![]() Mahdi ahs Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed Mahdia & Esaa |
دائرہِ مہدویہ
اصطلاح میزن دائیرہ اس سطح مستوی کو کہتے ہیں جو ایک گہل خط سے محیط ہو اور جسکے بیچوں بیچ ایک نقطہ لگا کر خطوط نکالے جایئں تو سب برابر برابر ہوں قوم مہدویہ میں بزرگانِ دین کے دائرے بھی بالخصوص تابعین و تبع تابعین کے دور میں کم و بیش اسی شکل کے ہوتے تھے۔ عموما کسی غیر آباد مقام پر گاؤں کے قریب کسی کنویں سے متصل یا ندی کے کنارے یا کسی تالاب کے جوار میں ایک گول حلقہ بنا کر دایرہ باندھا جاتا اور اسکو کانٹوں کی باڑ سے محفوظ کیا جاتا تھا۔ آمد و رفت کے لۓ دو راستے ہوتے : ایک گاؤں کی طرف جانے کا نسبتا چھوٹا اور دوسرا جنگل کی طرف۔ دونوں راستے لکڑی اور کانٹوں ہی کی بنائی ہوئی پھاٹک سے کھولے اور بند کۓ جاتے تھے۔ اہالیانِ دايرہ کی سکونت کے لۓ مٹی کی دیواروں پر گھانس پھوس کی چھت یا جھونپڑے، یا کہیں پر کچھ خیمے اور راوئیاں بھی ہوتی تھیں۔ دائیرہ کے درمیانی حصہ میں ایک جماعت خانہ اسی سے ملی ہوئی گھنس پھوس کے چھپر کی عارضی مسجد، جس کے ملحق صاحبِ دايرہ یا مرشد کا حجرہ عبادت جسکو صومعہ کہتے ہیں۔ اور رہائش گاہ ہوتی تھی۔ جماعت خانہ میں مذہبی اعمال و اشغال پر آپس میں فہمائش و گفتگو ، مسایل دینی کی تفہیم ، وعظ و بیان اور بہرہ عام کے موقعوں پر اجماع ہوتی، مسافر اور مہمانوں کو ٹہرایا جاتا، نکاح خوانی کی مجلسیں منعقد ہوتیں اور اللہ کے نام پر آئی ہوئی فتوح کی سویت ہوتی اور جہاں عارضی مسجد کے لۓ علیحدہ انتظام نہ ہوتا وہاں اسی سے مسجد کا کام بھی لیا جاتا اور اذاں ، نماز ذکر اللہ اور نوبت کی نشست کے فرایض انجام پاتے تھے۔ دايرہ کی ترتیب اور قیام کے موقع پر اجماع کیجاتی تھی اور سب اہالیانِ دايرہ ملکر جماعت خانہ اور حجرے بنا تے ، راستے ہموار کرتے ، باڑ لگاتے ، ندی یا تلاب قریب نہ ہوتا تو کنواں کھودتے اور اس طرح دایرہ قایم کیا جاتا تھا۔ دایرہ کی ابتدا حضرت امامنا مہدی موعود علیہ السلام سے ثابت ہے لیکن بیرون آبادی آپ کے عارضی دایرے نسبتا کم رہے ہیں۔ آپ چونکہ دعوت الی اللہ پر مامور عوام الناس کی رہنمائی اور ہدایت کے لۓ مبعوث ہے تھے اور آپکی تعلیم و تلقین بصیرت و عرفانِ الہی عام تھی اس لۓ آپکا قیام قلب شہر میں اور عموما جامع مساجد میں ہوا کرتا تھا۔ اواخر جمادی الاول ۸۸۷ ھ میں بارادۂ حج بیت اللہ آپ نے جونپور سے ہجرت فرمائی۔ آپ کے ہمراہ آپکی حرم محترمہ بی بی الہدادی %ھا خلف ارشد حضرت میران سید محمود %ہ کے علاوہ بشمول حضرت شاہ دلاور %ہ ۱۷ اسم تھے۔ جونپور سے آپ نے ہجرت فرماکر پہلا دایرہ داناپور میں قایم فرمایا پھر داناپور سے چندیری ميں قیام فرمایا جہاں چند عارضی حجرے ، لکڑیاں استادہ کر کے ان پر سایہ کیلۓ بوریا اور کپڑا تانا گیا تھا ، تیار کۓ۔ یہاں سے آپ نے چاپانیر کا رخ فرمایا اور جامع مسجد جاپانیر میںف دیڑھ سال اقامت فرمائی۔ جاپانیر سے آپ مانڈو دار السلطنت مالوہ تشریف لیگۓ۔ آپ کے رفقاء کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ یہاں سے آپ کوچ کر کے برہانپور علاقہ خاندیس کے راستہ سے دولت آباد پہنچے اور کوچ در کوچ احمدنگر ہوتے ہوۓ بیدر میں نزول اجلال فرمایا۔ بیدر میں مولوی سید محمد تقی صاحب کی صراحت کے بموجب جو انہوں نے تلخیص میں کی ہے۔آپ نے بیرون شہر ایک کھلے میدان میزن قیام فرمایا۔ لوگوں نے اس مقام کا نام عظمتا حضورہ رکھا اور کہا جاتا ہے کہ یہ مقام اب بھی حضورہ کے نام سے موسوم ہے۔ بیدر میں حضرت امامنا علیہ السلام کی اقامت دیڑھ سال رہی۔ یہاں سے آپ گلبرگہ تشریف لیگۓ۔ اور شیخ سراج الدین کے روضہ کے ایک حجرہ میں ایک ہفتہ آپ نے اعتکاف فرمایا یہ حجرہ اب بھی موجود ہے۔ گلبرگہ سے آپ نے معہ یار و اصحاب چتاپور میں کچھ دنوں قیام فرما کر شہر بیجاپور کا رخ فرمایا اور بیرون آبادی ایک میناری مسجد میں جسکو ایک کنگورے والی مسجد بھی کہتے ہیں چند دنوں اقامت فرمائی۔ اس مسجد کے قریب ایک بہت بڑی سراے یا خانقاہ کے اثار پاۓ جاتے ہیں اور غالبا حضرت امامنا علیہ السلام کے یار و اصحاب یہیں ٹہرے ہونگے۔ اس مقام سے اٹھکر آپ نے محلہ راے باغ کی جامع مسجد میں قیام فرمایا۔ یہاں سے ڈابہول بندر گاہ پہنچے اور حج کے لۓ جہاز پر سوار ہو گۓ۔ حج بیت اللہ سے فارغ ہوکر بندر گاہ کھبات پر اترے اور منزل بہ منزل احمدآباد میں جو اس وقت کجرات کا پایہ تخت تھا رونق افروز ہوۓ۔ یہاں محلہ جمال پور کے قریب تاج خان سالار کی مسجد میں جو اس وقت اسی نام سے مشہور تھی اقامت فرمائی۔ کامل دیڑھ سال احمدآباد کو آپ کے قیام کا شرف حاصل ہوا۔ اوایل ۹۰۳ ھ میں آپ نے یہاں سے ہجرت فرمائی اور موضع سانتیج میں کچھ دنوں مقیم رہکر شہر پٹن رونق افروز ہو کر خان سردر کے تالاب کے کنارے قاضی قاذن کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ ایک سال پٹن مین رہنے کے بعد آپ نے موضع بڑلی میں جو پٹن سے ساڑھے چار میل کے فاصلہ پر ہے، تالاب کے کنارے کھرنیون کے باغ سے متصل ایک مسجد میں اقامت فرمائی اور اسی مقام پر آپ نے اپنے مہدی موعود ہونیکا دعوے موکد فرمایا۔ بڑلی میں آپکا قیام بقیام دایرہ چھ مہنے رہا۔ یہاں سے ہجرت فرماکر آپ معہ یار و اصحاب جنکی تعداد اب ایک ہزار سے متجاوز ہو چکی تھی تہرہ ہوتے ہوۓ جالور پہنچے اور یہاں جامع مسجد میں قیام فرمایا۔ جالور سے دلی کا قصد تھا لیکن بحکم خدا آپ نے دلی کا ارادا فسخ کر کے تاگور کی راہ لی اور ناگور میں بقیام دایرہ چند روز اقامت فرماکر جیسلمیر پہنچے اور یہاں سے براہ نصر پور ٹہٹہ پہنچکر تقریبا ایک سال بقیام دایرہ سکونت اختیار کی۔ یہاں کا حاکم جام نظام الدین نندا اور اسکی حکومت کے کارندے اس با خدا اور متوکل جماعت کے درپے آزار تھے۔ اور جب انہوں نے اس جماعت پر چڑھائی کا منصوبہ باندھا تو حجرت امامنا علیہ السلام نے باتباع پیغمبر صلی اللہ علیہ و صلعم دایرہ کے اطراف کاٹی لگانے کا اس ارشاد کے ساتھ حکم دیا کہ یہ باڑ اس خندق کے معاوضہ میں ہے جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و صلعم کو لڑائی کے دن حکم ہوا تھا۔ غالبا آنحضرت کے اسی عمل سے دایروں کے اطراف باڑ لگانے کا طریقہ بعد میں رواج پایا۔ ٹہٹہ سے حضرت امامنا نے ہجرت فرما کر کشتیوں کے ذریعہ دریاے اٹک پار کیا اور کاہہ مہں بقیام دایرہ اقامت فرمائی۔ |