مہدی و عیسیٰ علیہما السلام ایک زمانہ میں نہ ہونے کی بحث:
عام طور پر مسلمان‘ مہدی موعود علیہ السلام کی نسبت صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہ قیامت کے زمانے میں ظہور پائیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام ایک زمانے میں ہوں گے۔ یہ معلومات بھی بالکل سطحی درجہ کی بے تحقیق کتابوں کا نتیجہ ہے حضرت رسول اللہ صلعم نے تو یہ فرمایا ہے کہ:۔
اذا بویع الخلیفتان فاقتلوا ا حدھما
|
جب دو خلیفے بیعت لیں تو ایک کو قتل کرڈالو
|
اور اسی بناءپر نودی نے ذکر کیا ہے کہ:۔
اجمع السلف فی عدم جواز اجتماع الخلیفتین فی زمان واحد
|
دوخلیفے ایک زمانے میں جمع ہونا جائز نہونے کے بارے میں سلف نے اجماع کیا ہے۔
|
اس سے ظاہر ہے کہ مہدی علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام ایک زمانہ میں جمع ہونے کا خیال باطل اور مخالف اجماع ہے۔
اصل یہ ہے کہ بخاری و مسلم وغیرہ بعض کتابوں میں چند روایتیں ایسی ہیں جن میں حبیش ۔ امیر امام وغیرہ الفاظ آئے ہیں۔ اس پر سے بعض لوگوں نے یہ شبہ کیا ہے کہ جیش سے لشکر مہدی علیہ السلام اور امیر سے امام مہدی علیہ السلام مراد ہے۔ علامہ قاضی منتجب الدین جونیری جو حضرت امامنا مہدی موعود علیہ السلام کی تصدیق و بیعت سے مشرف ہوئے ہیں انھوں نے ثبوت مہدیت پر عربی زبان میں ” مخزن الدلائل“ ایک کتاب لکھی ہے ۔ اس میں عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام ایک زمانہ میں ہونے کے خیال پر تفصیلی بحث کی ہے ۔ اور دلائل قطعیہ سے ثابت کیا ہے کہ یہ خیال غلط ہے۔ ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ:۔
واماما قالو ابان المھدی یومِ و یقتدی عیسی خلفہ و ذالک قول لا نفاذ لہ لوجہ من الوجوہ لا نہ مخالف لھٰذا الحدیث الصحیح کیف تھلک امة انا فی اولھا و عیسیٰ فی آخرھا والمھدی من اھل بیتی فی وسطھا وقد صرح بطلانہ فی شرح المقاصد الامام سعد الدین تفتاز انی فقال فما یقال ان عیسیٰ یقتدی بالمھدی او بالعکس شئی لا مستند لہ فلا ینبغی ان یعول علیہ انتھی کلامہ‘
|
اور لیکن جو یہ کہتے ہے کہ مہدی علیہ السلام امامت کریں گے اور عیسیٰ علیہ السلام ان کی اقتدا کریں گے۔ یہ بات کئی وجوہ سے نا قابل نفاذ ہے۔ کیونکہ حدیث صحیح کے مخالف بھی ہے (جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) امت کیونکر ہلاک ہوسکےگی جو کہ اس کے شروع میں ہوں اور عیسیٰ اس کے آخر میں اور مہدی جو میرے اہل بیعت سے ہیں اس کے درمیان ہوں گے۔ اور(عیسیٰ و مہدی کے جمع ہونے کے بارے میں) امام سعد الدین گفتاز انی نے اپنی کتاب شرح مقاصد میں اس خیال کا صریح بطلان کردیا ہے ۔ انھوں نے کہا ہیکہ پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ مہدی کی اقتدا کریں گے یا وہ ان کی کریں گے یہ ایک ایسی بے سند بات ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جانا چاہئیے۔
|
حضرت منتجب الدینعلیہ السلام نے جس حدیث صحیح کو پیش فرمایا ہے اسکی شرح میں صاحب مرقاة نے لکھا ہے (عن جعفر) ای صادق (عن ابیہ) ای محمد باقر (عن جدہ) ای زین العابدین علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ویسمی مثل ھذا السند سلسلة الذھب۔ یعنی اس حدیث کی جیسی سند کو سلسلة الذہب یعنی سونے کی زنجیر کہا جاتا ہے۔ اور یہ روایت مسند امام احمد بن حنبل میں عبداللہ بن عباس سے اور کنز العمال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور اشعتہ اللمعات جلد چہارم میں زرین سے اور مشکوة میں باختلاف الفاظ مروی ہے۔
جب یہ بات ثابت ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے تو یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ مسلم و بخاری کی جن حدیثوں میں جیش امیر امام کا ذکر ہے اس سے امام مہدی موعود علیہ السلام مراد نہیں ہے ۔ ورنہ اجتماع ضدین لازم آئے گا جو محال ہے !!!
نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ بخاری و مسلم میں مہدی علیہ السلام کا ذکر نہیں ہے تو پھر بخاری مسلم کی روایتوں کے ان الفاظ (حبشیں۔امیر ۔امام) سے مہدی مراد نہیں کیجاسکتی اور یہی وجہ ہے کہ امام بخاری و امام مسلم نے صحیح بخاری و مسلم میں ” باب المہدی“ قائم ہی نہیں کیا ہے۔
مسلم نے ابو ہریرہعلیہ السلام سے ایک روایت کی ہے جسمیں ” اما مکم منکم “ اور ”فامکم منکم“ آیا ہے ۔ امام بخاری نے بھی یہ روایت درج کی ہے۔ اس حدیث کی شرح میں شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ
مرا دبہ ” امام “ عیسیٰ است و مراد بہ بودن اواز شما حکم کہ دن اوست با حکام شریعت نہ بہ احکام انجیل ودر روایتے دےگر آمدہ است ” فیومکم بکتاب ربکم دسنة نبیکم“ پس امامت می کند شمارا بہ کتاب پروردگار شما و سنت پیغمبر شما پس معنی چنیں باشد کہ امامت می کند شمارا عیسیٰ در حال بودن او از دین شما و ملت شماو حاکم بہ کتاب و سنت شما۔
(اشعتہ اللمعات جلد ۴ صفحہ ۳۵۳)
|
یعنی امام سے مراد عیسیٰ علیہ السلام ہیں ان کے تم میں ہونے سے یہ مراد ہے کہ وہ تمہاری شریعت کے مطابق حکم دیں گے انجیل کے مطابق نہیں ۔ دوسری روایت میں فیومکو بکتاب ربکم ومنة نبیکم “ آیا ہے یعنے وہ امامت کریں گے تمہاری ‘ تمہارے پروردگار کی کتاب(قرآن ) اور تمہارے نبی کی سنت کے مطابق پس معنی یہ ہونگے کہ عیسیٰ علیہ السلام تمہاری امامت کریں گے اور وہ اس حال میں ہونگے کہ وہ تمہارے دین و ملت سے ہوں گے اور تمہاری کتاب و سنت سے حکم دیں گے۔
|
اس سے ظاہر ہے کہ امیر یا امام سے مراد امام مہدی علیہ السلام نہیں۔ بلکہ کوئی اور ہے چنانچہ حضرت قاضی منتجب الدینعلیہ السلام نے توضیح فرمائی ہے کہ:
فثبت ان فاتح قسطنطنیہ جیش من نبی اسحاق والمصلی مع عیسیٰ امیر ھم فلا یفھم منہ انہ المھدی لانہ‘ من بنی اسمٰعیل لکونہ من اولاد فاطمة بنت رسول اللہ صلعم لقولہ المھدی۱ من عترتی من اولاد فاطمة راواہ‘ ام سلمہ‘ علیہ السلام
(مخزن الدلائل)
|
پس ثابت ہوا کہ فاتح قسطنطنیہ نبی اسحاق کا لشکر ہوگا اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ نماز پڑہنے والا اسی لشکر کا امیر ہوگا۔ اس روایت سے یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ اس امیر سے مراد مہدی علیہ السلام ہیں ۔ کیونکہ وہ تو نبی اسمعیل سے ہوں گے اس لئے کہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے ہوں گے ۔ اس فرمان ِ آنحضرت کے مطابق جو آپ نے فرمایا کہ ” مہدی میری عزت یعنی فاطمہ کی اولاد سے ہوگا۔ اس کی روایت ام سلمہعلیہ السلام نے کی ہے
|
اسی لئے علامہ تفتازانی نے شرح مقاصد میں تصریح کردی ہے کہ:۔
ثم لم یرد فی حالہ ای عیسیٰ مع امام الزمان حدیث سوی ما روی انہ قال علیہ السلام لا یزال طایفة من امتی یقاتلون علی الحق الحدیث فما یقال ان عیسیٰ علیہ السلام یقتدی بالمھدی او بالعکس شی لا مستد لہ فلا ینبغی ان یعول علیہ
|
امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ عیسیٰ علیہ السام کے ہونے کے بارے میں کوئی حدیث صحیح روایت نہیں کےگئی سواے اس حدیث کے جس میںلایزال طایفة من امتی الیٰ اٰخرہ درج ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ امام مہدی علیہ السلام کی اقتدا کریں گے یا امام مہدی علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کی اقتدا کریں گے یہ ایک ایسی بے اصل بات ہے جس پر بھروسہ نہ کیا جانا چاہئیے۔
|
علامہ قاضی منتجب الدین علیہ السلام نے عیسیٰ علیہ السلامو مہدی علیہ السلامکے ایک زمانے میں نہونے کے بارے میں مستقل بحث فرمائی ہے تمام بحث یہاں درج نہیں کیجاسکتی ۔ہم نے مختصراً بعض حصے پیش کردئیے ہیں۔ ایک جگہ یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ:۔
فثبت انھما لا یجتمعان فی زمان واحد فمن اصر علیہ بعد تمام صا تمیز فھو من قبیل ان یبتغو ن الا انظن وانھم الا یخرصون
(مخزن الدلائیل)
|
پس ثابت ہے کہ وہ دونوں (عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام) ایک زمانہ میں جمع نہوں گے۔ اس کے متعلق تمام باتوں کو جاننے کے بعد جس کسی نے عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام کے ایک زمانے میں ہونے پر اصرار کیا تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جو گمان ہی کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف بے اصل باتیں کرتے ہیں۔
|
تعجب ہیکہ یہ نظر یہ عوام میں پوری شدت کیساتھ پھیل گیا کہ عیسیٰ علیہ السلام و مہدی علیہ السلام ایک زمانہ میں ہوں گے۔ حالانکہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث موجود ہی نہیں ہے۔