ السلام
    (مخزن الدلائل)
    پس ثابت ہوا کہ فاتح قسطنطنیہ نبی اسحاق کا لشکر ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑہنے والا اسی لشکر کا امیر ہوگا۔ اس روایت سے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ اس امیر سے مراد مہدی علیہ السلام ہیں ۔ کیونکہ وہ تو نبی اسمعیل سے ہوں گے اس لئے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے ہوں گے ۔ اس فرمان ِ آنحضرت کے مطابق جو آپ نے فرمایا کہ ” مہدی میری عترت یعنی فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔ اس کی روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کی ہے

    “Hence, it is proved that the army conquering Constantinople would be from Bani Ishaq (the descendants of Ishaq) and would say its prayers along with Hazrat EsaAS and the person who would say his prayers would be the commander of that army. From this rivayat, it cannot be understood that the amir of this army would be Mahdi, because Mahdi would be from the descendants of Ismail (Bani Ismail), as he would be from the descendants of Bibi FatimaRZ, daughter of Prophet MuhammadSLM, in accordance with the saying of the ProphetSLM, that Mahdi will be from among the children of FatimaRZ. This has been narrated by Umm SalamaRZ.”


    اسی لئے علامہ تفتازانی نے شرح مقاصد میں تصریح کردی ہے کہ:۔



    Because of all this, Allamah TuftazaniRA has explained in his book, Sharah-e-Maqasid,


    ثم لم یرد فی حالہ ای عیسیٰ مع امام الزمان حدیث سوی ما روی انہ قال علیہ السلام لا یزال طایفة من امتی یقاتلون علی الحق الحدیث فما یقال ان عیسیٰ علیہ السلام یقتدی بالمھدی او بالعکس شی لا مستد لہ فلا ینبغی ان یعول علیہ
    امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السام کے ہونے کے بارے میں کوئی حدیث صحیح روایت نہیں کےگئی سواے اس حدیث کے جس میں لایزال طایفة من امتی الیٰ اٰخرہ درج ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ امام مہدی علیہ السلام کی اقتدا کریں گے یا امام مہدی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کی اقتدا کریں گے یہ ایک ایسی بے اصل بات ہے جس پر بھروسہ نہ کیا جانا چاہئیے۔

    “There is no sahih hadis about Imam MahdiAS being with Prophet EsaAS, except the hadis, which includes the phrase that means, “A group from my ummat [community] will continue to fight in defence of the Haq [Truth] and be victorious till the Day of Resurrection.” And saying that Imam MahdiAS will follow (iqtida) Prophet EsaAS in ritual prayers [namaz] or vice versa is without substance and should not be relied upon.”


    علامہ قاضی منتجب الدین رضی اللہ عنہ نے عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام کے ایک زمانے میں نہونے کے بارے میں مستقل بحث فرمائی ہے تمام بحث یہاں درج نہیں کیجاسکتی ۔ہم نے مختصراً بعض حصے پیش کردئیے ہیں۔ ایک جگہ یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ:۔



    Allamah Qazi MuntajibuddinRZ has elaborately discussed the problem of Imam MahdiAS and Prophet EsaAS not appearing at the same time. But the entire discussion cannot be reproduced here. Hence, we have given only some excerpts here. In one place, he has also written,


    فثبت انھما لا یجتمعان فی زمان واحد فمن اصر علیہ بعد تمام صا تمیز فھو من قبیل ان یبتغو ن الا انظن وانھم الا یخرصون
    (مخزن الدلائیل)
    پس ثابت ہے کہ وہ دونوں (عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام) ایک زمانہ میں جمع نہوں گے۔ اس کے متعلق تمام باتوں کو جاننے کے بعد جس کسی نے عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام کے ایک زمانے میں ہونے پر اصرار کیا تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو گمان ہی کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف بے اصل باتیں کرتے ہیں۔

    “Hence, it is proved that both of them (Imam MahdiAS and Prophet EsaAS) will not appear at one and the same time. After knowing all the relevant facts, if somebody were to insist on their appearing at one and the same time, he will be counted among the people who rely on whims and fancies and talk about things without substance.”


    تعجب ہیکہ یہ نظر یہ عوام میں پوری شدت کیساتھ پھیل گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام ایک زمانہ میں ہوں گے۔ حالانکہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود ہی نہیں ہے۔



    It is astonishing that this concept has spread among the people with severity that Imam MahdiAS and Prophet EsaAS will appear in one era, although no sahih hadis exists to prove this point.







    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.