متفرقات
۱۷۴
و نیز ۱ معلوم باد ۔ بعد از اخراج (موضع کھانبیل درمیان اندک روز خبر رسید کہ لشکر منکراں مسجد و حجرہا سوختند بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند ایشاں ہدایت کردند معید گاہ و مسکن مومنا ناحق سوختند و فتویٰ بر قتل مومناں بمجرد تصدیق بر سخن دلی کامل کہ بر کمالیت او منکراں مُقرانداوصاف و اختلاف و افعال و آثار کہ موجب تصدیق دعوت نبوت اند دراں ولی می یا بندد ہیچ فعلے و قولے وخلقے در عادت و عبادت مخالف اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمی یا بند۔ براں ایں قرار بمجرد تصدیق دعوت آں ولی مالف اجماع سنت و جماعت نیست حکم ضلالت و بدعت میکنند و برقتل مصدقاں و اخراج ایشاں فتویٰ مید ہند سبب اجماع سنت و جماعت کہ احادیث مخالفت بعضے احادیث احادکہ بموجب ن اند حکم میکنند بہبودن اجماعسنت و جمعت کہ احادیث احاد موجب عمل اند و موجب اعتقاد نیستند نبشتہ اند اگرچہ صحیح الاسناد باشند ۔ و مجتہداں برآں عمل فرمودہ باشند و دعوی آں ولی آنست کہ من از غیب می شنوم کہ ترا برگزیدہ بودیم و تو مہدی موعود آخرالزماں ہستی کہ بایں آیت معہود ایں ذات خاتم النبیین وعدہ کردہ بودند کہ در اولاد تو فرزندے شائتہ براے بیان کتابے بر تو نازل شدہ است در آخرزماں پید خواہیم کر دبرائے روشن کردن اخلاق و افعال و اقوال توآں فرزند سید محمد بن سید خاں تو ہستی و تصدیق و اطاعت برہمہہ مسلمانان واجب کردم۔
بعد ایں دعوت سالہا سال ایں ولی را خدائتعالیٰ حیات بخشید و بریں دعویٰ بر اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قولاً و فعلاً و خلقاً استقامت روزی گردانیدو شب و روز گروہ او درجال حیات و بعد ممات زیادت شد و بر عقیدہ سنت و جماعت توفیق یافت و عمل موافق کتب مقرر روزی شدیلکہ موافقت بالنبی علیہ السلام گروہ او در اعمال و اقوال و اخلاق کردند۔ایں چنیں قوم را معلما ن زمانہ تکرار می گویند و بر اخراج و قتل فتویٰ مید ہند و افتراہائے عوام مرد ماں محضر کردند معتبر محضرایں قراردادہ اند و ایں قوم شب و روز ند امیکند کہ برحلاف شرع محمدی ثابت کنید در عقیدہ ما عمل ما از (دین ثابت شویم۔ بعدہ میگویند شما جاہل ہستند با شما محضر چہ حاجت بلکہ پائے زاغ آہنی مستعد کنا نید ندو بعضے مصدقان کہ ترک دنیا نہ کردہ و دریں جماعت یکجا ماندہ اند و توفیق نیافتہ اند و در شہرمی مانند و کسب می کنند ایشاں را ایذامی کنند و مییگر ند و حبس میکنند۔ وحکم میکنند ہر کرا ازیں عقیدہ باز نیاید و سید محمد را مہدی علیہ السلام بگوید بر پیشانی او بدیں پائے زاغ گرم کردہ داغ باید دادتا شنا ختہ شود بطالی است و بعضے ازیں قوم را بجال کشتہ اند بہ سبب ہمیں عقیدہ نہ چیزے دیگر۔
بعدہ بر کزیدایں قوم خلافِ اوہمہ یارانِ حضرت امام آخرالزماں اتفاق کردہ اند یعنی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند انچہ ہمعلمان برایں قوم حکم کردہ اند ہمہ برا یشاں باشد بہ حکم کتاب اللہ تعالیٰ و کتب اولیاءفرمودند ہر کہ ازیں فتوی دہندگاں را بکشد بزہ کار نشود زیر اچہ بدایت ازایشانست۔ و فرمودند کہ علامات تعدی و حسد ظالمی ایشا نست خدائتعالی بتدریج توفیق صلاح یعنی اتباع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم از ایشاںبستادندہ منصب و جاں ایشاں کہ سبب دین است آں نیز بستاند ذُموٰکاں کہ برفتوی ایشاں اعتقادی می کنند باخواری و فضیحتی بمیرند بلکہ کشتہ شوند و در نسل ایشاں نیز خواری در دین و دنیاآشکار گرد و ایں قوم را بیوہ ند اند استقامت بر اتباع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم روزی گرد دو ہمیشہ مزید گردو بحرمت النبی و آلہ
ترجمہ: واضح ہو کہ موضع کھانبیل سے اخراج کے بعد چند ہی دنوں میں خبر ملی کہ منکروں کے لشکر نے مسجد اور فقراءکے حجرے جلا دئیے ہیں ۔ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے ظلم کیا ہے مومنین کی عبادت گاہیں اور قیامگاہیں نا حق جلادی ہیں اور مومنین کے قتل کا فتویٰ محض اس لئے دیا گیا ہے کہ ان مومنین نے ایک ایسے ولی کامل کے فرمان کی
تصدیق کی ہے جس کے فضل و کمال کے خود منکرین قائل ہیں اور دعوی نبوت کی تصدیق کے لئے جن اوصاف و افعال و آثار کی ضرورت ہے وہ اس ولی کامل میں موجود پاتے ہیں۔اور کوئی قول و فعل اور کوئی عادت و عبادت حضرت رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے خلاف نہیں پاتے ہیں۔ اس کے باوجود اس ولی کامل کی دعوت کی صرف تصدیق بھی اجماع اہل السنت و الجماعت کے خلاف نہیں ہے۔ مگر یہ لوگ ضلالت وبدعت کا حکم عاید کررہے ہیں اور مہدویوں کے قتل و اخراج کا فتویٰ دے رہے ہیں بعض حدیثیں جو خبر واحد کا حکم رکھتی ہیں ۔ان میں علامات کا جو اختلاف پایا جاتا ہے اس پر سے قیاس کرکے حکم لگارہے ہیں ۔ (حالانکہ ) اہل سنت و جماعت کی اجماع ہے کہ اخبار واحدہ موجب عمل ہیں موجب اعتقاد نہیں ہیں۔ اگرچہ کہ وہ اخبار صحیح الاسناد ہوں ۔ اور مجتہدین نے (اسی اصول پر) عمل کیا ہے ۔ اس ولی کامل کا دعویٰ یہ ہے کہ میں غیب سے سن رہا ہوں کہ ہم نے تم کو برگزیدہ کیا ہے۔ اور تم مہدی موعود آخرالزماں ہیں۔ خاتم النبین سے اس آیت معہودہ کا وعدہ کیا گیا تھا کہ تمہاری اولاد میں ایک فرزند ایسا ہوگا جو کہ اس قرآن کا جو تم پر نازل ہوا ہے بیان کرنے کے لائق ہوگا۔ اخلاق و افعال و اقوال کو روشن کرنے کے لئے ہم آخر زمانہ میں پیدا کریں گے ۔وہ فرزند تم سید محمد بن سید خاں ہو۔ اور تمہاری تصدیق و اطاعت ہم نے تمام مسلمانوں پر واجب قراردی ہے۔
اس دعوے کے بعد اُ س ولی کامل کو اللہ تعالیٰ نے سالہا سال زندگی بخشی اور اپنے اس دعوے پر اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر قولاً فعلاً خلقاً استقامت عطا فرمائی اور دن رات ان کی زندگی میں انکی جماعت میں ترقی ہوتی رہی اور ان کے بعد بھی ہورہی ہے۔ اور سنت و جماعت کے عقیدہ پر قائم رہنے کی توفیق اس جماعت کو حاصل ہے ۔ بلکہ اس جماعت کے اعمال و اقوال و اخلاق حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے بالکل مطابق ہیں۔ ایسی قوم کو علمائے زمانہ بد کردار کہتے اور اس کے اخراج و قتل پر فتویٰ دیتے ہیں۔ اور عوام کے بہتانوں پر لوگوں نے محضر کئے۔ اور معتبر محضر اسکو قرار دیا ہے اور یہ قوم دن رات ندا کر رہی ہے کہ شرع محمدیعلیہ السلام کے خلاف کوئی بات کوئی عقیدہ ہمارے عمل اور ہمارے مذہب میں ہو تو ثابت کرو۔ (لیکن) یہ کہتے ہیں کہ تم جاہل ہو تمہارے لئے مجلس (مصالحت) کی ضرورت نہیں۔ بلکہ کوّے کے (پنجوں کی طرح) آ ہنی پنجے تیار کر رکھیہیں۔ اور بعض مہدویوں کو جنھوں نے ترک دنیا نہیں کی ہے اور ہمارے دائرہ میں نہیں رہتے شہر میں رہتے ہیں اور کسب کرلیا کرتے ہیں۔ ان کو ستاتے ہیں گرفتار کرتے ہیں۔ قید کرتے ہیں ۔ اور حکم دیتے ہیں جو کوئی اس عقیدہ سے (یعنے سید محمد کو مہدی کہنے سے) باز نہ آئے اور سید محمد کو مہدی کہے تو اس کی پیشانی پر پنجہ آہنی گرم کر کے داغ دینا چاہئیے تاکہ یہ پہچانے جائیں کہ گمراہ ہیں۔ اور اس قوم کے بعض لوگوں کو انھوں نے محض اس عقیدہ پر قائم رہنے کی وجہ جان سے مار ڈالا ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے۔
اس کے بعد حضرت امام آخر الزماں کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور آپکی قوم کے بر گزیدہ لوگوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے یعنے میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اس قوم کے متعلق علما جو کچھ احکام عاید کر رہے ہیں وہ تمام احکام ‘ بحکم کتاب اللہ و کتب اولیا خود اُن علماءپر عاید ہوتے ہیں۔ جو (مہدوی) ان فتوی دینے والوں کو قتل کرے گا گناہ گار نہوگا۔ کیوں کہ ظلم کی ابتدا ان علما سے ہوئی ہے۔
اور فرمایا کہ ان کے ظلم و حسد و زیادتی کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اتباع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق ان سے بتدریج سلب فرمارہا ہے۔ اور بلحاظ دین ان کا جاہ و منصب جو موجود ہے گھٹتا جارہا ہے اور جو سلاطین ان کے فتووں پر بھروسہ رکھتے ہیں ذلت اور فضیحت کی حالت میں مریں گے۔ بلکہ (بری طرح) مارے جائیں گے۔ ان کی اولاد میں بھی بلحاظ دین و بلحاظ دنیا ذلت و خواری آشکار رہے گی۔ اور اس قوم کو بے وسیلہ سمجھنا چاہئیے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی توفیق عطا ہوگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کی حرمت سے (یہ توفیق ) ہمیشہ زیادہ ہوتی رہیگی۔
۱۷۵
معلوم باد چونکہ لشکر منکر ان حق باستعداد تمام آمدہ گویانید ازیں ولایت بروید کہ علما فتوی دادہ اند اگر نردند قتل کنید بعدہ‘ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ کرت و مرات مارا کشید ند ماءفتیم دریں کرت مر از حق تعالیٰ و از رسول علیہ السلام و از مہدی موعود علیہ السلام اذن شدہ است بدیں عبادت الا ان القضی فقد مضی ان صبرت فانک ماجوروان حذرت فانک مھجور ۔ تایکبارگی ہمہ ایشاں از دست ایں ضعیفاں مقہور و مقتول شوند ۔ بعدہ دوم کرت کہ جنگ شود بندہ با بعضے فقیراں شہید شود بعد ایں جنگ امن و آرام وار زانی ایں ولایت برود و منصب و عزت بادشاہ دادلا داد و منصب و عزت ملوکاں باولاد ایشاں و منصب و عزت علماءو مشائیخاں کہ داخل ایں فتوی اند برود و اولادِ ایشاں خوار شوند ۔ وکسے از یشاں فتوی نہ طلبند۔ ایشاں را در ولایت ہیچ اعتبار نماندوفقراءایں قوم بفراغ خاطر بعبادتِ حق تعالیٰ نصیحت ِ خلق مشغول باشند سخن ایں بندہ و نبشتہ بدارید۔ اگر ہمچنیں شود چنانچہ می گویم اعتقاد کنید کہ بندہ ایں فعل باذ ن حق تعالیٰ و باذن رسول اللہ علیہ وسلم و باذن مہدی مراد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کردہ است بعدہ‘ اعتقاد کنید کہ سید محمد مہدی علیہ السلام برحق سیت اور تصدیق او واجب است۔ والاّ بندہ ہر چہ می کند بہ پندار خود می کند۔ اگر تمام عالم و تمام یاراں با ما مخالفت کنند و اند کے با بندہ موافقت کنند و ایں کار شدنی است می شود۔
ترجمہ: واضح ہو کہ جب مخالفین کی فوج پوری تیاریوں کے ساتھ آئی تو (افسروں نے) کہلایا کہ اس مملکت سے چلے جاوِ کیونکہ علماءنے فتویٰ دیدیا ہے کہ اگر نہ جائیں تو قتل کر دئیے جائیں ۔ اس کے بعد میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم کو بارہا کھینچ کر (باہر کیا جات رہا)اور ہم اخراج قبول کرتے رہے۔ اس دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے
اور حضرت رسول علیہ السلام و حضرت مہدی علیہ السلام کی طرف سے بار بار اس عبارت میں حکم ہورہا ہے کہ ” خبردار جو ہونا ہے ہو کر رہیگا۔ اگر تم صبر کروگے تو اجر پاوگے اگر ڈر جاو گے تو (اللہ سے) دور ہوجاوگے“ تا ہم ایک بار یہ سب (فوجی) ان بے سرو سامان فقراءکے ہتھوں مبتلاے قہر و قتل ہوں گے۔ اس کے بعد دوسری باری میں بندہ بعض فقیروں کیساتھ شہید ہوجائیگا اس جنگ کے بعد اس مملکت کا امن و آرام اور اس کی آسودگی و ارزانی سب جاتی رہیگی ۔ اور بادشاہ اور اسکی اولاد۔ امراءدر و ساءاور ان کی اولاد اور علماءو مشائخین جنھوں نے اس فتوے میں حصہ لیا ہے اور ان کی اولاد ان سب کی عزت و عظمت اور ان کا جاہ و منصب جاتا رہیگا۔اور یہ اتنے ذلیل ہوجائیں گے کہ ان سے فتویٰ لینا کوئی گوارانہ کریگا۔ اور مملکت میں یہ سب بے اعتبار ہوجائیں گے۔ اور اس قوم کے فقرا اطمینان خاطر اور فراغت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور لوگوں کو نصیحت کر نے میں مشغول رہیں گے۔ اس بندہ کی یہ باتیں لکھ رکھو۔ بندہ یہ جو کچھ کررہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم و مہدی مراد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کر رہا ہے۔ بعد میں (جبکہ یہ باتیں پوری ہوتی نظر آئیں ) تم لوگ اعتقاد (مضبوط ) کر لو کہ سید محمد ہی مہدی علیہ السلام بر حق ہیں اور ان ہی تصدیق واجب ہے۔ ورنہ سمجھ لو کہ بندہ نے جو کچھ کیا اپنی ہی سمجھ سے کیا ہے۔ اگر تمام دنیا اور تمام رفقاءبھی ہمارے مخالف بن جائیں اگر چہ تھوڑے ہی افراد بندہ کی موافقت میں رہجائیں یہ کام ہونا ہے ہوکر ہی رہیگا۔
۱۷۶
معلوم باد روزے مہاجراں یکدیگر اتفاق کردہ محضر کردند ۔ بر کاغذینبشتہ ہریکے کتبہ کردہ پیش میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرستادند عبارت محضرہ انیست:۔
اقرار کردند و اعتراف نمودند میاں نظام رضی اللہ عنہ و میاں ملکجیعلیہ السلام و میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں دلاور رضی اللہ عنہ میاں لاڑشہعلیہ السلام در حال صحت ذات و ثبات عقل براں جملہ کہ ماہر یکی اقرار کردیم اینست کہ اتباع دین محمدی کہ از بیان کتاب خدائتعالیٰ کہ بیان مہدی ثابت شدہ است صراط المستقیم می دانیم و بریں عقیدہ متفق ہستیم و نیز اتفاق می کنیم کہ کسے را بانکار کافر نگوئیم و اگر اخراج کنند با منکران جنگ نکینم بلکہ اطاعت کنیم و تکفیر و قتل خلاف شرعمیدانیم و اگر ردادنیم خلاف کتاب خدا اور شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم آید قال اللہ تعالی ولا تقولوالمن القی الیکم السلم لست مومنا (جز۵ رکوع ۰۱)قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا تکفرو ا اھل
قبلتکم ۔ قال علیہ السلام اموت ان اقاتل الناس حتی یقولو الا اللہ الحدیث ۔ و حضرت مہدی علیہ السلام نیز اوراردانداشتہ اند بلکہ ایں اعتقاد کفر است۔ زیرا کہ مہدی و نبی علیہما السلام بر کتاب بودند ۔ تابع شریعت محمدی بودند۔ اگر تکفیر و قتال با کلمہ گویاں رواداریم پس زنان ایشاں و دختران ایشاں غارت کنیم و حلال طیب پنداریم و ایں حلال ردا نیست بلکہ کفر است۔
اما منکر انِ مہدی را چنانچہ در قرآن و حدیث مذکور است اعتقاد کنیم ۔ قولہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ ‘۔ قال النبی علیہ السلام من انکرالمھدی فقد کفر۔ و اگر کسے از عمل کردن بفرمود مہدی علیہ السلام منع کنند و گویند کہ ایں عمل بدعت و ضلالت است ازیں باز آئید۔ و ترک کنید۔ و اگر نہ از ما بیروں روید آمدن پس ما بیروں ردیم ولے عمل بر قول مہدی علیہ السلام ترک نکنین و اگر از بیروں آمدن مرا چیزے عذر باشد اوشاں را معلوم کنیم اگر اوشاں قبول نکنند و تعدی و بظلم پیش آیند ا گردفع کردن نتوانم بیروں ردیم مواخذہ نباشد و اگر اخراج اختیار کنیم بیروں رویم و برابرا خراج کنیم و بہتر باشد۔ قال اللہ تعالیٰولمن صبرو غفران ذالک لمن عزم الامور (جزئ۵۲ رکوع ۵) ولیکن حق بیان کنم واز حق بیان کرون بازنیائیم ۔ قال اللہ تعالیٰ ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف(جزئ۴ رکوع ۲) الآیت امر معروف برسہ نوع است بالیدواللسان و الجنان بریں نوع کہ استطاعت دارند امر معروف کنند ما جوراند ۔ و اگر منکران مہدی ہیچ تفہیم نشوند عذر قبل نکنندہ و تعدی و ظلم کنند با ایشاں قتال جائز باشد ۔ ہر کہ بعد ازیں قرار عدول کند و حجت پیش آردنا مسموع گردو۔ او مبتدع وضال باشد۔
بدیں اقرار مہاجرانِ مذکور ایں کتبہ کردہ پیش میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرستادند میاں مذکور فرمودند کہ ایشاں از اقرار مہدویت برگشتہ اند۔ رجوع باید کرد چند بارایں سخن تکرار فرمودند بعد ظہر ہمدراں روز میاں ملک جیوعلیہ السلام د میاں لاڑشہ آمدند و فرمودند کہ شما حلیم بودید حلیم شما کجا رفت میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند بندہ را معذور و ارید کہ ہر وقت کسے سخن مہدی علیہ السلام را تافیل و تحویل می کند حلم بندہ می رود۔ بعدہ‘ کا غذ کتبہا واپس طلبید ند۔ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند ہر گز واپس ند ہم ایل کتبہا پیش خدائتعالیٰ و پیش مہدی علیہ السلام بروز قیامت خواہم نمود۔ بعدہ یاراں گفتند کہ شما چہ می فرمائید میاں فرمودند بندہ ہیچ نمیگوید آنچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ہماں می گویم۔
روزے معلم با حضرت میراں علیہ السلام بحث کرد ہیچ وجہ تفہیم نہ شد بعدہ فرمودند کہ ایشاب بحجت و علم تفہیم نہ شوند۔ بعدہ حضرت میراں علیہ السلام بدستِ مبارک خود شمشیر گرفتہ بالا کردند و فرمودند کہ با ایشاں ایں ماندہ است۔ اگر خدائتعالیٰ قوت دہداز یشاں جزیہ بستانم کہ ایشاں را حکم جزئی شدہ است۔
پس باید کہ آنچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند آں بگوئید و براں اعتقاد کنید۔ وآں را تاویل نکنند۔ بعدہ ہریکے متفرق شدند ۔ ودر شہر آوازہ شد کہ یاراں برمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ حکم ضلالت کردہ اند ہمدریں روز بعد نماز عشاءہمہ برصف نشستند پیش یاران ِ دائرہ خود میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ جملہ مہاجراں با بندہ بایں آیت قاتلو او قتلو ا موافقت نمی کنند ایشاں از حضرت مہدی علیہ السلام برگشتہ اندو لیکن خدائتعالیٰ ایشاں را رجوع خواہد بخشید ۔ و افسوس بریں مخالفت خواہند کردکہ زیرا کہ حضرت مہدی علیہ السلام در حق ایشاں بشارت فرمودند و مبشر مہدی علیہ السلام ہستند۔ خدائتعالیٰ ایشاں را بر خطا اصرار ند ہد۔
و بعد از نماز فجر با تمام یاران دائرہ خودش میاں ملک جیوعلیہ السلام و میاں نعمت رضی اللہ عنہ آمدند و بعد ملاقات ایں آیت خواندند۔ ۱ ثم اورثنا الکتاب الذین اصطیفنا من عبادنا الایت (جز ئ۲۲ رکوع ۶۱) فرمودندکہ حضرت میراں علیہ السلام ظالم النفس کر فرمودند و مقتصد و سابق بالخیرات ‘ کرا فرمودند۔ اگر معلوم باشد بگوئید جواب داند مارا بظاہر حکم نیست برفرمودہِ حضرت میراں علیہ السلام حکم است۔ اگر سنگ را میرانجیو علیہ السلام جوہر گویند بر ظاہر حکم نکنیم و آنچہ می بنیم ظاہر اعتقاد نکنیم برفرمودہِ میراں علیہ السلام حکم کنیم۔ وآں سنگ را جو ہر پنداریم۔
و نیز فرمودند اگر کسے بطریق اخلاص بپر سیدند آنچہ از حضرت میراں علیہ السلام شنیدہ است بیان ظالم و مقتصد و سابق بالخیرات بشما گوید۔
یکجا ہم در مجلس بود گفتگو ے خوندکار بیان کنیند بعدہ میاں فرمودند اگر میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں ملک جیوعلیہ السلام پرسند بندہ بگوید ۔ دریں گفتار ہیچ مقصود نیست جز آنکہ ظالم لنفسہ با سابق بالخیرات مخالفت می کنند و زیاں زدہ می شود۔ بعدہ ہیچ کس چزے نگفت و مجلس تمام شد۔
ترجمہ: واضح ہو کہ ایک روز بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم نے متفق ہوکر محضرہ کیا اور ایک تحریر تیار کرکے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کی محضرہ کی عبارت یہ ہے:۔
” ہم میاں نظام رضی اللہ عنہو میاں ملکجیعلیہ السلام و میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں دلاور رضی اللہ عنہ و میاں لاڑ شہ علیہ السلام بحالت صحت ذات و ثباتِ عقل اس امر پر اقرار و اعتراف کرتے ہیں او اس امر پر قائم ہیں کہ بیان خدائتعالیٰ اور بیان مہدی علیہ السلام سے جو اتباع دین محمدی ثابت ہے اسی کو ہم صراط مستقیم سمجھتے ہیں اور اسی اعتقاد پر ہم متفق ہیں۔ اور ہم اس امر پر بھی اتفاق کرتے ہیں کہ کسی کو انکار (مہدی علیہ السلام) کی وجہ ہم کافر نہیں کہتے۔ اور منکرین اگر ہمارا اخراج کریں تو ہم ان سے جنگ نہیں کرتے بلکہ اطاعت کرتے ہیں کافر قرار دینا اور قتل کرنا ہم خلاف شرع سمجھتے ہیں اگر ہم اس کو جائز قرار دیں تو کتاب خدائتعالیٰ اور شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی لاز م آئیگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جس نے نہیں سلام کیا تم اسکو یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔ (جز ئ۵ رکوع ۰۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اہل قبلہ کو کافر نہ بناو“ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جبتک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں“ اور حضرت مہدی علیہ السلام نے بھی اس کو روا نہیں رکھا ہیں۔ بلکہ ایسا اعتقاد کفر ہے۔ کیونکہ مہدی و نبی علیہم السلام قرآن پر (حکم دیتے اور عمل کرتے) تھے۔ شریعت محمدیہ علیہ السلام کے تابع تھے ۔ اگر کلمہ گو یوں کی تکفیر اور ان سے قتال ہم جائز قرار دیں تو ان کی عورتوں اور بیٹیوں کو بھی مال غنیمت میں شمار کرنا ہوگا اور یہ جائز نہیں ہے بلکہ کفر ہے۔
لیکن مہدی علیہ السلام کے منکرین کے بارے میں جیسا کہ قرآن و حدیث میں مذکور ہے ہم اعتقاد رکھتے ہیں۔ قولہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ۔ قال النبی علیہ السلام من انکر المھدی فقد کفر۔ اگر کوئی حضرت مہدی علیہ السلام کے فرمان پر عمل کرنے سے مانع ہوا اور کہے کہ یہ عمل بدعت و ضلالت ہے اس سے باز آو۔ اور اس کو چھوڑ دو۔ اور اگر (منکرین ) ہم کو باہر چلے جانے کا حکم دیں تو ہم باہر چلے جائیں گے لیکن مہدی علیہ السلام کے فرمان کی تعمیل ترک نہ کریں گے۔ اگر باہر ہوجانے میں ہمارے لئے کوئی عذر ہو تو ان (منکرین) کو ہم معلوم کردیں گے۔ اگر وہ قبول نہ کریں ظلم و سختی سے پیش آئیں ۔ اور ان کی مدافعت کی ہم میں سکت نہو تو ہم باہر چلے جائیں گے بدلہ نہ لیں گے۔ ہمارا اخراج قبول کرنا اور باہر ہوجانا ہی بہتر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جو شخص صبر کرے اور معاف کردے بیشک یہ بہترین کاموں میں سے ہے“ (جزئ۵۲ رکوع ۴) لیکن ہم حق بیان کریں گے۔ حق بیان کر نے سے باز نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” تم میں ایسی ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے جو نیکی کی طرف بلائے اور نیکیوں کا حکم دے “ (جزئ۴ رکوع ۲) امر معروف کی تین سورتیں۔ ہاتھ سے زبانسے۔دل سے جس طریقہ پر عمل کرنے کی ہم قدرت رکھتے ہیں اس پر امر معروف کریں اجر حاصل کریں۔ اگر منکرین مہدی علیہ السلام کوئی تفہیم اور کوئی عذر قبول نہ کریں اور ظلم و سختی کریں تو اس صورت میں ان کے ساتھ قتال جائز ہوگا جو شخص اس (محضرہ) کی قرارداد کی خلاف ورزی کرے اور (اس کے خلاف) دلیل لائے قابل سماعت نہوگی اور وہ بدعتی و گمراہ ہوگا۔
مہاجرین رضی اللہ عنہم نے یہ قرار د اومرتب کرکے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کی۔ میاں مذکورعلیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لوگ مہدویت کے اقرار سے برگشتہ ہوگئے ہیں۔ رجوع کرنا ہوگا۔ یہی بات آپ نے چند بار بیان فرمائی۔ اسی روز ظہر کے بعد میاں ملکجیوعلیہ السلام و میاں لاڑشہ رضی اللہ عنہ خود آئے اور کہنے لگے کہ آپ تو بہت حلیم تھے وہ حلم کہاں گیا؟ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بندہ کو معاف کیجئے جب کبھی کوئی شخص مہدی علیہ السلام کے فرمان میں تاویل و تحویل کریگا بندہ کا حلم باقی نہ رہیگا۔ اس کے بعد ان دونوں حضرت نے وہ تحریر واپس لینا چاہا میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہرگز واپس نہ دونگا یہ تحریر قیامت کے روز خدائتعالیٰ اور مہدی علیہ السلام کے سامنے پیش کرونگا۔اس کے بعد ان حضرات نے کہا آپ کیا فرماتے ہیں؟ میاں نے فرمایا بندہ کچھ نہیں کہتا جو جو کچھ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے وہی کہتا ہے:۔
” ایک روز ایک عالم حضرت مہدی علیہ السلام سے بحث کر رہا تھا اور کسی طریقہ سے بھی تفہیم نہ پارہا تھا اس وقت حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا یہ لوگ دلیل اور علم سے تفہیم نہیں حاصل کریں گے۔ آپ نے اپنے دستِ مبارک سے تلوار بلند کرکے فرمایا کہ ان کے لئے اب یہی رہ گئی ہے۔ اگر خدائتعالیٰ حکم دیتا تو میں ان لوگوں سے جز یہ وصول کرتا ۔ یہ لوگ جزیہ دہندہ کے حکم میں آچکے ہیں۔“
پس ہم کو چاہئیے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے جو فرمایا ہے اس پر اعتقاد رکھیں اس میں تاویل نہ کریں اس کے بعد وہ دونوں حضرات چلے گئے۔ اور شہر میں شہرت ہوگئی کہ صحابہ علیہ السلام نے میاں سید خوندمیر (رضی اللہ عنہ) پر ضلالت کا حکم عاید کیا ہے۔ اسی روز عشاءکی نماز کے بعد سب لوگ صف پر بیٹھے ہوئے تھے اپنی رفقائے دائرہ سے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب مہاجرین آیہِ قاتلو او قتلو کے بارے میں بندہ سے موافقت نہیں کر رہے ہیں یہ لوگ حضرت مہدی علیہ السلام سے برگشتہ ہوگئے ہیں۔ لیکن خدائتعالیٰ ان کو رجوع کرنے کا موقع عطا فرمائیگا۔ اور اس مخالفت پر افسوس کریں گے کیوں کہ ان لوگوں کے حق میں حضرت مہدی علیہ السلام نے بشارتیں فرمائی ہیں۔ یہ لوگ مبشر مہدی علیہ السلام ہیں۔ خدائتعالیٰ ان کو خطا پر مصر نہ رکھیگا۔
اور(دوسرے دن ) فجر کی نماز کے بعد میاں ملک جیودعلیہ السلام میاں نعمت رضی اللہ عنہ اپنے دائرہ کے لوگوں کے ساتھ آئے ۔ ملاقات کے بعد یہ آیت سنائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔”پھر ہم نے ہمارے بندوں میں ان لوگوںکو قرآن کا وارث بنایا جن کو ہم نے برگزیدہ کیا“ (جزئ۲۲ رکوع ۶۱) اور فرمایا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ظالم لنفسہ کسکو فرمایا ہے۔ اور مقتصد و سابق بالخیرات کی کیا توضیح فرمائی ہے؟ اگر معلوم تو بیان کرو۔ میاں نے جواب دیا ہم کو معلوم نہیں ۔ ہم ظاہر پر حکم کرتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ظاہر پر نہیں بلکہ حضرت مہدی علیہ السلام کے فرمان کے تحت حکم سناتے ہیں۔ اگر پتھر کو حضرت مہدی علیہ السلام نے جو ہر فرمایا ہے تو ہم ظاہر پر حکم نہ لگائیں گے اور جو کچھ ہم بظاہر دیکھ رہے ہیں اس پر اعتقاد نہ رکھیں گے۔ بلکہ حضرت مہدی علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں ہم اس پتھر کو جوہرہی سمجھیں گے۔
نیز اگر کوئی خلوص کے ساتھ پوچھتے کہ ظالم لنفسہ اور مقتصد اور سابق بالخیرات کے بارے میں حضرت مہدی علیہ السلام سے آپ نے جو سنا ہے بیان فرماےئے ( تو اس وقت آپ بیان فرماتے تھے)
ایک جگہ مجلس میں یہی گفتگو رہی کہ خوندکار بیان کریں۔ میاں نے فرمایا اگر میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں ملکجیوعلیہ السلام بھی پوچھیں تو بندہ بیان کریگا۔ اس گفتگو کا مقصد صرف اتنا ہیکہ جو ظالم لنفسہ ہیں سابق بالخیرات کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اور گنہگار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کسی نے کچھ نہ کہا اور مجلس برخواست ہوگئی۔
۱۷۷
بعد از مدتے چوں قتال نزدیک شد آمد کتبہ کنند گاں یکجا شدند و بدروازہ شہر نہروالہ فردد آمد ند و خواستند کہ امیر شہر را کا غذ یا کتبہ بفرسند کہ ماازیں برادر علحدہ شدیم و بروحکم ضلالت کردیم بعضے یاراں گفتند اگر چنیں می خواہند کہ امیر را کاغذ بفرسند پس دریں کاغذ آیت من یکفر من الاحزاب فالنار موعدہ ۔ و حدیث من انکر المھدی فقد کفر ننویسند بعدہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ مخالف ایشاں شدند فرمودند برادرم سید خوندمیر راست گفت کہ شما از مہدی علیہ السلام منکر شدید کہ حجت مہدی علیہ السلام را از کاغذ دورمی کنید۔ بعدہ کاغذ پیش مخالفاں فرستاد ند وگویانید ند کہ یکے اربعین مہلت ید ہید ما برادر خود را تفہیم کنیم اگر تفہیم نشود ما نیز قتال کنیم چوں مخالفاں کاغذ دیدند جواب فرستادند کہ شما ازیں جاشتاب بروید اگر خیریتِ خود خواہید مہلت یکروز شمارانیست اگر موتِ شما نزدیک آمدہ باشد تا خیر کنید والا زود تر بروید۔
بعد ازاں ہریکے طرف جالور رفتند مخالفاں را بر قتال حجت استوار شد ۔ الغرض قتال شد ۔ مومناں بر سردار خود یعنی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ شہید شدند۔
ترجمہ: ایک عرصہ کے بعد جب جنگ کا زمانہ قریب آگیا تو ” قرارداد“ مرتب کرنے والے حضرات جمع ہوکر شہر نہروالہ کے دروازہ کے پاس آگئے اور امیر شہر کے پاس ایک تحریر روانہ کرنی چاہی کہ ” ہم اس بھائی (میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ) سے الگ ہوگئے ہیں اور ان پر جلالت کا حکم ہم نے عاید کردیا ہے بعض رفقاءنے مشورہ دیا کہ اگر امیر کے پاس تحریر روانہ کرنی چاہتے ہیں تو اس میں آیت من یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ۔ اور حدیث من انکو المھدی فقد کفر نہ لکھیں ۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ برادرم سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سچ کہتے ہیں تم لوگ مہدی علیہ السلام سے برگشتہ ہوگئے ہو۔ کیونکہ حجت مہدیت کو تحریر سے نکالدینا چاہتے ہو۔ اس کے بعد تحریر مرتب کی جاکر جخالفین کے پاس روانہ کردی گئی اور کہلایا گیا چالیس روز کی مہلت دی جائے توب ہم اپنے بھائی (میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ) کی تفہیم کریں گے۔ اگر وہ تفہیم قبول نہ کریں تو ہم خود جنگ کریں گے۔ جب مخالفین نے تحریر دیکھی تو جواب روانہ کیا کہ تم لوگ اگر بہتری چاہتے ہو تو یہاں سے جلد چلے جاوِ۔ ایک دن کی مہلت بھی نہیں دی جائیگی۔ اگر تمہاری موت قریب آچکی ہے تو نکلنے میں دیر کریں گے۔ ورنہ جلد چلے جائیں گے۔
اس کے بعد سب جالور کی طرف روانہ ہوگئے مخالفین کو (بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سے) جنگ کرنے کی دلیل مستحکم ہوگئی۔ غرض جنگ ہوئی مومنین اپنے سردار یعنی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوگئے۔
۱۷۸
بعد از مدتے میاں دلاور رضی اللہ عنہ از حق تعالیٰ معلوم کردند آنچہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کردہ است ہمہ حق است بر آیت قاتلو و قتلوا عمل کردند۔
وایں بندہ کہ جمع کنندہ منقولات است مسمی ولی می گوید خدائے تعالیٰ شاہد است کہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ بحضور ایں بندہ فرمودند کہ ما باس سید خوندمیر رضی اللہ عنہ رشک کردیم و ہر وقت کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ما یانِ ایشاں یادمی آیند سینہ بندہ سوز دو افسوس بسیار کردہ میشود۔ باز آنچہ فرمودند اگر من بگویم بسیار کساں باوردند ارند۔
ترجمہ: جنگ ہوچکنے پر ایک مدت کے بعد میاں دلاور رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا ہے بر حق ہے اور آیت قاتلو و قتلوا پر عمل کیا ہے۔ اور یہ بندہ جمع کنندہ نقلیات مسمی ” بہ ولی“ کہتا ہے کہ خدا گواہ ہے یہاں دلاور رضی اللہ عنہ نے اس بندہ سے فرمایا ہے کہ ہم نے سید خودندمیرعلیہ السلام کے ساتھ رشک کیا ہے۔ جب کبھی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ہم میں یاد آتے ہیں تو بندہ کا سینہ جلنے لگتا ہے اور بہت افسوس ہوا کرتا ہے۔ انھوں نے مجھے اور بہت ساری باتیں فرمائی ہیں۔ اگر بیان کروں تو باور نہ کریں گے۔
۱۷۹
میاں ملکجوعلیہ السلام چہل روز و شب باوضو ماند ندو توجہ خدا کردند کہ از حق تعالیٰ معلوم شوویک شب معلوم شد آنچہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کردند ہمہ حق بود بر آیت قاتلو او قتلوا عمل کردند چنانچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ در گروہ مہدی بریں آیت عمل شود آں شد۔
ترجمہ: میاں ملکجوعلیہ السلام چالیس روز تک دن رات باوضورہکر خدائتعالیٰ کی طرف توجہ کرتے رہے۔ ایک رات اللہ تعالیٰ سے معلوم ہوا کہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا سب حق تھا۔ انھوں نے آیت قاتلو او قتلوا پر عمل کیا جیسا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مہدی کی گروہ میں بھی اس آیت پر عمل ہوگا۔
۱۸۰
و بعد از بدتے میاں ملک جیوعلیہ السلام در جالور آمدند و فرمودند اگر کسے دامن ایں بندہ بگیرد بندہ بر عمل و قول کہ میاںسید خوندمیر رضی اللہ عنہ کردہ اند و گفتہ اند حجت ید ہم آنچہ در کُتبہائے دین نبشتہ اند میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کردند ہیچ خلاف نہ کردند۔
ترجمہ: کچھ عرصہ بعد میاں ملکجیوعلیہ السلام جالور میں آئے۔ اور فرمانے لگے کہ اگر کوئی بندہ کا دامن پکڑلے تو بندہ اس قول و عمل کو جو میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے ۔ثابت کریگا۔ دین کی کتابوں میں جو باتیں لکھی گئی ہیں میاں سید خوند میرعلیہ السلام نے وہی کیا ہے۔ کوئی خلاف ورزی انھوں نے نہیں کی۔
۱۸۱
و بعد از مدتے میاں نعمت رضی اللہ عنہ در جالور آمد ند و از دکن باز گشتند فرمودند کسانیکہ مرا از موافقت سید خوندمیر رضی اللہ عنہ باز داشتند ایشاں را خدائتعالیٰ خواہد پر سید۔
ترجمہ ایک عرصہ بعد میاں نعمت رضی اللہ عنہ دکن سے واپس ہو کر جالور میں آئے ۔ اور فرمانے لگے جن لوگوں نے مجھے سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی موافقت سے باز رکھا ان کو خدائتعالیٰ پوچھیگا۔
۱۸۲
و نیز روزے میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام پیش حضرت میراںعلیہ السلام عرض کرد کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ می پر سند قاتلو او قتلوا از کدام کس خواہد شد و پیش از قتال سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کرت و مرت ایں سخن فرمودند ایں بندہ نشستہ میشود چنانچہ کس را حق شود زیر اچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ایں کار از تو خواہد شد ۔ و ہنوز نمی شود کہ شاید ازما چیزے تقصیرے واقع است۔
ترجمہ ایک روز میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام نے حضرت مہدی علیہالسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ پوچھ رہے ہیں کہ قاتلو او قتلو ا کس شخص سے انجام پائیگا۔ اور قتال سے آگے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے بارہا فرمایا جبکہ بندہ بیٹھا ہو ا ہے کس کا حق ہوسکتا ہے؟ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ کام تجھ سے ہوگا اور یہ ابتک نہوسکا ہے شاید مجھ سے کوئی قصور سر زد ہوا ہو۔
۱۸۳
و نیز روزے میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام پیش حضرت میراںعلیہ السلام عرض کرد کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ می پر سند قاتلو او قتلوا از کدام کس خواہد شد و پیش از قتال سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کرت و مرت ایں سخن فرمودند ایں بندہ نشستہ میشود چنانچہ کس را حق شود زیر اچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ایں کار از تو خواہد شد ۔ و ہنوز نمی شود کہ شاید ازما چیزے تقصیرے واقع است۔
ترجمہ ایک روز میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام نے حضرت مہدی علیہالسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ پوچھ رہے ہیں کہ قاتلو او قتلو ا کس شخص سے انجام پائیگا۔ اور قتال سے آگے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے بارہا فرمایا جبکہ بندہ بیٹھا ہو ا ہے کس کا حق ہوسکتا ہے؟ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ کام تجھ سے ہوگا اور یہ ابتک نہوسکا ہے شاید مجھ سے کوئی قصور سر زد ہوا ہو۔
۱۸۴
حضرت میرانجیو علیہ السلام طریق قتال ہم نفرمودہ اند کجاوچوں خواہد شد۔ پس ہر کہ بہ کیفیت مقید کند از میاں و از حضرت میراں علیہ السلام نیست و ہر کر ا مشکل شود کہ قتال کلمہ گویاں چوں شود جواب انیست کہ مہدی علیہ السلام مبعوث بر کلمہ گویان است بر مشرکاں نیست و گروہ اور اخراج و ایذااز کلمہ گویاں شدہ است نہ از مشرکاں پس قتال نیز باموذیاں شود نہ بادیگراں ۔ اکنوں نہ بعد از قتال رجوع مہاجراں و بعد از ظہر شد ند آنچہ میاں سید خوندمیر فرمودہ بودند حجت تصدیق مہدی علیہ السلام بر متفحصاً نہ لاز شد ہیچ عذر پوشیدگی نماند۔
ترجمہ: اور حضرت مہدی علیہ السلام نے طریقہ قتال بیان نہیں فرمایا ہیکہ کہاں اور کب ہوگا۔ پس جو شخص کیفیت مقید کرلے وہ میاں اور حضرت میراں علیہ السلام سے نہیں ہے ۔ اور جسکو یہ امر مشکل معلوم ہو کہ کلمہ گودیوں سے قتال کس طرح کیا جاسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہیکہ مہدی علیہ السلام کلمہ گویوں پر مبعوث ہوئے ہیں مشرکوں پر نہیں ان کو اور ان کی گروہ کو اخراج و ایذا کلمہ گویوں سے ہورہی ہے مشرکوں سے نہیں پس قتال بھی موذیوں کے ساتھ ہوگا نہ کہ کسی اور کیساتھ۔۔
۱۸۵
معلوم بادکہ میاںسید خوندمیر رضی اللہ عنہ در رسالہ خود نبشتہ انداے طالبان حق مہدی را گرویدہ ام و ایں منقول است کہ بندہ در گروہ است از اول از و صحبت تا وقت رحلت حضرت میرانجیو بدین منقولست ہیچ تفاوت نیافتہ ایم و بریں جملہ اعتقاد و ایمان داریم و ہر کہ در بیان دے چیزے تاویلے و تحویلے می کند او مخالف بیانِ آں ذات باشد۔
ترجمہ: واضح ہو کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے رسالہ میں تحریر فرمایا ہیکہ اے حق کے طالبو! میں مہدی علیہ السلام پر گرویدہ ہوچکا ہوں۔ اور یہ بھی منقول ہیکہ بندہ مہدی علیہ السلام کی جماعت میں ہے۔ ابتدائے صحبت سے رحلت تک کے جو (امور) اس (رسالہ میں منقول ہیں) ہم نے کوئی فرق نہیں پایا ہے۔ اور ہم ان تمام (منقولات) پر عتقاد و ایمان رکھتے ہیں۔ جو شخص (حضرت مہدی علیہ السلام کے) بیان میں کوئی تاویل یا تحویل کرے وہ اس ذات کے بیان کا مخالف قرار پائیگا۔
۱۸۶
معلوم باد حضرت میراں علیہ السلام بحکم ایں آیت ومن یقتل مومنا متعمد الآیہ ۔ قاتل مومن را خلود نار فرمودہ اند اگر مفسراں تاویل کردہ اند مرا گوئی (کہ چہ) تاویل فرمودند ہ اند پس فتویٰ دہندگاں بقتل فقرا بمجرد تصدیق و عمل کنند گاں بریں فتوی باشند بے ایمان و ایشاں را خلود نار باشد۔ و میاں سید خوندمیر بر کلمہ گویاں فتوی دادند۔ بعد از زوال ایمان ایشاں فتوی دادہ اند ہیچ سوال وارد نشود۔
ترجمہ: واضح ہو کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اس آیت کے حکم سے ومن یقتل مومنا متعمداً فجزاءہ نار جھنم خالدین فےھا الایت (جزء رکوع ) یعنے جو شخص مومن کو عمداً قتل کریگا اس کی جزا جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیگا) مومن کے قاتل کو دائمی دوزخی فرمایا ہے اگر مفسرین نے کوئی اور تاویل کی ہے تو وہ کیا تاویل ہے مجھ سے بیان کرو۔ پس محض تصدیق کی وجہ فقراءکے قتل کا فتویٰ دینے والے اور اس فتویٰ پر عمل کرنے والے بے ایمان اور دائمی دوزخی ہیں(اس لحاظ سے) میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے کلمہ گویوں پر جو فتویٰ دیا ہے ان کلمہ گویوں کے زوال ایمان کے بعد دیا ہے اس لئے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔
۱۸۷
ایں مکتوب را بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ پیش سید کبیر فرستادہ بودند (انصافنامہ باب ۱) معلوم باد کہ چوں حضرت میراں علیہ السلام پیش از دعوی مہدیت در گجرات بیان قرآن کردند و خلق را سوے ذکر و محبت حق تعالیٰ خواند ند و خلق عداوت کردند میرانجیو علیہ السلام فرمودند معلوم نمی شود موجب مخالفت ایشاں چسیت اگر از بندہ سہوے یا غلطے شدہ باشد بر مسلماناں فرض است بحکم آئیتہ انما المومنون اخوة (جزء۶۲ رکوع ۲۱) اعلام فرمایند و ماہم متفق شدہ سوے کتاب خدائتعالیٰ رجوع کنیم و موافقت رسول خدا بنمائیم ۔ کما قال سبحانہ‘ و تعالیٰ فان تنازعتم فی شی فرد وا الی اللّٰہ و رسولہ۔ از ما و شما بر اتباع کتاب خدا و رسول خدا قدم بیرون نہادہ باشد۔آنکس تو بہ کند و باز آید و موافقت با کتاب خدائتعالیٰ بنمائیم وگر بازنیایند تو بہ نکنند و مصر باشند واجب القتل اند و مدت بست و پنج سال شدہ است کہ میراں سید محمد و یارانِ وے بریں معنی فریاد می کنند ہر کہ مدعاے ما بطریق انصاف و بحجت علم معلوم نکندد ماخوذ گرد و بلکہ ہمیشہ بطریق تغلب و سلطنت بر ما حکم بدعت و ضلالت کردہ اند۔ تا ایں زماں مظلوم گشتہ ایم بحدیکہ بعضے را در زنداں کردہ اند و بعضی را اخراج کردہ اند و ظالماں بایں نوع ظلم پیش آوردند۔ و امیراںحکم بانصاف نمی کنند و اکنوں ایں زماں برما لازمشدہ است کہ براے نصرت دین جان خود را در بازیم و خدائتعالیٰ ناصر دین خود است۔ قال اللہ تعالیٰ الذین اخرجو ا من دیا رھم بغیر حق الا ان یقولو ا ربنا اللہ مدد لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع و بیع و صلوٰة و مساجد یذکر فےھا اسم اللہ کثیرا الایت (جزئ۷۱ رکوع ۳۱)بر مسلمانان فرض شدہ است کہ برائے خدائے مظلوماں را نصرت کنند و انصار دین خدا شوند۔ کما قال سبحانہ و تعالیٰ ولو لا انصار اللہ ایں زماں نہایت رسیدہ است کہ ظلم و تعدی می کنند و کسے انصاف نمی کنند بدیں سبب ناچار ما ہم فتویٰ داویم کہ از مصدقاں یکے از مفتیاں و اعوان مفتیاں بکشد و گر خود کشتہ شود شہید باشد ور راہ خدا و در نصرت دادن دین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زیر اچہ مہدی موعود جز اتباع رسول اللہ و ترک بدعت و ذکر دوام چیزے نمی گوید و ہیچ عقیدہ جز عقیدہ‘ سنت و جماعت نمی کناند پس عداوت متعلماں جز کتاب حق قال اللہ تعالیٰ فی حقھم و آمنوا بما انزلت مصدقا لما معکم ولا تکونو ا اول کافر بہ۔ ولا تشترو ا بآیاتی ثمنا قلیلا۔ وایای فاتقون ۵ ولا تلبسو الحق بالباطل و تکتمو ا الحق وانتم تعلمون ۔ الآیت(جز ئ۱ رکور ۵) (اگر ما اندک و ضعیف ہستیم و لیکن صاحب ما توانا و غالب است کقولہ تعالیٰ ان اللہ لقوی عزیز)
ترجمہ: (اس مکتوب کو حضرت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے سید کبیر کے پاس روانہ فرمایا) واضح ہو کہ حضرت مہدی علیہ السلام دعوی مہدیت سے قبل گجرات میں بیان قرآن فرمارہے تھے اور لوگوں کو ذکر و محبت خدائتعالیٰ کی طرف دعوت دے رہے تھے ۔ اس وقت لوگ آپعلیہ السلام سے عداوت کر رہے تھے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ان کی مخالفت کا سبب معلوم نہیں ہورہا ہے اگر بندے سے کوئی سہو یا غلطی ہوگئی ہے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ بحکم آیہ ِ انما المومنون اخوة (بیشک مومنین بھائی بھائی ہیں) آگاہ کریں اور ہم بھی متفق ہو کر کتاب اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت بتلائیں گے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر کسی مسئلہ میں نزاع واقع ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کردو“۔ ہم سے یا تم سے جس کا قدم اتباع کتاب خدا و رسول خدا سے باہر ہوگیا ہو وہ توبہ کرے اور باز آجائے۔ اگر ہم کتاب خدا سے موافقت اختیار نہ کریں اور باز نہ آئیں تو بہ نہ کریں مصرر ہیں تو واجب القتل ہیں ۔ پچیس سال کا عرصہ گذرا ہے کہ میراں سید محمد اور ان کے صحابہ علیہ السلام اس مضمون کے ساتھ لوگوں کو مخاطب کر رہے ہیں ۔ جو شخص ہمارے مدعا کو انصاف اور حجت علم کے طریقہ سے معلوم نہیں کرتا وہ ماخوذ ہوگا۔ بلکہ (یہ لوگ) ہمیشہ صرف سلطنت و غلبہ حکومت کے تحت ہم پر بدعت و ضلالت کا حکم لگاتے ہیں۔ اس زمانہ میں ہم تو اس درجہ مظلوم ہوگئے ہیں کہ ہم میں سے بعض کو قید کردئیے ہیں اور بعض کا اخراج کیا ہے۔ ظالم لوگ اس طرح ظلم کر رہے ہیں اور حکام انصاف سے حکم نہیں کرتے ہیں۔ اب اس زمانہ میں ہم پر لازم ہوگیا ہے کہ نصرت دین کے لئے اپنی جان کی بازی لگادیں۔خدائتعالیٰ اپنے دین کا ناصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اپنے گھروں سے نا حق نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے تھے کہ ہمار ا رب اللہ ہے ۔ اگر یہ بات نہوتی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ایک کا دوسرے سے ڈر نہ گھٹاتا رہتا تو نصاریٰ کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے وہ سب منہدم ہوگئے ہوتے“(جز۷۱ رکوع ۳۱)۔ مسلمانوں پر لاز م ہوگیا ہے کہ خدا کے لئے مظلومین کی مدد کریں ۔ انصار دین خدا بن جائیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ ظلم و تعدی انتہا کو پہنچ گئی ہے ۔ کوئی اس زمانہ میں انصاف کرنیوالا نہیں ہے۔ اس لئے مجبوراً ہم نے بھی فتویٰ دیا ہے کہ جو مہدوی ایک مفتی یا اس کے ایک مددگار کو قتل کریگا یا خود مارا جائیگا تو وہ فی سبیل اللہ اور برائے نصرت دین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم شہید قرارپائیگا۔ کیونکہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے بجز اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ترک بدعت و ذکرو دوام کے کوئی اور بات (خلاف شرع) نہیں فرمائی ہے اور سنت و جماعت کے اعتقاد کے سوائے کوئی اور عقیدہ بیان نہیں فرمایا ہے ۔ پس علما کی عداوت کتاب خدا سے تعلق رکھتی ہے ان کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” اور ایمان لاوِ اُ س قرآن پر جسے میں نے نازل کیا ہے دراں حالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہے اس توریت کی جو تمہارے ساتھ ہے اور میں بنو تم سب میں پہلے اس قرآن کے انکار کرنے والے اور میری آیت کے مقابلہ میں حقیر معاوضہ نہ لو۔(یعنے دنیا کی صحبت میں دین کو نہ چھوڑو) اور خاص مجھ ہی سے ڈرو۔ اور حق کو باطل کے ساتھ مخلوط نہ کرو اور حق بات کو مت چھپاوِ جبکہ تم جانتے ہو “ (اگرچہ کہ ہم تھوڑے ہیں لیکن ہمار ا خدا توانا و غالب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (ان اللہ لقوی عزیز)
۱۸۸
نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ مومن حقیقی آنکس ۱ است کہ بنیا باشد بچشم سر یا بچشم دل یادر خواب و اگر ہر سہ نداردو طلب تمام دارد کہ بینائی ۲ روزی شود بردہم حکم ایمان است۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مومن حقیقی وہ شخص ہے جو بینا ہو چشم سر سے یا چشم دل سے یا خواب میں ۔ اگر ان تینوں میں سے ایک بینا ئی بھی حاصل نہو اور پوری طلب رکھتاہو کہ بینائی روزی ہو۔ تو ایسے مومن پر بھی ایمان کا حکم کرتے ہیں۔
۱۸۹
نیز فرمودند کہ بر طالب چہ چیز فرض است کہ بداں بخدا برسد ۔ باز فرمودند کہ آں عشق است عشق چگونہ حاصل شود فرمودند کہ بروجہ دل۔ دائم بسوے حق تعالیٰ دارد۔
ترجمہ: نیز سوال فرمایا کہ طالب پر کونسی چیز فرض ہے کہ اسکی وجہ سے خدا کو پہنچ سکے ؟ خود آپ علیہ السلام نے ہی جواب فرمایا کہ وہ عشق ہے۔ عشق کیونکر حاصل ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ دل کی توجہ ہمیشہ خدائتعالیٰ کی طرف قائم رکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
۱۹۰
نیز یاراں را فرمودند کہ شما کامل ہستید اگر خلق طریق شمانیک خواہند دید بدر شما خواہند افتاد۔
ترجمہ: نیز صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کامل ہو اگر لوگ تمہار ا نیک طریق دیکھیں گے ۔ تو تم سے وابستہ ہوجائیں گے۔
۱۹۱
منقول است کہ حضرت میراں علیہ السلام درون حجر ہائے طالباں میر فتے اگر بیاد خدا یا فتے لطف ۳ کردندے و خوشنود شدے و اگر غلطیدہ یافتے نشستن ندادے و بسخن گوجری ۴ فرمودے” اچھے جی اچھے“ تعلق نیست بندہ نشستہ است۔ اگر درونِ حجرہ نیافتے فرمودے بے ڈھنگے درون حجرہ نما مانند اگر دوسہ کس رادیدندے کہ حکایت می کنند نزدیک آمدہ فرمودندے چہ می کنید ز جر کردے بلکہ حکم زدن بچوبہا فرمودے۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام طالبان خدائتعالیٰ کے حجروں میں تشریف لیجایا کرتے اگر یاد خدا میں مشغول پاتے تو ان پر مہربانی فرماتے اور خوش ہوتے۔ اگر غافل پاتے تو ان کو (ذکر میں) بیٹھنے کی اجازت نہ دیتے اور گوجری زبان میں فرماتے کہ ” اچھے جی اچھے“ بندہ بیٹھا ہوا ہے مگر تعلق نہیں ہے۔ اگر حجرے میں موجود نہ پاتے تو فرماتے کے بے ڈھنگے حجرے میں نہیں رہتے ہیں۔ اگر دو تین آدمیوں کو مصروف گفتگو پاتے تو نزدیک تشریف لاکر فرماتے کہ یہ کیا کر رہے ہو جھڑکتے بلکہ لکڑی سے مارنے کا حکم دیتے۔
۱۹۲
روزے دوسہ کس رادید ند کہ حکایت می کنند نزدیک ۱ آمدہ فرمودند چہ می ۲ کنید گفتند چیزے حکایتِ دینی
بود فرمودند اے برادراں خدائے را بحکایت نخواہند یافت ذکر کنید کہ جز ذکر بخدارسید راہ نیست۔
ترجمہ: ایک روز آپ نے دو تین آدمیوں کو مصروف گفتگو پایا۔ قریب آکر فرمایا کہ کیا کر رہے ہو عرض کرنے لگے کہ دین سے متعلق کچھ قصہ تھا۔ فرمایا اے بھائیو! قصوں سے خدائتعالیٰ کو نہ پاو گے۔ ذکر کرو کیونکہ ذکر اللہ کے بغیر اللہ کو پہنچنے کا راستہ نہیں ہے۔
۱۹۳
نیز فرمودند کہ تصدیق مہدی عمل کردن است۔ نہ اقرار نہ اعتقاد مجرد۳ ۔
ترجمہ: نیز فرمایا کہ مہدی علیہ السلام کی تصدیق عمل کرنا ہے نہ کہ صرف اقرار و اعتقاد۔
۱۹۴
روزے ایں آیت خواند ند الذین یذکرون اللہ قیاما وقعود او علیٰ جنو بھم(جز۴ رکوع ۱۱) فرمودند کہ فرمان خدائتعالیٰ میشود کہ ایں آیت صفت گروہ مہدی است ایں آیت در حق گروہ مہدی است۴
ترجمہ: ایک روز یہ آیت آپ نے تلاوت فرمائی جو لوگ کھڑے ہوے بیٹھے ہوے لیٹے ہوے اللہ کا ذکر کرتے ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہورہا ہے کہ اس آیت میں مہدی کی جماعت کی صفت کا بیان ہے ۔ یہ آیت گروہ مہدی کے حق میں ہے ۔
۱۹۵
اگر کسے را پرسیدے کہ فراغ ہست گفتے کہ آرے ہست فرمودے بندہ فراغ ظاہر ی نمی پُرسد خاطر با خدا ہست۔
ترجمہ: اگر کسی سے پوچھتے کہ فراغ ہے؟ تو وہ کہتا کہ جی ہاں ہے۔ فرماتے کہ بندہ ظاہری فراغ کی نسبت نہیں پوچھ رہا ہے کیا دل خدا سے لگا ہے۔
۱۹۶
باز فرمودے وقت طعام خودن و آب نوشیدن ویا بہر کارے کہ باشد خاطر با خدا نباشد آں طعام و آں آب و آں کا ر حرام باشد۔ کما قال اللہ تعالیٰ یا اےھا الذین اٰمنو ا لا تحرمواطیبات ما احل اللہ لکم ولا تعتدو ا ان اللہ لا یحب المعتدین (جز ئ۷ رکوع ۲) یعنے ۱ بغفلت طیبات حرام می شوند کما قال اللہ تعالیٰ ۔ وما لکم الا تاکلو ا مما ذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق (جزئ۸ رکوع ۱) و شریعت ِ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انیست۔ کما قال اللہ تعالیٰ شرع لکم من الدین ما وحی فیہ ط کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (جزء۵۲ رکوع ۳) و ناداناں فہم کردہ اند کہ شریعت مشغول بودن بزراعت و تجارت کہ رخصت شریعت است ذکر باشد یا نباشد در حق ایں قوم خدائے تعالیٰ فرمود۲ :۔ قال اللہ تعالیٰ یعلمون ظاھراً من الحیاة الدنیا وھم عن الآخرة ھم غافلون(جز ئ۱۲ رکوع ۴)
ترجمہ: ایک دفعہ فرمایا کہ کھانا کھانے اور پانی پینے میں یا جس کام میں بھی مشغول ہوں دل خدائے تعالیٰ کی طرف لگاہوا نہ رہے تو وہ کھانا وہ پانی وہ کام حرام ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ ” اے مومنو! جو چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں تم انھیں حرام نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ (کی حدود) سے تجاوز نہ کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے گذر جانیوالوں کو پسند نہیں فرماتا ہے (جزئ۷ رکوع ۲) یعنے غفلت کی وجہ طیبات بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور تمہیں کوئی وجہ نہیں کہ ایسی چیزیں نہ کھائیں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو(جزء۸ رکوع ۱) (ایضاً) اور ایسی چیزیں نہ کھاوِ جن پر اللہ
کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک (اس کا کھانا) فِسق ہے (جزئ۸ رکوع۱) اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت یہ ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ (اے محمد) ہم نے تمہارے لئے وہ دین انتخاب کیا ہے جس کا نوحعلیہ السلام کو حکم دیا تھا۔ اور ہم نے تم پر ایسی چیز وحی کی ہے جس کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا تھا دین قائم کریں اور اس میں متفرق نہوجائیں ۔ جس دین کی طرف تم بلاتے ہو مشرکین پر بہت گراں و سخت ہے (جزئ۵۲ رکوع ۱) اور بے سمجھ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ زراعت و تجارت وغیرہ کاروبار میں مشغول رہنے کی شریعت میں اجازت ہے ذکر اللہ جاری رہے یا نہ رہے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے:۔ لوگ حیات دنیا کی ظاہر ی چیزیں جانتے ہیں اور وہ (امور) آخرت سے غافل ہیں(جزء۱۲ رکوع ۴)
۱۹۷
نقلست کہ برادرے ۱ برائے خوردن غلہ یا چیزے می کوفت حضرت میراں علیہ السلام دیدند و فرمودند کہ چہ می کنید گفت ۲ میرانجیو باجری می کو بم فرمودند کہ میاں اگر یکمشت غلہ دادان ایں کار شود وقتِ خودرا ضائع نباید کرد۔ یکمشت غلہ بدہید و خود دریادخدائتعالیٰ باشید۔
ترجمہ: روایت ہیکہ ایک صحابیعلیہ السلام غلہ یا کھانے کی کوئی چیز کوٹ رہے تھے ۔ حضر ت مہدی علیہ السلام نے دیکھکر فرمایا کیا کررہے ہو ۔ عرض کیا میرانجی باجرہ کوٹ رہا ہوں ۔ فرمایا کہ میاں اگر ایک مٹھی غلہ دیدیتے تو یہ کام ہوجاتا۔ اپنا وقت ضائع نہ کرنا چاہئیے۔ ایک مٹھی غلہ دو اور خود اللہ تعالیٰ کی یاد میں رہو۔
۱۹۸
نقلست بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند فتوح حق کسے را ہست کہ بر خدا توکل کند۔ و کسب ۳ ترک کند ۔ قال اللہ تعالیٰ للفقراءالذین احصروا فی سبیل اللہ الآیت (جزء۳ رکوع ۵) و کسبیاں را سویت ندا وند بلکہ از دائرہ بیروں کردند۔ آنہارا کہ بعد از کسب اختیار کردند۔ میراں علیہ السلام ایں رباعی خواند ند۔
ہر آں کو غائب ازوے یکزمان است
دراں دم کافر است امانہا نست
اگر خود غائبی پیوستہ باشد
درِ اسلام بردے بستہ باشد
فرمودند طالب حق را با ید کہ
پاسبان دل بشو د ر کل حال
تا نیا بد ہیچ و زد آنجا مجال
ہر خیال غیر حق رادز د واں
ایں ریاضت مومناں را فرض داں
غیر حق ہر زہ است کاں مقصود نیست
تیغ لا برکش کہ آں معبود نیست
ترجمہ:روایت ہیکہ بندگیمیاںنعمت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” فتوح ان فقراءکا حق ہے جو خدائتعالیٰ پر توکل رکھتے ہوں اور کسب ترک کرچکے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ان فقراءکیلئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں محصور ہوگئے ہوں “ الی آخرہ ۔ اور کسب کرنے والوں کو سویت نہیں دیتے تھے بلکہ جن لوگوں نے بعد میں کسب اختیار کیا ہو ان کو دائرہ سے باہر کردیتے تھے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے یہ اشعار بیان فرمائے ہیں۔
جو اس سے (اللہ سے) تھوڑی دیر کیلئے غافل ہے ۔ اس دم یعنی وقت غفلت میں وہ کافر ہے لیکن
باطن میں کافر ہے۔ اگر کوئی ہمیشہ خدا سے غافل رہیگا تو سمجھو کہ اسلام کا دروازہ اس پر بند ہے۔
فرمایا کہ طالب حق کو چاہئیے کہ:
ہر حالت میں دل کی نگرانی کرتا رہ تا کہ کوئی چور وہاں داخل نہووے ۔ غیر حق کے ہر خیال کو چور سمجھ
یہ ریاضت مومنوں کے لئے فرض جان غیر حق بیہودہ ہے کیونکہ وہ مقصود نہیں ہے۔ اس پر لا کی تیغ
کھینچ کہ وہ معبود نہیں ہے۔
۱۹۹
نیز نقلست کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ چہار قسم است۔ یکے لا الٰہ الا اللہ
گفتنی است۔ دوم لا الٰہ الا اللہانستنی است۔ سوم لاالہ الا اللہ ویدنی است ۔چہارم لا الٰہ الا اللہ شد نی است ۔ وسہ مرتبہ ازیشاں انبیاءو اولیاءاست ۔یعنی علم الیقین و عین الیقین و حق الیقین ۔ ویک قسم ۱ کہ گفتن است ایمان منافقاں۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی چارسم ہیں ایک لا الٰہ الا اللہ صرف کہنے کی حد تک ہے دوسری لا الٰہ الا اللہ جو صرف جاننے کی حد تک ہے تیسری لا الٰہ الا اللہ جو دیکھنے کی حد تک ہے چوتھی لا الٰہ الا اللہ جو ہو نے کی حد تک ہے ان میں سے تین مرتبے تو انبیاءو اولیا کے لئے ہیں یعنی علم الیقین عنین الیقین حق الیقین اور ایک قسم جو کہ صرف کہنے کی حد تک ہے منافقوں کے ایمان سے متعلق ہے۔
۲۰۰
نیز فرمودند کہ اگر لا الہ الا اللہ بر دل بندہ ایں مقدار قرار کند کہ دانہ مونگ بر شاخ گاوِ پس کار آں بندہ تمام شود۔
ترجمہ: نیز فرمایا کہ اگر لا الہٰ الا اللہ بندہ کے دل پر اس قدر اثر کرے جتنا مونگ کا دانہ گائے کی سینگ پر کرسکتاہے تو اس بندہ کا مقصد پورا ہوسکیگا۔
۲۰۱
بدیں عبارت ہم فرمودند کہ لا الٰہ الا اللہ بر دل مومن ایں مقدار بما ند چنانچہ خانہ پُر پنبہ باشد اینجاذرہ آتش آدر دہ شود سوختہ شود۔ و لیکن صفت لا الٰہ چنیں ہست کہ ہمہ مجتہائے غیر خدا سوختہ کند۔
ابیات :۔
انفاس پاسدارا گر مردعارفی
ملک دو کون مِلک تو گرود بہ یک نفس
ہریک نفس کہ میردو از عمر گو یست
گاں را خراج مِلک دو عالم بود بہا
مپسند کایں خزانہ دہی رائیگاں بباد
انگہ روی بخاک تہی دست و بینوا
دلے کز یاد مولیٰ نیست خرم
مبادا ہیچ گاہے خالی از غم
کس ایں کند کہ دل ازیار خویش برادرد
مگر کسے کہ دل از سنگ سخت تردارد
کما قال اللہ تعالیٰ من اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکاً و نحشرہ یوم القیامة اعمٰی الآ یت (جز ۶۱ رکوع ۶۱) حدیث قدسی ۔ یا ابن اٰدم تفرغ ۱ لعبادتی املاءصمک غنیً ۲ و اشد فقرک وان لم تفعل اسلاءیدک شغلاولم اشدک فقرک ۴ قال اللہ تعالیٰ واذکر ربک فی نفسک تضرعاً و خیفة ودون الجھر من القول بالغدود الاٰصال ولا تکن من الغافلین۔
ابیات مثنوی
آں روز خود مبادا کہ بے یار بگذرد
گرچہ ہزار عیش بود زار بگذرد
افسوس صد ہزار کہ بع تورود ولے
لعنت براں حیات کہ بے یار بگذرد
مثنوی:۔
سعدی چو وصل یار میسر نمی شود
بارے بیاد دوست زمانہ بسر پری
با ما بزباں یاری دل باد گراں دار ی
انصاف چنیں باشد شاباش زہے یاری
تا دل زوجود خویش بر کندہ نہِ
در بند خودی خدائے را بندہ نہِ
گیرم کہ تو جانی و جہاں زندہ بہ تست
تا زندہ بجاناں نشوی زندہ نہِ
ایں دم کسے دے واری در یاب کن یاری
ایں فرصت ایکدم را عمرے ابدی کر دانہِ
زندگانی نتواں گفت حیاتے کہ مراست
زندہ آنست کہ با دوست وصالے دارد
ترجمہ:۔ اسی مضمون کے متعلق آپ نے یہ بھی فرمایاکہ لا الہٰ الا اللہ سے مومن کے دل پر ایسا اثر ہونا چاہئیے جیسا کہ روئی سے بھرے ہوئے گھر میں ایک چنگاری کرسکتی ہے کہ جس سے ساری روئی جل جاتی ہے۔ لیکن لا الہٰ الا اللہ کی تاثیر تو یہ ہیکہ غیر اللہ کی محبت پور پوری سوختہ ہوجاتی ہے۔
اپنے سانسوں کی نگرانی کر اگر تو عارف ہے ۔ دونوں جہاں کی بادشاہت تیری ملک ایک ہی سانس میں ہوجائیگی ۔ عمر کی ہر ایک سانس جو نکل رہی ہے ایک موتی ہے جسکی قیمت دونوں جہاں کی بادشاہت ہے۔ اس خزانہ کو رائگاں کرنا تو پسند نہ کر ایسا کریگا تو خاک میں بینوا اور خالی ہاتھ جائیگا۔ جو دل خدا کی یاد سے خوش نہیں ہے وہ کسی وقت بھی ایسا نہو کہ غم سے خالی رہے ۔ کوئی شخص اپنے محبوب سے دل اٹھالیتا ہے۔ تو شاید وہ شخص وہی ہے جس کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ جس نے میرے ذکر سے رو گردانی کی تو بیشک اس کی معیشت تنگ و سخت ہے۔ اور ہم اس کا حشر قیامت کے دن اندھوں میں کریں گے۔ (جزء۶۱ رکوع ۶۱) حدیث قدسی ہیکہ اے آدم کے بیٹے تومیری عبادت کے لئے (غیر حق ) سے خالی ہوجا اپنے دل کو تونگری سے بھر لے اور اپنی محتاجی کو شدید کردے۔ اگر تو ایسا نہ کریگا تو میں تجھے دنیاوی افکار سے بھردونگا اور تیرا محتاجی کو بند نہ کرونگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور صبح و شام ڈر اور عاجزی سے اپنے رب کا ذکر بغیر آواز کے اپنے دل میں کرو اور غافلین میں مت ہوجاﺅ (جزء۹ رکوع ۴۱)
۲۰۲
و فرمودند یک وقت سلطان النہار دیگر وقت سلطان الیل ہر کہ ایں ہر دو وقت را بدیں ترتیب بگاہد ارد از وشب و روز ضائع نہ رود۔ ہر کہ ایں دو وقت ضائع ۱ کرد فقیر دین نباشد۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک وقت سلطان النہار ہے اور دوسرا سلطان اللیل ہے جو شخص ان دو وقت کی حفاظت کر رہا ہو(گویا) اس سے دن اور رات ضائع نہیں جارہے ہیں۔ ان دو وقتوں کو جو (فقیر) ضائع کر وہ فقیر دین نہیں ہے۔
۲۰۳
وحکم ذکر پنج پاس ذکر کثیر است بدیں ترتیب فرمودند کہ اول صبح تا یک و نیم پاس و بعداز ظہر تا بہ عشا بیاد حق تعالیٰ باشد ۔ وذکر قلیل صفت منافقاں است۔ کما قال اللہ تعالیٰ لا یذکرون اللہ الا قلیلا (جز ء۵ رکوع ۷۱) وذکر چہار پاس را ذکر مشرکاں فرمودند ۔ کما قال اللہ تعالیٰ من الناس من یتخذ من دون اللہ انداداً یحبونھم کحب اللہ والذین اٰمنوا اشد حباً لللہ(جزئ۲ رکوع ۴)
ترجمہ: اور پانچ پہر کے ذکر کا جو حکم ہے وہ ذکر کثیر ہے۔ اس کی ترتیب آپ نے یہ بیان فرمائی کہ ابتداءفجر سے ڈیڑھ پہر دن تک۔ اور ظہر سے عشاءتک اللہ کی یاد میں رہے۔ (اور فرمایا)کہ) ذکر قلیل منافقوں کی صفت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا یذکرون اللہ الا قلیلا ۔ یعنی بہت تھوڑا ذکر کرتے ہیں (جزء۵ رکوع ۷۱) اور چار پہر کے ذکر کو مشرکوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بعض لوگ غیر اللہ کو (اللہ تعالیٰ کا) شریک بنالیتے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی طرح محبت کر تے ہیں۔ اور جو مومنین ہیں (وہ تو صرف) اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں سخت ہیں (جزء۲ رکوع ۴)
۲۰۴
نقلست کہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بعد از ہفتہ محضرہ میکردے و دراں محضر اکثر مہاجراں بودند۔ ہمچو ۱ ملک معروف و میاں دلاور رضی اللہ عنہو میاں لاڑ علیہ السلامو میاں سید سلام اللہ علیہ السلام و چند طالباں کہ در دائرہ بودند میراں سید محمود ہر بار کہ محضر میکردند یک یک مہاجراں را نام ستدہ میفر مودند کہ ایں بندہ درمیان برادراں خورد تراست۔ آنچہ شما از حضرت میراں علیہ السلام معلوم کردہ ایدبگوئید بعدہ مہاجراں ہریکے فرمودند کہ شما بفرمائید چند بارایں سخن یک دیگر تکرار شد۔ بعدہ میراں سید محمود فرمودند کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ذکر کثیر کنید و ذکر کثیر بدیں ترتیب فرمودند از اول صبح تا یک و نیم پاس در حجرہ
باشند و کس یک جا نشوند و بعد از ظہر تا وقت عصر مشغول باشند ۔و بعدہ تا مغرب بیان قرآن بشنوند و بعد از مغرت تا وقت عشاءبذکر مشغول باشند۔ واگر از حجرہ کسے دریں اوقات بیروں آید آں حجرہ را پارہ پارہ کنند ۔ اور ا از دائرہ بیروں کنند اگرچہ ایں بندہ باشد ہمچناں کنند ہمہ یاراں قبول کردند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ہر ایک ہفتہ کے بعد محضرہ کرتے تھے اس اجماع میں اکثر مہاجرین رہا کرتے تھے ۔ مثلاً حضرت ملک معروفعلیہ السلام و حضرت میاں دلاور رضی اللہ عنہ و حضرت میاں لاڑ علیہ السلام و حضرت میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہم اور چند طالبان خدا جو دائرہ میں موجود تھے (سب جمع ہوتے تھے) حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ جب اجماع کرتے ہر دفعہ ایک ایک مہاجر مہدی علیہ السلام کا نام لیکر فرماتے کہ یہ بندہ آپ بھائیوں میں بہت چھوٹا بھائی ہے۔ آپ لوگ حضرت مہدی علیہ السلام سے جو معلوما ت حاصل کئے ہیں بیان کریں ہر ایک مہاجر یہی کہتے کہ آپ ہی فرمائیے۔ با ہم ایسی ہی تکرار کے بعد حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرما یا ہے کہ ذکر کثیر کرو۔ اور ذکر کثیر کی ترتیب یہ بیان فرمائی کہ اول فجر سے ڈیڑھ پہر دن تک حجرہ میں رہیں۔ دو آدمی ایک جگہ نہ ملیں۔ اور ظہر سے عصر تک مشغول رہیں اور عصر کے بعد مغرب تک بیان قرآن سنیں ۔ اور مغرب سے عشاءتک ذکر میں مشغول رہیں۔ اگر اپنے اوقات میں کوئی حجرہ سے باہر آجائے تو اس کے حجرہ کو پار ہ پارہ کردیں اور اس کو دائرہ سے باہر کردیں۔ اگر یہ بندہ بھی ہو تو یہی عمل کریں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے قبول کیا۔
۲۰۵
روزے میراں سید محمود رضی اللہ عنہ در حجرہ میاں خوند شیخ علیہ السلام پنہاں نشستند کہ بہ بنیم کدام کس از حجرہ بیرون آید بعداز ساعت یک مہاجر آہستہ آہستہ از حجرہ بیروں آمد میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بہ دید ندو فرمودند میاں خوند شیخ اورا گرفتہ بیارید فرمودند ہمہ برادراں چہ قرار ۱ دادہ اند۔ گفت دیروز ہیرم یکجا کردہ گزاشتہ آمدہ ام مبادا کسے ہبردبداں سبب بیروں آمدم ۔ فرمودند ہیچ کس ہیز شما نخواہد بردو اپس بروید فائدہ جمعیت ہیں است۔
ترجمہ: ایک روز حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ‘ میاں خوند شیخ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں چھپ کر بیٹھ گئے (اور فرمایا) کہ کون حجرہ سے باہر آتا ہے میں دیکھتا ہوں۔ ایک گھڑی بعد ایک مہاجر آہستہ آہستہ حجرہ سے نکل آئے۔ حضرت میاں سید محمود رضی اللہ عنہ نے دیکھکر فرمایا کہ میاں خوند شیخ علیہ السلام انکو پکڑ لاوِ (جب انکو پیش کیا گیا تو) آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ (تمہیں معلوم نہیں کہ) بھائیوں نے کیا طے کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ کل لکڑیاں جمع کرکے چھوڑ آیا ہوں‘ کوئی لے نہ
جائے اس لئے باہر نکلا ہوں۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا کوئی تمہاری لکڑیاں نہ لیجائیگا ۔ واپس جاﺅ جمعیت (سب کے ساتھ داری) کا فائدہ یہی ہے
۲۰۶
نقلست کہ وقت صبح حضرت میراں علیہ السلام در حجرئہ میاں سید امین محمد و میاں یوسف رضی اللہ عنہما جہت دفع سرما برتنور رفتند د ید ند کہ نان می پزند فرمودند ایں کار شمانیست ایشاں ۲ گفتند کہ میرانجیو تنور گرم شدہ بود بداں سبب کردینم فرمودند دریں وقت نباید پخت و نباید خورد۔
ترجمہ: روایت ہیکہ صبح کے وقت حضرت مہدی علیہ السلام میاں سید امین محمد و میاں یوسف رضی اللہ عنہما کے حجرہ میں سرما کی وجہ تنور کے پاس تشریف لیگئے ۔ آپ نے دیکھا کہ (حضرت مذکور) روٹی پکا رہے ہیں ۔ فرمایا یہ تمہارا کام نہیں ہے انھوں نے عرض کیا کہ میرانجی تنور گرم ہے اس لئے ہم نے روٹیاں پکالی ہیں ۔ فرمایا اس وقت نہ تو پکانا چاہئیے نہ تو کھانا چاہئیے۔
۲۰۷
نقلست کہ فرمودند مبتدیاں را قرآن نباید خواند کہ دل غافل میشود۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مبتدیوں کو قرآن نہ پڑھنا چاہئیے دل (ذکر سے) غافل ہوجاتا ہے۔
۲۰۸
نقل است کہ بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ اول وقت نماز بطعام مشغول شدے موذن را خبر کردے ۱ کہ تا خیر کند کہ میاں طعام میخوردند۔
ترجمہ: روایت ہے کہ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نماز سے پہلے اول وقت تناول طعام میں مشغول ہوجاتے تو (بعض اہل دائرہ) موذن کو مطلع کر دیتے تھے کہ ذرا ٹھیر جائے تا کہ میاں کھانے سے فارغ ہوجائیں۔
۲۰۹
در دائرہ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ وقت ظہر جماعت شدہ بود میاں خوند شیخ مہاجرعلیہ السلام را یک دو رکعت نماز ا جماعت فوت شد۔ میاں نظام رضی اللہ عنہ فرمودند میاں خوند ۱ شیخ در شماصفت منفقی مینما ید کہ از شما دو رکعت نماز با جماعت فوت شد۔ گفتند چگو نہ تکبیر اولیٰ فوت شد؟ میاں خوند شیخ علیہ السلام گفتند بطعام خوردن نشستہ بودم بداں عذر تا خیر شد۔ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ فرمودند شما ایں چنیں متابعت حضرت میراں علیہ السلام میکنید حضرت میراں علیہ السلام بعد از شنیدن اذاں لقمہ کہ درست بودے نخوردے و فرد گذاشتے۔
ترجمہ: حضرت بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں نماز ظہر کی جماعت کا وقت ہوگیا تھا۔نماز با جماعت سے میاں خوند شیخ مہاجر رضی اللہ عنہ کی ایک دو رکعت چھوٹ گئیں ۔ حضرت میاںنظام رضی اللہ عنہ نے فرمایا میاں خوند شیخ تم میں منافقی کی صفت پائی جارہی ہے جس کی وجہ دو رکعت چھوٹ گئیں ۔ اور فرمایا کہ تم نے تکبیر اولیٰ کیوں چھوڑدی۔ میاں خوند شیخ علیہ السلام نے عرض کیا کہ کھانے پر بیٹھا ہوا تھا اس لئے دیر ہوگئی۔ حضرت بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم حضرت مہدی علیہ السلام کی اتباع ایسی ہی کر رہے ہو؟ حضرت مہدی علیہ السلام تو اذاں سننے کے بعد جو لقہ کہ ہاتھ میں ہوتا چھوڑدیتے تھے اور کھانا نہیں کھاتے تھے۔
۲۱۰
نقل است کہ یکے بدست خاشاک گرفتہ پارہ پارہ کردویکے دوالی شمشیر گرفتہ می جننا ند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ یک لمحہ فرشتگاں را فرصت دہید تا نہ نویسند۔
ترجمہ : روایت ہیکہ ایک صاحب کاڑی ہاتھ میں لیکر تکڑے تکڑے کر رہے تھے۔ اور دوسرے صاحب تلوار کا پٹہ پکڑ کر گُھا رہے تھے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک لمحہ تو فرشتوں کو (نامہِ اعمال ) لکھنے سے فرصت دو۔
۲۱۱
حضرت مہدی علیہ السلام در اوقاتِ ذکر حکایت دینی ہم لا یعنی فرمودہ اند۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے اوقات ذکر میں دینی گفتگو کو بھی لا یعنی فرمایا ہے۔
۲۱۲
بعد از مغرب ملک معروفعلیہ السلام و میاں لاڑ علیہ السلام ۲ مذاکرہ آیت کے وقت عصر بیان شدہ بود ہمیں کردند ۳ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ فرمودند جمعیت را بشکنید ۔ پراگندہ ۴ شدید ۔ فاذا قضیت الصلوة فانتشر و ا فی الارض وابتغوا من فصل اللّٰہ واذکرو اللّٰہ کثیراً لعلکم تفلحون (جزء۸۲ رکوع ۲۱)
ترجمہ: مغرب کے بعد حضرت ملک معروف و حضرت میاں لاڑ رضی اللہ عنہا اس آیت سے متعلق باہم گفتگو کر رہے تھے جس آیت پر عصر کے وقت بیان ہوا تھا۔ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جماعت (کے اتفاق ) کو توڑ رہے ہو منتشر ہوجاﺅ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) جب نماز ادا کرلیجائے تو منتشر ہوجاﺅ اللہ تعالیٰ کے فضل کی جستجو میں ہوجاﺅ اور اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرو تاکہ تم فلاح یاب ہوجاﺅ(جز۸۲ رکوع ۲۱)
۲۱۳
نقل است کہ حضرت میراں علیہ السام دریں آیت ۔ یا ےھا الذین اٰمنوا لا تقربو الصلوٰة وانتم سکاریٰ (جزئ۵ رکوع ۴) ہستئی دنیا مراد داشتہ اند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے آیہِ کریمہ یا اےھالذین اٰمنوا لا تقربو الصلوة وانتم سکاریٰ (اے ایمان والو ں نشہ کی حالت میں نماز نہ ادا کرو(جزئ۵ رکوع ۴ ) کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد دنیا کی نشہ بھی ہے۔
۲۱۴
روزے یک خراسانی بآدند شراب در دائرہ بیامد برادراں اِذن طلبید ند کہ آونداو بشکنند فرمودند مستیِ او بعد از ساعتے خواہد رفت پیش بندہ مستان دنیا آمدہ ہشیارمی شوند۔
ترجمہ: ایک روز(بیان قرآن کے وقت) ایک خراسانی شراب کا شیشہ لئے ہوئے دائرہ میں آیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا شیشہ توڑدینے کی اجازت طلب کی۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا اسکی نشہتھوڑی دیر بعد جاتی رہیگی ۔ بندہ کے پاس تو دنیا کی نشہ والے آکر ہشیار ہوجاتے ہیں۔!!
۲۱۵
۱ منقول است از میاں نعمت رضی اللہ عنہ کہ در دائرہ خود بعضے زنان را یافتند کہ کشیدہ می کنندبرائے قوت خود۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند فتوح حق کسے است کہ بر خدائتعالیٰ توکل میکندد کسب ترک میکند قال اللہ تعالیٰ للفقراءالذین احصرو ا فی سبیل اللّٰہ (جزء۳ رکوع ۵)
ترجمہ: حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اپنے دائرہ میں بعض مستورات کو اپنے قوت کیلئے کشیدہ کاری کرتے ہوئے پاتے تو فرماتے کہ فتوح ان لوگوں کا حق ہے جو خدائتعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور کسب ترک کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان فقراﺅ ں کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں محصور ہیں ۔ (جزء۳ رکوع ۵)
۲۱۶
نقل است یکے از یاراں پر سید ند میرانجیوعلیہ السلام بعضے کساں بعد از نماز فجر خواب می کنند۔ زجر بسیار کردند کہ نباید خفت یکے گفت حضرت ہم خواب می کنند تبسم کردہ فرمودند کہ بندہ بعد ازیں نخواہد خسپید۔
ترجمہ: روایت ہے کہ ایک صحابیعلیہ السلام نے حضرت مہدی علیہ السلام سے عرض کیا کہ بعض فقراءنماز فجر کے بعد سوجایا کرتے ہیں۔ آپعلیہ السلام نے بہت تہدید کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ سونا چاہئیے۔ ایک نے عرض کیا کہ خود مہدی علیہ السلام بھی تو سوجایا کرتے ہیں۔ آپعلیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ بندہ اب نہیں سوئیگا۔
۲۱۷
بعد از چند روز بعد نماز فجر ۱ حضرت میراں علیہ السلام در جماعت خانہ نشستند و سوئے قرآن خواں التفات کردند و فرمودند کہ بندہ را نشستن نمی دہد بسخن گوجری فرمودند کہ بندہ ۲ راپوٹ کردہ می انداز و ازیدن آں سبب پہلو بر زمین می نہم۔
ترجمہ: چند روز بعد نماز فجر کے بعد حضرت مہدی علیہ السلام جماعت خانہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور قرآن خواں کی طرف پلٹ کر فرمایا کہ بندہ کو تم بیٹھنے نہیں دیتے ہو اور گوجری زبان میں فرمایا کہ بندہ کو بے تاب کردیا ہے۔ اس لئے پہلو زمین پر رکھتا ہوں۔
۲۱۸
نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام بیان عشق می کردند۔ مولٰنا درویش محمد علیہ السلام نعرہ۳بزد و جامہ پارہ کرد و گفت عشق از کجا بیا ریم ۔ فرمودند بندہ عشق کسبی بیان می کند کار کنید تا عشق بیا بید عشق عطائی پیغمبراں ۱ را بود علیہم السلام۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام عشق کا بیان فرما رہے تھے مولٰنا درویش محمد علیہ السلام نے جامہ چاک کرکے نعرہ لگایا کہ ہم عشق کہاں سے لائیں۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا بندہ عشق کسبی بیان کر رہا ہے کام کرو تا کہ عشق حاصل ہوسکے عشق عطائی تو پیغمبروں کے لئے مخصوص ہے علیہم السلام۔
۲۱۹
و نیز فرمودند کہ خدائے را بچشم سرور جہاں دیدنی است با یدید و برہریکے مرد و زن طلب دیدار خدا فرض است یا بچشم دل یادر خواب۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائتعالیٰ کو سر کی آنکھوں سے اس دنیا میں دیکھنا ہے دیکھنا چاہئیے اور ہر ایک مرد و عورت پر طلب دیدار خدا فرض ہے خواہ چشم دل سے ہو خواہ خواب میں۔
۲۲۰
نیز فرمودند کہ ایمان ذات ۳ خدا ہست و حق تعالیٰ مرا فرستادہ است برائے بیان احکام ولایت محمدیہ کہ از بیان مہدی علیہ السلام تعلق وارد۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایمان ذات خدا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ولایت محمدیہ کے ان احکام کو بیان کرنے کے لئے مبعوث فرمایا ہے جو کہ مہدی موعود علیہ السلام سے متعلق ہیں۔
۲۲۱
نیز فرمودند کہ آدم علیہ السلام گندم کاشت و نوح علیہ السلام آب داد ابراہیم علیہ السلام کشت پاک کرد وخاشاک بیرون انداخت و موسیٰ علیہ السلام دروکرد و عیسیٰ علیہ السلام خرمن کرد۔ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرد کردو نان پخت و خود چشید و برائے مہدی داشت واز مہدی بتابعاں رسید۔
ترجمہ: (حضرت مہدی علیہ السلام نے) فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے گےھوں کی کاشت کی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام نے کھیت کو پانی دیا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھیت کو رزواید سے پاک کیا اور کاڑی کچرا نکال پھینک دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فصل کی کاٹی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غلہ جمع کیا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹا بنایا روٹی پکائی ‘ خود کھائی اور مہدی علیہ السلام کے لئے رکھ چھوڑا اور مہدی علیہ السلام سے اس کے متبعین کو بھی پہونچی۔
۲۲۲
میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کرت و مرت ایں حکایت فرمودند کہ وقت رحلت حضرت میراں علیہ السلام سر خود بکنار میاں سید امین محمد داشتہ بودند ہم دریں میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ آمدند میرانجیو فرمودند کہ کدام است جواب دا دہ شد کہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ میرانجیوعلیہ السلام فرمودند نزدیک بیائید چوں نزدیک شدم سر خود بکنار من نہادند۔ آیتہ خواند ند ۔ قل ھٰذہ سبیلی ادو ا الی اللّٰہ علیٰ بصیرة انا ومن اتبعنی (جزئ۳۱ رکوع۶)۔ و نیز گوجری ہم فرمودند و فرمودند میاںسید خوندمیر رضی اللہ عنہ شمارا فہم نمی شود آنچہ بندہ میگوید واضح گفتن نمی تواند اند کے زبان بستہ شدہ است ۔ و سبحان اللّٰہ وما انا من المشرکین۔ (جز ۳۱ رکوع۶) میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ یعنی چنیں فرمودند کہ اکثر مومناں مشرک اند۔
ترجمہ: حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے بارہا یہ روایت بیان فرمائی کہ رحلت کے وقت حضرت مہدی علیہ السلام اپنا سر مبارک میاں سید امین محمد رضی اللہ عنہ کے گود پر رکھے ہوئے (لیٹے ) تھے اتنے میں میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ آگئے میرانجی علیہ السلام نے پوچھا کون ہیں؟ جواب دیا گیا کہ سید خوندمیر ہیں میرانجی علیہ السلام نے فرمایا نزدیک آجاﺅ۔ جب میں نزدیک ہوا تو حضرت نے اپنا سر مبارک میرے گود پر رکھدیا اور یہ آیت شریفہ پڑھنے لگے۔ ”کہو یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت پر بلاتا ہوں۔ اور وہ بھی (بلائیگا) جو میرا تابع ہے(جزئ۳۱ رکوع ۶) نیز گوجری زبان میں بھی (کچھ ) فرمایا۔ اور فرمایا سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ! بندہ کی گفتگو تمہاری سمجھ میں نہ آرہی ہوگی قدرے زبان میں بستگی ہے بندہ واضح طور نہیں کہہ سک رہا ہے۰ (پھر یہ آیت آپعلیہ السلام نے پڑھی) ” سبحان اللہ ہم دونوں مشرکین سے نہیں ہیں(جزئ۳۱ رکوع ۶)۔ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ یعنی ایسا فرمایا کہ اکثر مومنین مشرک ہیں۔
۲۲۳
حضرت ایں آیت را بفرمان ِ خدائتعالیٰ در حق گروہ مہدی علیہ السلام داشتہ اند ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد و منھم سابق باالخیرات باذن اللّٰہ ط ذالک ھوالفضل الکبیر (جزئ۲۲ رکوع ۴) بیان چنین فرمودہ اند کہ بعضی ظالم لنفسہ باشند یعنی ملکوتی اند اند کے نباسوت ماندہ باشند و بعضی مقتصد باشند یعنی جبروتی و اند کے میل بملکوتی دار ندو بعضی سابق بالخیرات یعنی لا ہوتی۔ دریں مراتب مذکورہ سبب ایراث و اصطفینا از حق فضلی بزرگ و عبار تے دیگر نیز فرمودند ظالم لنفسہ آنکہ فنا چشیدہ باشد و مقتصد آنکہ نیم فنا شدہ باشد ازیں سہ فرقہ یکی علم الیقین داد ویکی عین الیقین ویکی حق الیقین چنانچہ ملکوتی۔جبروتی ۔لاہوتی۔ پس بہ ہین اے برادر توازیں مرتبہ مومن ملکوتی و میان جبروتی و لاہوتی ازیں سہ مقام بیروں ہستی ناسوتی۔ وایں مقام کافران است ۔ بیشک ہریکی ازیں سہ مقام ندار د و طلب و سعی ہم ندارد و ماتم نمی کند آں از گروہ مہدی علیہ السلام نباشد از مدعیاں و مکذباں باشد۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے اس آیت کو خدائتعالیٰ کے حکم سے مہدی کے گروہ کے حق میں بیان فرمایا ہے ۔ ” ہم نے ہمارے بندوں سے جس کو بر گزیدہ کیا اس کوپھر ہم نے کتاب(قرآن) کا وارث بنایا ان میں سے بعض ظالم لنفسہ ہیں اور بعض ” مقتصد“ (متوسط درجہ کے) ہیں اور بعض اللہ کی توفیق سے سابق بالخیرات (نیکیوں میں ترقی کرنے والے) ہیں ۔ یہ تو بہت ہی بڑا فضل ہے (جزئ۲۲ رکوع ۶۱) اس آیت کی یہ تفسیر بیان فرمائی کہ بعض لوگ ظالم لنفسہ ہیں یعنی ملکوتی ہیں تھوڑا سا ناسوت کا اثر ان میں باقی ہے۔ اور بعض ” مقتصد “ ہیں یعنے جبروتی ہیں تھوڑا سا ملکوت کا اثر انمیں باقی ہے ۔ اور بعض ” سابق بالخیرات “ ہیں یعنی لا ہوتی ہیں۔ ان مراتب میں وراثت اور برگزیدگی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔
نیز ایک مطلب یہ بھی بیا ن فرمایا کہ ” ظالم لنفسہ“ وہ ہے جو فنا چشیدہ ہو اور ” مقتصد“ وہ ہے جو نیم فنا ہو۔ ان تین جماعتوں میں ایک کو علم الیقین ایک کو عین الیقین ایک کو حق الیقین حاصل رہتا ہے ۔ چنانچہ ملکوتی ۔جبروتی۔ لاہوتی۔ پس اے بھائیو! تمہیں غور کر لینا چاہئیے کہ ملکوتی‘ جبروتی‘ لاہوتی مومن کے ان تین مقامات سے تم باہر تو نہیں ہے (اگر) ہیں تو (سمجھ لو کہ) تم ناسوتی ہو۔ اور یہ کافروں کا مقام ہے (اللّٰھم احفظنا من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا ومن کیدا لابلیس فقیر محمود غفرلہ) جو شخص ان تین مقامات سے کوئی مقام نہیں رکھتا اور کوشش بھی نہیں کرتا اور (اپنے نقص پر) رنج و غم بھی نہیں کرتا ہے بیشک وہ مہدی کی گروہ سے نہیں ہے ۔ دعویٰ کرنے والوں اور جھٹلانے والوں میں اس کا شمار ہوگا۔ (اللّٰھم اٰتنا تصدیق المھدی کما ھو تصدیقہ و احینیا فی زمرة المھدی و امتنافی زمرة المھدی و احشرنا یوم القیمة فی زمرة المھدی ۔ فقیر محمود غفرلہ)
۲۲۴
نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ خدائتعالیٰ بندہ را انگہ فرستاد کہ از خلق معنی دین رفتہ بود مگر در مجذوباں۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائتعالیٰ نے بندہ کو اس وقت بھیجا جبکہ مخلوق میں دین کا مطلب باقی نہ رہا تھامگر (تھا تو صرف) مجذوبوں میں تھا۔
۲۲۵
نیز فرمودند صورت بے معنی ۱ با صورت کمال سودندارد۔
ترجمہ: نیز فرمایا کہ (جس شخص کا باطن ) بے معنی ہو (اس کا) صورتاً (بظاہر) باکمال ہونا بے سود ہے)
۲۲۶
نیز فرمودند آنچہ در بیان آید ہمہ شریعت است و حقیقت در بیان نیاید۔
ترجمہ: نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کچھ بیان کیا جاسکتا ہے وہ سب شریعت ہے۔ اور حقیقت بیان میں نہیں آسکتی۔
۲۲۷
نیز فرمودند کہ بندہ قدم بر قدم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمدہ است در بنیائی چشم سر و چشم دل بصدقہ متابعت تمام۔ ولیکن بچشم سر و چشم دل یعنی موبموہمہ آئنیہ و چشم شدہ است۔
ترجمہ: نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم کے قدم بقدم چلتا آیا ہے۔ اور بینائی چشم سر و بینئی چشم دل میں آنحضرت ہی کی پوری پوری متابعت رکھتا ہے۔ لیکن چشم سر چشم دل (کی اطلاقیت اس درجہ پر پہنچ چکی ہے کہ) ایک ایک رونگٹا آئینہ در چشم بن چکا ہے۔
۲۲۸
حضرت میراں علیہ السلام در خراسان میان مجمع بیان فرمودند کہ فرمان حق تعالیٰ شد کہ اے سید محمد خدائے را بچشم سر دیدہگفتم آرے خداوندا دیدہ ام ۔ باز فرمان شد خدائتعالیٰ راو رائے چشم سرد چشم دل یعنی موبمودیدئہ گفتم آرے خداوندا دیدہ ام فرمودند کہ دریں حضرت رسول علیہ السلام حاضر اند بپر سید گواہ شد ہ اند ۱ بر بینائی ما۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے خراسان میں ایک عام مجلس میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہورہا ہے اے سید محمد ! تم نے خدائتعالیٰ کو چشم سر سے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں خداوندا میں نے دیکھا ہے ۔ پھر فرمان ہوا کہ خدائتعالیٰ کو چشم سر و چشم دل کے درے یعنے موبمو دیکھاہے ۔ میں نے عرض کیا ہاں خداوندا میں نے دیکھا ہے (آپعلیہ السلام نے یہ بھی) فرمایا کہ اس مجلس میں حضرت رسول علیہ السلام موجود ہیں پوچھ لو۔ وہ گواہ ہیں۔
۲۲۹
روزے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ ایشاں سروران دین مصاحبان رسول علیہ السلام بودند ۲ و برابر ایشاں در فضیلت صحبت ہیچکس نبا شد اگر چہ کامل و اکمل اولیاء ۳ بودند لیکن در مرتبہ بینائی ہمچو خاتم الاولیاءہنہ بودند زیر اچہ بار امانت کما حقہِ ہمیں دو تن برداشتند محمد نبی و محمد مہدی علیہما السلام۔
ترجمہ: ایک روز حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ (صحابہ نبوت) دین کے سردار اور حضرت رسول علیہ السلام کے مصاحب ہیں فضیلت ِ صحبت میں ان کے برابر کوئی شخص نہیں ہے اگر چہ کامل و اکمل اولیاءتھے لیکن بینائی کے مرتبہ میں خاتم الاولیاءکے جیسے نہیں تھے کیونکہ بار امانت کما حقہ صرف دوہی تن نے برداشت کیا ہے ایک محمد نبی دوسریے مہمی مہدی (صلی اللہ علیہما)
۲۳۰
نقل است و قتے حضرت میراں علیہ السلام ایں بیت خواندند ۔ مصرعہ اولیٰ ۱ چند بار تکرار کردند بعدہ برخواستند۲ و بوریا از زیر ۳ خود برداشتند و بر زین خسپیدند۔ مصرعہ دوم خواند ۴ چند بار تکرار کردند غرض آنکہ سخن ۵ بر عمل از زبان مبارک بیرون نیامدہ است و آں بیت ایں است۔
سوئے ۶ طریق سالکاں جز تو نظر کہ میکند
بر سر خاک خفتگاں جز تو گذر کہ میکند
ترجمہ: روایت ہیکہ ایک وقت حضرت مہدی علیہ السلام نے یہ بیت پڑھی ایک مصرعہ آپعلیہ السلام نے بار بار پڑھا ۔ اس کے بعد برخواستہ ہوگئے اور بوریا اپنے نیچے سے (جو بچھا ہوا تھا ) اٹھا کر زمین پر لیٹ گئے پھر دوسرا مصرعہ بار بار پڑھنے لگے۔غرضکہ کوئی بات بغیر عمل کے زبان پر نہیں آئی ہے ۔ وہ بیت یہ ہے :۔
سالکوں کے طریقہ کی‘ طرف تیرے سوائے کون نظر کرتا ہے ۔
خاک پر سونے والوں پر سے تیرے سوائے کون گزر کرتا ہے۔
۲۳۱
وقال اللّٰہ تعالیٰ الرحمن علمہ القران خلق الاانسان علمہ البیان (جزئ۷۲ رکوع ۱۱) دریں آیت حضرت مہدی علیہ السلام چنیں فرمودہ اند کہ مراد از علَّم القرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مامور بودند براے اظہارِ ظواہر قرآن کہ تعلق بہ نبوت دار د القرآن کہ تعلق بولایت دارد۔ حضرت مہدی علیہ السلام فرموداند۔
ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” وہ رحمن جس نے قرآن سکھایا۔ انسان کو پیدا کیا (اسکو) بیان سکھایا۔(جزئ۷۲ رکوع ۱۱) اس آیت کے بارے میں حضرت مہدی علیہ السلام نے اس طرح بیان فرمایا ہیکہ علم القران سے مراد حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپعلیہ السلام اُن ظواہر قرآن پر بیان کرنے کے لئے مامور ہیں جو نبوت سے تعلق رکھتے ہیں اور القرآن جو کہ ولایت سے تعلق رکھتا ہے وہ مہدی علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔
۲۳۲
و مراد از ایں آیت ثم ان علینا بیانہ ذات مہدی علیہ السلام ہست یعنی خدائتعالیٰ وعدہ با پیغمبر علیہ السلام کردہ است کہ توانددہ مکن عبارت قرآن و مشیت احکام کہ تعلق باحسان دارد از تو فوت نہ شود بلکہ در آخر زماں کہ محل فترہ وحی است معنی قرآن کہ تعلق بہ قلوب دار دبہ زبان مہدی علیہ السلام بیان خواہد شدو گروہ مہدی برآں عمل خواہند کرد یعنی ظواہر قرآن و اسرار ایں ہر دو آیت حضرت مہدی علیہ السلام با مراللہ و باذن اللہ بیان کردہ است بلکہ مہدی علیہ السلام بیان جملہ قرآن با مرا اللہ و اذنہ کردہ است تمام گروہ مہدی علیہ السلام بریں اعتقاد ہستند اللّٰھم ثبت نا علیٰ دینک و طاعتک بحرمت النبی و الٰہ الا مجاد۔
ترجمہ: اور اس آیت ( ثم ان علینا بیانہ ۔ قرآن کا بیان پھر ہم پر ضروری ہے) سے مراد ذات مہدی علیہ السلام ہے یعنی خدائتعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرمایا ہیکہ (اے پیغمبر) تم رنجیدہ نہ ہوں۔ قرآن کے احکام کی مشیت اور اسکی مرادیں جو احسان سے تعلق رکھتی ہیں تم سے فوت نہیں ہوں گے۔ بلکہ آخر زمانہ میں جو کہ فترہِ کا فقت ہے اس وقت قلوب سے تعلق رکھنے والے معانی و احکامِ قرآن مہدی علیہ السلام کی زبان سے بیان ہونگے ۔ اور مہدی کی گروہ اس پر عمل کریگی یعنے قرآن کے ظواہر و اسرار دونوں کا بیان حضرت مہدی علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے فرمایا ہے۔ بلکہ پورے قرآنِ شریف کا بیان حضرت مہدی علیہ السلام نے بامر اللہ و باذنہ فرمایا ہے۔ مہدی علیہ السلام کی پوری گروہ کا یہی اعتقاد ہے۔ اے اللہ ہم کو تیرے دین اور تیری اطاعت پر قائم رکھ۔ حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی پاک آل کی حرمت کے طفیل۔
۲۳۳
نیز فرمودند کہ مراد از حدیث ان الدین بدءغریبا و سیعود الدین کما بد ءفطوبیٰ للغرباءمراد۔ از غریب دوم زمانہِ ظہور مہدی است۔
ترجمہ: نیز فرمایا کہ ” ان الدین بدءغریبا و سیعود الدین کما بدءفطو بیٰ للغرباء“ حدیث شریفہ میں ” غربت دوم“ سے مراد ظہور مہدی علیہ السلام کا زمانہ ہے۔
۲۳۴
نیز فرمودند قال اللہ تعالیٰ و اوحی الی ھذا القراٰن لا نذرکم بہ ومن بلغ (جزء۷ رکوع ۸) مراد ازیں بلغ مہدی است چنانچہ در آیاتِ دیگر کہ دریں گروہ مشہور اند قال اللہ تعالیٰ ھو الذی بعث فی الا میتین رسولا منھم یتلو ا علےھم اٰیاتہ و یزکےھم و یعلمھم الکتاب و الحکم وان کا نو امن قبل لفی ضلال مبین۔ واٰخرین منھم لما یلحقوا بھم۔ (جزئ۸۲ رکوع ۱۱) مراد آخرین گروہ مہدیست ۔
ترجمہ: نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یہ قرآن میرے پاس بھیجا گیا ہے تا کہ میں اس کے ذریعہ تم کو ڈراوں اور وہ شخص بھی ڈرائیگا جو میرا تابع ہے (جزئ۷ رکوع ۸) اس آےئہ شرریفہ میں من بلغ سے مراد مہدی علیہ السلام ہے نیز دوسری آیات کے متعلق بھی قوم میں مشہور ہے ۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ وہی ہے جس نے امیوں میں ایک اُمیّ رسول کو مبعوث کیا جو ان کے سامنے اسکی آیات پڑھتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے ۔ اور ان کو کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور اگرچہ کہ وہ لوگ پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ (اسکی بعثت ) ان آخرین کیلئے بھی ہے جو ان (سابقین ) سے ملیں اس آیہِ شریفہ میں آخرین سے مراد مہدی علیہ السلام کی جماعت ہے۔
۲۳۵
روزے بعد دذت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ اکثر مہاجراں جمع بودند و طالبان خدا ۱ چند دائرہ یکجا بودند بعد ادائے ظہر بندگی میاں سید خوندمیررضی اللہ عنہ توجہ بطرف مہاجراں کردند و التماس نمودند کہ بیان کنید۔ و مہاجراں رضی اللہ عنہم توجہ بطرف بندگی میاں سید خوندمیررضی اللہ عنہ میکردند کہ بیان کنید تادیر ہمیں خاموش ماند ند کسے بیان نہ کردند برخاستند۔ و بخلو تہائے خویش رفتند بعد از اد اے عصر ہمچنیں کردند کسے بیان نہ کرد۔ ہریکی بتوجہ یکدیگر نشستند ۔ بعد از مراقبہ در از بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ چشم کشادہ فرمودند کہ دانستہ بودم کہ چہ بیان کنم لیکن ہمیں زماں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدہ مصحف بدست بندہ دادہ فرمودند کہ بیان کن بیان کردند معلومباد مہاجراں بعد از ادائے نماظ ظہر مقدار یک یک رکوع بیان کردند ۲ ودر وقت
نشستن برائے بیان بادب نشستہ اند د دہ انگشت دست خلط کردہ دست پیش کردہ نشستہ اند۔
ترجمہ: ایک روز حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد اکثر مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم جمع تھے اور دائرہ کے چند طالبان خدا بھی جمع تھے نماز ظہر کے بعد حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین کی طرف توجہ کی اور التماس کیا کہ آھ بیان (قرآن ) کریں ۔ اور مہاجرین رضی اللہ عنہم نے حضرت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کیطرف متوجہ ہوکر کہا کہ آپ بیان کریں۔ کچھ دیر تک سب ساکت تھے کسی نے بیان نہ کیا سب برخواست ہوگئے اور اپنی اپنی خلوت گاہ میں چلے گئے۔ عصر کی نماز کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔ کسی نے بیان نہ کیا۔ ایک دوسرے پر نگاہ جمائے بیٹھے رہے۔ طویل مراقبہ کے بعد حضرت بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے آنکھ کھولکر فرمایا کہ میں سمجھا تھا کہ کیا بیان کروں لیکن اسی وقت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشریف فرما ہو کر قرآن شریف اس بندہ کے ہاتھ میں دیکر فرمایا کہ بیان کرو۔ اس کے بعد آپ نے بیان (قرآن ) فرمایا۔ واضح ہو کہ نماز ظہر کے بعد مہاجرین رضی اللہ عنہم نے بھی ایک ایک رکوع بیان قرآن فرمایا ہے۔ اور بیان کے وقت جب بیٹھتے تو ہاتھوں کی دس انگلیاں ملاکر ہاتھ سامنے رکھے ہوئے ادب سے بیٹھتے تھے۔
۲۳۶
نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ہر کہ علم نخواندہ است۔ و بیان قرآن میکند بے دینانت است مگر بطریق ۱ سماع یعنی آنچہ شنیدہ باشد بطریق حکایت بگوید۔ کہ چنیں شنیدہ ام۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص علم نہ پڑھا ہو اور بیان قرآن کرے تو وہ بے دیانت ہے ۔ مگر سماع کے طریقہ پر کہ جو کچھ سنا ہے نقل کی طرح بیان کردے کہ میں نے یہ سنا ہے۔
۲۳۷
نقل است ۲ کہ بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ پیش میراں علیہ السلام التماس کردند اگر اذن باشدبندہ از خلوت گا ہے بیروں نیا ید۔ فرمودند کہ از کس بشنوید و یاخود کس را بشنوانید۔
ترجمہ: روایت ہیکہ بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں التماس کیا کہ اگر اجاذت ہو تو بندہ خلوت سے کبھی باہر نہ آئیگا۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا کسی سے (دین کی باتیں)سنو یا خود کسی کو سناﺅ۔
۲۳۸
نقل است کسے از حضرت میراں علیہ السلام التماس کرد پارئہ جامہ از اندام مبارک یا کفش کہنہ ۳ مرحمت شود تا بندہ اور ابترک کردہ ید ارد تدر قبر سبب نجات بود ۔فرمودند جامہ بندہ و کنش بندہ تبرک ۴ داشتن نجات از قبر نبا شد عمل کنید بے عمل اگر پوست بندہ بپوشد ہر گز از عذاب نجات نیا بد تا کہ بر گفتہِ ما عمل نہ کند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ کسی نے حضرت مہدی علیہ السلام سے عرض کیا کہ جسم مبارک کے کپڑے کا تکڑا یا پرانی نعلین مبارک مرحمت ہوں بندہ بطور تبرک اٹھا رکھیگا تا کہ قبر میں نجات کا باعث ہو۔ آپ علیہ السلامنے فرمایا کہ بندہ کا کپڑا اور بندہ کی نعلین بطور تبرک رکھنے کی وجہ سے قبر سے نجات نہ ہوسکیگی عمل کر وبے عمل اگر بندہ کاپوست بھی پہن لے ہر گز عذاب سے نجات نہ پائیگا ۔ جبتک کہ بندہ کی تعلیمات پر عمل نہو۔
۲۳۹
نقل است کہ فرمودند در دائرہ من مومن و کافر و منافق ہستند چنانچہ در دائرہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بودند لیکن اینہا را حق تعالیٰ در داپر نمیر اند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ کے دائرہ میں مومن۔کافر‘ منافق ہیں جیسا کہ حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ میں تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کو دائرہ میں موت نہیں عطا کرتا۔
۲۴۰
باز فرمودند دین خدائے رابد و چیز ۱ نصرت و قوت است یک اتفاق برادران دینی دوم ایثار ۲ الموجود و ہزیمت و ضعف شدن دین خدائے را نیز دو چیز است یکے اختلاف دوم بخل۔
ترجمہ: ایک دفعہ آپعلیہ السلام نے فرمایا خدائتعالیٰ کے دین کو دو امور سے نصرت و قوت ہوگی ایک اتفاق برادر ان دینی دو سری ایثار الموجود اور دین خدا کو ہزیمت و ضعف پہنچنے کے بھی دو سبب ہوسکتے ہیں۔ ایک اختلاف دوسرا بخل۔
۲۴۱
میراں علیہ السلام فرمودند اگر دو برادراں در یک حجرہ بمانند و یکدیگر خدمت کنند تا عبادت خدائتعالیٰ ہر دو را آساں شود ۳ در دائرہ میاں سید خوندمیر و میاں نظام و میاں نعمت رضی اللہ عنہم بریں عمل بود بلکہ دیگر معذوراں را ہم موافق کردے در ہیزم و آب دادان و جامہ شستن۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا اگر دو برادرانِ (دین) ایک حجرہ میں رہیں اور ایک دوسرے کی خدمت کریں تو خدائتعالیٰ کی عبادت دونوں کیلئے آسان ہوگی۔ میاں سید خوندمیر و میاں نظام و میاں نعمت رضی اللہ عنہم کے دائرے میں اسی پر عمل تھا ۔ بلکہ لکڑی پانی لانے میں اور کپڑے دھونے میں دوسرے معذورین کی مدد کرتے تھے۔
۲۴۲
بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ وقتِ ابتلا در دائرہ خود گلیم پوشیدے و ہر چہ در خانہ بودے در راہ خدا بفقیراں ایثار کردے ۴ صدیق ولایت متابعت صدیق نبوت کردند۔
ترجمہ: حضرت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ دائرہ میں ابتلاءکے وقت خود کمبل پہن لیتے اور جو کچھ گھر میں ہوتا فی سبیل اللہ فقراءے دائرہ پر ایثار کردیتے تھے۔ صدیق ولایت رضی اللہ عنہ نے صدیق نبوت علیہ السلام کی اتباع کی ہے۔
۲۴۳
حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ہر کہ دو جامہ دار دو برادرے رابرہنہ بہ بیند و اگر اد راندہد منافق است۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص دو کپڑے رکھتا ہو ایک (دینی ) بھائی کو برہنہ پالے اور اس کو نہ دے تو وہ منافق ہے۔
۲۴۴
نقل است اگر در دائرہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ از کسے گناہ شرعی صادر شدے بزبان یا بدست یا بچشم ویا بگوش یا بپائے ہمہ اصحاب دائرہ و مہاجراں کہ در دائرہ بودند جمع کردے وا ورا با گواہانِ معتبر تحقیق کردے و مہاجراں رابعد از تحقیق پر سیدے کہ از روے شرع ایں ۱گناہ کنندہ را چہ تعزیر باید کرد ہر چہ مہاجراں قراردانددے براں عمل کردے و بغیر مشورت ہیچ حکم نہ کردے ۲ وایں روش در عہد میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بود و ایں زمانہ در جملہ دائرہ ہمیں روش است۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں اگر کسی کی زبان یا پیر یا آنکھ یا کان سے کوئی گناہ سر زد ہوتا تو آپ تمام اصحاب دائرہ کو اور ان مہاجرین کو جو دائرہ میں ہوتے جمع کرتے۔ اور معتبر گواہوں سے اس مقدمہ کی تحقیق فرماتے اور تحقیق کے بعد مہاجرین رضی اللہ عنہم سے پوچھتے کہ اس گناہ پر ازروے شرع شریف کیا تعزیر کرنی چاہئیے مہاجرین رضی اللہ عنہم جو تعزیر قرار دیتے اس پر عمل فرماتے تھے مشورہ کے بغیر کوئی حکم صادر نہیں فرماتے تھے یہ طریقہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں رہا ہے اور اس (مولف نقلیات) کے زمانہ میں بھی تمام دائروں میں یہی طریقہ ہے۔
۲۴۵
مرثیہ
اشرف القول ز فخر آل رسول
ہم جگر گوشہ از رسول و بتول
رسد نیک سید خوندمیر رضی اللہ عنہ
تابع حضرت بنور ضمیر
روز جمعہ چہار دہم شوال
رفت در ظل حق باحسن حال
سال تاریخ او ظہور از ظل
زانکہ او بودہ است صاحبدل
ترجمہ مرثیہ
اشرف القوم فخر آل و جگر گوشہِ رسول و بتول علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام کے نور ضمیر کے تابع مرشد نیک حضرت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ چودہ شوال جمعہ کے دن حق کے سایہ میں (منزل شہادت کو) پہنچ گئے ۔ اس صحابدل ہستی کی (شہادت کی) تاریخ (لفظ) ”ظل “ سے ظاہر (یعنے نو سو تیس ہجری)
نظم مذکور کی صحت کیلئے ہم نے دوسری کتابوں کا مطالعہ کیا تو تاریخ سلیمانی سے معلوم ہو کہ میں قاضی شہ تاج نہ الکتاب الحسینی میں حضرت ضدیق ولایت علیہ السلام کی شہادت کے واقعات اور شہدا کے ناموں کی تفصیل لکھی ہے ۔ اسی کتاب میں یہ مرثیہ بھی درج ہے
اشرف القول ز فخر آل رسول
ہم جگر گوشہ از رسول و بتول
رسد ز نیک سید خوندمیر رضی اللہ عنہ
تابع حضرت بنور ضمیر
روز جمعہ چہار دہم شوال
رفت در ظل حق باحسن حال
سال تاریخ او ظہور
زانکہ او بودہ است صاحبدل
اس کے بعد خود میاں قاضی شہ تاج کی نسبت صاحب تاریخ نے یہ لکھا ہے :۔
بشا اے چزیز ایں بصحت نرسیدہ کہ میاں قاضی شہ مشارالیہ کہ از طرف عنیل اضل بندگیمیاں رضی اللہ عنہ آمدہ بودند بازور قتال عنان عنیل بد حال گرفتند آں ہستند یا دیگرے؟ اگر آں ہستند تا عجب می آید کہ باوجود چنیں عقیدت و فددیت کہ بجناب صدیق ولایتعلیہ السلام بود بفوج منکران چنیں نعمت عظمیٰ را گزاشتہ چوں مانند و اگر بعض گویند کہ شرط نمک بوداینہم عجب چرا کہ در ہمہ امور شرط نمک بودا نہم عجب اچرا کہ در ہمہ امور شرط ثک است مگر دریں وقت نیست چوں استیلاءکفر بر اسلام شد در معاونت کفر ماند نار داست (تاریخ سلیمانی جلد ثانی)
یعنی جان اے عزیز کہ یہ بات صحت کو نہیں پہنچتی ہے کہ میاں قاضی شہ تاج جو کہ عین الملک بد توفیق کی طرف سے بندگیمیاں رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تھے اور قتال کے وقت عین الملک بدحال کی باگ پکڑے ہوئے تھے یہ وہی ہیں یا کوئی دوسرے میاں قاضی شہ تاج ہیں۔ اگر وہی ہیں تو تعجب ہوتا ہے کہ جناب صدیق ولایت سے ایسی عقیدت و ذرائیت کے باوجود ایسی نعمت عظمیٰ کو چھوڑ کر منکرین کی فوج میں کیسے شریک رہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ شرطِ نمک تھی۔ تو یہ بھی تعجب کی بات ہے کیونکہ تمام امور میں شرط ِ نمک کا لحاظ رکھا جاسکتا ہے مگر اس موقع پر نہیں ۔ جب کہ کفر اسلام پر غلبہ کر رہا ہو تو کفر کی معاونت میں رہنا جائز نہیں ہے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صدیق ولایتعلیہ السلام کی شہادت کے واقعات اسی وقت قلمبند کر لئے گئے تھے۔ اور یہ مرثیہ بھی اسی وقت کا لکھا ہوا ہے۔۔ اور حضرت شاہ قاسم مجتہد گروہ کے والد حضرت بندگیمیاں سید یوسف علیہ السلام نے بھی یہ مرثیہ و مطلع الولایت میں میاں قاضی شہ تاج کی طرف منسوب کرکے درج فرمایا ہے البتہ ” تابع حضرت “ کے بجائے ” تابع حضرتش “ ہے
۲۴۶
منقول ۱ است کہ چوں خبر رسید ۲ میاں شیخ کبیر بجماعت کثیر بدیں طرف متوجہ شدہ اند حضرت میراں علیہ السلام شاد شدہ فرمودند کہ چند مقدار آمدہ اند یاراں گفتند نزدیک آمدہ اند حضرت میرانجیوعلیہ السلام چند باراز حجرہ بیروں آمدند و پر سیدند چہ مقدار دور اند اندرون خانہ بی بی بون پر سیدند کہ حضرت میرانجیو چہ سبب خندی و خوشی مینید فرمودند چوں خوشی نہ کنیم کہ فرزند بصفت فرزندی می آید۔ سبب شادی ست کہ درمیان ایشاں بعضے کساں اینچنیں اند در صحبت ایشاں بسیار کس مہدی شوند حضرت بی بی پر سید ند ایشاں کدام اغد بفرمائید تا تعظیم فرمودند میراں سید محمود رضی اللہ عنہمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ۔
ترجمہ: روایت ہیکہ میاں شیخ کبیر جماعت کثیر کیساتھ(خراسان میں)حضرت کی طرف آنے کی خبر پہنچی تو حضرت مہدی علیہ السلام خوش ہو کر استفسار فرمانے لگے کہ کتنی منزل قریب ہیں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم عرض کرتے کہ قریب آگئے ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام اپنے حجرہ مبارک سے چند بار باہر تشریف لاتے) اور پوچھتے رہو کہ کتنی دور ہیں “ حضرت بی بی بون رضی اللہ عنہا نے گھر میں دریافت کیا کہ حضرت ! آپ اتنا خوش خوش کیوں ہیں؟ آپعلیہ السلام نے فرمایا خوشی کیوں نہ کروں جبکہ فرزند اوصاف فرزندی کیساتھ آرہا ہے خوشی کا ایک سبب تو یہ بھی ہیکہ ان کے ساتھ (جماعت میں) بعض ایسے بھی ہیں جنکی صحبت میں بہت سارے لوگ مہدی علیہ السلام (ہدایت یافتہ) نہیں گے۔ بی بی علیہ السلام نے عرض کیا وہ کون ہیں معلوم فرمادیجئے تا کہ ہم انکی تعظیم کریں حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا میراں سید محمود رضی اللہ عنہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ۔
۲۴۷
روزے ہمہ مہاجراں رضی اللہ عنہم اجماع کردہ بودند بر گفتگو ے فضل دو جواناں یکے ازیں جماعت گفت خصوصیت دو جواناں معلوم است و لیکن تعین نشدہ است کہ آں دو جواناں کدام ہستند بعدہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ بندہ را سماع اینچنیں است کہ حضور آنحضرت بی بی بون رضی اللہ عنہا پر سید ہ اند حضرت میرانجیو علیہ السلام نام ہر دو پیش حضرت بی بی فرمودند بیا ئید تا از حضرت بی بی مبپرسیم بعدہ ہماں مہاجراں رضی اللہ عنہم پیش حضرت بی بی رفتند و میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند بندہ می پرسد بدیں عبارت پر سید ند کہ خدائتعالیٰ حاضر و ناضر است حضرت میراں علیہ السلام نیز حاضر اند۔ از حضرت میراں علیہ السلام شنیدہ باشید بفرمائید حضرت میراں علیہ السلام نام دو جواناں پیش شما فرمودہ اند کدامند ۔ ” بعدہ حضرت بی بی بون رضی اللہ عنہما بدیں عبارت فرمودند کہ ” حضرت میراں علیہ السلام در حال دعوت فرمودند فرمان میشود کہ اے سید محمود دو جوانان سید ا ں را بے واسطہ از حضرت نامی رسد و از حضرت ما بر تومنت است کہ پیش تو اینچنیں کساں ہستند اگر ترا نفرستاد مے ایشاں ہر دو لایق ایں مقام بودندے بی بیعلیہ السلام فرمودند چونکہ من ایں حکایت شنیدم پر سیدم کہ حضرت میرانجیوعلیہ السلام آں دو جواناں کدام اند میرانجیوعلیہ السلام فرمودند در کار خود باشید خدائتعالیٰ اظہار خواہد کرد بعدہ عرض کہ دم میرانجیو علیہ السلام بداں سبب می پرستم تا تعظیم ایشاں کنم ہمچوں تعظیم خوند کار ۔ بعدہ فرمودند آں دو جواناں میراں سید محمود رضی اللہ عنہ و میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ اند۔
ترجمہ : ایک روز تمام مہاجرین رضی اللہ عنہم نے اجماع کیا تھا ۔ ” فضیلت دو جوانان“ پر گفتگو ہوئی ایک صاحب نے کہا کہ دو جوانوں کی خصوصیت معلوم تو ہے لیکن دو جوانان کون ہیں اس کا تعین (ہمارے علم میں) نہیں ہے۔ اس کے بعد حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بندہ کو ایسی سماع ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام کی حضور ی میں حضرت بی بی بون علیہ السلام نے سوال کیا ہے اور حضرت مہدی علیہ السلام نے بی بیعلیہ السلام سے دونوں کے نام فرمادئیے ہیں۔ آپ لوگ بھی چلئے تاکہ حضرت بی بیعلیہ السلام سے پوچھ لیں۔ اس وقت تمام مہاجرین رضی اللہ عنہم حضرت بی بی علیہ السلام کے پاس گئے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بندہ پوچھتا ہے۔ اور اس طرح پوچھنے لگے کہ خدائتعالیٰ حاضر و ناظر ہے۔ (یہ سمجھوکہ) حضرت مہدی علیہ السلام بھی موجود ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام سے آپ علیہ السلامنے جو کچھ سنا ہے بیان فرمادیجئے۔ مہدی علیہ السلام نے آپعلیہ السلام سے دو جوانوں کے نام جو فرمائے ہیں وہ کون ہیں؟ حضرت بی بی بون رضی اللہ عنہا نے اس طرح جواب دیا کہ ” حضرت مہدی علیہ السلام تبلیغ (مہدیت) کا بیان فرما رہے تھے اسی حالت میں فرمایا کہ (خدائتعالیٰ کا) فرمان ہورہا ہے کہ اے سید محمد دو سید نوجوانوں کو ہماری بارگاہ سے بے واسطہ پہنچتا ہے۔ اور یہ ہماری طرف سے آپ پر فضل و احسان ہے کہ آپ کے پاس ایسے لوگ ہیں۔ اگر تم مبعوث بھی نہوتے تو یہ دونوں اسی مقام کے لایق ہوتے بی بی بون رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب میں نے یہ بیان سنا تو پوچھا کہ حضرت میرانجیوعلیہ السلام وہ دو جوان کون ہیں۔ میرانجیوعلیہ السلام نے فرمایا کہ تم اپنے کام میں رہو خدائتعالیٰ ظاہر فرمادیگا۔ میں نے عرض کیا۔ میرانجیوعلیہ السلام ! اس لئے پوچھ رہی ہوں کہ آپ علیہ السلام کی طرح ان کی بھی تعظیم کرنا چاہتی ہوں۔ اس وقت مہدی علیہ السلامنے فرمایا کہ وہ دو نوجواناں ‘ میراں سید محمود و میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہا ہیں۔
۲۴۸
نقلست کہ بحضور میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بعضے مہاجراں پیش حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ گفتند کہ میاں سید خوندمیر برہمہ یاراں خود را فضل مید ہند میراں سید محمود رضی اللہ عنہ فرمودند بندہ فضل خودنہادہ است ہر کہ بخواہد بگیرد پس ایں خبر بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ شنیدند۔ فرمودند کہ بندہ گا ہے خود را بریاراں فضل ندا دہ است کہ حضرت میراں علیہ السلام دائیم نیستی و فنا فرمودہ اند فضل دادن صفت ہستی است۔
ترجمہ: رواہیت ہیکہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں چند مہاجرین علیہ السلام نے حضر ت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ سے کہدیا کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ اپنے کو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر فضیلت دیتے ہیں۔ حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بندہ خود اپنا فضل رکھتا ہے جو چاہے حاصل کرلے۔ اس کے بعد بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنی تو فرمایا کہ ” بندہ نے کبھی صحابہ رضی اللہ عنہم پر اپنا فضل نہیں جتلایا ہے۔ کیوکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ہمیشہ نیستی اور فنا کی تعلیم فرمائی ہے فضل جتانا تو ہستی کی صفت ہے۔
۲۴۹
و نیز بعضے مہاجراں رضی اللہ عنہم گفتند کہ حضرت میراں علیہ السلام کدام وقت تخصیص دو جوانان کردہ اند گفتند در وقت عصر میراں سید محمود و میراں سید خوندمیر رضی اللہ عنہا یکجا برائے نماز ایستادہ بودند ہم در نماز میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ را از حق تعالیٰ معلوم شد فبدل الذین ظلموا قولاً غیر الذی قیل لھم (جزئ۱ رکوع ۶) بعد از نماز در گوش میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ‘ میراں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ گفتند کہ ایں چنیں معلوم می شود میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بآواز بلند فرمودند اٰمنا و صدقنا میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ایں بیت خواند ند د در حجرہ رفتند۔
بیت :۔
خدا آں عابداں ر ا بر گزیند کہ در راہ خدا خود را نہ بیند
باز در خلوت از حق تعالیٰ با عتاب (بحضرت میراں علیہ السلام) معلوم شد کہ حق پوشی چرا کردی جواب دادند خدا وندا چیزے حجت باید۔ باز معلوم شد کہ سنت ما چنیں جاریست من کا ن عدو اللّٰہ و مٰلئکتہ و رسولہ و جبرئیل و میکائل فان اللہ عدو للکافرین (جزء۱ رکوع ۲۱) حضرت میراںعلیہ السلام ہمہ برادراں را بشارة فرمودند و لیکن بشارة دو جواناں تحصیص است ہمچوں درمیانِ فرشتگاں جبریل و میکایل علیہما السلام۔
ترجمہ: نیز (روایت ہیکہ) بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ حضرت میراں علیہ السلام نے دو جوانوں کی تخصیص کس وقت بیان فرمائی ہے؟ جواب دیا گیا کہ عصر کے وقت میراں سید محمود و میراں سید خوندمیر رضی اللہ عنہا ایک جگہ نماز میں کھڑے تھے ۔ نماز کی حالت میں میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہو ا کہ ” فبدل الذین ظلموا قولاً غیر الذی قیل لھم (پس بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس کی ان سے فرمایش کیگئی تھی (جزئ۱ رکوع ۶) نماز کے بعد میراں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کے کان میں (آہستہ) کہا کہ مجھے ایسا معلوم ہوا ہے۔ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا اٰمنا و صدقنا میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے یہ بیت پڑھی اور حجرہ میں چلے گئے۔
(ترجمہ بیت)
خدائ تعالیٰ انھیں عابدوں کو برگزیدہ فرماتا ہے جو خدائتعالیٰ کی راہ میں اپنے پر نظرنہیں رکھتے ہیں
پھر خلوت میں (حضرت مہدی علیہ السلام کو) عتاب کیساتھ معلوم ہوا کہ حق بات چھپاتے کیوں ہو؟ آپعلیہ السلام نے جواب دیا خداوندا کچھ حجت (اعجاز ) بھی چاہئیے (بارگاہ رب العزت سے) معلوم ہوا کہ ہمارا طریقہ اسی طرح جاری رہا ہے (ترجمہ آیت) جو کوئی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل و میکایل کا دشمن ہے۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ(ان) کافروں کا دشمن ہے (جزئ۱ رکوع ۲۱) حضرت مہدی علیہ السلام نے (اسی وقت) تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کے حق میں بشارتیں بیان فرمائی ہیں ۔ لیکن دو جوانوں کی بشارت اسی طرح مخصوص ہے جیسے کہ فرشتوں میں جبرئیل و میکایل علیہما السلام (کی خصوصیات) ہیں۔
۲۵۰
حضرت میراں علیہ السلام دست میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ گرفتہ درون حجرہ بردند و فرمودند سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سہ ماہ شد ہ اند فرمان از حق می شود کہ ہر پنج انگشت بر سینہ خود نہاد ند و فرمودند آنچہ درد ل ایں بندہ نزول میشود کہ آں در سینہ شما ظہور شدہ است۔ بعدہ ہماں پنج انگشت سے بار بر سینہ میاں رضی اللہ عنہ نہاوند و فرمودند کہ ایتجا ظہور شدہ است ۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام (ایک دفعہ ) میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر حجرہ میں لیگئے اپنے سینہ مبار ک پر اپنے ہاتھ کی پانچ انگلیاں رکھتے ہوئے فرمایا سید خوندمیر تین مہینے ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرمان ہورہا ہے کہ جو کچھ اس بندے کے دل میں نزول ہوتا ہے وہ تمہارے سینہ میں ظہور پایا ہے اس کے بعد وہی پانچ انگلیا ں تین بار میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے سینہ پر رکھکر فرمایا کہ اس جگہ ظہور ہوا ہے۔
۲۵۱
نقل است و قتے بندگیمیاں یوسفعلیہ السلام را جذبہ شد ہمہ برادراں پسخوردہ میاں مذکور نوشیدند میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ازدردن خانہ پیش آمدہ بسیار زاری کردند بحضرت میراں علیہ السلام ۱ خبر شد کہ میراں سید محمود بسیار زاری می کنند۔ حضرت میراں علیہ السلام خود آمدہ فرمودندچرا چناں کنید گفتند ۲ کہ میرانجیوعلیہ السلام مرا با شماسہ نسبت اند یکے پدری دوم استادی و سوم مرشدی و میاں یوسف را چنیں حال روزی شدہ است و بندہ را چیزے نیست ۔ فرمودند کہ شما ایں چہ آرزو کنید اورا تجلی روحی شدہ است اوآہ آہمی کند حال شما ازیں بہتر است شماآرزوے بدر خود بکنید فرومدند خدائتعالیٰ صدقہ خوندکار روزی کند۔ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند بھائی سید محمود صدقہ خوار نباید شد مردانگی باید کرد ۳ و حال میاں ۴ یوسف چہ آرزومی کنید حال میاں سید خوندمیر بہ مبیند تجلی بر تجلی می شود بشرہ ہم تغیر نمی شود۔
ترجمہ: روایت ہیکہ ایک وقت بندگیمیاں یوسف رضی اللہ عنہ کو جذبہ ہوا تمام صحابہ نے صاحب موصوف کا پسخوردہ پیا۔حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ گھر سے باہر آئے (تو یہ دیکھکر ) بہت زاری کرنے لگے حضرت مہدی علیہ السلام کو اس کی اطلاع دیگئی آپ خود تشریف لے آئے اور فرمایا کہ ایسا کیوں کر رہے ہو۔ عرض کیا کہ میرانجیعلیہ السلام ! آپ سے مجھے تین نسبتیں حاصل ہیں۔ پدری۔استادی۔مرشدی۔میاں یوسف کو جو کیفیت روزی ہوی ہے اور بندہ کو ایسا کچھ نہیں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم یہ کیا تمنا کر رہے ہو۔ ان کو رومی تجلی ہوئی ہے جسکی وجہ وہ آہ آہ کر رہے ہیں۔ تمہارا حال تو اس سے بہتر ہے۔ تم اپنے باپ(کے حال) کی آرزو کرو۔ (حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ ) نے عرض کیا کہ خوند کار کا صدقہ خدائتعالیٰ روزی کرے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا بھائی سید محمود صدقہ خوار نہ بننا چاہئیے ۔ مردانگی کو عمل میں لانا چاہئیے ۔ میاں یوسف کے حال کی آرزو کیا کررہے ہو۔ میاں سید خوندمیر کا حال دیکھو تجلی پر تجلی ہوتی ہے بشرہ بھی متغیر نہیں ہوتا ہے۔
۲۵۲
فرمودند۵ بھائی سید محمود شما مسجد جامع برابرایں بندہ نیائید پیش شدہ بیائید یا پس خدائتعالیٰ غیور است۔
ترجمہ: (حضرت مہدی علیہ السلام نے) فرمایا بھائی سید محمود تم جامع مسجد کو بندہ کے برابر نہ چلو۔ یا تو آگے ہوجایا کرو یا پیچھے (کیونکہ) خدائتعالیٰ غیور ہے۔
۲۵۳
فرمودند کہ بھائی سید محمد شماراسیر نبوت است و سید خوندمیر را سیر ولایت۔
ترجمہ: (حضرت مہدی علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھائی سید محمود رضی اللہ عنہتمکو سیر نبوت ہے اور سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کو سیر ولایت۔
۲۵۴
فرمودند کہ ایں دو جوانں کہ چب در است نشستہ اند فرمان می شودکہ پرورش ایشاں از حضرت ما بے واسطہ است۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ دو جوان جو سیدھے اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے ہیں ان کے بارے میں فرمان ہورہا ہے کہ ان کی پرورش ہماری بارگاہ سے بے واسطہ ہورہی ہے۔
۲۵۵
روزے اکثر مہاجراں ۱ بعد رحلت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ جمع شدہ نشستہ بودند بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سنگ ریزہ بدست گرفتہ فرمودند کہ ایں سنگ را میراں علیہ السلام گوہر فرمودندہ اند۔ شما چہ میگوئید بعدہ میاں سلام اللہ رضی اللہ عنہ خاشاک بدست گرفتہ فرمودند کہ ایں را میراں علیہ السلام شاہ فرمودہ اند شماچہ میگوئید حضرت بندگیمیاں نظام و دیگر مہاجراں ۲ رضی اللہ عنہم فرمودند آںسنگ گوہر است و آں خاشاک شاہ است ۳ بعدہ میاں نعمت میاں دلاور (رضی اللہ عنہ) را گفتند کہ شما بگوئید میاں دلاور رضی اللہ عنہ گفتند کہ بندہ کمینہ است سخن ماراچہ اعتبار است ۔ استادہ شد ند ملک بخن رضی اللہ عنہ پس میاں دلاور رضی اللہ عنہ نشستہ بودند دا من میاں دلاور رضی اللہ عنہ گرفتند میاں دلاور رضی اللہ عنہ را نشاند ند۔ باز میاں نعمت رضی اللہ عنہ گفتند حقیقت است بگوئید میاں دلاور رضی اللہ عنہ گفتند سخن ماراچہ اعتبار است ۔ باز برخواستند باز ملک بخنعلیہ السلام دامن گرفتہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ را نشاند ند میاں نعمت گفتند انچہ از حضرت میراں علیہ السلام معلوم است چرانمی گوئید بعدہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ گفتند کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم را شرف نزولِ قرآن بودو محمد مہدی صلی اللہ علیہ وسلم را شرف بیان قرآن شد اکنوں ہم خدائتعالیٰ ہر کرا بیانِ قرآن دادہ شد اور ابر ہمہ یاراں فضل است پس بہ بینید کہ بیان قرآن مثل سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کراہست جنگ نیست پس ہمیں حجت بسندہ است بر فضل میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ پس ہر کہ عمر وعثماں رضی اللہ عنہما صفت باشند باید کہ بیعت کنند ۔ بعدہ ‘ ازاں ہریکے برخواستند چونکہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بدر خانہ ہخود رسیدند میاں نظام رضی اللہ عنہ شتابی آمدند و بیعت کردند و گفتند میاں سید خوندمیر بندہ را در برادرانِ خود شمارند بعدہ‘ میاں نعمت رضی اللہ عنہ بہ برادرانِ خود گفتندکہ شمارا پیش بندہ ماندن حاجت نیست ۔میاں دلاور رضی اللہ عنہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ را فضل دادہ اند کسے کہ فاضل شد صحبت اوباید کرد۔ اگر خدائتعالیٰ بندہ را فضل ایشاں معلوم خواہد کرد بندہ ہم صحبت ِ ایشاں اختیار خواہم کرد۔ بعدہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ گفتند کہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ چرارنجش می شوید شمارا ہم حضرت میراں علیہ السلام در آخریں شمردہ اند۔ دیگراں ہم دراں سبب با میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بیعت کردند۔
ترجمہ: حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی رحلت کے بعد اکثر مہاجرین رضی اللہ عنہم ایک روز جمع ہوئے تھے۔ بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے ایک سنگریزہ ہاتھ میں لیکر فرمایا کہ اس سنگریزہ کو حضرت مہدی علیہ السلام نے گوہر فرمایا ہے ۔ آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس کے بعد حضرت میاں سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے کاہ(یعنے ایک کاڑی) ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اس کو شاہ فرمایا ہے ۔ آپ کیا فرماتے ہیں؟ حضرت بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ اور دوسرے مہاجرین رضی اللہ عنہم نے کہا کہ و ہ سنگریزہ گوہر ہے اور وہ کاہ شاہ ہے ۔ اس کے بعد میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے میاں دلاور رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ فرمائیے۔ میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بندہ کمترین ہے بندہ کی بات کا کیا اعتبار ہے ۔کھڑے ہوگئے۔ ملک بخن رضی اللہ عنہ نے جو میاں دلاور رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی تشریف فرما تھے میاں دلاور رضی اللہ عنہ کا دامن پکڑ کر بٹھالیا۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو حقیقت ہے بیان کردیجئے میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہماری بات کا کیا اعتبار ہے ۔ پھر اٹھ گئے۔ ملک بخن رضی اللہ عنہ نے دوبارہ دامن پکڑ کر بٹھایا میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت مہدی علیہ السلام سے جو کچھ معلوم ہوا ہے آپ کیوں بیان نہیں فرمادیتے اس وقت میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہوسلم کیلئے نزولِ قرآن کا شرف تھا اور محمد مہدی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قرآن کے بیان کا شرف ہے۔ اب بھی خدائے تعالیٰ جس بیان قرآن عطا فرمائے اس کو تمام(موجودہ ) صحابہ رضی اللہ عنہم پر فضیلت رہیگی۔ پس دیکھ لو کہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی طرح کسی بیان قرآن حاصل ہے ؟ بحث نہیں ہے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت پر یہی حجت کافی ہے۔ جو صحابی حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کی صفت پر ہوں انھیں بیعت کرنی چاہئیے۔اس کے بعد سب اٹھ گئے جب میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ اپنے گھر کے دروازہ پر پہنچے تو حضرت میاں نظام رضی اللہ عنہ نے تیزی سے تشریف لاکر بیعت کی۔ اور فرمایا میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بندہ کو آپ کے برادرانِ دائرہ میں شمار کیجئے! اس کے بعد حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے اپنے برادران دائرہ سے فرمایا کہ آپ لوگوںکو میرے پاس رہنے کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ کیونکہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی فضیلت بیان کی ہے۔ جو صاحب فضیلت ہے اسکی صحبت اختیار کرنی چاہئیے۔اگر خدائتعالیٰ ان کی فضیلت اس بندہ پر بھی ظاہر فرمادیگا تو بندہ بھی ان کی صحبت اختیار کریگا۔ اس کے بعد میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے میاں نعمت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ کیوں رنجید ہ ہورہے ہیں آپ کو بھی حضرت مہدی علیہ السلام نے آخرین میں شمار فرمایا ہے۔ دوسرے صحابہ نے بھی اسی لئے حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی ہے۔
۲۵۶
میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کرت ومرت فرمودند کہ حضرت میراں علیہ السلام کرات و مرات در حجرہ ایں بندہ آمد اند وہر بار فرمودہ اند کہ سید خوندمیر رضی اللہ عنہ امر وز در حق شما ایں چنیں فرمان میشود واز خدائتعالیٰ۔ بندہ جواب دادے حضرت میرانجیوعلیہ السلام بندہ ہیچ چیز نیست حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ بندہ چہ داند فرمان میشود۔
ترجمہ: حضرت میاں سید خوندمیررضی اللہ عنہ نے بار بار فرمایا کہ حضرت میراں علیہ السلام اس بندہ کے حجرہ میں کئی بار تشریف لا کر یہ فرمایا کرتے کہ آج تمہاری شان میں حق تعالیٰ کی طرف سے یہ فرمان ہوا ہے۔ بندہ عرض کرتا کہ حضرت میرانجی! بندہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ حضرت مہدی علیہ السلام فرماتے کہ بندہ کو کیا معلوم ۔ فرمان (ایسا ) ہورہا ہے۔
۲۵۷
یکبار میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ معاملہ دید ند در حال حیاتِ حضرت میراں علیہ السلام کہ وصال شدہ است و برادراں غسل دادہ جنازہ ہمستعد کردند بعدہ‘ یاراں قصد کردند کہ جنازہ بردار ند نہ توانستند بندہ باسبکی و آسانی چوں قدم روانہ شدم چہ بنیم کہ حضرت میراں علیہ السلام در جنازہ نشستہ اند د ہر دو دست بندہ بر سینہ ماندہ حضرت میراں علیہ السلام در ذات من غائب شد ندایں معاملہ پیش میراں جیو علیہ السلام عرض کردم حضرت میراں علیہ السلام فرمودند آئے ہمچنیں است چنانچہ دیدی۔ آں بار ولایت حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم است جز شما کسے برداشتن نتواند شمارا فنا در ذات من است بندہ و شما ہر دویک ذات اند ہیچ فرق نیست۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام کی حیات مبارک کے زمانے میں حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے ایک معاملہ (خواب)دیکھا کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا وصال ہوگیا ہے۔ صحابہ علیہ السلام نے غسل دیکر جنازہ تیار کردیا ہے۔ اس کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم نے جنازہ اٹھانے کی کوشش کی۔ اٹھانہ سکے بندہ کے دل میں بات آئی کہ اگر بندہ سے کہا جائے تو بندہ اٹھا لیگا اس کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے بندہ کو جنازہ اٹھانے کے لئے فرمایا۔ سبکی و آسانی کیساتھ(جنازہ اٹھاکر) چند قدم روانہ ہوا ہی تھا کہ کیا دیکھتا ہوں حضرت مہدی علیہ السلام جنازہ میں اٹھ بیٹھے ہیں اور (حضرت کے بجائے) بندہ کے دونوں ہاتھ بندہ کے سینہ پر رکھے ہوئے ہیں۔ اور حضرت مہدی علیہ السلام میری ذات میں غائب ہوگئے ہیں۔ یہ معاملہ حضرت مہدی علیہ السلام کے حضوری میں عرض کیا تو حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہاں! تم نے جیسا دیکھا ویسا ہی ہے۔ وہ حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت کا بار ہے۔ تمہارے سوائے کوئی اٹھا نہیں سکتا تم کو بندہ کی ذات میں فنا ہے ۔ بندہ اور تم دونوں ایک ذات (ہو چکے) ہیں کوئی فرق نہیں ہے۔
۲۵۸
روزے حضرت میراں علیہ السلام بیان فضل ولایت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم می فرمودند ہم دریں میان فرمودند کہ فرمان حضرت عزت می شود اے سید محمد ۱ جائیکہ ختم ولایت می شود آں جا بسیاراں قائم قائم مقام انبیاءشوند بعضی راسیر ابراہیم علیہ السلام بعضی را سیر موسیٰ علیہ السلام ۲ بعضی را سیر عیسیٰ علیہ السلام بشود ۳ میاں سید خوندمیر پر سید ند حضرت میرانجیوعلیہ السلام کسے را سیر مصطفی و سیر مہدی ہم باشد فرمودند آرے میراں سید محمود را سیر مصطفی است شمارا در ذات بندہ سیر است۔
ترجمہ: ایک روز حضرت مہدی علیہ السلام حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت کی فضیلت بیان فرما رہے تھے اس اثناءمیں آپعلیہ السلام نے فرمایا کہ حضرت رب العزت کا فرمان ہورہا ہے کہ اے سید محمد جہاں ولایت ختم ہوگی وہاں بہت سارے قائم مقامِ انبیاءہوں گے بعض کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیر اور بعض کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیراور بعض کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی سیر حاصل ہوگی۔ حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کسی کو سیر مصطفی علیہ السلام و سیر مہدی علیہ السلام بھی ہوگی! آپعلیہ السلام نے فرمایا ہاں ! میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کو سیر مصطفیعلیہ السلام ہے اور تم کو بندہ کی ذات میں سیر ہے۔
۲۵۹
روزے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ معاملہ دیدند در حال حیات حضرت میراں علیہ السلام کہ حضرت میراں علیہ السلام را وصال شدہ است و بعضی یاراں با ما مخالفت میکنند بعدہ معاملہ پیش حضرت میراں علیہ السلام عرض کردند۔ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ہر چہ دید ید ہمچناں خواہد ۴ شد ۔ وبر شما بے دینی ثابت خواہند کرد شما مستقیم باشید حق طرف شما است ایشاں رجوع خواہند کرد۔
ترجمہ: ایک روز میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی علیہ السلام کی حیات مبارک کے زمانہ میں معاملہ (خواب) دیکھا۔ کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا وصال ہوگیا ہے اور بعض صحابہ آپ سے مخالفت کر رہے ہیں اس کے بعد آپ نے یہ معاملہ حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا تو مہدی علیہ السلام نے فرمایا جو کچھ تم نے دیکھا ہے ایسا ہی ہوگا ۔ تم پر بے دینی ثابت کریں گے تم استقامت سے رہو۔ حق تمہاری طرف ہے یہ لوگ رجوع کریں گے۔
۲۶۰
روزے حضرت میراں علیہ السلام دو کس را علی الیقین فرمودند کہ شمارا سیر ابراہیم علیہ السلام است اگر حیات شما باشد ازیں بیشتر شوید لیکن حیات نیست ۔ یکے ازاں ہر دو سو می روز رحلت کردو دیگر روز نہمی متوفی شد۔
ترجمہ: ایک روز حضرت مہدی علیہ السلام نے دو صاحبین کے متعلق علی الیقین فرمایا کہ تم کو سیر حضرت ابراہیم علیہ السلام حاصل ہے۔ اگر تمہاری حیات اور ہوتی تو تم اور ترقی کر جاتے لیکن حیات نہیں ہے۔ ان دونوں میں سے ایک صاحب تیسرے دن اور دوسرے صاحب نویں دن رحلت کرگئے۔
۲۶۱
وقتی چشمہاے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ۱ پر آب شدند بسیار گریہ کردہ فرمودند کہ از حق تعالیٰ معلوم میشود اے سید خودندمیر بار تو تمام شدہ است لیکن چیزے حکمت است کہ ترازندہ می دارم۔
ترجمہ: ایک وقت حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے بہت زاری کرتے ہوئے آپعلیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہورہا ہے کہ اے سید خوندمیر رضی اللہ عنہ تمہارا بار تم تو پورا کرچکے ہو لیکن کچھ حکمت ہیکہ جسکی وجہ ہم نے تمہیں زندہ رکھا ہے۔
۲۶۲
روزے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ۲ را بعد از تخفیف درد شکم کہ مبالغت شدہ بود فرمودند کہ از حق تعالیٰ معلوم میشود کہ اے سید خوندمیر رضی اللہ عنہ تراد کسانیکہ در دائرہ تواند خلعتہا و تشریفہا کردیم از خلعتہا این است کہ گوشت و پوست و استخواں و موبمو ترافنا بخشیدیم و بی بی خونزا علیہ السلام را فرمودند کہ دردن دائرہ خبر کنید کہ دوگانہِ شکرانہ ادا کنند شماراحق تعالیٰ امشب تشریف کردہ است یکی ازاں اینست کہ از جملہ گناہاں بخشید ہ وا ز ہریکی خوشنود شدہ است ۳ ۔ بعدہ ملک الہداد علیہ السلام را طلبید ند آنچہ عطا شدہ بود یکبیک عیاں فرمودند ایں نیز فرمودند کہ عیسیٰ صلوات اللہ علیہ را نزدیک نمودند۔
ترجمہ: میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے ایک روز شدید درد شکم میں کمی ہونے کے بعد فرمایا کہ حق تعالیٰ کی طرف سے معلوم کیا جارہا ہے کہ اے سید خوندمیر رضی اللہ عنہ تم کو اور ان لوگوں کو جو تمہارے دائرے میں ہیں خلعت اور بزرگیاں ہم نے عطا کی ہیں۔ ایک خلعت یہ بھی ہے کہ تمہارے گوشت‘ پوست‘ استخوان بلکہ بال بال کو ہم نے فنا بخشی ہے۔ اور بی بی خونزا علیہ السلام کو آپعلیہ السلام نے فرمایا کہ دائرہ میں یہ خبر معلوم کردو کہ دوگانہِ شکرانہ ادا کریں۔ کیونکہ تم لوگوں کو آج رات جو بزرگیاں عطا ہوئی ہیں ان میں ایک بزرگی یہ ہے کہ تمام گنا ہ بخشے گئے۔ اور ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے بعد حضرت ملک الہداد رضی اللہ عنہ کو بلاکر جو کچھ عطا ہوا تھا ایک ایک کی تفصیل آپعلیہ السلام نے بیان فرمائی ۔ نیز فرمایا کہ حضرت عیسیٰ صلواة اللہ علیہ وسلم کو قریب دکھائے ہیں۔
۲۶۳
روزے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بمیراں سید محمود رضی اللہ عنہ عرض کردند کہ بندہ را در دائرہ خود جاے بد ہید تا با دائرہ ۱ خویش آمدہ بما ند فرمودند حضرت میراں علیہ السلام آنچہ در حق بندہ فرمودہ اند آں در حق شما ہم فرمودہ اند۔ ہیچ فرق نیست و فرق نہ کردند و فرمودند کہ برادر حقیقی شما ہر دو ہستید ۲ دیاران شما از شما فیض گرفتہ اند پیش بندہ ماندن نتوانند ۔ چناں کنید کہ نزدیک بمانید۔ بمقدار یک وقت حاجت خبر شماو خیر من بشما دریک روز رسد۔
ترجمہ: ایک روز حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بندہ کو اپنے دائرہ میں جگہ دیجئے تاکہ اپنے اہل دائرہ کے ساتھ بندہ رہ جائے ۔ آپ نے فرمایا حضرت مہدی علیہ السلام نے جو کچھ بندہ کے حق میں فرمایا ہے وہی آپ کے حق میں بھی فرمایا ہے نہ کوئی فرق ہے نہ کوئی فرق حضرت مہدی علیہ السلام نے کیا ہے۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ تم دونوں برادر حقیقی ہیں اب آپ ایسا کیجئے کہ اتنا قریب اپنا دائرہ قائم کریں کہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی خبر ایک دن میں پہنچ سکے۔
۲۶۴
منقول است کہ چوں رحلت میراں علیہ السلام نزدیک رسید در مسجد جامع بعد از ادائی نماز جمعہ وتر گزاردند بعضے یاراں را فہم شد دانستند کہ حضرت میراں علیہ السلام بعد ازیں در مسجد جامع نیا یند زیرا کہ نبی علیہ السلام نیز آخر عمر روز جمعہ بعد از ادائی نماز جمعہ وتر گز اردند چنانچہ دانستہ بودند ہمچنا ں شد بعدہ در مسجد جامع نیا مدند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ جب حضرت مہدی علیہ السلام کے وصال کا زمانہ قریب آپہنچا تو جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعدآپ نے نماز وتر ادا فرمائی ۔ بعض صحابہ علیہ السلام نے اس عمل کو سمجھا اور جان لیا کہ حضرت مہدی علیہ السلام اس کے بعد جامع مسجد میں تشریف نہیں لائیں گے ۔ کیونکہ حضرت نبی علیہ السلا م نے بھی عمر کے آخری حصہ میں جمعہ کے روز نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد وتر ادا فرمائی ہے (صحابہ رضی اللہ عنہم نے جو سمجھاتھا وہی ہوا) ۔ اس کے بعد (حضرت مہدی علیہ السلام) جامع مسجد میں تشریف نہیں لائے۔
۲۶۵
منقول است کہ در خراسان ہر کہ با حدیث حجت کردے و گفتے کہ میرانجیوعلیہ السلام نشانہائے مہدی علیہ السلام کہ دریں احادیث مذکوراند در ذات خوند کار یافتہ نمیشود ۔ فرمودند کہ در احادیث اختلاف بسیار است صحیح از بیقم جدا کردن مشکل است ہر حدیثے کہ موافق کتاب خدائتعالیٰ و حال بندہ باشدآں صحیح است کما قال علیہ السلام ومستکثر لکم الاحادیث من بعدی فاعرضو اعلی کتاب اللہ تعالیٰ فان وافقوا فاقبلو اوا الا فردوہ۔
ترجمہ:روایت ہیکہ مقام خراسان میں جو لوگ احادیث پر سے بحث کرتے اور کہتے کہ میرانجیعلیہ السلام ان احادیث میں مہدی علیہ السلام کی جو نشانیاں بیان ہوئی ہیں ‘ خوندکار میں نہیں پائی جارہی ہیں۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا کہ احادیث میں بہت اختلاف ہے سقیم سے صحیح کو الک کرنا مشکل ہے ۔ جو حدیث کہ خدائتعالیٰ کی کتاب اور بندہ کے حال کے موافق ہو وہی صحیح ہے۔ جیسا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ” میرے بعد تمہارے لئے احادیث میں کثرت ہوجائیگی اُن احادیث کو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ملاﺅ اگر موافق پاﺅ تو قبول کرو ورنہ چھوڑدو۔
۲۶۶
منقول است حضرت میراں علیہ السلام وقتی فرمودند معلوم می شود کہ مہدی را و قومِ اور را ہیچ جائے مقام و مسکن نبا شد۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ایک وقت فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ مہدی اور اس کی جماعت کے لئے کوئی جگہ مقام و مسکن نہیں ہے۔
۲۶۷
نیز منقول است کہ حضرت میراں علیہ السلام بست سال ایں ندا شنید ے کہ تو مہدی موعود آخر الزماں ہستی‘ پوشیدہ واشتند و اظہار نہ کردند۔ چوں ندا بعتاب شدا ظہار کردند۔
ترجمہ: نیز روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام بیس سال سے ندائے (غیب) سماعت فرما رہے تھے کہ تم مہدی موعود آخر الزماں ہو۔ آپ نے پوشیدہ رکھا ۔ کسی پر ظاہر نہ فرمایا جب ندا عتاب کے ساتھ ہوئی تو آپ علیہ السلامنے ظاہر فرمایا۔
۲۶۸
نیز روزے فرمودند کہ سفر معلوم میشود و یاراں براے استعداد ِ سفر مرکب خریدند و دیگر استعداد ہم کردند بعد از چند روز فرمودند سفر باطنی مراد است۔
ترجمہ: نیز روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ایک روز فرمایا معلوم ہورہا ہے کہ سفر (کرنا ہوگا) صحابہ رضی اللہ عنہم نے سفر کی تیاری کیلئے سواری خریدی اور دوسری ضروریات بھی مہیا کرلیں۔ چند دن بعد حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا (اس حکم سے) سفر باطنی مراد ہے۔
۲۶۹
بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ معاملہ دیدند کہ سلطان مظفر و بی بی رانی زنِ او اطاعت من کردند۔ ایں معاملہ پیش بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ گفتند ۱ و اجازت رواں شدن بچاپانیر طلبید ند میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند شما فہم کردید مراد ایں معاملہ نیست ایں صورت نہ شود مراد از سلطان مظفر نفس شما است واز بی بی رانی مراد ہوائے شما است ۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ ایں تعبیر قبول نہ کردہ بچاپانیر رفتند پشیمان شدند چنانچہ مشہور است۔
ترجمہ: ایک روز بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ نے معاملہ( خواب ) میں دیکھاکہ سلطان مظفر اور اسکی بیوی بی بی رانی نے آپعلیہ السلام کی اطاعت قبول کی ہے ۔ یہ معاملہ آپعلیہ السلام نے بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سے بیا کیا ۔ اور چاپانیر جانے کی رضا مندی چاہی۔ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ آپ نے جو سمجھا ہے اس کا نہ وہ مطلب ہے اور نہ ایسا ہوگا سلطان مظفر سے مراد آپ کا نفس اور بی بی رانی سے مراد آپ کی ہوس ہے ۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے اس تعبیر کو قبول نہ کیا چاپانیر تشریف لیگئے ۔(لیکن اپنی کی ہوئی تعبیر پوری نہوئی) جیسا کہ مشہور ہے۔
۲۷۰
نیز منقول است دریا رانِ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ چند روز ایں آوازہ بود کہ بعد قتال غلبہ صورت شود اما ملک گیری نہ شود و لیکن قاتلو او قتلو (جزء۴ رکوع ۱۱) شود۔
ترجمہ: نیز روایت ہیکہ حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے (دائرے کے) فقراءمیں چند دن یہ شہرت رہی کہ قتال کے بعد غلبہ حاصل ہوجائیگا لیکن ملک گیری نہوگی (صرف) قاتلو او قتلو ا (کی تکمیل ) ہوگی۔
۲۷۱
روزے ۱ بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ معاملہ دیدند کہ از پروردگار حکم شدا ے میاں نعمت شمارا توکل عطا کردیم و لیکن بتمام نتوا یند رسید۔ بعدہ بندگیمیاں دلاور رضی اللہ عنہ گفتند فرمودند کہ تمام متوکل حضرت رسالت پنا ہ صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت مہدی موعود علیہ السلام ہستند ازاں جہت بتمام نتوانید رسید۔
ترجمہ: ایک روز بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ نے معاملہ دیکھا کہ پروردگار کی طرف سے حکم ہوا کہ اے میاں نعمت رضی اللہ عنہ ہم نے تم کو توکل عطا کیا ہے لیکن تم توکل کے کامل درجہ کو نہ پہنچ سکوگے۔ آپ نے (یہ معاملہ) بندگیمیاں دلاور رضی اللہ عنہ سے بیا کیا آپ نے فرمایا کہ حضرت رسالت پنا صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مہدی موعود علیہ السلام ہی کامل متوکل ہیں۔ اسی جہت سے آپ توکل تام کو نہ پہنچ سکوگے۔
۲۷۲
نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ پس من کسانے شوند کہ با ایشاں اقامت دین شود چنانچہ از پس مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم شدہ است ۲ ہر یک مہاجراں رضی اللہ عنہم اجماع کردند کہ ایں تعلق بمعنی دادنہ بصورت یعنی ملک گیری۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت میراں علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے بعد ایسے لوگ ہوں گے کہ جن سے دین قائم ہوگا جیسا کہ حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا ہے سب مہاجرین رضی اللہ عنہم نے اجماع کیا ہے اس فرمان کا تعلق باطن سے ہے ظاہر یعنی ملک گیری سے نہیں ہے۔
۲۷۳
نقل است کہ علماءسوال کردند کہ مہدی بادشاہ شود حضرت میراں علیہ السلام فرمودند آرے لیکن سرگین اسپاں نکشاند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ علماءنے سوال کیا کہ مہدی علیہ السلام تو بادشاہ ہوگا۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں لیکن گھوڑوں کی لید کھنچوانے والا نہوگا۔
۲۷۴
نقل است روزے کافرے مشرک براے در ِدزہ زن خود را پسخوردہ طلبید حضرت میراں علیہ السلام دادند اور اچشانید و بآخر مُرد چنانچہ معتاد کافر انست کہ بسوزند نسو خت خبر بحضرت میراں علیہ السلام رسید فرمودند سوختہ نخواہد شد۔ بگوئید کہ دفن کنند۔ پس آخر دفن کردند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ ایک روز ایک مشرک کافر اپنی عورت کی دردِزہ کی وجہ سے پسخوردہ طلب کیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے دیدیا۔ اس عورت کو پلایا گیا۔ آخر وہ مرگئی۔ کافروں نے اپنے طریقہ کے موافق جلانا چاہا ۔ نعش نہ جلی۔ حضرت مہدی علیہ السلام کو اسکی خبر پہنچی آپعلیہ السلام نے فرمایا وہ نہ جلے گی۔ ان لوگوں سے کہدو کہ دفن کردیں آخر ان لوگوں نے دفن کردیا۔
۲۷۵
روزے در دائرہ سگ مار را ۱ دید و دوید بدہان گرفت۔ مار زبانِ سگ را گزید۔ پیش حضرت میراں علیہ السلام زبان فردد ۲ کردہ آمد حضرت میراں علیہ السلام پر سیدند کہ سگ را چہ شدیاراں گفتند مار گزیدہ است حضرت میراں علیہ السلام لعاب خود بر زبانش او اندا ختند فی الحال زہر مار دفع شد۔
ترجمہ: ایک روز دائرہ میں کتے نے سانپ دیکھا اور دوڑکر منھ میں پکڑلیا۔ سانپ نے کتے کی زبان ڈس لی کتا حضرت مہدی علیہ السلام کے سامنے زبان لٹکایا ہوا آیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ اس کتے کو کیا ہوا ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا سانپ نے ڈس لیا ہے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنا لعاب دہن اس کی زبان پر ڈالدیا اسی وقت سانپ کا زہر دفع ہوگیا۔
۲۷۶
روزے دیگر سگ را مار گزید در سکرات شد میراں علیہ السلام ۱ لطف فرمودہ برسر آں سگ آمدند پسخوردہ‘ آب بدہان اور یختند بہ شد۔
ترجمہ: ایک اور دن سانپ نے کتے کو ڈس لیا کتا سکرات میں ہوگیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے ازراہ رحم کتے کے قریب آکر پسخوردہ کا پانی اس کے منھ میں ڈالدیا کتا اچھا ہوگیا۔
۲۷۷
روزے پیش حضرت میراں علیہ السلام مردے ۲ جوان آسیب زدہ را آوردند حضرت میراں علیہ السلام بزبان شیریں آں جن را پر سید ند کہ شما کدام کس ہستید گفت ۳ من شاہ جنیاں ہستم۔ بعدہ‘ پسخوردہ خود نوشایند ند ۴ ۔ چوں آب در حلق رسید فی الحال نعرہ زد و التماس کردکہ باز پسخوردہ بد ہید و ایں آب در بعضی اندام رسید و اسلام آدرد اگر آب ہمہ اندام رسیدے ہمہ اندام آوردے۔ دیگر بار پسخوردہ دادند نوشید و کلمہ عرض کرد۔ و آسیب زدہ را صحت شد۔
ترجمہ: ایک روز حضرت مہدی علیہ السلام کے آگے ایک آسیب زدہ شخص لایا گیا۔ مہدی علیہ السلام نے اپنی زبان شیریں سے اس جن پر سوال فرمایا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں جنات کا بادشاہ ہوں آپعلیہ السلام نے اپنا پسخوردہ پلادیا۔ جب پانی حلق میں پہنچا تو اسی وقت چیخ اٹھا اور التماس کرنے لگا کہ پسخوردہ اور دیجئے ۔ یہ پانی جسم کے کچھ حصہ میں پہنچا ہے وہ مسلمان ہوگیا ہے۔ اگر تمام جسم میں یہ پانی سرائت کرجائے تو بالکل مسلمان ہوجائیگا۔۔ دوبارہ پسخوردہ دیا گیا۔ پیتے ہی کلمہ پڑہا اور آسیب زدہ کو صحت ہوگئی۔
۲۷۸
نقل است اگر کسے حضرت میراں علیہ السلام را پر سیدے اگر رضا باشد خواندنِ علم ظاہری بگذارم ۵ و اگر واعظ بودے گفتے وعظ بگذارم و اگر کاسب بودے گفتے کہ کسب بگذارم و اگر اہل دنیا بودے گفتے کہ دنیا بگذارم تاذکر قرار گیرد ہر یک را جواب فرمودند کہ چرامی گذار ید کوشش ذکر کنید و اگر بغیر پرسید ہ کسے ایں چیز ہا گذاشتہ بیامدے فرمودے مرادنگی کردید خوب کردید
ترجمہ: روایت ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت مہدی علیہ السلام سے سوال کرتاکہ اجازت ہو تو علم ظاہر چھوڑ دیتا ہوں اگر واعظ ہوتا تو عرض کرتا کہ وعظ چھوڑ دیتا ہوں۔ اگر کاسب ہوتا تو کہتا کسب چھوڑ دیتا ہوں۔ اگر اہل دنیا سے ہوتا تو کہتا کہ دنیا چھوڑ دیتا ہوں تاکہ ذکر قرار پائے ۔ ہر ایک کو آپعلیہ السلام یہی جواب دیتے کہ کیوں چھوڑتے ہو ذکر کی کوشش کرو۔ اگر کوئی آپ سے اجازت حاصل کئے بغیر از خود ان امور کو چھوڑ کر حاضر ہوجاتا تو فرماتے کہ تم نے مردانگی کی تم نے بہت اچھا کیا ہے۔
۲۷۹
نقلست کہ مادر حضرت میراں علیہ السلام را حمل شد در خواب دید ند کہ آفتاب در شکم من آمدہ است پیش برادر ۱ ملک قیام الملک گفتند فرمودند مادر خاتم نبوت ایں خواب دیدہ بودند شاید کہ در شکم شما خاتم ولایت ۲ باشد ۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام کی واجدہ ماجدہ کو حمل ہوا تو آپ نے خواب دیکھا کہ آفتاب شکم مبارک میں آگیا ہے ۔ اپنے بھائی قیام الملک سے آپعلیہ السلام نے اس خواب کا ذکر کیا۔ قیام الملک نے کہا خاتم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا تھا۔ شاید کہ تمہارے شکم مبارک سے خاتم ولایت کا ظہور ہو۔
۲۸۰
منقول است شیخ دانیال مردے کامل و اکمل بودو با خواجہ خصر درہر روز جمعہ ملاقات داشتند میاں سید
احمد برادر میراں سید محمد بودند و صحبت با شیخ دانیال کردند۔ روزے با شیخ التماس کردند کہ انصاف نبا شد کہ شما با خواجہ ملاقا ت می کنید و مارا علحٰدہ می نشانید حق صحبت بجا آورید۔ و مرانیز ملاقات کنانید بعدہ‘ شیخ از خواجہ رضا طلبیدہ خواجہ فرمودند کہ سید احمد را بگوئید برادر خود را کہ نام سید محمد است ہمراہ خود بیارید تا آنچہ حضرت رسالت پناہ براے او امانت فرستادہ اند آں بدہم در روز جمعہ بعد اداے نماز شیخ دانیال باہر دو سیداں پیش خواجہ رفتند خواجہ حضرت میراں علیہ السلام را در کنار گرفت وبر دوز انو نشاند ند فرمودند کہ جد شما محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدست ایں بندہ چیزے امانت فرستادہ است بستانید میراں علیہ السلام فرمودند خوب است پس خواجہ ایں ذکر پاسِ انفاس عرض کردند۔ و دیگر ہم راز ہا گفتند و بعد از عرض سہ بار فرمود امانت جد شمار سید۔ میراں علیہ السلام فرمودند آرے رسید باز خواجہ صلواة اللہ علیہ وسلم فرمودند کہ از جانب جد شما ایں ذکر را تلقین بہ ہمہ کس کنید د ار شاد نمائید۔
ترجمہ: روایت ہیکہ شیخ دانیال رحمتہ اللہ علیہ ایک کامل و اکمل انسان تھے حضرت خواجہ خضر علیہ السلام سے ہر جمعہ کو ملاقات کیا کرتے تھے۔ حضرت میراں سید محمد علیہ السلام کے بھائی میاں سید احمدعلیہ السلام تھے ۔ شیخ دانیال رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت میں رہا کرتے تھے ایک روز انھوں نے شیخ علیہ السلام سے التماس کیا کہ یہ انصاف نہیں ہے آپ خواجہ علیہ السلام سے ملاقات کریں اور ہم علحٰدہ بیٹھے رہیں ۔ صحبت کا حق ادا کیجئے ۔ اور ہم سے بھی ملاقات کرائیے ۔ اس کے بعد شیخ نے خواجہ علیہ السلام سے اجازت چاہی ۔ حضرت خواجہ علیہ السلام نے فرمایا۔ سید احمد سے کہو کہ اپنے چھوٹے بھائی جنکا سید محمد علیہ السلام ہے ان کو اپنے ساتھ لائیں۔ تاکہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے جو کچھ امانت عطا فرمائی ہے۔ ان کے حوالہ کردوں ۔ جمعہ کے روز نماز کے بعد شیخ دانیال رحمتہ اللہ علیہ دونوں سیدوں کے ساتھ خواجہ علیہ السلام کے پاس گئے ۔ خواجہ علیہ السلام نے حضرت میراں علیہ السلام کو گود میں لے لیا۔ اور اپنے زانو پر بٹھا کر فرمایا کہ تمہارے دادا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بندہ کے ذریعہ کچھ امانت روانہ فرمائی ہے لو۔ میراں علیہ السلام نے کہا اچھا ہے۔ خواجہ علیہ السلام نے ذکر پاس انفاس بیان کیا اور دوسرے راز بھی بیان کئے۔ اس کے بعد آپ نے تین بار سوال کیا کہ آپ کے دادا کی امانت پہنچی؟ میراں علیہ السلام نے فرمایا ہاں پہنچی ۔ خواجہ صلواة اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ کے دادا کی جانب سے سب لوگوں کو اس ذکر کی تلقین کیجئے اور ارشاد کیجئے (یعنی مرشدی کیجئے)
۲۸۱
نقلست کہ چوں حضرت میراں علیہ السلام بعد بلوغ ہجرت کردند و بمقامے رسید نددراں مقام درویش بود آمد
ملاقات شد۔ گفت مسکن من ازیں مقدار سہ صد کردہ است درآں مقام مشغول بودم ناگاہ خوشبویِ بے نہایت بمشام من رسید در بیان نیا مداز غیب ندا آمد کہ فلاں مقام ذات مہدی علیہ السلام پیدا شدہ است و بعد از بلوغ او ہجرت در راہِ خدا کردہ است بردبا او بیعت کن۔ آں وقت رسیدہ است کہ تو مہدی موعود آ خر الزماں ہستی من ۱ باتو بیعت کنم تا روز قیامت من در گروہ مہدی باشم۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے بلوغ کے بعد جب ہجرت فرمائی اور ایک مقام پر پہنچے وہاں ایک فقیر رہتا تھا آیا۔ ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ میرا مقام یہاں سے تین سو منزل پر ہے۔ میں وہاں اپنے شغل میں تھا اتفاقاً بے انتہا نا قابل بیان خوشبو معلوم ہونے لگی۔ غیب سے ندا بھی سنائی دی کہ فلاں جگہ ذات مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوا ہے درجہ مہدیت کو پہنچنے کے بعد اس نے فی سبیل اللہ ہجرت اختیار کرلی ہے۔ جاﺅ اس کے ہاتھ پر بیعت کرلو۔ اب وہ وقت آپہنچا ہے کہ آپ مہدی موعود آخر الز ماں ہیں۔ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہا ہوں تا کہ قیامت کے دن مہدی علیہ السلام کی جماعت میں رہوں۔
۲۸۲
در ایام ہجرت بمقامے رسید ند پیش در وازہِ شہرے یاران رسید ند مردے پیش در شہر نشستہ بود گفت شما سود اگراں ہستید رسم دیوانی بد ہید بعدہ بروید لمحہ ایشاں توقف کردند حضرت میراں علیہ السلام رسید ند فرمودند چرا توقف کردید۔ جواب دادندایں مرد چنیں می گوید۔ فرمودند اور ا حضور بیار ید حضور آمد فرمودند
نا ہم لاویں لونگ سپاری نا پربت کی دوا ہم تو لاویں پیو کی پخپاں واں کہا نکالا کا
آں مرد بمجرد و شنیدن ایں سخن دیوانہ شد رقص کناں دنبال شد و بچشم گریاں و بدل بریاں تکرار می گفت ” واں کہاں کالا کا“ مقدار راہ برابر آمد بعدہ حضرت میرں علیہ السلام فرمودند خیال خود باش چہ دیوانگی می کنی ہماں جا ایستادہ شد۔
ترجمہ: ہجرت کے دنوں میں ایک مقام پر شہر کے دروازہ کے قریب پہنچے ۔ ایک سپاہی شہر کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا تم لوگ سوداگر ہو پہلے رسم دیوانی ادا کرو بعد یہاں سے گزرو۔ کچھ دیر یہ لوگ ٹہر گئے (اتنے میں) حضرت مہدی علیہ السلام بھی پہنچ گئے فرمایا کیوں ٹہرے ہو؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ شخص ایساکہتا ہے ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا اسکو حاضر کرو۔ جب وہ حاضر ہوا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا۔ (ترجمہ شعر) ” نا ہم لوگ سپاری لاد کر لائے ہیں اور نہ ہمارے پاس پہاڑ کی جڑی بوٹی ہے ہم تو اپنے محبوب (اللہ تعالیٰ) کا عشق و محبت لائے ہیں ہمارے پاس دنیا کا سامان نہیں ہے ۔ ” سپاہی اس کلام کو سنتے ہی دیوانہ بن گیا ( وجد طاری ہوکر) رقص کرنے لگا اور ساتھ ہوگیا۔ آنسو بہاتے ہوے سوزدل سے بار بار کہنے لگا” واں کہاں کالا کا“ تھوڑی دور (اسطرح) ساتھ چلا تھا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا دیوانگی کیا کر رہے ہو۔ اپنے ہوش میں رہو ۔ وہیں ٹہرگیا۔
۲۸۳
روزے دندان مبارک حضرت میراں علیہ السلام از مقام خود جدا شد بر زمین افتاد ۔ بی بی الہداتی رضی اللہ عنہا ۴ برداشتند کہ بحرمت بدارند۔ برادر بی بی میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ مزاحم شدند کہ مرا عطا کنید ایںتبرک بدارم چند تنازع شد بعدہ‘ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند خصومت مکنید آںنورِ خدا است نور از نور جدا نخواہد شد۔ بعد ہ بی بی الہدتی رضی اللہ عنہا دندان مبارک در جامہ پیچیدہ در صندوق نہادہ قفل کردند بعد از چند روز صندوق کشادند دندان مبارک نیافتند۔
ترجمہ: ایک روز حضرت میراں علیہ السلام کا دندان مبارک دہن مبار ک سے الگ ہوکر زمین پر آگیا۔ بی بی الہدتی رضی اللہ عنہا نے حرمتہ محفوظ کرنے کے ارادہ سے اٹھالیا۔ بی بی علیہ السلام کے بھائی میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے مزاحمت کی کہ مجھے دیدیجئے میں بطور تبرک رکھ لونگا ۔ کچھ دیر باہم مزاحمت جاری تھی کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا مزاحمت
نہ کرو وہ تو خدا کا نور ہے نور نور سے جدا نہ رہیگا۔ اس کے بعد بی بی الہدتی رضی اللہ عنہا دندان مبارک کپڑے میں لپیٹ کر صندوق میں محفوظ کرکے قفل لگادیا۔ چند دن بعد صندوق کھولا تو دندان مبارک نہ پایا۔
۲۸۴
نیز منقول است در ولایت مانڈو روزے فتوح بسیار رسید بحدیکہ حضرت میراں علیہ السلام بہ ہر دو دست مبارک پُرکردہ می دہند بسیار خلق مطیع شد۔ ہر کہ می آمدے گفتے اے خداوند قسمت مارابدہ ہیچ کس محروم نماند یکے دف زن آمد ہمچنین سخن گفت یک تسبیح مروارید قیمتی ماندہ بود آں دو زن را مرحمت کردن طلبیدند میاں سید سلام اللہ علیہ السلام عرض کردند حضرت میرانجیوآں مردارید بیش قیمتی ہست ۔ فرمودند کہ ہمچنیں است و فرمانِ خدائے تعالیٰ اینست قل متاع الدنیا قلیل و ایں متاع دنیا را خدائے تعالیٰ اندک گفتہ است ایں مقدار مردارید چند مقدار خواہد بود۔ بعدہ میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ آوردہ داوند ۔ بعد ازاں براے اداے نماز بکنار حوض رفتند و خلق آں مقدار دنبال شد کہ در شمار نیاید دراں روز ماہم و بعضے یاراں فہم کردند کہ قد مبارک کہ بالائے تمام خلق است چپ و راست ایستادہ دید ند از ہریکے سر مبارک بالا یافتند۔
ترجمہ: نیز روایت ہیکہ شہر مانڈر میں ایک دن فتوح اتنی زیادہ آئی کہ حضرت مہدی علیہ السلام اپنے دونوں دست مبارک بھر بھر کر دے رہے تھے ۔ بہت لوگوں نے اطاعت قبول کی جو شخص آتا عرض کرتا کہ خداوند ہم کو حصہ دیجئے ۔ کوئی محروم نہ رہا۔ ایک دفالی (دفہ بجانے والا) آیا اس نے بھی دست سوال دراز کیا۔ مرد ارید کی قیمتی تسبیح رہ گئی تھی ۔ دفالی کو دینے کے لئے حضرت نے منگوائی ۔ حضرت میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا حضرت میرانجی اس تسبیع کے مرداریدبہت قیمتی ہیں۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا قیمتی تو ہیں لیکن خدائے تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ قل متاع الدنیا قلیل (کہدو کہ دنیا کا متاع قلیل ہے) جب اللہ تعالیٰ نے متاع دنیا کو قلیل فرمایا ہے تو یہ مروارید بھی قلیل ہیں۔ حضرت میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے تسبیح لاکر پیش کردی اس کے بعد (حضرت مہدی علیہ السلام مع جماعت ) نماز کے لئے حوض کے پاس تشریف لائے ۔ بے شمار لوگ حضرت کے پیچھے ہوگئے۔ اس دن ہم نے اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے سمجھا کہ (حضرت مہدی علیہ السلام کا) قد مبارک تمام لوگوں سے بلند ہے۔ دائیں بائیں جانب کھڑا ہوکر بھی ہم نے دیکھا تو ہر ایک سے حضرت کا سر مبارک بلند پایا۔
۲۸۵
علامت مہدی علیہ السلام آں بود کہ قد مبارک ۲ بالاے از تمام خلق بود و چوں استادہ شدے دست مبارک تا زانو رسیدے۔
ترجمہ: مہدی علیہ السلام کی علامت یہ ہیکہ قدم مبارک تمام خلق سے بلند ہو ۔ اور جب وہ کھڑے ہوجائیں تو ان کے ہاتھ زانو تک پہنچ جائیں۔
۲۸۶
نقل است ۱ لما تقولون ما لا تفعلون (جزء۸۲ رکوع ۹) حضرات میراں سید محمود رضی اللہ عنہ دریں محل تاسہ روز بیان نکردند کہ قال با حال باید۔
ترجمہ: روایت ہیکہ لما تقولون ما لا تفعلون (تم جو نہ کرتے ہو کہتے کیوں ہو) اس آیت پر حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے تین دن تک بیان نہیں فرمایا اور فرمایا کہ قال با حال ہونا چاہئیے۔
۲۸۷
نقل است کہ در راہ رہزناں قصدِ رہزنی کردند چوں یاراں دیدند پرسیدند چہ باید کردہ فرمودند (حضرت میراں علیہ السلام) مشغول با خدا باشید خود از اسپ فردو شدند و شمشیر و سپر بدست گرفتہ پیش یاراں رواں شد ند لشکر رہزناں مستعد بسیار بود۔ چوں نظرِ حضرت براں افتاد یگر یختند یاراں بسلامت پیشتر شدند۔ یک فقیر پس ماندہ بود اور ا رہزناں گرفتہ پر سید ند راست بگوایں لشکر ازاں کیست با چندیں فیلاں و اسپاں دیا سلحہ و با سلحہ آہنی می گذشت ۔ گفت کہ حضرت میراں علیہ السلام است۔ بعدہ اورارہا ۲ کردند چوں ایں خبر از حضرت میراں علیہ السلام پر سیدند با خشم و عتاب فرمودند کہ دنبال ذکر باشید دریں ہیچ بزرگی نیست بندگانِ خداے را در طلب خدا شدن بایا۔
ترجمہ: روایت ہیکہ چند رہزن راستہ میں رہزنی کا ارادہ رکھتے تھے۔ جب آپ کے صحابہ علیہ السلام نے دیکھ لیا تو حضرت مہدی علیہ السلام سے پوچھا کیا کرنا چاہئیے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائتعالیٰ کی یاد میں مشغول رہو ۔ خود گھوڑے سے اتر گئے تلوار اور سپر ہاتھ میں لئے ہوئے صحابہ علیہ السلام کے آگے آگے چلنے لگے۔ رہزنوں کا لشکر جو تیار تھا جب حضرت مہدی علیہ السلام کی نظر اس پر پڑی بھاگ گیا۔ صحابہ علیہ السلام امن و عافیت سے آگے بڑھ گئے دائرے کے ایک فقیر صحاب پیچھے رہ گئے تھے رہزنوں نے ان کو پکڑ کر دریافت کیا کہ سچ کہو یہ لشکر کس کا ہے ۔ جو اتنے ہاتھیوں ‘ گھوڑوں اور اسلحہ کے ساتھ گزرا ہے انھوں نے کہا کہ حضرت مہدی علیہ السلام کا ہے۔ اس کے بعد ان کو رہزنوں نے چھوڑ دیا جب اس بارے میں حضرت مہدی علیہ السلام سے پوچھا گیا تو آپعلیہ السلام نے خشم و عتاب سے فرمایا کہ ذکر میں مشغول رہو اس میں کوئی بزرگی نہیں ہے۔ بندگانِ خدا کو صرف خدا کی طلب میں رہنا چاہئیے۔
۲۸۸
روزے شراب خوار متکبر بدکار و مالدار با شوخی پیش حضرت میراں علیہ السلام آمد ۔ بعضے یاراں مانع شدند قبول نکرد نزد حضرت آمدہ نبشست بقصد بیان آیتہا ۱ در منع وار دشد ۔ او باز گشت یاراں التماس کردند کہ بآوند شراب آمدہ بود اگر بزبانِ مبارک ممنوع شد ے توبہ کردے فرمودند مرا براے تبلیغ فرستاد و براے منع صریخ نفرستادہ ۔ ہر کہ از شنیدن بیان کلام اللہ پند نخواہد گرفت بمنع صریح چہ سود۔ ایں سخن بگوش آں شراب خوار رسانید آں گفت اگر بزبان مبارک منع کنند توبہ کنم باز ہمیں صورت پیش حضرت آمد و آوند شراب بکشاد۔ چہ بیند کہ درد مو شے ریزیدہ خلط شدہ است نیز ممنوع نہ شد کرت دیگر بیامد بعدہ مستعد شدہ آوند شراب بشکست و ضایع شد دراں ہم ممنوع نہ شد۔ یاراں گفتند کہ بزبان حال اور امنع کنند۔ ہشیار باش آں مرد گفت اگر بزبان قال منع کنند باز خواہم ماند۔ سوم کرت باذ وقانوشید درد شکم گرفت کہ جان کنند شروع گشت چس بہماں حال پیش حضرت میراں علیہ السلام آمدہ گفت اے سید امیر مرا چندیں خوار چرا کردی فرمودند اے برادر با حضرت ِ بے نیاز چندیں سر کشی نباید کرد۔ پس آب پسخوردہ نوشایند ند بہ شد۔ و توبہ نصوح کرد تلقین شدہ صحبت اختیار کرد۔
ترجمہ: ایک روز (بیان قرآن کی مجلس میں) ایک شراب خوار جو مغرور و بدکار و مالدار تھا شوخیانہ انداز میں حضرت مہدی علیہ السلام کے پاس حاضر ہوا۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو روکا لیکن اس نے ایک نہ سنی حضرت کے قریب آکر بیٹھ گیا ۔ اور اس نے نیت یہ کر رکھی تھی کہ (حضرت سے ان آیات کا) بیان سنے جن میں ممانعت وارد ہوئی ہے اور جب وہ واپس ہوگیا تو صحابہ علیہ السلام نے التماس کیا کہ شراب کا شیشہ کے ساتھ آیا ہواتھا ۔ اگر زبان مبار ک سے منع فرما دیتے تو وہ باز آجاتا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھ کو اللہ تعالیٰ نے تبلیغ کے لئے بھیجا ہے منع صریح(یعنی شخصی تخاطب سے منع کرنے) کے لئے نہیں بھیجا ہے۔ جو شخص بیان کلام اللہ سن کر نصیحت حاصل نہیں کرتا ہے اس کے لئے منع صریح سے بھی کوئی فائدہ نہیں ۔ یہ بات اس شراب خوار کے کانوں تک پہنچائی گئی تو اس نے کہا اگر مہدی علیہ السلام زبان مبارک سے منع کریں گے تو میں باز آجاﺅ نگا اس کے بعد ایک اور مرتبہ اسی طرح مہدی علیہ السلام کے پاس آیا شراب کا شیشہ کھولا کیا دیکھتا ہیکہ اس میں گلا سڑا چوہا خلط ملط ہوگیا ہے یہ دیکھکر بھی باز نہ آیا۔ اور ایک مرتبہ اسی طرح آیا۔ شراب کا شیشہ کھولنے لگا شیشہ ٹوٹ کر شراب ضائع ہوگئی اس وقت بھی باز نہ آیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس سے کہا کہ حضرت زبان حال سے منع فرمارہے ہیں ہشیار ہوجاﺅ۔اس شخص نے کہا کہ زبان قال سے منع کریں گے تو باز آجاﺅ نگا اور ایک مرتبہ جو آیا تو چاشنیوں کے ساتھ شراب پی گیا ۔ پیٹ میں درد اتنا شدید شروع ہوا کہ جان کندنی کی نوبت آگئی اسی حالت میں حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا۔ ایس سید مجھکو آپ نے اتنا رسوا کیوں کیا۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا اے بھائی (اللہ تعالیٰ) کے بے نیاز دربار سے اتنی سرکشی نہ کرنی چاہئیے۔ آپ علیہ السلام نے پسخوردہ کا پانی پلادیا ۔ اچھا ہوگیا۔ اور توبہ خالص کی اور تلقین حاصل کرکے صحبت میں رہ گیا۔
۲۸۹
روزے شوخے یلباس شیخی آمدہ گفت کہ سید را خبر کنید یاراں گفتند صبر کن خود بیرون خواہند آمد۔ ہمدریں میاں بیرون آمدند پس آں گفت دردنیا دیدنی نیست فرمودند کہ وعدہ دیدار بعد از ممات مومن را در بہشت ہست یا نہ گفت آرے فرمودند ان للّٰہ جنة لا فےھا حورو لا قصورولکن تجلہ ربہ ضاحکا۔ ایں حدیث است یا نہ گفت آرے حال او بدیدن روے مبارک تغیر شد ہیچ سخن گفتن نتوانست باز گشست۔
ترجمہ: ایک روز ایک شوخ مزاج مشائخانہ لباس میں آکر کہنے لگا کہ سید کو معلوم کرو (کہ میں آیا ہوں) صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا صبر کرو(کچھ دیر میں) خود باہر تشریف لائیںگے۔ اس اثنا میں مہدی علیہ السلام باہر تشریف لائے ۔ اس نے کہا کہ دنیا میں (خداکا) دیدار ممکن نہیں ہے آپعلیہ السلام نے سوال فرمایا کہ مومن کیلئے مرنے کے بعد بہشت میں دیدا ر کا وعدہ ہے یا نہیں؟ اس نے کہا ہاں۔ پھر آپعلیہ السلام نے سوال کیا کہ ” ان اللہ جنة لا فےھا حورولا فےھا قصورولکن تجلی ربہ ضاحکا(بے شک اللہ کی ایک جنت ہے جس میں حور ہیں نہ محل لیکن رب کی تجلی ہوگی اس حال میں کہ وہ ہنس رہا ہے)یہ حدیث ہے یا نہیں؟ اس نے کہا۔ ہاں (اس نوبت پر) مہدی علیہ السلام کے چہرہ انور کو دیکھتے ہی اس شخص کی حالت متغیر ہونے لگی۔ کچھ کہہ نہ سکا واپس ہوگیا۔
۲۹۰
منقول است کہ در راہِ کعبہ حضرت میراں علیہ السلام بر کشتی سوار بودند وقتِ طوفان‘ شیخ بیرون صبر نہ کرد و گفتگو آغاز کرد۔ ہمدریں میاں حضرت میراں علیہ السلام بیرون آمدند اور انیت بحث بینائی بود حضرت میراں علیہ السلام نا پرسیدہ فرمودند رویت اللہ لھذہ العین واقعة وہردوانگشت برہردو چشم نہادند کسے اوراگفت و رغیب بحث میکردی ۔ اکوں چرانمی پرسی۔ آں شیخ با ہیبت و عظمت گفت‘ علماءگویند دردنیا دیدار جائز نیست ۔ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ موتو اقبل ان تموتوا۔ حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہست یا نہ؟ فرمودندو عدہ دیدار بعد از ممات مومن در بہشت است یا نہ؟ گفت آرے ہست ۔ فرمودند ان اللہ جنة لا فےھا حورولا فےھا قصورولکن تجلی ربہ ضاحکا ایںحدیث مشہور است یا نہ گفت آرے ہست شیخ بدید کہ روے مبارک چناں متغیر شد کہ ہیچ سخن گفتن نہ تو انست باز گشت ۔حضرت میراں علیہ السلام فرمودند بارا برائے دیدن یار آفریدہ اندورنہ بچہ کار آفریدہ اند۔
ترجمہ: روایت ہیکہ کعبہ کے راستے میں حضرت مہدی علیہ السلام جہاز پر سوار تھے جب طوفان ہوا تو ایک شیخ جو بیرونی حصہ میں تھا صبر نہ کرسکا کچھ کہنے لگا۔ اتنے میں حضرت مہدی علیہ السلام بھی بیرونی حصہ میں تشریف لائے۔ اس کا ارادہ بینائی خدا کے بار ے میں بحث کرنے کا تھا۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے بغیر کسی سوال کے از خود فرمایا کہ رویت اللہ لھذا العین واقعة ۔ اور اپنی دونوں انگلیاں دونوں آنکھوں پر رکھ لیں کسی نے اس شیخ سے کہا (مہدی علیہ السلام) کے غیاب میں بحث کیا کرتے تھے اب سوال کیوں نہیں کرتے؟ اس شخص نے حضرت کی عظمت کی وجہ ہیبت کے عالم میں سوال کیا کہ علماءکہتے ہیں کہ دنیا میں دیدار جائز نہیں ہے حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا موتو اقبل ان تموتو (مرنے سے پہلے مرجاﺅ) حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے یا نہیں؟ اور فرمایا کہ بہشت میں دیدار کا وعدہ ہے یا نہیں ؟ کہا جی ہاں۔ فرمایا ان للہ جنة لا فےھا احور ولا قصور ولکن تجلی ربہ ضاحکا۔ ” بے شک اللہ کی ایک جنت ہے جس میں حور ہیں نہ محل لیکن رب کی تجلی ہوگی اس حال میں کہ وہ ہنس رہا ہے۔“ یہ حدیث مشہور ہے یا نہیں۔ اس نے کہا جی ہاں۔ شیخ نے دیکھا کہ حضرت کاروئے انور متغیر ہوگیا ہے۔ کچھ کہہ نہ سکا واپس ہوگیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ” ہم کو دیدرا یار کیلئے ہی مبعوث کیا گیا ہے۔ ورنہ اور کیا کام ہے جس کے لئے بعثت کی ضرورت ہو۔
۲۹۱
نقل است کہ مقامے کود کے جوانے گذاشتہ بد نبال حضرت میراں علیہ السلام رواں شد بدرش در خانہ حاضر بنود ۔ مادرش پدرش رانوشت ۱ کہ چنیں معاملہ شدہ است اگر تو زود نیائی وپسرا نیاری من در خانہ نخواہم ماند۔ پدرش فی الحال آمد سخن ہائے نا شایِستہ آغاز کرد کہ آں سید پسران مرد ماں را جمع می کند و در ولایت دیگر فروختن می خواہد۔ چنیں گفتہ در گروہ آمد۔ حضرت میراں علیہ السلام را در مجلس دعوت یافت دعوت شنید در عظمت مہابت دیوانہ شد ہمدریں میان کسے شر ینی آورد فرمودند سویت کنید سویت کردند حصہِ حضرت میراں علیہ السلام بر زانوے نہادند ہمدریں مجلس باز کسے شرینی آدرد۔ نیز فرمودند کہ سویت کنید باز حصہِ خود بدست گرفتہ فرمودند کہ مومن را ذخیرہ نباید اول حصہ کہ برزانوبودبکس عطا دادند و ایں حصہ برزانو نہادند ۔ چونکہ آں مرادایں معاملہ دید طاقت نیاورد اور ا جذبہ پد ید آمد ہمراہ شد۔ بعد برا سب سوار شدند آں کودک از پدر بگریخت نزدیک میراں علیہ السلام آمد چونکہ پدر نزدیک پسر آمد۔ پسردوم طرف میراں می رود ۔ کرت مرت چنیں شد بعدہ پدرش گفت اے پسر چرامی گریزی سگ نیست کہ براے گرفتن تو آمدہ بودم اکنوں بدیدنِ روے مبارک چناں شدہ ام اما پیغام مادر تو بتور سانم کہ مادر تو گفتہ است کہ یکبار روے تو بہ بنیم تا مرا آرام شود۔ گفت اکونں پیغام من بما درمن برساں کہ در راہ خدا ہجرت کرد۔ و صحبت امام آخر الزماں اختیار کرد۔ تو ہم دریں راہ بیاپس آں مرد بدست کس پیغام پسر گویا یند۔ و خود نرقت ودنبال حضرت میراں علیہ السلام رواں شد۔
ترجمہ: روایت ہے کہ ایک مقام پر ایک جوان لڑکا (اپنا گھر) چھوڑ کر حضرت مہدی علیہ السلام کے ساتھ ساتھ چلا۔ اس کا باھ گھر میں نہ تھا اس کی ماں نے اس کے باپ کو لکھوا بھیجا کہ یہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے اگر تم جلد نہ آو میرا لڑکا مجھے نہ پہنچا دو تو میں گھر میں نہ رہونگی۔ اس لڑکے کا باپ اسی وقت (گھر ) آیا۰ اور ناشایستہ باتیں کہنے لگا۔ کہ وہ سید لوگوں کے بچوں کو جمع کر رہا ہے اور دوسرے ملک میں فروخت کردینا چاہتا ہے (نعوذ باللہ) اس قسم کی بکواس کرتے ہوے جماعت میں آیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام کو دعوت و تبلیغ کی مجلس میں پایا۔ بیان دعوت سننے لگا آپ کی عظمت اور رعب کے اثر سے فریضتہ ہوگیا۔ اس عرصہ میں کسی نے شیرینی پیش کی۔ آپ علیہ السلام نے سویت کا حکم دیا۔ حضرت نے اپنا حصہ اپنے زانوے مبارک پر رکھ لیا ۔ اسی مجلس میں ایک اور شخص نے شیرنی پیش کی اس دفعہ بھی آپ نے سویت کا حکم صادر فرمایا اور اپنا یہ حصہ ہاتھ میں پکڑے ہوے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ ” مومن را ذخیرہ نہ باید“ (مومن کو ذخیرہ نہ کرنا چاہئیے) پہلا حصہ جو کہ زانوے مبارک پر تھا کسی کو عطا فرمادیا اور یہ حصہ زانوے مبارک پر آپ نے رکھ لیا ۔ جب اس شخص نے یہ معاملہ دیکھا برداشت نہ کرسکا اس پر جذبہ طاری ہوگیا اور خود بھی ساتھ ہوگیا۔ جب آپ گھوڑے پر سوار ہوئے تو وہ لڑکا باپ سے بھاگتے ہوئے حضرت مہدی علیہ السلام کے نزدیک آگیا۔ باپ لڑکے کے قریب آنے لگا تو لڑکا حضرت مہدی علیہ السلام کی دوسری جانب ہوگیا۔ بار بار ایسا ہی ہوتا رہا آخر اس کے باپ نے کہا بیٹا (تو مجھ سے) کیوں بھاگ رہا ہے۰ (میں تیرا باپ ہوں) کتا نہیں ہوں جو تجھے پکڑنے آرہا ہو۔ حضرت کے چہرہ مبارک کو دیکھنے کے بعد اب میں جیسا کچھ ہوگیاہوں ظاہر ہے۔ میں صرف تیری ماں کا پیغام تجھے پہنچا دیتا ہوں۔ تیری ماں نے کہا ہے کہ ایک بارتیری صورت دیکھ لینا چاہتی ہوں تا کہ تسکین ہو۔ لڑکے نے جواب دیا کہ اب آپ میرا پیغام میری ماں کو پہنچادیجئے کہ (تمہارا بیٹا) خدا کی راہ میں ہجرت کرچکا ہے اور امام آخر الزماں کی صحبت اختیار کرچکا ہے ۔ تم بھی یہی راستہ اختیار کریں اس شخص نے کسی کے ذریعہ لڑکے کا پیام کہلادیا ۔خود نہ گیا حضرت مہدی علیہ السلام کے ساتھ ساتھ روانہ ہوگیا۔
۲۹۲
منقول است کہ میاں یوسف سہیت در عہد حضرت میراں علیہ السلام در تقوی ٰ و علم مکاشفہ م مقتداے تمام شہر مشہور بودند۔ بعد مشرف شدن بہ پابوسئی میراں جیو علیہ السلام درمیان اندک روز اورا مکاشفہ شد و الہام معلوم شد کہ ایں ذات مہدی آخرالزماں ہست۔ بعدہ بعلم ظاہری الہام خود را مقابلہ کرد ہیچ فرق در ذات نیافت مگر آنکہ در خاطر او ماندہ بود چنانچہ حضرت رسالت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم مہر نبوت بر پشت بود مہدی علیہ السلام را نیز مہر ولایت باید و لیکن طاقت بنود برائے پر سیدن یک روز حضرت میراں علیہ السلام دست میاں مذکور گرفتہ در حجرہ بردند و جامہ را از پشت مبارک خود جدا کردند و فرمودند آنچہ می طلبید بہ بینید۔ چوں میاں یوسف رضی اللہ عنہ مہر ولایت دیدند بوسہ دادند و تصدیق با قرار کردند۔ بعد چند روز یاد آمد کہ یکے مجذوب در جذبہ گفتہ بود کہ امر دز امام آخر الزماں مہدی تولد شد۔ میں یوسف سخن مجذوب شنیدہ تاریخ نبشتہ بودند۔ ورق تفحص کردہ پیش حضرت میراں علیہ السلام ایں مذاکرہ گفت و عمر مبارک پر سید ند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند بندہ نمی داند و میاں ابو بکر رضی اللہ عنہ را پر سید ند چوں از میاں ابو بکر رضی اللہ عنہ تحقیق کردند و تاریخ مقابلہ کردند یک روز تفاوت نہ بود شکر کردو گفت الحمد اللہ علی ھٰذہ الحال۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت میاں یوسف سہیت رضی اللہ عنہ تقویٰ و علم و مکاشفہ کے لحاظ سے تمام شہر میں مشہور تھے حضرت مہدی علیہ السلام کی پابوسی و صحبت سے مشرف ہونے کے بعد چند ہی دنوں میںان پر مکاشفہ ہوا۔ جس میں ان کو معلوم ہو کہ یہی ذات مہدی آخرالزاں ہے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے علم ظاہری سے اپنے اس الہام کا مقابلہ کیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام کی ذات میں کوئی فرق نہ پایا مگر ایک بات جو ان کے دل میں رہ گئی وہ یہ تپی کہ حضرت رسالت پناہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر جس طرح مہر نبوت تھی اسی طرح حضرت مہدی علیہ السلام کیلئے بھی مہر ولایت ہونی چاہئیے۔ لیکن پوچھنے کی مجال نہ تھی ۔ ایک روز حضرت مہدی علیہ السلام میاں مذکور کا ہتھ پکڑ کر حجرہ میں لے گئے اور اپنی پشت مبارک سے کپڑا ہٹاکر آپعلیہ السلام نے فرمایا جو چاہتے ہو دیکھ لو۔ میاں یوسف رضی اللہ عنہ نے مہر مبارک دیکھ کر بوسہ دیا اور تصدیق باقرار کرلی۔ چند دن بعد یاد آیا کہ ایک مجذوب نے جذبہ کی حالت میں کہا تھا کہ” آج امام آخر الزماں مہدی موعود علیہ السلامپید ا ہوئے ہیں“۔ حضرت میاں یوسف رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی اسی وقت تاریخ لکھ کر رکھ لی تھی۔ کاغذ تلاش کیا۔ اور حضرت مہدی علیہ السلام سے اس کا تذکرہ کیا اور عمر مبارک دریافت فرمائی حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا بندہ نہیں جانتا۔ حضرت میاں ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا اور ان سے تحقیق کرکے تاریخ کا مقابلہ کیا تو ایک دن کا بھی فرق نہ پایا۔ شکر ادا کرتے ہوے (حضرت میاں یوسف رضی اللہ عنہ نے کہا۔ الحمد اللہ علی ھٰذہ الحال۔
۲۹۳
روزے حضرت میراں علیہ السلام بیان قرآن میکردند یکے عالم حاضر بود گفت ایں در تفاسیر نیست فرمودند در تفسیر باشد یا نہ باشد در قواعد علم عربی مناسب ہست یا نہ گفت ہست فاما اگر در تفاسیر یافتہ شود اطمینان زیادہ گردو فرمودند کہ در خانہِ شما کدام تفسیر ہا است۔ گفت چندیں تفاسیر برنام آورہ حضرت میراں علیہ السلام یک تفسیر معین کردہ فرمودآں بیارید ۱ بہ بنیم اورفت دوید کہ آں معنی دراں تفاسیر نیست با ایں ہم آوردوآں محل کشیدہ پیش حضرت میراں علیہ السلام نہاد۔ دراں ۲ ورق حاشیہ بود حضرت میراں علیہ السلام براں انگشت نہادہ فرمودند بہ بینی چہ نوشتہ اند دید کہ ہماں معنی کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند دیدہ حیران شدو سر خود بر پائے مبارک نہادو تصدیق کرد۔ و ہمراہ شد ۔ دراں مجلس بسیار کساں تصدیق کردند۔
ترجمہ : ایک روز حضرت مہدی علیہالسلام بیان قرآن فرما رہے تھے ایک عالم صاحب حاضر تھے انھوں نے کہا کہ یہ (تفسیر) کتب تفاسیر میں نہیں ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کتب تفاسیر میں ہو یا نہو قواعد علم عربی کے مناسب ہے یا نہیں اس نے کہا ہاں ہے لیکن اگر تفاسیر میں پائی جائے تو زیادہ اطمینان ہوگا۔ آپعلیہ السلام نے سوال فرمایا کہ تمہارے گھر میں کونسی کتب تفاسیر ہیں؟ انھوں نے چند کتابوں کے نام سنائے حضرت مہدی علیہ السلام نے ایک تفسیر مقرر کرکے فرمایا کہ وہ لا لو میں دیکھونگا انھوں نے جاکر دیکھا کہ وہ معنی اس تفسیر میں نہیں ہیں اس کے باوجود لا کر انھوں نے کتاب کا وہ مقام نکال کر مہدی علیہ السلام کے سامنے کتاب رکھ دی حضرت مہدی علیہ السلام نے اس ورق کے حاشیہ پر انگلی رکھکر فرمیا کہ دیکھو کیا لکھا ہوا ہے انھوں نے دیکھا کہ وہی معنی لکھے ہوئے ہیں جو حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمائے تھے یہ دیکھکر حیران ہوگئے انھوں نے اپنا سر حضرت کے قدموں پر ڈالدیا اور تصدیق کرلی ساتھ ہوگئے اس مجلس میں بہت لوگوں نے تصدیق کا شرف حاصل کیا۔
۲۹۴
نقل است روزے در ولایت دارالحرب حضرت میراں علیہ السلام با دائرہ می رفتند ثور عزیز بماندہ شد حضرت میراں علیہ السلام را خبر کردند کہ ایں دار حرب است چہ باید کرد میراں جیو علیہ السلام توجہ بحق تعالیٰ کردند۔ چوں چشم کشادند فرمودند فرمان میشود ذبح کند۔ اگر غلبہ خواہند کرد کافراں معجزہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم است کہ مقہور شد ند تا اطاعت کنند۔ با ما سرکشی چنیں کردن نتوانند وترا خاتم ولایت محمدیہ گردانید ۔ تراہم ایں کرامت دادہ ام وبا تو ہم کافراں ایں دو کاریکے خواہند کردو لیکن ترابا یدچوں بیایند روے خود بطرف لشکر ایشاں کنی۔ بہ بینی تا چہ پیدا شود۔ بعدہ‘ آں ثور را ذبح و التماس کردند کہ ایں در راہِ خدا گزرانیدیم فرمودند سویت کنید چوںیاراں در سویت مشغول شدند ناگاہ کافرے افتاد شور و غوغا کرد پیش بادشاہ خود رفت وبانگ کرد کہ دریں ملک کار ے کہ گاہے نہ شدہ است در عہد تومی شود۔ بادشاہ کوچک بود مادرش لشکر نامزد کرد وزیر دانا بودو گفت کہ شتابی مکنید اگر لشکر مسلماناں باقوت باشد ناگاہ بے آگاہ آوردن نتوانستند ا غلب از ناداناں ایں کارشدہ است کہ من باندک سواراں بردم اغلب ایں خبر دروغ است تا چنانچہ من گفتم ہمچنا نست آرندہ را خبر پر سیدند۔ ایں مردماں چہ شکل دارند گفت فقیرانند باز پر سیدچہ مقدار اند ہفتا دو ہشتا دکس باشند۔ و زیر گفت آنچہ من میگویم حکایت ہمچنا نست کہ جماعت ناداناں ہستند بارے آں و زیر آمد چہ بیند کہ سویت کنند۔ گفت اے ناداناں چہ کار کردید یاراں جواب دادند بر فرمودہ سر لشکر ما ایں کار کردیم گفت سر لشکر شما می نمائید ۔ بعدہ‘ حضرت میراں علیہ السلام را خبر کردند میرانجی علیہ السلا م سوار شدہ آمدند چوں وزیر روے مبارک حضرت میراں علیہ السلام دید ہر یک فی الحال از اسپ فردو آمدند و سر بر پائے مبارک نہادند و گفتند کہ ملک شما است و مانو کر شما ہستیم حضرت میراں علیہ السلام مرایشاں را سوے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم دعوت کردند۔ چوں از دعوت فارغ شدند کافراں گفتند مشکل ما امروز حل شد فرمودند چہ مشکل؟ گفت شنیدہ بودم پیش ازیں آغاز اسلام پیش یک مسلمان دو کافراں می گریختند چونکہ مسلمان ضعیف شدند پیش مسلمان یک کافر گریختہ و ایں زماں خود یکساں شدہ اند مسلماناں و کافراں ۔ اکنوں معلوم شد آں مسلمانان پیشن ہمچوں بودہ باشند ۔ حضرت میراں علیہالسلام تبسم کردند و فرمودند ہمچناں است۔ بعدہ آں وزیر سر بر پائے مبارک نہادہ التماس کرد کہ چند روز روانہ مشوید۔ فرمودند حق تعالیٰ ایں ملک را دادہ است۔ بغیر فرمان حق تعالیٰ ازیں ملک بیروں نخواہم شد۔ وزیر گفت مانوکر شما ہستیم ہر چہ رضا باشد بکنید ۔ وزیر باز گشت پیش مادر بادشاہ گفت ایں چہ بلاکردہ بودی ملک ِ خود بدست ِ خود تلف کردہ بودی ۔ آناں مردانِ خدا پرستا نند گا ہے ایں چنیں مردماں ندیدہ ام آنچہ حکایت پشیناں شنیدہ بودیم کہ اندک مومناں ولایتِ کافراں گرفتند و تاراج کردند دراں جاے اسلام کردند و بتخانہ شکستند و بعضے کافراں اطاعتِ مسلماناںکردند۔ وآنا نکہ مسلمان نہ شدند جزیہِ اسلامی قبول کردند۔ ایشاں آنا نند کہ با ایشاں قتال ممکن نیست۔ باید کہدل ایشاں معمور کنند و خوشنود گردانند ۔ و بعدہ‘ مادر آں بادشاہ بسیر خدمتی فرستادبلکہ چند گوسفنداں ہم فرستاد۔ بعد ازاں چند روز فرمان حق تعالیٰ شد ازیں ولایت بیشتر استعداد دانہ شدن کردند۔ وزیر باز التماس کرد اے خداوند دریں راہ رہزنانند ۔ ماہم مستعد شویم و ہمراہ بیائم تا آنکہ ازاں مقام بیشتر شوند تا دز واں مزاحمت نہ دہند۔ فرمودند آں خدا کہ ایں جا قوت غلبہ دادہ است ہمیشہ ہمراہ من است۔ ہمہ جائے امان و غلبہ دہندہ ہمونست حاجت شمانیست ایں فرمودند در روانہ شدند۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام ایک روز اپنی جماعت کیساتھ ایک مملکت میں داخل ہوئے جو دار الحرب کے حکم میں تھی۔ ایک اہل دائرہ کا بیل بیمار ہوگیا۔ حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یہ دارا لحراب ہے کیا کرنا چا ہئیے حضرت مہدی علیہ السلام نے خدائتعالیٰ کی طرف توجہ کی۔ (کچھ دیر بعد ) چشم مبارک کھولکر فرمایا ۔اسکو ذبح کرنے کا حکم ہورہاہے ۔اگر کفار حملہ بھی کریں توحضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہیکہ وہ اتنا مقہور ہوں گے کہ اطاعت کریں گے ہم سے سر کشی نہ کرسکیں گے۔ ہم نے تم کو ولایت محمدیہ کا خاتم بنایا ہے۔ تم کو بھی وہی معجزہ دیا ہے کفار تمہارے ساتھ بھی ان دو کاموں میں سے ایک کام کریں گے ۔ لیکن تمہیں چاہئیے کہ جب وہ آئیں تو اپنا منھ ان کے لشکر کی طرف رکھیں پھر دیکھنا کیا ہوتا ہے۔ اس کے بعد اہل دائرہ نے اس بیل کو ذبح کردیا اور حضرت سے عرض کردیا کہ یہ ہم نے فی سبیل اللہ پیش کردیا ہے ۔ حضرت نے سویت کا حکم صادر فرمایا۔ جب صحابہ علیہ السلام سویت میں مشغول ہوئے ۔ اتفاقاً ایک کافر ادھر سے گزرا شور مجایا۔ اپنے بادشاہ کے پاس پہنچکر فریاد کی کہ اس مملکت میں جو کام کبھی نہوا تھا اب آپکے زمانہ میں ہوا ہے ۔ بادشاہ کمسن تھا اس کی ماں نے فوج کو حکم دیدیا ۔ وزیر عقلمند تھا عرض کیا جلدی نہ کیجئے ۔ اگر مسلمانوں کیساتھ طاقت ور لشکر بھی ہوتا تو اس طرح بے اطلاع نہ لاسکتے ۔ غالباً نا واقف لوگوں سے یہ کام سرزد ہوا ہے۔ میں چند سواروں کیساتھ جاکر تحقیق کرونگا۔ غالباً یہ خبر جھوٹی ہے ۔ پھر مخبرسے پوچھنے لگا کہ ان لوگوں کی علامات کیا ہیں؟ اس نے کہا فقیراں ہیں۔ پوچھا کتنے ہیں ؟ کہا ستر(۰۷) یا اسی (۰۸) نفوس ہوںگے۔ وزیر نے کہا میں جو خیال کر رہا ہو یہ خبر ویسی ہی ہے کہ یہ نا واقف لوگوں کی جماعت ہے۔ وزیر اس مقام پر پہنچا دیکھا سویت ہورہی ہے کہا ۔ اے ناواقف لوگو۔ تم نے یہ کیا کام کیا ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا ہم نے ہمارے سردار کے حکم سے کیا ہے ۔ کہا تمہارے سردار سے ملاﺅ ۔حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں اطلاع دیگئی ۔ حضرت سواری پر تشریف لائے حضرت مہدی علیہ السلام کا چہرہ انور دیکھتے ہی گھوڑوں سے سب اتر پڑے۔ اور قدموں پر سر رکھدئیے ۔ اور کہنے لگے ملک آپکا ہے۔ہم آپ کے غلام ہیں حضرت مہدی علیہ السلام نے ان پر دین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ السلام کی تبلیغ فرمائی جب بیان تبلیغ سے آپ فارغ ہوے تو کافروں نے کہا آج ہماری مشکل حل ہوئی ۔ فرمایا کونسی مشکل؟ عرض کیا ہم نے سنا تھا کہ آج سے پہلے آغاز اسلام کے زمانہ میں ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو کافر بھاگتے نظر آئے ہیں ۔ اور اس زمانہ میں اتنے کمزور ہوگئے ہیں کہ مسلمان و کافر ایک نظر آرہے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ وہ اگلے مسلما ن ایسے ہی تھے (جیسے کہ آپ لوگ نظر آرہے ہیں) حضرت مہدی علیہ السلام نے مسکراکر فرمایا ہاں صحیح ہے۔ اس کے بعد وزیر نے پیر پر سر رکھکر عرض کیا کہ چند روز یہیں تشریف رکھئے ۔ فرمایا ۔ حق تعالیٰ نے یہ ملک ہمیں دیدیا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر ہم یہاں سے نہ جائیں گے۔ وزیر نے عرض کیا ہم تو آپ کے غلام ہیں۔ آپ جو چاہیں کیجئے۔ وزیر واپس ہوا۔ بادشاہ کی والدہ سے کہا آپ تو بلا نازل کرلی تھی ۔ اپنے ہاتھوں اپنا ملک تباہ کرچکی تھیں ۔ وہ لوگ خدا پرست ہیں۔ ایسے لوگ تو کبھی دیکھنے میں نہیں آے جیسا کہ اگلے لوگوں کے قصے ہم سنتے آئے ہیں کہ تھوڑے مومنین کافروں کے ملک پر غلبہ پا جاتے تھے۔ وہاں اسلام قائم کرتے اور بتخانے توڑدیتے تھے۔ اور کفار اطاعت قبول کرتے تھے جو مسلمان نہوتے ان سے جزیہ وصول کرتے تھے۔ یہ لوگ بھی کچھ ایسے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ ان سے جنگ ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں کی دلداری کرنی چاہئیے اور ان کو خوش کرنا چاہئیے اس کے بعد بادشاہ کی والدہ نے بہت سارے خدمت گار روانہ کئے بلکہ چند بکرے بھی بھجوائے ۔ چند روز بعد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوا تو اس مملکت سے روانہ ہونے کی تیاری شروع کردی گئی وزیر حاضر ہوکر عرض کرنے لگا کہ اے خداوند ” اس راستہ میں ڈاکو ہیں ہم بھی تیار ہوکر ساتھ چلتے ہیں تاکہ آپ اس خطرناک مقام سے گزر جائیں اور ڈاکو مزاحمت کرنے نہ پائیں ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا جس خدا نے یہاں غلبہ عطا فرمایا ہے ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے اور ہر جگہ امن و غلبہ عطا فرمانے والا وہی ہے ۔ تمہاری ضرورت نہیں۔ یہ فرمایا اور روانہ ہوگئے۔
روایت(۴۹۱) مندرجہ بالا کے بجائے نسخہ (غ۔ب)و (ا۔چ) میں روایت ذیل مذکور ہے بلحاظ مضمون ہم اس کو بطور حاشیہ در ج کر رہے ہیں۔
نقلست چوں بسندھ رسید ند ستور را مذبوح کردہ گرفتند پیشِ بادشاہ فریاد آمد کہ طائفہ گاو راذبح کردہ گوشتِ او گرفتہ درون قلعہ آمدہ بجاے فرود آمدند۔ دلشاد وزیرے بود گفت رضا بدہ تا رفتہ بند کردہ بیارم ۔ بعد ہ‘ بادشاہ گفت یک بار یک آدمی باید فرستادتا بگوید کہ ازیں ولایت پیشتر شوید ۔ مردم معتبر ایں پیغام رسانید ۔ فرمودند کہ مرا از حق تعالیٰ فرمان شدہ است کہ ایںملک ترادادیم بغیر فرمان ازیں ملک بیروں نہ شوم اگر بر تو غلبہ کنند چوں روے تو بہ بینند بگریزند۔ ایں معجزہ جدتست ۔ترا ایں کرامت دادیم ۔ اگر خاطر خوارشدن باشد زود بیائید ۔ چوں ایں حکایت آئیندہ پیش بادشاہ رسانید پس دلشاد قرار داد کہ بقالاں را عہد کنا نید کہ دوکانہا بستہ دارند۔ وایشاں را چیزے غلہ ند ہند۔ تابگر سنگی بمیرند۔ یا بردند دوسہ روز چنیں گزشت۔ یاراں بمیراں علیہ السلام خبر رسانید ند۔ فرمودند کہ فرمان می شود ملک شمارا دادہ ام چیزے بستانید ۔ یاراں دویدندو کانہا بزور کشادند۔ وہرچہ خواستند ستدند۔ خبربہ دلشادرسید ببادشاہ رسانید ہ مشورت کرد۔ بطریق اخلاص ایشاں را در کشتی کردہ درآب غرق کنیم ۔ گویانید نہ پس لب آب جائے خوب است آمدہ بہ بیند فرمودند فرمان می شود جہاز بیارید جہاز آدر دند دور کشتی نشستند چوں درمیان آب رسید خواستند کہ غرق کنند۔ ناگاہ در آب جوش شد فرمان رسید کر یختم فرمودند کہ فرمان می شود کہ ہمدریں مقام نزول کن وبا یارانِ خود بگوکہ بعد از نماز عشاءہمہ بخپند ہر کہ شک آرد او مردوداست ۔ درآں مقام نزول کردند وہمہ یاراں بعد عشا خفتند و آں مرد ہیبت زدہ ہمراں بود کہ ہیچ یکے نمرد وہمہ یاراں برائے نماز فجر یکجا شدند در تحیر شد پیش حضرت میراں علیہ السلام تصدیق کردودنبال حضرت میراں علیہ السلام نگذاشت و تارک دنیا شد (غ۔ب) (ا۔چ)
چوں بسندہ رسید ند بشہر پار میر ستور را مذبوح کردہ گرفتند (ا۔چ)
۲۹۵
نقل است کہ سگے ہمراہ بود ہر جا کہ حضرت مہدی علیہ السلام منزل کردے او نیز آنجا بودے چوں رواں شدے اونیز شدے وپنج وقت بانگ نماز گفتے ۱ بلکہ بعضے وقت بر بانگ نماز موذن او بانگ گفتے وہر روز آں سگ تا ربع روز برزانو نشستہ مشغول بودے یک ۲ محل برائے آزمودن طعام پیش او نہادے میل ہم نہ کردے دور ذکر بودے اور راسویت بود یاراں پرسید ند کہ روز قیامت حال سگ چوں خواہد شد۔ فرمودند ایں یارسگ اصحاب کہف خواہدبود و۳ فرمان می شود کہ اور ار در گروہِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و ایں را در گروہ مہدی شمردہ خواہد شد۔
ترجمہ: روایت ہیکہ (مہدی علیہ السلام کے دائرہ میں ) ایک کتا تھا ۔ سفر میں ساتھ رہتا آپعلیہ السلام جہاں مقام کرتے وہ بھی ٹہر جاتا آپ علیہ السلام جب روانہ ہوتے وہ بھی ساتھ ہوجاتا تھا اور پانچوں نمازوں کے وقت (اپنی زبان حال میں) بانگ دیتا تھا۔ بلکہ بعض وقت موذن کے ساتھ ساتھ اذاں دیتا تھا اور ہر روز سوا پہر تک دوزانو بیٹھکر ذکر میں مشغول رہتا تھا۔ ایک وقت آزمایش کے طور پر (اس کے شغل ذکر کے وقت) اس کے سامنے کھانا رکھا گیا اس نے رغبت بھی نہ کی اور ذکر میں مشغول رہا۔ اس کے لئے سویت بھی مقرر تھی ۔ صحابہ نے سوال کیا کہ قیامت کے دن اس کتے کا کیا حال رہیگا۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا یہ اصحاب کہف کے کتے کے ساتھ رہیگا۔ اور فرمان ہوتا ہے کہ اسکو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں اور اس کو مہدی علیہ السلام کی جماعت میں شمار کیا جائیگا۔
۲۹۶
نقل است کہ کسے مبتلاے افیون بودے چوں پسخوردہِ حضرت میراں علیہ السلام خوردے حاجت افیون دیگر باز نیفتے۔
ترجمہ: روایت ہیکہ ایک شخص افیون کا عادی تھا جب حضرت مہدی علیہ السلام کا پسخوردہ پیتا اس کو کبھی افیون کی
ضرورت پیش نہ آتی۔
۲۹۷
روزے یک شخص پیش حضرت میراں علیہ السلام عرض کرد مادر فلاں کو دک آہ میگوید دست زون بر سینہ در خانہ ایں مہدی باد کہ پسر مارا کشیدہ تبسم کردہ فرمودند کہ مہدایاں تا قام قیامت باشند بہ بنیم تا بر کدام کس آہ و دست زدنی بر سینہ می افتد۔
ترجمہ: ایک دن ایک شخص نے حضرت میراں علیہ السلام کے سامنے عرض کیا کہ فلاں کی ماں آہ و بکاہ کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس مہدی علیہ السلام کے گھر میں (ہمارے مثل) ماتم (سینہ پیٹنا) ہو کہ اس نے ہمارے بچہ کو کھینچ لیا ہے۔ آنمہدی علیہ السلام نے مسکرا کر فرمایا کہ مہدیاں قیام قیامت تک رہیں گے ہم دیکھیں گے کس کے حصہ میں آہ و اویلہ اور سینہ کو بی آتی ہے۔
۲۹۸
نقل است ۱ حضرت میراں علیہ السلام ایں آیت تا آخر بیان کردند فالذین ھاجرو او اُخرجو ا من دیارھم واوذو
فی سبیلی وقاتلو او قتلوا (جزئ۴ رکوع ۱۱) ایں آیت اصالتاً در بیان شرف صحاب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم و تابعان وے است ودر گروہ مہدی علیہ السلام شرف براے آدانکہ بدیں صفت مصوف باشند ۔ بعد بیان ایں آیت میاں سید خوند میر رضی اللہ عنہ آمدند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند بے چارہ بریں سید چہا چہاخواہد شد۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اس آیت کے آخری حصہ تک بیان فرمایا۔ ” جن لوگوں نے ہجرت کی اور جن کو گھروں سے نکالا گیا اور جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ستائے گئے اور جنھوں نے (فی سبیل اللہ) جنگ میں حصہ لیا اور جو شہید ہوے) (جزئ۴ رکوع ۱۱) یہ آیت بطور اصالت ‘ اصحاب و تابعین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف کے بیان میں ہے اور مہدی علیہ السلام کی جماعت میں لوگ ان اوصاف سے متصف ہوں گے ان کو بھی اس آیت کا شرف حاصل ہے۔ اس آئیہ شریفہ پر بیان ہوچکنے کے بعد حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ آگئے تو حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا‘ اس بے چارے سید پر تو چہا چہا ہوگا۔
روایت (۸۹۲) کے بجاے نسخہ (غ۔ب)(ا۔ج) میں روایت ذیل مذکور ہے چونکہ اس روایت کا مضمون خلط ملط پا یا جارہا ہے اس لئے ہم نے اس کو بطور حاشیہ درج کردیا ہے۔
۲۹۹
نقلست حضرت میراں علیہ السلام وقتِ رحلت ایں دو آیت خواندند قل ھٰذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرة انا ومن اتبعنی (جزئ۳۱ رکوع۶) و دیگر الیوم اکملت لکم
دینکم الآیہ یکے مہاجر بآواز بلند گر یہ کرد فرمودند ۱ بر گریہ کنند گاں آنچہ خبردادنی بود از حق تعالیٰ خبر دوام ۔ اکنوں کردن و ناکردن شما دانید۔
ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے رحلت کے وقت اس آیہِ شریفہ پر بیان فرمایا کہ قل ھٰذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرة انا ومن اتبعنی (اے محمد کہو یہ میرا راستہ ہے اللہ کی طرف بصیرة پر بلاتا ہوں اور وہ (مہدی علیہ السلام) بھی بلائیگا جو میرا تابع ہے ۔(جز۳۱ رکوع ۶) اور دوسری آیت الیوم اکملت لکم دینکم الآیہ پر بھی بیان فرمایا۔
ایک مہاجر رضی اللہ عنہ بلند آواز سے رونے لگے آپعلیہ السلام نے فرمایا رونے والوں کو جو کچھ معلوم کرنا تھا منجانب اللہ میںنے معلوم کردیا ہے۔ اب اس پر عمل کرنا یا نہ کرنا ۔ وہ تم جانیں۔
۳۰۰
منقول است۲ کہ بعد از رحلت ہر یکے اتفاق کردند ازیں جابروید کہ دریں ولایت قہر شدنی است بداں سبب ہریکے باز گشتند چنانچہ حضرت میراں علیہ السلام در خواب فرمودہ بودند ہمچنا شد عیاں۔
ترجمہ: روایت ہے کہ (حضرت مہدی علیہ السلام کی) رحلت کے بعد تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس امر پر اتفاق کیا کہ یہاں سے روانہ ہوجانا چاہئیے ۔ کیونکہ شہر میں قہر نازل ہونے والا ہے۔ اس لئے سب وہاں سے واپس ہوگئے ۔حضرت مہدی علیہ السلام نے خواب میں جس (قہر ) کی خبر دی تھی وہی ہوا۔
۳۰۱
منقول است کہ حضرت میراں علیہ السلام بہ شب قدر بعد اداے نماز عشاءبا سنت موکدہ یک دوگانہ گزاردند و خود امام شدند و تمام یاراں مقتدی بعد از سلام حضرت میراں علیہ السلام ایں دعا خواندند۔ اللّٰھم احینی مسکیناً وامتنی مسکینا و احشرنی یوم القیامة فی زمرة المسکینا واحشرنی یوم القیامة فی زمرة المساکین بفضلک وبکرمک و برحمتک یا ارحم الراحمین۔ بعدہ میاں سید سلام اللہ علیہ السلام التماس کردند کہ میرانجیو مایاں را فراموش کردند ایشاں ازیں دعا بے نصیب شدند بعدہ بدیں طریق خواند ند۔ اللّٰھم احیینا مسکیناً وامتنا مسکیناً واحشرنا یوم القیامة فی زمرة المساکین وایں دعا نیز خواندند۔ اللّٰھم صغرالدنیا باعیننا وعظم جلا لک فی قلوبنا اللّٰھم وفقنا لمرضاتک و ثبتنا علی دینک و طاعتک بفضلک وکرمک و برحمتک یا ارحم الراحمین
۔ اللّٰھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنا بہ برحمتک یا ارحم الراحمین۔ وایں دوگانہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ خود امامت کردہ ہمیشہ گزاردہ اند جہت متابعت حضرت مہدی صلی اللہ علیہ وسلم و جملہ مہاجرانعلیہ السلام کہ بودند بدنبال میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ گزاردند۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے شب قدر میں سنت موکدہ کے ساتھ نماز عشاءادا کرنے کے بعد ایک دوگانہ خود اپنی امامت میں ادا فرمایا ۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اقتداءکی سلام کے بعد حضرت مہدی علیہ السلام نے یہ دعا پڑھی ” اللّٰھم احینی مسکیناً وامتنی مسکینا و احشرنی یوم القیامة فی زمرة المسکینا واحشرنی یوم القیامة فی زمرة المساکین بفضلک وبکرمک و برحمتک یا ارحم الراحمین (اے اللہ تو مجھے مسکین جلا مسکین حالت میں موت دے اور قیامت کے دن میرا حشر مسکینوں کے زمرہ میں فرما اپنے فضل و کرم سے اے بہترین رحم فرمانے والے“ اس وقت میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرانجیعلیہ السلام آپ نے ہم کو فراموش فرمادیا ہم لوگ اس دعا سے بے نصیب رہ گئے پھر حضرت نے اس طریقہ پر یہ دعا پڑھی ا للّٰھم احیینا مسکیناً وامتنا مسکیناً واحشرنا یوم القیامة فی زمرة المساکین وایں دعا نیز خواندند۔ اللّٰھم صغرالدنیا باعیننا وعظم جلا لک فی قلوبنا اللّٰھم وفقنا لمرضاتک و ثبتنا علی دینک و طاعتک بفضلک وکرمک و برحمتک یا ارحم الراحمین (اے اللہ تو ہمیں مسکین جلا اور مسکین حالت میں موت دے اور قیامت کے دن ہمارا حشر مسکینوں میں فرما۔ اور آپ نے یہ دعا پڑھی۔ اللّٰھم صغرالدنیا باعیننا وعظم جلا لک فی قلوبنا اللّٰھم وفقنا لمرضاتک و ثبتنا علی دینک و طاعتک بفضلک وکرمک و برحمتک یا ارحم الراحمین۔ اللّٰھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنا ب برحمتک یا ارحم الراحمین (اے اللہ ہماری نظروں میں دنیا کو حقیر بنادے اور اپنے جلال کو ہمارے قلوب میں بڑھادے اے اللہ تو اپنی مرضی پر چلنے کی ہمیں توفیق عطا فرما ۔ اور اپنے دین اور اپنی اطاعت پر ہمیں ثابت قدم رکھ اے اللہ تو ہمیں حق کو حق کی حالت میں دکھا اور اس کی
اتباع روزی کر اور ہمیں باطل کو بطلان کی حالت میں دکھا اس سے ہم کو بچالے اپنی رحمت سے اے بہترین رحم فرمانے والے“ اور یہ دوگانہ حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت مہدی علیہ السلام کی اتباع کے طور پر خود امام بنا کر ہمیشہ ادا فرمایا ہے اور تمام مہاجرین رضی اللہ عنہم بھی شریک رہتے آپکی اقتدا میں ادا کرتے تھے۔
۳۰۲
نقل است حضرت مہدی علیہ السلام در حق بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ بن خداوند۔ ہفت ۱ بشارتہا فرمودند یکے دیدن و چشدن دوم دریا نوش سوم مست ہشیار چہارم کشک ملامت پنجم بل ھو کل فیہ ششم گواہی چشم سر برویت حق تعالیٰ ہفتم رجا لا تلھےھم تجارة ولا بیع عن ذکر اللہ الآیت
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے حضرت بندگیمیاں نظام بن خداوند رضی اللہ عنہ کے حق میں سات بشارتیں فرمائی ہیں ۔ ایک ” دیدن و چشیدن “ دوسری ” دریا نوش “ تیسری ” مست ہشیار “ چوتھی ” کشک ملامت “ پانچوں ” بل ھو کل فیہ “ چھٹی ” گواہی رویت حق تعالیٰ بچشم سر “ ساتویں ” رجا لا تلھےھم تجارة ولا بیع عن ذکر اللہ الآیت “