Mahdi ahs
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa



    متفرقات

    ۱۷۴ 

    و نیز ۱ معلوم باد ۔ بعد از اخراج (موضع کھانبیل درمیان اندک روز خبر رسید کہ لشکر منکراں مسجد و حجرہا سوختند بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند ایشاں ہدایت کردند معید گاہ و مسکن مومنا ناحق سوختند و فتویٰ بر قتل مومناں بمجرد تصدیق بر سخن دلی کامل کہ بر کمالیت او منکراں مُقرانداوصاف و اختلاف و افعال و آثار کہ موجب تصدیق دعوت نبوت اند دراں ولی می یا بندد ہیچ فعلے و قولے وخلقے در عادت و عبادت مخالف اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمی یا بند۔ براں ایں قرار بمجرد تصدیق دعوت آں ولی مالف اجماع سنت و جماعت نیست حکم ضلالت و بدعت میکنند و برقتل مصدقاں و اخراج ایشاں فتویٰ مید ہند سبب اجماع سنت و جماعت کہ احادیث مخالفت بعضے احادیث احادکہ بموجب ن اند حکم میکنند بہبودن اجماعسنت و جمعت کہ احادیث احاد موجب عمل اند و موجب اعتقاد نیستند نبشتہ اند اگرچہ صحیح الاسناد باشند ۔ و مجتہداں برآں عمل فرمودہ باشند و دعوی آں ولی آنست کہ من از غیب می شنوم کہ ترا برگزیدہ بودیم و تو مہدی موعود آخرالزماں ہستی کہ بایں آیت معہود ایں ذات خاتم النبیین وعدہ کردہ بودند کہ در اولاد تو فرزندے شائتہ براے بیان کتابے بر تو نازل شدہ است در آخرزماں پید خواہیم کر دبرائے روشن کردن اخلاق و افعال و اقوال توآں فرزند سید محمد بن سید خاں تو ہستی و تصدیق و اطاعت برہمہہ مسلمانان واجب کردم۔
    بعد ایں دعوت سالہا سال ایں ولی را خدائتعالیٰ حیات بخشید و بریں دعویٰ بر اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قولاً و فعلاً و خلقاً استقامت روزی گردانیدو شب و روز گروہ او درجال حیات و بعد ممات زیادت شد و بر عقیدہ سنت و جماعت توفیق یافت و عمل موافق کتب مقرر روزی شدیلکہ موافقت بالنبی علیہ السلام گروہ او در اعمال و اقوال و اخلاق کردند۔ایں چنیں قوم را معلما ن زمانہ تکرار می گویند و بر اخراج و قتل فتویٰ مید ہند و افتراہائے عوام مرد ماں محضر کردند معتبر محضرایں قراردادہ اند و ایں قوم شب و روز ند امیکند کہ برحلاف شرع محمدی ثابت کنید در عقیدہ ما عمل ما از (دین ثابت شویم۔ بعدہ میگویند شما جاہل ہستند با شما محضر چہ حاجت بلکہ پائے زاغ آہنی مستعد کنا نید ندو بعضے مصدقان کہ ترک دنیا نہ کردہ و دریں جماعت یکجا ماندہ اند و توفیق نیافتہ اند و در شہرمی مانند و کسب می کنند ایشاں را ایذامی کنند و مییگر ند و حبس میکنند۔ وحکم میکنند ہر کرا ازیں عقیدہ باز نیاید و سید محمد را مہدی علیہ السلام بگوید بر پیشانی او بدیں پائے زاغ گرم کردہ داغ باید دادتا شنا ختہ شود بطالی است و بعضے ازیں قوم را بجال کشتہ اند بہ سبب ہمیں عقیدہ نہ چیزے دیگر۔
    بعدہ بر کزیدایں قوم خلافِ اوہمہ یارانِ حضرت امام آخرالزماں اتفاق کردہ اند یعنی میاں سید خوندمیر علیہ السلام فرمودند انچہ ہمعلمان برایں قوم حکم کردہ اند ہمہ برا یشاں باشد بہ حکم کتاب اللہ تعالیٰ و کتب اولیاءفرمودند ہر کہ ازیں فتوی دہندگاں را بکشد بزہ کار نشود زیر اچہ بدایت ازایشانست۔ و فرمودند کہ علامات تعدی و حسد ظالمی ایشا نست خدائتعالی بتدریج توفیق صلاح یعنی اتباع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم از ایشاںبستادندہ منصب و جاں ایشاں کہ سبب دین است آں نیز بستاند ذُموٰکاں کہ برفتوی ایشاں اعتقادی می کنند باخواری و فضیحتی بمیرند بلکہ کشتہ شوند و در نسل ایشاں نیز خواری در دین و دنیاآشکار گرد و ایں قوم را بیوہ ند اند استقامت بر اتباع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم روزی گرد دو ہمیشہ مزید گردو بحرمت النبی و آلہ

    ترجمہ: واضح ہو کہ موضع کھانبیل سے اخراج کے بعد چند ہی دنوں میں خبر ملی کہ منکروں کے لشکر نے مسجد اور فقراءکے حجرے جلا دئیے ہیں ۔ بندگیمیاں سید خوندمیرعلیہ السلام نے فرمایا کہ ان لوگوں نے ظلم کیا ہے مومنین کی عبادت گاہیں اور قیامگاہیں نا حق جلادی ہیں اور مومنین کے قتل کا فتویٰ محض اس لئے دیا گیا ہے کہ ان مومنین نے ایک ایسے ولی کامل کے فرمان کی تصدیق کی ہے جس کے فضل و کمال کے خود منکرین قائل ہیں اور دعوی نبوت کی تصدیق کے لئے جن اوصاف و افعال و آثار کی ضرورت ہے وہ اس ولی کامل میں موجود پاتے ہیں۔اور کوئی قول و فعل اور کوئی عادت و عبادت حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے خلاف نہیں پاتے ہیں۔ اس کے باوجود اس ولی کامل کی دعوت کی صرف تصدیق بھی اجماع اہل السنت و الجماعت کے خلاف نہیں ہے۔ مگر یہ لوگ ضلالت وبدعت کا حکم عاید کررہے ہیں اور مہدویوں کے قتل و اخراج کا فتویٰ دے رہے ہیں بعض حدیثیں جو خبر واحد کا حکم رکھتی ہیں ۔ان میں علامات کا جو اختلاف پایا جاتا ہے اس پر سے قیاس کرکے حکم لگارہے ہیں ۔ (حالانکہ ) اہل سنت و جماعت کی اجماع ہے کہ اخبار واحدہ موجب عمل ہیں موجب اعتقاد نہیں ہیں۔ اگرچہ کہ وہ اخبار صحیح الاسناد ہوں ۔ اور مجتہدین نے (اسی اصول پر) عمل کیا ہے ۔ اس ولی کامل کا دعویٰ یہ ہے کہ میں غیب سے سن رہا ہوں کہ ہم نے تم کو برگزیدہ کیا ہے۔ اور تم مہدی موعود آخرالزماں ہیں۔ خاتم النبین سے اس آیت معہودہ کا وعدہ کیا گیا تھا کہ تمہاری اولاد میں ایک فرزند ایسا ہوگا جو کہ اس قرآن کا جو تم پر نازل ہوا ہے بیان کرنے کے لائق ہوگا۔ اخلاق و افعال و اقوال کو روشن کرنے کے لئے ہم آخر زمانہ میں پیدا کریں گے ۔وہ فرزند تم سید محمد بن سید خاں ہو۔ اور تمہاری تصدیق و اطاعت ہم نے تمام مسلمانوں پر واجب قراردی ہے۔
    اس دعوے کے بعد اُ س ولی کامل کو اللہ تعالیٰ نے سالہا سال زندگی بخشی اور اپنے اس دعوے پر اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع پر قولاً فعلاً خلقاً استقامت عطا فرمائی اور دن رات ان کی زندگی میں انکی جماعت میں ترقی ہوتی رہی اور ان کے بعد بھی ہورہی ہے۔ اور سنت و جماعت کے عقیدہ پر قائم رہنے کی توفیق اس جماعت کو حاصل ہے ۔ بلکہ اس جماعت کے اعمال و اقوال و اخلاق حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کے بالکل مطابق ہیں۔ ایسی قوم کو علمائے زمانہ بد کردار کہتے اور اس کے اخراج و قتل پر فتویٰ دیتے ہیں۔ اور عوام کے بہتانوں پر لوگوں نے محضر کئے۔ اور معتبر محضر اسکو قرار دیا ہے اور یہ قوم دن رات ندا کر رہی ہے کہ شرع محمدیعلیہ السلام کے خلاف کوئی بات کوئی عقیدہ ہمارے عمل اور ہمارے مذہب میں ہو تو ثابت کرو۔ (لیکن) یہ کہتے ہیں کہ تم جاہل ہو تمہارے لئے مجلس (مصالحت) کی ضرورت نہیں۔ بلکہ کوّے کے (پنجوں کی طرح) آ ہنی پنجے تیار کر رکھیہیں۔ اور بعض مہدویوں کو جنھوں نے ترک دنیا نہیں کی ہے اور ہمارے دائرہ میں نہیں رہتے شہر میں رہتے ہیں اور کسب کرلیا کرتے ہیں۔ ان کو ستاتے ہیں گرفتار کرتے ہیں۔ قید کرتے ہیں ۔ اور حکم دیتے ہیں جو کوئی اس عقیدہ سے (یعنے سید محمد کو مہدی کہنے سے) باز نہ آئے اور سید محمد کو مہدی کہے تو اس کی پیشانی پر پنجہ آہنی گرم کر کے داغ دینا چاہئیے تاکہ یہ پہچانے جائیں کہ گمراہ ہیں۔ اور اس قوم کے بعض لوگوں کو انھوں نے محض اس عقیدہ پر قائم رہنے کی وجہ جان سے مار ڈالا ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے۔
    اس کے بعد حضرت امام آخر الزماں کے تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور آپکی قوم کے بر گزیدہ لوگوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے یعنے میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ اس قوم کے متعلق علما جو کچھ احکام عاید کر رہے ہیں وہ تمام احکام ‘ بحکم کتاب اللہ و کتب اولیا خود اُن علماءپر عاید ہوتے ہیں۔ جو (مہدوی) ان فتوی دینے والوں کو قتل کرے گا گناہ گار نہوگا۔ کیوں کہ ظلم کی ابتدا ان علما سے ہوئی ہے۔
    اور فرمایا کہ ان کے ظلم و حسد و زیادتی کی علامت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اتباع دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی توفیق ان سے بتدریج سلب فرمارہا ہے۔ اور بلحاظ دین ان کا جاہ و منصب جو موجود ہے گھٹتا جارہا ہے اور جو سلاطین ان کے فتووں پر بھروسہ رکھتے ہیں ذلت اور فضیحت کی حالت میں مریں گے۔ بلکہ (بری طرح) مارے جائیں گے۔ ان کی اولاد میں بھی بلحاظ دین و بلحاظ دنیا ذلت و خواری آشکار رہے گی۔ اور اس قوم کو بے وسیلہ سمجھنا چاہئیے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی توفیق عطا ہوگی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل کی حرمت سے (یہ توفیق ) ہمیشہ زیادہ ہوتی رہیگی۔


    ۱۷۵ 

    معلوم باد چونکہ لشکر منکر ان حق باستعداد تمام آمدہ گویانید ازیں ولایت بروید کہ علما فتوی دادہ اند اگر نردند قتل کنید بعدہ‘ میانسید خوندمیرعلیہ السلام فرمودند کہ کرت و مرات مارا کشید ند ماءفتیم دریں کرت مر از حق تعالیٰ و از رسول علیہ السلام و از مہدی موعود علیہ السلام اذن شدہ است بدیں عبادت الا ان القضی فقد مضی ان صبرت فانک ماجوروان حذرت فانک مھجور ۔ تایکبارگی ہمہ ایشاں از دست ایں ضعیفاں مقہور و مقتول شوند ۔ بعدہ دوم کرت کہ جنگ شود بندہ با بعضے فقیراں شہید شود بعد ایں جنگ امن و آرام وار زانی ایں ولایت برود و منصب و عزت بادشاہ دادلا داد و منصب و عزت ملوکاں باولاد ایشاں و منصب و عزت علماءو مشائیخاں کہ داخل ایں فتوی اند برود و اولادِ ایشاں خوار شوند ۔ وکسے از یشاں فتوی نہ طلبند۔ ایشاں را در ولایت ہیچ اعتبار نماندوفقراءایں قوم بفراغ خاطر بعبادتِ حق تعالیٰ نصیحت ِ خلق مشغول باشند سخن ایں بندہ و نبشتہ بدارید۔ اگر ہمچنیں شود چنانچہ می گویم اعتقاد کنید کہ بندہ ایں فعل باذ ن حق تعالیٰ و باذن رسول اللہ علیہ وسلم و باذن مہدی مراد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کردہ است بعدہ‘ اعتقاد کنید کہ سید محمد مہدی علیہ السلام برحق سیت اور تصدیق او واجب است۔ والاّ بندہ ہر چہ می کند بہ پندار خود می کند۔ اگر تمام عالم و تمام یاراں با ما مخالفت کنند و اند کے با بندہ موافقت کنند و ایں کار شدنی است می شود۔
    ترجمہ: واضح ہو کہ جب مخالفین کی فوج پوری تیاریوں کے ساتھ آئی تو (افسروں نے) کہلایا کہ اس مملکت سے چلے جاوِ کیونکہ علماءنے فتویٰ دیدیا ہے کہ اگر نہ جائیں تو قتل کر دئیے جائیں ۔ اس کے بعد میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم کو بارہا کھینچ کر (باہر کیا جات رہا)اور ہم اخراج قبول کرتے رہے۔ اس دفعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور حضرت رسول علیہ السلام و حضرت مہدی علیہ السلام کی طرف سے بار بار اس عبارت میں حکم ہورہا ہے کہ ” خبردار جو ہونا ہے ہو کر رہیگا۔ اگر تم صبر کروگے تو اجر پاوگے اگر ڈر جاو گے تو (اللہ سے) دور ہوجاوگے“ تا ہم ایک بار یہ سب (فوجی) ان بے سرو سامان فقراءکے ہتھوں مبتلاے قہر و قتل ہوں گے۔ اس کے بعد دوسری باری میں بندہ بعض فقیروں کیساتھ شہید ہوجائیگا اس جنگ کے بعد اس مملکت کا امن و آرام اور اس کی آسودگی و ارزانی سب جاتی رہیگی ۔ اور بادشاہ اور اسکی اولاد۔ امراءدر و ساءاور ان کی اولاد اور علماءو مشائخین جنھوں نے اس فتوے میں حصہ لیا ہے اور ان کی اولاد ان سب کی عزت و عظمت اور ان کا جاہ و منصب جاتا رہیگا۔اور یہ اتنے ذلیل ہوجائیں گے کہ ان سے فتویٰ لینا کوئی گوارانہ کریگا۔ اور مملکت میں یہ سب بے اعتبار ہوجائیں گے۔ اور اس قوم کے فقرا اطمینان خاطر اور فراغت سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور لوگوں کو نصیحت کر نے میں مشغول رہیں گے۔ اس بندہ کی یہ باتیں لکھ رکھو۔ بندہ یہ جو کچھ کررہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم و مہدی مراد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کر رہا ہے۔ بعد میں (جبکہ یہ باتیں پوری ہوتی نظر آئیں ) تم لوگ اعتقاد (مضبوط ) کر لو کہ سید محمد ہی مہدی علیہ السلام بر حق ہیں اور ان ہی تصدیق واجب ہے۔ ورنہ سمجھ لو کہ بندہ نے جو کچھ کیا اپنی ہی سمجھ سے کیا ہے۔ اگر تمام دنیا اور تمام رفقاءبھی ہمارے مخالف بن جائیں اگر چہ تھوڑے ہی افراد بندہ کی موافقت میں رہجائیں یہ کام ہونا ہے ہوکر ہی رہیگا۔


    ۱۷۶ 

    معلوم باد روزے مہاجراں یکدیگر اتفاق کردہ محضر کردند ۔ بر کاغذینبشتہ ہریکے کتبہ کردہ پیش میاں سید خوندمیرعلیہ السلام فرستادند عبارت محضرہ انیست:۔
    اقرار کردند و اعتراف نمودند میاں نظام رضی اللہ عنہ و میاں ملکجیعلیہ السلام و میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں دلاور رضی اللہ عنہ میاں لاڑشہعلیہ السلام در حال صحت ذات و ثبات عقل براں جملہ کہ ماہر یکی اقرار کردیم اینست کہ اتباع دین محمدی کہ از بیان کتاب خدائتعالیٰ کہ بیان مہدی ثابت شدہ است صراط المستقیم می دانیم و بریں عقیدہ متفق ہستیم و نیز اتفاق می کنیم کہ کسے را بانکار کافر نگوئیم و اگر اخراج کنند با منکران جنگ نکینم بلکہ اطاعت کنیم و تکفیر و قتل خلاف شرعمیدانیم و اگر ردادنیم خلاف کتاب خدا اور شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لازم آید قال اللہ تعالی ولا تقولوالمن القی الیکم السلم لست مومنا (جز۵ رکوع ۰۱)قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ولا تکفرو ا اھل قبلتکم ۔ قال علیہ السلام اموت ان اقاتل الناس حتی یقولو الا اللہ الحدیث ۔ و حضرت مہدی علیہ السلام نیز اوراردانداشتہ اند بلکہ ایں اعتقاد کفر است۔ زیرا کہ مہدی و نبی علیہما السلام بر کتاب بودند ۔ تابع شریعت محمدی بودند۔ اگر تکفیر و قتال با کلمہ گویاں رواداریم پس زنان ایشاں و دختران ایشاں غارت کنیم و حلال طیب پنداریم و ایں حلال ردا نیست بلکہ کفر است۔
    اما منکر انِ مہدی را چنانچہ در قرآن و حدیث مذکور است اعتقاد کنیم ۔ قولہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ ‘۔ قال النبی علیہ السلام من انکرالمھدی فقد کفر۔ و اگر کسے از عمل کردن بفرمود مہدی علیہ السلام منع کنند و گویند کہ ایں عمل بدعت و ضلالت است ازیں باز آئید۔ و ترک کنید۔ و اگر نہ از ما بیروں روید آمدن پس ما بیروں ردیم ولے عمل بر قول مہدی علیہ السلام ترک نکنین و اگر از بیروں آمدن مرا چیزے عذر باشد اوشاں را معلوم کنیم اگر اوشاں قبول نکنند و تعدی و بظلم پیش آیند ا گردفع کردن نتوانم بیروں ردیم مواخذہ نباشد و اگر اخراج اختیار کنیم بیروں رویم و برابرا خراج کنیم و بہتر باشد۔ قال اللہ تعالیٰولمن صبرو غفران ذالک لمن عزم الامور (جزئ۵۲ رکوع ۵) ولیکن حق بیان کنم واز حق بیان کرون بازنیائیم ۔ قال اللہ تعالیٰ ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف(جزئ۴ رکوع ۲) الآیت امر معروف برسہ نوع است بالیدواللسان و الجنان بریں نوع کہ استطاعت دارند امر معروف کنند ما جوراند ۔ و اگر منکران مہدی ہیچ تفہیم نشوند عذر قبل نکنندہ و تعدی و ظلم کنند با ایشاں قتال جائز باشد ۔ ہر کہ بعد ازیں قرار عدول کند و حجت پیش آردنا مسموع گردو۔ او مبتدع وضال باشد۔
    بدیں اقرار مہاجرانِ مذکور ایں کتبہ کردہ پیش میانسید خوندمیر علیہ السلام فرستادند میاں مذکور فرمودند کہ ایشاں از اقرار مہدویت برگشتہ اند۔ رجوع باید کرد چند بارایں سخن تکرار فرمودند بعد ظہر ہمدراں روز میاں ملک جیوعلیہ السلام د میاں لاڑشہ آمدند و فرمودند کہ شما حلیم بودید حلیم شما کجا رفت میانسید خوندمیرعلیہ السلام فرمودند بندہ را معذور و ارید کہ ہر وقت کسے سخن مہدی علیہ السلام را تافیل و تحویل می کند حلم بندہ می رود۔ بعدہ‘ کا غذ کتبہا واپس طلبید ند۔ میانسید خوندمیرعلیہ السلام فرمودند ہر گز واپس ند ہم ایل کتبہا پیش خدائتعالیٰ و پیش مہدی علیہ السلام بروز قیامت خواہم نمود۔ بعدہ یاراں گفتند کہ شما چہ می فرمائید میاں فرمودند بندہ ہیچ نمیگوید آنچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ہماں می گویم۔
    روزے معلم با حضرت میراں علیہ السلام بحث کرد ہیچ وجہ تفہیم نہ شد بعدہ فرمودند کہ ایشاب بحجت و علم تفہیم نہ شوند۔ بعدہ حضرت میراں علیہ السلام بدستِ مبارک خود شمشیر گرفتہ بالا کردند و فرمودند کہ با ایشاں ایں ماندہ است۔ اگر خدائتعالیٰ قوت دہداز یشاں جزیہ بستانم کہ ایشاں را حکم جزئی شدہ است۔
    پس باید کہ آنچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند آں بگوئید و براں اعتقاد کنید۔ وآں را تاویل نکنند۔ بعدہ ہریکے متفرق شدند ۔ ودر شہر آوازہ شد کہ یاراں برمیاں سید خوندمیر علیہ السلام حکم ضلالت کردہ اند ہمدریں روز بعد نماز عشاءہمہ برصف نشستند پیش یاران ِ دائرہ خود میاں سید خوندمیرعلیہ السلام فرمودند کہ جملہ مہاجراں با بندہ بایں آیت قاتلو او قتلو ا موافقت نمی کنند ایشاں از حضرت مہدی علیہ السلام برگشتہ اندو لیکن خدائتعالیٰ ایشاں را رجوع خواہد بخشید ۔ و افسوس بریں مخالفت خواہند کردکہ زیرا کہ حضرت مہدی علیہ السلام در حق ایشاں بشارت فرمودند و مبشر مہدی علیہ السلام ہستند۔ خدائتعالیٰ ایشاں را بر خطا اصرار ند ہد۔
    و بعد از نماز فجر با تمام یاران دائرہ خودش میاں ملک جیوعلیہ السلام و میاں نعمت رضی اللہ عنہ آمدند و بعد ملاقات ایں آیت خواندند۔ ۱ ثم اورثنا الکتاب الذین اصطیفنا من عبادنا الایت (جز ئ۲۲ رکوع ۶۱) فرمودندکہ حضرت میراں علیہ السلام ظالم النفس کر فرمودند و مقتصد و سابق بالخیرات ‘ کرا فرمودند۔ اگر معلوم باشد بگوئید جواب داند مارا بظاہر حکم نیست برفرمودہِ حضرت میراں علیہ السلام حکم است۔ اگر سنگ را میرانجیو علیہ السلام جوہر گویند بر ظاہر حکم نکنیم و آنچہ می بنیم ظاہر اعتقاد نکنیم برفرمودہِ میراں علیہ السلام حکم کنیم۔ وآں سنگ را جو ہر پنداریم۔
    و نیز فرمودند اگر کسے بطریق اخلاص بپر سیدند آنچہ از حضرت میراں علیہ السلام شنیدہ است بیان ظالم و مقتصد و سابق بالخیرات بشما گوید۔ یکجا ہم در مجلس بود گفتگو ے خوندکار بیان کنیند بعدہ میاں فرمودند اگر میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں ملک جیوعلیہ السلام پرسند بندہ بگوید ۔ دریں گفتار ہیچ مقصود نیست جز آنکہ ظالم لنفسہ با سابق بالخیرات مخالفت می کنند و زیاں زدہ می شود۔ بعدہ ہیچ کس چزے نگفت و مجلس تمام شد۔

    ترجمہ: واضح ہو کہ ایک روز بعض مہاجرین رضی اللہ عنہم نے متفق ہوکر محضرہ کیا اور ایک تحریر تیار کرکے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کی محضرہ کی عبارت یہ ہے:۔
    ” ہم میاں نظام رضی اللہ عنہو میاں ملکجیعلیہ السلام و میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں دلاور رضی اللہ عنہ و میاں لاڑ شہ علیہ السلام بحالت صحت ذات و ثباتِ عقل اس امر پر اقرار و اعتراف کرتے ہیں او اس امر پر قائم ہیں کہ بیان خدائتعالیٰ اور بیان مہدی علیہ السلام سے جو اتباع دین محمدی ثابت ہے اسی کو ہم صراط مستقیم سمجھتے ہیں اور اسی اعتقاد پر ہم متفق ہیں۔ اور ہم اس امر پر بھی اتفاق کرتے ہیں کہ کسی کو انکار (مہدی علیہ السلام) کی وجہ ہم کافر نہیں کہتے۔ اور منکرین اگر ہمارا اخراج کریں تو ہم ان سے جنگ نہیں کرتے بلکہ اطاعت کرتے ہیں کافر قرار دینا اور قتل کرنا ہم خلاف شرع سمجھتے ہیں اگر ہم اس کو جائز قرار دیں تو کتاب خدائتعالیٰ اور شریعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی لاز م آئیگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ جس نے نہیں سلام کیا تم اسکو یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔ (جز ئ۵ رکوع ۰۱) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔” اہل قبلہ کو کافر نہ بناو“ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “ میں حکم دیا گیا ہوں کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جبتک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں“ اور حضرت مہدی علیہ السلام نے بھی اس کو روا نہیں رکھا ہیں۔ بلکہ ایسا اعتقاد کفر ہے۔ کیونکہ مہدی و نبی علیہم السلام قرآن پر (حکم دیتے اور عمل کرتے) تھے۔ شریعت محمدیہ علیہ السلام کے تابع تھے ۔ اگر کلمہ گو یوں کی تکفیر اور ان سے قتال ہم جائز قرار دیں تو ان کی عورتوں اور بیٹیوں کو بھی مال غنیمت میں شمار کرنا ہوگا اور یہ جائز نہیں ہے بلکہ کفر ہے۔
    لیکن مہدی علیہ السلام کے منکرین کے بارے میں جیسا کہ قرآن و حدیث میں مذکور ہے ہم اعتقاد رکھتے ہیں۔ قولہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ۔ قال النبی علیہ السلام من انکر المھدی فقد کفر۔ اگر کوئی حضرت مہدی علیہ السلام کے فرمان پر عمل کرنے سے مانع ہوا اور کہے کہ یہ عمل بدعت و ضلالت ہے اس سے باز آو۔ اور اس کو چھوڑ دو۔ اور اگر (منکرین ) ہم کو باہر چلے جانے کا حکم دیں تو ہم باہر چلے جائیں گے لیکن مہدی علیہ السلام کے فرمان کی تعمیل ترک نہ کریں گے۔ اگر باہر ہوجانے میں ہمارے لئے کوئی عذر ہو تو ان (منکرین) کو ہم معلوم کردیں گے۔ اگر وہ قبول نہ کریں ظلم و سختی سے پیش آئیں ۔ اور ان کی مدافعت کی ہم میں سکت نہو تو ہم باہر چلے جائیں گے بدلہ نہ لیں گے۔ ہمارا اخراج قبول کرنا اور باہر ہوجانا ہی بہتر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” جو شخص صبر کرے اور معاف کردے بیشک یہ بہترین کاموں میں سے ہے“ (جزئ۵۲ رکوع ۴) لیکن ہم حق بیان کریں گے۔ حق بیان کر نے سے باز نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” تم میں ایسی ایک جماعت کا ہونا ضروری ہے جو نیکی کی طرف بلائے اور نیکیوں کا حکم دے “ (جزئ۴ رکوع ۲) امر معروف کی تین سورتیں۔ ہاتھ سے زبانسے۔دل سے جس طریقہ پر عمل کرنے کی ہم قدرت رکھتے ہیں اس پر امر معروف کریں اجر حاصل کریں۔ اگر منکرین مہدی علیہ السلام کوئی تفہیم اور کوئی عذر قبول نہ کریں اور ظلم و سختی کریں تو اس صورت میں ان کے ساتھ قتال جائز ہوگا جو شخص اس (محضرہ) کی قرارداد کی خلاف ورزی کرے اور (اس کے خلاف) دلیل لائے قابل سماعت نہوگی اور وہ بدعتی و گمراہ ہوگا۔
    مہاجرین رضی اللہ عنہم نے یہ قرار د اومرتب کرکے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کی۔ میاں مذکورعلیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لوگ مہدویت کے اقرار سے برگشتہ ہوگئے ہیں۔ رجوع کرنا ہوگا۔ یہی بات آپ نے چند بار بیان فرمائی۔ اسی روز ظہر کے بعد میاں ملکجیوعلیہ السلام و میاں لاڑشہ رضی اللہ عنہ خود آئے اور کہنے لگے کہ آپ تو بہت حلیم تھے وہ حلم کہاں گیا؟ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بندہ کو معاف کیجئے جب کبھی کوئی شخص مہدی علیہ السلام کے فرمان میں تاویل و تحویل کریگا بندہ کا حلم باقی نہ رہیگا۔ اس کے بعد ان دونوں حضرت نے وہ تحریر واپس لینا چاہا میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہرگز واپس نہ دونگا یہ تحریر قیامت کے روز خدائتعالیٰ اور مہدی علیہ السلام کے سامنے پیش کرونگا۔اس کے بعد ان حضرات نے کہا آپ کیا فرماتے ہیں؟ میاں نے فرمایا بندہ کچھ نہیں کہتا جو جو کچھ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے وہی کہتا ہے:۔
    ” ایک روز ایک عالم حضرت مہدی علیہ السلام سے بحث کر رہا تھا اور کسی طریقہ سے بھی تفہیم نہ پارہا تھا اس وقت حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا یہ لوگ دلیل اور علم سے تفہیم نہیں حاصل کریں گے۔ آپ نے اپنے دستِ مبارک سے تلوار بلند کرکے فرمایا کہ ان کے لئے اب یہی رہ گئی ہے۔ اگر خدائتعالیٰ حکم دیتا تو میں ان لوگوں سے جز یہ وصول کرتا ۔ یہ لوگ جزیہ دہندہ کے حکم میں آچکے ہیں۔“
    پس ہم کو چاہئیے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے جو فرمایا ہے اس پر اعتقاد رکھیں اس میں تاویل نہ کریں اس کے بعد وہ دونوں حضرات چلے گئے۔ اور شہر میں شہرت ہوگئی کہ صحابہ علیہ السلام نے میاں سید خوندمیر (رضی اللہ عنہ) پر ضلالت کا حکم عاید کیا ہے۔ اسی روز عشاءکی نماز کے بعد سب لوگ صف پر بیٹھے ہوئے تھے اپنی رفقائے دائرہ سے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب مہاجرین آیہِ قاتلو او قتلو کے بارے میں بندہ سے موافقت نہیں کر رہے ہیں یہ لوگ حضرت مہدی علیہ السلام سے برگشتہ ہوگئے ہیں۔ لیکن خدائتعالیٰ ان کو رجوع کرنے کا موقع عطا فرمائیگا۔ اور اس مخالفت پر افسوس کریں گے کیوں کہ ان لوگوں کے حق میں حضرت مہدی علیہ السلام نے بشارتیں فرمائی ہیں۔ یہ لوگ مبشر مہدی علیہ السلام ہیں۔ خدائتعالیٰ ان کو خطا پر مصر نہ رکھیگا۔
    اور(دوسرے دن ) فجر کی نماز کے بعد میاں ملک جیودعلیہ السلام میاں نعمت رضی اللہ عنہ اپنے دائرہ کے لوگوں کے ساتھ آئے ۔ ملاقات کے بعد یہ آیت سنائی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔”پھر ہم نے ہمارے بندوں میں ان لوگوںکو قرآن کا وارث بنایا جن کو ہم نے برگزیدہ کیا“ (جزئ۲۲ رکوع ۶۱) اور فرمایا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ظالم لنفسہ کسکو فرمایا ہے۔ اور مقتصد و سابق بالخیرات کی کیا توضیح فرمائی ہے؟ اگر معلوم تو بیان کرو۔ میاں نے جواب دیا ہم کو معلوم نہیں ۔ ہم ظاہر پر حکم کرتے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا ظاہر پر نہیں بلکہ حضرت مہدی علیہ السلام کے فرمان کے تحت حکم سناتے ہیں۔ اگر پتھر کو حضرت مہدی علیہ السلام نے جو ہر فرمایا ہے تو ہم ظاہر پر حکم نہ لگائیں گے اور جو کچھ ہم بظاہر دیکھ رہے ہیں اس پر اعتقاد نہ رکھیں گے۔ بلکہ حضرت مہدی علیہ السلام کے حکم کی تعمیل میں ہم اس پتھر کو جوہرہی سمجھیں گے۔
    نیز اگر کوئی خلوص کے ساتھ پوچھتے کہ ظالم لنفسہ اور مقتصد اور سابق بالخیرات کے بارے میں حضرت مہدی علیہ السلام سے آپ نے جو سنا ہے بیان فرماےئے ( تو اس وقت آپ بیان فرماتے تھے)
    ایک جگہ مجلس میں یہی گفتگو رہی کہ خوندکار بیان کریں۔ میاں نے فرمایا اگر میاں نعمت رضی اللہ عنہ و میاں ملکجیوعلیہ السلام بھی پوچھیں تو بندہ بیان کریگا۔ اس گفتگو کا مقصد صرف اتنا ہیکہ جو ظالم لنفسہ ہیں سابق بالخیرات کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اور گنہگار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کسی نے کچھ نہ کہا اور مجلس برخواست ہوگئی۔


    ۱۷۷ 

    بعد از مدتے چوں قتال نزدیک شد آمد کتبہ کنند گاں یکجا شدند و بدروازہ شہر نہروالہ فردد آمد ند و خواستند کہ امیر شہر را کا غذ یا کتبہ بفرسند کہ ماازیں برادر علحدہ شدیم و بروحکم ضلالت کردیم بعضے یاراں گفتند اگر چنیں می خواہند کہ امیر را کاغذ بفرسند پس دریں کاغذ آیت من یکفر من الاحزاب فالنار موعدہ ۔ و حدیث من انکر المھدی فقد کفر ننویسند بعدہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ مخالف ایشاں شدند فرمودند برادرم سید خوندمیر راست گفت کہ شما از مہدی علیہ السلام منکر شدید کہ حجت مہدی علیہ السلام را از کاغذ دورمی کنید۔ بعدہ کاغذ پیش مخالفاں فرستاد ند وگویانید ند کہ یکے اربعین مہلت ید ہید ما برادر خود را تفہیم کنیم اگر تفہیم نشود ما نیز قتال کنیم چوں مخالفاں کاغذ دیدند جواب فرستادند کہ شما ازیں جاشتاب بروید اگر خیریتِ خود خواہید مہلت یکروز شمارانیست اگر موتِ شما نزدیک آمدہ باشد تا خیر کنید والا زود تر بروید۔
    بعد ازاں ہریکے طرف جالور رفتند مخالفاں را بر قتال حجت استوار شد ۔ الغرض قتال شد ۔ مومناں بر سردار خود یعنی میاں سید خوندمیرعلیہ السلام شہید شدند۔

    ترجمہ: ایک عرصہ کے بعد جب جنگ کا زمانہ قریب آگیا تو ” قرارداد“ مرتب کرنے والے حضرات جمع ہوکر شہر نہروالہ کے دروازہ کے پاس آگئے اور امیر شہر کے پاس ایک تحریر روانہ کرنی چاہی کہ ” ہم اس بھائی (میاں سید خوندمیرعلیہ السلام) سے الگ ہوگئے ہیں اور ان پر جلالت کا حکم ہم نے عاید کردیا ہے بعض رفقاءنے مشورہ دیا کہ اگر امیر کے پاس تحریر روانہ کرنی چاہتے ہیں تو اس میں آیت من یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ۔ اور حدیث من انکو المھدی فقد کفر نہ لکھیں ۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا کہ برادرم سید خوندمیر علیہ السلام سچ کہتے ہیں تم لوگ مہدی علیہ السلام سے برگشتہ ہوگئے ہو۔ کیونکہ حجت مہدیت کو تحریر سے نکالدینا چاہتے ہو۔ اس کے بعد تحریر مرتب کی جاکر جخالفین کے پاس روانہ کردی گئی اور کہلایا گیا چالیس روز کی مہلت دی جائے توب ہم اپنے بھائی (میاں سید خوندمیرعلیہ السلام ) کی تفہیم کریں گے۔ اگر وہ تفہیم قبول نہ کریں تو ہم خود جنگ کریں گے۔ جب مخالفین نے تحریر دیکھی تو جواب روانہ کیا کہ تم لوگ اگر بہتری چاہتے ہو تو یہاں سے جلد چلے جاوِ۔ ایک دن کی مہلت بھی نہیں دی جائیگی۔ اگر تمہاری موت قریب آچکی ہے تو نکلنے میں دیر کریں گے۔ ورنہ جلد چلے جائیں گے۔
    اس کے بعد سب جالور کی طرف روانہ ہوگئے مخالفین کو (بندگیمیاں سید خوندمیرعلیہ السلام سے) جنگ کرنے کی دلیل مستحکم ہوگئی۔ غرض جنگ ہوئی مومنین اپنے سردار یعنی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہید ہوگئے۔


    ۱۷۸ 

    بعد از مدتے میاں دلاور رضی اللہ عنہ از حق تعالیٰ معلوم کردند آنچہ سید خوندمیرعلیہ السلام کردہ است ہمہ حق است بر آیت قاتلو و قتلوا عمل کردند۔
    وایں بندہ کہ جمع کنندہ منقولات است مسمی ولی می گوید خدائے تعالیٰ شاہد است کہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ بحضور ایں بندہ فرمودند کہ ما باس سید خوندمیرعلیہ السلام رشک کردیم و ہر وقت کہ میاں سید خوندمیرعلیہ السلام ما یانِ ایشاں یادمی آیند سینہ بندہ سوز دو افسوس بسیار کردہ میشود۔ باز آنچہ فرمودند اگر من بگویم بسیار کساں باوردند ارند۔

    ترجمہ: جنگ ہوچکنے پر ایک مدت کے بعد میاں دلاور رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ سید خوندمیرعلیہ السلام نے جو کچھ کیا ہے بر حق ہے اور آیت قاتلو و قتلوا پر عمل کیا ہے۔ اور یہ بندہ جمع کنندہ نقلیات مسمی ” بہ ولی“ کہتا ہے کہ خدا گواہ ہے یہاں دلاور رضی اللہ عنہ نے اس بندہ سے فرمایا ہے کہ ہم نے سید خودندمیرعلیہ السلام کے ساتھ رشک کیا ہے۔ جب کبھی میاں سید خوندمیرعلیہ السلام ہم میں یاد آتے ہیں تو بندہ کا سینہ جلنے لگتا ہے اور بہت افسوس ہوا کرتا ہے۔ انھوں نے مجھے اور بہت ساری باتیں فرمائی ہیں۔ اگر بیان کروں تو باور نہ کریں گے۔


    ۱۷۹ 

    میاں ملکجوعلیہ السلام چہل روز و شب باوضو ماند ندو توجہ خدا کردند کہ از حق تعالیٰ معلوم شوویک شب معلوم شد آنچہ سید خوندمیرعلیہ السلام کردند ہمہ حق بود بر آیت قاتلو او قتلوا عمل کردند چنانچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ در گروہ مہدی بریں آیت عمل شود آں شد۔
    ترجمہ: میاں ملکجوعلیہ السلام چالیس روز تک دن رات باوضورہکر خدائتعالیٰ کی طرف توجہ کرتے رہے۔ ایک رات اللہ تعالیٰ سے معلوم ہوا کہ سید خوندمیرعلیہ السلام نے جو کچھ کیا سب حق تھا۔ انھوں نے آیت قاتلو او قتلوا پر عمل کیا جیسا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مہدی کی گروہ میں بھی اس آیت پر عمل ہوگا۔


    ۱۸۰ 

    و بعد از بدتے میاں ملک جیوعلیہ السلام در جالور آمدند و فرمودند اگر کسے دامن ایں بندہ بگیرد بندہ بر عمل و قول کہ میاںسید خوندمیرعلیہ السلام کردہ اند و گفتہ اند حجت ید ہم آنچہ در کُتبہائے دین نبشتہ اند میاں سید خوندمیرعلیہ السلام کردند ہیچ خلاف نہ کردند۔
    ترجمہ: کچھ عرصہ بعد میاں ملکجیوعلیہ السلام جالور میں آئے۔ اور فرمانے لگے کہ اگر کوئی بندہ کا دامن پکڑلے تو بندہ اس قول و عمل کو جو میاں سید خوندمیرعلیہ السلام نے کیا ہے ۔ثابت کریگا۔ دین کی کتابوں میں جو باتیں لکھی گئی ہیں میاں سید خوند میرعلیہ السلام نے وہی کیا ہے۔ کوئی خلاف ورزی انھوں نے نہیں کی۔


    ۱۸۱ 

    و بعد از مدتے میاں نعمت رضی اللہ عنہ در جالور آمد ند و از دکن باز گشتند فرمودند کسانیکہ مرا از موافقت سید خوندمیر علیہ السلام باز داشتند ایشاں را خدائتعالیٰ خواہد پر سید۔
    ترجمہ ایک عرصہ بعد میاں نعمت رضی اللہ عنہ دکن سے واپس ہو کر جالور میں آئے ۔ اور فرمانے لگے جن لوگوں نے مجھے سید خوندمیرعلیہ السلام کی موافقت سے باز رکھا ان کو خدائتعالیٰ پوچھیگا۔


    ۱۸۲ 

    و نیز روزے میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام پیش حضرت میراںعلیہ السلام عرض کرد کہ میاں سید خوندمیرعلیہ السلام می پر سند قاتلو او قتلوا از کدام کس خواہد شد و پیش از قتال سید خوندمیرعلیہ السلام کرت و مرت ایں سخن فرمودند ایں بندہ نشستہ میشود چنانچہ کس را حق شود زیر اچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ایں کار از تو خواہد شد ۔ و ہنوز نمی شود کہ شاید ازما چیزے تقصیرے واقع است۔
    ترجمہ ایک روز میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام نے حضرت مہدی علیہالسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میاں سید خوندمیر علیہ السلام پوچھ رہے ہیں کہ قاتلو او قتلو ا کس شخص سے انجام پائیگا۔ اور قتال سے آگے میاں سید خوندمیر علیہ السلام نے بارہا فرمایا جبکہ بندہ بیٹھا ہو ا ہے کس کا حق ہوسکتا ہے؟ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ کام تجھ سے ہوگا اور یہ ابتک نہوسکا ہے شاید مجھ سے کوئی قصور سر زد ہوا ہو۔


    ۱۸۳ 

    و نیز روزے میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام پیش حضرت میراںعلیہ السلام عرض کرد کہ میاں سید خوندمیرعلیہ السلام می پر سند قاتلو او قتلوا از کدام کس خواہد شد و پیش از قتال سید خوندمیرعلیہ السلام کرت و مرت ایں سخن فرمودند ایں بندہ نشستہ میشود چنانچہ کس را حق شود زیر اچہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ایں کار از تو خواہد شد ۔ و ہنوز نمی شود کہ شاید ازما چیزے تقصیرے واقع است۔
    ترجمہ ایک روز میاں یوسف مہاجرعلیہ السلام نے حضرت مہدی علیہالسلام کی خدمت میں عرض کی کہ میاں سید خوندمیر علیہ السلام پوچھ رہے ہیں کہ قاتلو او قتلو ا کس شخص سے انجام پائیگا۔ اور قتال سے آگے میاں سید خوندمیر علیہ السلام نے بارہا فرمایا جبکہ بندہ بیٹھا ہو ا ہے کس کا حق ہوسکتا ہے؟ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ یہ کام تجھ سے ہوگا اور یہ ابتک نہوسکا ہے شاید مجھ سے کوئی قصور سر زد ہوا ہو۔


    ۱۸۴ 

    حضرت میرانجیو علیہ السلام طریق قتال ہم نفرمودہ اند کجاوچوں خواہد شد۔ پس ہر کہ بہ کیفیت مقید کند از میاں و از حضرت میراں علیہ السلام نیست و ہر کر ا مشکل شود کہ قتال کلمہ گویاں چوں شود جواب انیست کہ مہدی علیہ السلام مبعوث بر کلمہ گویان است بر مشرکاں نیست و گروہ اور اخراج و ایذااز کلمہ گویاں شدہ است نہ از مشرکاں پس قتال نیز باموذیاں شود نہ بادیگراں ۔ اکنوں نہ بعد از قتال رجوع مہاجراں و بعد از ظہر شد ند آنچہ میاں سید خوندمیر فرمودہ بودند حجت تصدیق مہدی علیہ السلام بر متفحصاً نہ لاز شد ہیچ عذر پوشیدگی نماند۔
    ترجمہ: اور حضرت مہدی علیہ السلام نے طریقہ قتال بیان نہیں فرمایا ہیکہ کہاں اور کب ہوگا۔ پس جو شخص کیفیت مقید کرلے وہ میاں اور حضرت میراں علیہ السلام سے نہیں ہے ۔ اور جسکو یہ امر مشکل معلوم ہو کہ کلمہ گودیوں سے قتال کس طرح کیا جاسکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہیکہ مہدی علیہ السلام کلمہ گویوں پر مبعوث ہوئے ہیں مشرکوں پر نہیں ان کو اور ان کی گروہ کو اخراج و ایذا کلمہ گویوں سے ہورہی ہے مشرکوں سے نہیں پس قتال بھی موذیوں کے ساتھ ہوگا نہ کہ کسی اور کیساتھ۔۔


    ۱۸۵ 

    معلوم بادکہ میاںسید خوندمیرعلیہ السلام در رسالہ خود نبشتہ انداے طالبان حق مہدی را گرویدہ ام و ایں منقول است کہ بندہ در گروہ است از اول از و صحبت تا وقت رحلت حضرت میرانجیو بدین منقولست ہیچ تفاوت نیافتہ ایم و بریں جملہ اعتقاد و ایمان داریم و ہر کہ در بیان دے چیزے تاویلے و تحویلے می کند او مخالف بیانِ آں ذات باشد۔
    ترجمہ: واضح ہو کہ میاں سید خوندمیرعلیہ السلام نے اپنے رسالہ میں تحریر فرمایا ہیکہ اے حق کے طالبو! میں مہدی علیہ السلام پر گرویدہ ہوچکا ہوں۔ اور یہ بھی منقول ہیکہ بندہ مہدی علیہ السلام کی جماعت میں ہے۔ ابتدائے صحبت سے رحلت تک کے جو (امور) اس (رسالہ میں منقول ہیں) ہم نے کوئی فرق نہیں پایا ہے۔ اور ہم ان تمام (منقولات) پر عتقاد و ایمان رکھتے ہیں۔ جو شخص (حضرت مہدی علیہ السلام کے) بیان میں کوئی تاویل یا تحویل کرے وہ اس ذات کے بیان کا مخالف قرار پائیگا۔


    ۱۸۶ 

    معلوم باد حضرت میراں علیہ السلام بحکم ایں آیت ومن یقتل مومنا متعمد الآیہ ۔ قاتل مومن را خلود نار فرمودہ اند اگر مفسراں تاویل کردہ اند مرا گوئی (کہ چہ) تاویل فرمودند ہ اند پس فتویٰ دہندگاں بقتل فقرا بمجرد تصدیق و عمل کنند گاں بریں فتوی باشند بے ایمان و ایشاں را خلود نار باشد۔ و میاں سید خوندمیر بر کلمہ گویاں فتوی دادند۔ بعد از زوال ایمان ایشاں فتوی دادہ اند ہیچ سوال وارد نشود۔
    ترجمہ: واضح ہو کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اس آیت کے حکم سے ومن یقتل مومنا متعمداً فجزاءہ نار جھنم خالدین فےھا الایت (جزء رکوع ) یعنے جو شخص مومن کو عمداً قتل کریگا اس کی جزا جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیگا) مومن کے قاتل کو دائمی دوزخی فرمایا ہے اگر مفسرین نے کوئی اور تاویل کی ہے تو وہ کیا تاویل ہے مجھ سے بیان کرو۔ پس محض تصدیق کی وجہ فقراءکے قتل کا فتویٰ دینے والے اور اس فتویٰ پر عمل کرنے والے بے ایمان اور دائمی دوزخی ہیں(اس لحاظ سے) میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے کلمہ گویوں پر جو فتویٰ دیا ہے ان کلمہ گویوں کے زوال ایمان کے بعد دیا ہے اس لئے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا۔


    ۱۸۷ 

    ایں مکتوب را بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ پیش سید کبیر فرستادہ بودند (انصافنامہ باب ۱) معلوم باد کہ چوں حضرت میراں علیہ السلام پیش از دعوی مہدیت در گجرات بیان قرآن کردند و خلق را سوے ذکر و محبت حق تعالیٰ خواند ند و خلق عداوت کردند میرانجیو علیہ السلام فرمودند معلوم نمی شود موجب مخالفت ایشاں چسیت اگر از بندہ سہوے یا غلطے شدہ باشد بر مسلماناں فرض است بحکم آئیتہ انما المومنون اخوة (جزء۶۲ رکوع ۲۱) اعلام فرمایند و ماہم متفق شدہ سوے کتاب خدائتعالیٰ رجوع کنیم و موافقت رسول خدا بنمائیم ۔ کما قال سبحانہ‘ و تعالیٰ فان تنازعتم فی شی فرد وا الی اللّٰہ و رسولہ۔ از ما و شما بر اتباع کتاب خدا و رسول خدا قدم بیرون نہادہ باشد۔آنکس تو بہ کند و باز آید و موافقت با کتاب خدائتعالیٰ بنمائیم وگر بازنیایند تو بہ نکنند و مصر باشند واجب القتل اند و مدت بست و پنج سال شدہ است کہ میراں سید محمد و یارانِ وے بریں معنی فریاد می کنند ہر کہ مدعاے ما بطریق انصاف و بحجت علم معلوم نکندد ماخوذ گرد و بلکہ ہمیشہ بطریق تغلب و سلطنت بر ما حکم بدعت و ضلالت کردہ اند۔ تا ایں زماں مظلوم گشتہ ایم بحدیکہ بعضے را در زنداں کردہ اند و بعضی را اخراج کردہ اند و ظالماں بایں نوع ظلم پیش آوردند۔ و امیراںحکم بانصاف نمی کنند و اکنوں ایں زماں برما لازمشدہ است کہ براے نصرت دین جان خود را در بازیم و خدائتعالیٰ ناصر دین خود است۔ قال اللہ تعالیٰ الذین اخرجو ا من دیا رھم بغیر حق الا ان یقولو ا ربنا اللہ مدد لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھد مت صوامع و بیع و صلوٰة و مساجد یذکر فےھا اسم اللہ کثیرا الایت (جزئ۷۱ رکوع ۳۱)بر مسلمانان فرض شدہ است کہ برائے خدائے مظلوماں را نصرت کنند و انصار دین خدا شوند۔ کما قال سبحانہ و تعالیٰ ولو لا انصار اللہ ایں زماں نہایت رسیدہ است کہ ظلم و تعدی می کنند و کسے انصاف نمی کنند بدیں سبب ناچار ما ہم فتویٰ داویم کہ از مصدقاں یکے از مفتیاں و اعوان مفتیاں بکشد و گر خود کشتہ شود شہید باشد ور راہ خدا و در نصرت دادن دین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زیر اچہ مہدی موعود جز اتباع رسول اللہ و ترک بدعت و ذکر دوام چیزے نمی گوید و ہیچ عقیدہ جز عقیدہ‘ سنت و جماعت نمی کناند پس عداوت متعلماں جز کتاب حق قال اللہ تعالیٰ فی حقھم و آمنوا بما انزلت مصدقا لما معکم ولا تکونو ا اول کافر بہ۔ ولا تشترو ا بآیاتی ثمنا قلیلا۔ وایای فاتقون ۵ ولا تلبسو الحق بالباطل و تکتمو ا الحق وانتم تعلمون ۔ الآیت(جز ئ۱ رکور ۵) (اگر ما اندک و ضعیف ہستیم و لیکن صاحب ما توانا و غالب است کقولہ تعالیٰ ان اللہ لقوی عزیز)
    ترجمہ: (اس مکتوب کو حضرت بندگیمیاں سید خوندمیرعلیہ السلام نے سید کبیر کے پاس روانہ فرمایا) واضح ہو کہ حضرت مہدی علیہ السلام دعوی مہدیت سے قبل گجرات میں بیان قرآن فرمارہے تھے اور لوگوں کو ذکر و محبت خدائتعالیٰ کی طرف دعوت دے رہے تھے ۔ اس وقت لوگ آپعلیہ السلام سے عداوت کر رہے تھے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ان کی مخالفت کا سبب معلوم نہیں ہورہا ہے اگر بندے سے کوئی سہو یا غلطی ہوگئی ہے تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ بحکم آیہ ِ انما المومنون اخوة (بیشک مومنین بھائی بھائی ہیں) آگاہ کریں اور ہم بھی متفق ہو کر کتاب اللہ کی طرف رجوع کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت بتلائیں گے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اگر کسی مسئلہ میں نزاع واقع ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کردو“۔ ہم سے یا تم سے جس کا قدم اتباع کتاب خدا و رسول خدا سے باہر ہوگیا ہو وہ توبہ کرے اور باز آجائے۔ اگر ہم کتاب خدا سے موافقت اختیار نہ کریں اور باز نہ آئیں تو بہ نہ کریں مصرر ہیں تو واجب القتل ہیں ۔ پچیس سال کا عرصہ گذرا ہے کہ میراں سید محمد اور ان کے صحابہ علیہ السلام اس مضمون کے ساتھ لوگوں کو مخاطب کر رہے ہیں ۔ جو شخص ہمارے مدعا کو انصاف اور حجت علم کے طریقہ سے معلوم نہیں کرتا وہ ماخوذ ہوگا۔ بلکہ (یہ لوگ) ہمیشہ صرف سلطنت و غلبہ حکومت کے تحت ہم پر بدعت و ضلالت کا حکم لگاتے ہیں۔ اس زمانہ میں ہم تو اس درجہ مظلوم ہوگئے ہیں کہ ہم میں سے بعض کو قید کردئیے ہیں اور بعض کا اخراج کیا ہے۔ ظالم لوگ اس طرح ظلم کر رہے ہیں اور حکام انصاف سے حکم نہیں کرتے ہیں۔ اب اس زمانہ میں ہم پر لازم ہوگیا ہے کہ نصرت دین کے لئے اپنی جان کی بازی لگادیں۔خدائتعالیٰ اپنے دین کا ناصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اپنے گھروں سے نا حق نکالے گئے محض اتنی بات پر کہ وہ یوں کہتے تھے کہ ہمار ا رب اللہ ہے ۔ اگر یہ بات نہوتی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کا ایک کا دوسرے سے ڈر نہ گھٹاتا رہتا تو نصاریٰ کے خلوت خانے اور عبادت خانے اور یہود کے عبادت خانے اور وہ مسجدیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا ہے وہ سب منہدم ہوگئے ہوتے“(جز۷۱ رکوع ۳۱)۔ مسلمانوں پر لاز م ہوگیا ہے کہ خدا کے لئے مظلومین کی مدد کریں ۔ انصار دین خدا بن جائیں ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ ظلم و تعدی انتہا کو پہنچ گئی ہے ۔ کوئی اس زمانہ میں انصاف کرنیوالا نہیں ہے۔ اس لئے مجبوراً ہم نے بھی فتویٰ دیا ہے کہ جو مہدوی ایک مفتی یا اس کے ایک مددگار کو قتل کریگا یا خود مارا جائیگا تو وہ فی سبیل اللہ اور برائے نصرت دین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم شہید قرارپائیگا۔ کیونکہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے بجز اتباع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ترک بدعت و ذکرو دوام کے کوئی اور بات (خلاف شرع) نہیں فرمائی ہے اور سنت و جماعت کے اعتقاد کے سوائے کوئی اور عقیدہ بیان نہیں فرمایا ہے ۔ پس علما کی عداوت کتاب خدا سے تعلق رکھتی ہے ان کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” اور ایمان لاوِ اُ س قرآن پر جسے میں نے نازل کیا ہے دراں حالیکہ وہ تصدیق کرنے والا ہے اس توریت کی جو تمہارے ساتھ ہے اور میں بنو تم سب میں پہلے اس قرآن کے انکار کرنے والے اور میری آیت کے مقابلہ میں حقیر معاوضہ نہ لو۔(یعنے دنیا کی صحبت میں دین کو نہ چھوڑو) اور خاص مجھ ہی سے ڈرو۔ اور حق کو باطل کے ساتھ مخلوط نہ کرو اور حق بات کو مت چھپاوِ جبکہ تم جانتے ہو “ (اگرچہ کہ ہم تھوڑے ہیں لیکن ہمار ا خدا توانا و غالب ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (ان اللہ لقوی عزیز)


    ۱۸۸ 

    نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ مومن حقیقی آنکس ۱ است کہ بنیا باشد بچشم سر یا بچشم دل یادر خواب و اگر ہر سہ نداردو طلب تمام دارد کہ بینائی ۲ روزی شود بردہم حکم ایمان است۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مومن حقیقی وہ شخص ہے جو بینا ہو چشم سر سے یا چشم دل سے یا خواب میں ۔ اگر ان تینوں میں سے ایک بینا ئی بھی حاصل نہو اور پوری طلب رکھتاہو کہ بینائی روزی ہو۔ تو ایسے مومن پر بھی ایمان کا حکم کرتے ہیں۔


    ۱۸۹ 

    نیز فرمودند کہ بر طالب چہ چیز فرض است کہ بداں بخدا برسد ۔ باز فرمودند کہ آں عشق است عشق چگونہ حاصل شود فرمودند کہ بروجہ دل۔ دائم بسوے حق تعالیٰ دارد۔
    ترجمہ: نیز سوال فرمایا کہ طالب پر کونسی چیز فرض ہے کہ اسکی وجہ سے خدا کو پہنچ سکے ؟ خود آپ علیہ السلام نے ہی جواب فرمایا کہ وہ عشق ہے۔ عشق کیونکر حاصل ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ دل کی توجہ ہمیشہ خدائتعالیٰ کی طرف قائم رکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔


    ۱۹۰ 

    نیز یاراں را فرمودند کہ شما کامل ہستید اگر خلق طریق شمانیک خواہند دید بدر شما خواہند افتاد۔
    ترجمہ: نیز صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کامل ہو اگر لوگ تمہار ا نیک طریق دیکھیں گے ۔ تو تم سے وابستہ ہوجائیں گے۔


    ۱۹۱ 

    منقول است کہ حضرت میراں علیہ السلام درون حجر ہائے طالباں میر فتے اگر بیاد خدا یا فتے لطف ۳ کردندے و خوشنود شدے و اگر غلطیدہ یافتے نشستن ندادے و بسخن گوجری ۴ فرمودے” اچھے جی اچھے“ تعلق نیست بندہ نشستہ است۔ اگر درونِ حجرہ نیافتے فرمودے بے ڈھنگے درون حجرہ نما مانند اگر دوسہ کس رادیدندے کہ حکایت می کنند نزدیک آمدہ فرمودندے چہ می کنید ز جر کردے بلکہ حکم زدن بچوبہا فرمودے۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام طالبان خدائتعالیٰ کے حجروں میں تشریف لیجایا کرتے اگر یاد خدا میں مشغول پاتے تو ان پر مہربانی فرماتے اور خوش ہوتے۔ اگر غافل پاتے تو ان کو (ذکر میں) بیٹھنے کی اجازت نہ دیتے اور گوجری زبان میں فرماتے کہ ” اچھے جی اچھے“ بندہ بیٹھا ہوا ہے مگر تعلق نہیں ہے۔ اگر حجرے میں موجود نہ پاتے تو فرماتے کے بے ڈھنگے حجرے میں نہیں رہتے ہیں۔ اگر دو تین آدمیوں کو مصروف گفتگو پاتے تو نزدیک تشریف لاکر فرماتے کہ یہ کیا کر رہے ہو جھڑکتے بلکہ لکڑی سے مارنے کا حکم دیتے۔


    ۱۹۲ 

    روزے دوسہ کس رادید ند کہ حکایت می کنند نزدیک ۱ آمدہ فرمودند چہ می ۲ کنید گفتند چیزے حکایتِ دینی بود فرمودند اے برادراں خدائے را بحکایت نخواہند یافت ذکر کنید کہ جز ذکر بخدارسید راہ نیست۔
    ترجمہ: ایک روز آپ نے دو تین آدمیوں کو مصروف گفتگو پایا۔ قریب آکر فرمایا کہ کیا کر رہے ہو عرض کرنے لگے کہ دین سے متعلق کچھ قصہ تھا۔ فرمایا اے بھائیو! قصوں سے خدائتعالیٰ کو نہ پاو گے۔ ذکر کرو کیونکہ ذکر اللہ کے بغیر اللہ کو پہنچنے کا راستہ نہیں ہے۔


    ۱۹۳ 

    نیز فرمودند کہ تصدیق مہدی عمل کردن است۔ نہ اقرار نہ اعتقاد مجرد۳ ۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ مہدی علیہ السلام کی تصدیق عمل کرنا ہے نہ کہ صرف اقرار و اعتقاد۔


    ۱۹۴ 

    روزے ایں آیت خواند ند الذین یذکرون اللہ قیاما وقعود او علیٰ جنو بھم(جز۴ رکوع ۱۱) فرمودند کہ فرمان خدائتعالیٰ میشود کہ ایں آیت صفت گروہ مہدی است ایں آیت در حق گروہ مہدی است۴
    ترجمہ: ایک روز یہ آیت آپ نے تلاوت فرمائی جو لوگ کھڑے ہوے بیٹھے ہوے لیٹے ہوے اللہ کا ذکر کرتے ہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہورہا ہے کہ اس آیت میں مہدی کی جماعت کی صفت کا بیان ہے ۔ یہ آیت گروہ مہدی کے حق میں ہے ۔


    ۱۹۵ 

    اگر کسے را پرسیدے کہ فراغ ہست گفتے کہ آرے ہست فرمودے بندہ فراغ ظاہر ی نمی پُرسد خاطر با خدا ہست۔
    ترجمہ: اگر کسی سے پوچھتے کہ فراغ ہے؟ تو وہ کہتا کہ جی ہاں ہے۔ فرماتے کہ بندہ ظاہری فراغ کی نسبت نہیں پوچھ رہا ہے کیا دل خدا سے لگا ہے۔


    ۱۹۶ 

    باز فرمودے وقت طعام خودن و آب نوشیدن ویا بہر کارے کہ باشد خاطر با خدا نباشد آں طعام و آں آب و آں کا ر حرام باشد۔ کما قال اللہ تعالیٰ یا اےھا الذین اٰمنو ا لا تحرمواطیبات ما احل اللہ لکم ولا تعتدو ا ان اللہ لا یحب المعتدین (جز ئ۷ رکوع ۲) یعنے ۱ بغفلت طیبات حرام می شوند کما قال اللہ تعالیٰ ۔ وما لکم الا تاکلو ا مما ذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق (جزئ۸ رکوع ۱) و شریعت ِ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انیست۔ کما قال اللہ تعالیٰ شرع لکم من الدین ما وحی فیہ ط کبر علی المشرکین ما تدعوھم الیہ (جزء۵۲ رکوع ۳) و ناداناں فہم کردہ اند کہ شریعت مشغول بودن بزراعت و تجارت کہ رخصت شریعت است ذکر باشد یا نباشد در حق ایں قوم خدائے تعالیٰ فرمود۲ :۔ قال اللہ تعالیٰ یعلمون ظاھراً من الحیاة الدنیا وھم عن الآخرة ھم غافلون(جز ئ۱۲ رکوع ۴)
    ترجمہ: ایک دفعہ فرمایا کہ کھانا کھانے اور پانی پینے میں یا جس کام میں بھی مشغول ہوں دل خدائے تعالیٰ کی طرف لگاہوا نہ رہے تو وہ کھانا وہ پانی وہ کام حرام ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :۔ ” اے مومنو! جو چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں تم انھیں حرام نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ (کی حدود) سے تجاوز نہ کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ حد سے گذر جانیوالوں کو پسند نہیں فرماتا ہے (جزئ۷ رکوع ۲) یعنے غفلت کی وجہ طیبات بھی حرام ہوجاتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور تمہیں کوئی وجہ نہیں کہ ایسی چیزیں نہ کھائیں جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو(جزء۸ رکوع ۱) (ایضاً) اور ایسی چیزیں نہ کھاوِ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور بیشک (اس کا کھانا) فِسق ہے (جزئ۸ رکوع۱) اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت یہ ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ (اے محمد) ہم نے تمہارے لئے وہ دین انتخاب کیا ہے جس کا نوحعلیہ السلام کو حکم دیا تھا۔ اور ہم نے تم پر ایسی چیز وحی کی ہے جس کا ہم نے ابراہیم علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام و عیسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا تھا دین قائم کریں اور اس میں متفرق نہوجائیں ۔ جس دین کی طرف تم بلاتے ہو مشرکین پر بہت گراں و سخت ہے (جزئ۵۲ رکوع ۱) اور بے سمجھ لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ زراعت و تجارت وغیرہ کاروبار میں مشغول رہنے کی شریعت میں اجازت ہے ذکر اللہ جاری رہے یا نہ رہے ایسے لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے:۔ لوگ حیات دنیا کی ظاہر ی چیزیں جانتے ہیں اور وہ (امور) آخرت سے غافل ہیں(جزء۱۲ رکوع ۴)


    ۱۹۷ 

    نقلست کہ برادرے ۱ برائے خوردن غلہ یا چیزے می کوفت حضرت میراں علیہ السلام دیدند و فرمودند کہ چہ می کنید گفت ۲ میرانجیو باجری می کو بم فرمودند کہ میاں اگر یکمشت غلہ دادان ایں کار شود وقتِ خودرا ضائع نباید کرد۔ یکمشت غلہ بدہید و خود دریادخدائتعالیٰ باشید۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ ایک صحابیعلیہ السلام غلہ یا کھانے کی کوئی چیز کوٹ رہے تھے ۔ حضر ت مہدی علیہ السلام نے دیکھکر فرمایا کیا کررہے ہو ۔ عرض کیا میرانجی باجرہ کوٹ رہا ہوں ۔ فرمایا کہ میاں اگر ایک مٹھی غلہ دیدیتے تو یہ کام ہوجاتا۔ اپنا وقت ضائع نہ کرنا چاہئیے۔ ایک مٹھی غلہ دو اور خود اللہ تعالیٰ کی یاد میں رہو۔


    ۱۹۸ 

    نقلست بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند فتوح حق کسے را ہست کہ بر خدا توکل کند۔ و کسب ۳ ترک کند ۔ قال اللہ تعالیٰ للفقراءالذین احصروا فی سبیل اللہ الآیت (جزء۳ رکوع ۵) و کسبیاں را سویت ندا وند بلکہ از دائرہ بیروں کردند۔ آنہارا کہ بعد از کسب اختیار کردند۔ میراں علیہ السلام ایں رباعی خواند ند۔
    ہر آں کو غائب ازوے یکزمان است         دراں دم کافر است امانہا نست
    اگر خود غائبی پیوستہ باشد         درِ اسلام بردے بستہ باشد
    فرمودند طالب حق را با ید کہ
    پاسبان دل بشو د ر کل حال         تا نیا بد ہیچ و زد آنجا مجال
    ہر خیال غیر حق رادز د واں         ایں ریاضت مومناں را فرض داں
    غیر حق ہر زہ است کاں مقصود نیست         تیغ لا برکش کہ آں معبود نیست

    ترجمہ:روایت ہیکہ بندگیمیاںنعمت رضی اللہ عنہ نے فرمایا ” فتوح ان فقراءکا حق ہے جو خدائتعالیٰ پر توکل رکھتے ہوں اور کسب ترک کرچکے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ان فقراءکیلئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں محصور ہوگئے ہوں “ الی آخرہ ۔ اور کسب کرنے والوں کو سویت نہیں دیتے تھے بلکہ جن لوگوں نے بعد میں کسب اختیار کیا ہو ان کو دائرہ سے باہر کردیتے تھے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے یہ اشعار بیان فرمائے ہیں۔
    جو اس سے (اللہ سے) تھوڑی دیر کیلئے غافل ہے ۔ اس دم یعنی وقت غفلت میں وہ کافر ہے لیکن
    باطن میں کافر ہے۔ اگر کوئی ہمیشہ خدا سے غافل رہیگا تو سمجھو کہ اسلام کا دروازہ اس پر بند ہے۔
    فرمایا کہ طالب حق کو چاہئیے کہ:
    ہر حالت میں دل کی نگرانی کرتا رہ تا کہ کوئی چور وہاں داخل نہووے ۔ غیر حق کے ہر خیال کو چور سمجھ
    یہ ریاضت مومنوں کے لئے فرض جان غیر حق بیہودہ ہے کیونکہ وہ مقصود نہیں ہے۔ اس پر لا کی تیغ
    کھینچ کہ وہ معبود نہیں ہے۔


    ۱۹۹ 

    نیز نقلست کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ چہار قسم است۔ یکے لا الٰہ الا اللہ گفتنی است۔ دوم لا الٰہ الا اللہانستنی است۔ سوم لاالہ الا اللہ ویدنی است ۔چہارم لا الٰہ الا اللہ شد نی است ۔ وسہ مرتبہ ازیشاں انبیاءو اولیاءاست ۔یعنی علم الیقین و عین الیقین و حق الیقین ۔ ویک قسم ۱ کہ گفتن است ایمان منافقاں۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی چارسم ہیں ایک لا الٰہ الا اللہ صرف کہنے کی حد تک ہے دوسری لا الٰہ الا اللہ جو صرف جاننے کی حد تک ہے تیسری لا الٰہ الا اللہ جو دیکھنے کی حد تک ہے چوتھی لا الٰہ الا اللہ جو ہو نے کی حد تک ہے ان میں سے تین مرتبے تو انبیاءو اولیا کے لئے ہیں یعنی علم الیقین عنین الیقین حق الیقین اور ایک قسم جو کہ صرف کہنے کی حد تک ہے منافقوں کے ایمان سے متعلق ہے۔


    ۲۰۰ 

    نیز فرمودند کہ اگر لا الہ الا اللہ بر دل بندہ ایں مقدار قرار کند کہ دانہ مونگ بر شاخ گاوِ پس کار آں بندہ تمام شود۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ اگر لا الہٰ الا اللہ بندہ کے دل پر اس قدر اثر کرے جتنا مونگ کا دانہ گائے کی سینگ پر کرسکتاہے تو اس بندہ کا مقصد پورا ہوسکیگا۔


    ۲۰۱ 

    بدیں عبارت ہم فرمودند کہ لا الٰہ الا اللہ بر دل مومن ایں مقدار بما ند چنانچہ خانہ پُر پنبہ باشد اینجاذرہ آتش آدر دہ شود سوختہ شود۔ و لیکن صفت لا الٰہ چنیں ہست کہ ہمہ مجتہائے غیر خدا سوختہ کند۔
    ابیات :۔
    انفاس پاسدارا گر مردعارفی         ملک دو کون مِلک تو گرود بہ یک نفس
    ہریک نفس کہ میردو از عمر گو یست         گاں را خراج مِلک دو عالم بود بہا
    مپسند کایں خزانہ دہی رائیگاں بباد         انگہ روی بخاک تہی دست و بینوا
    دلے کز یاد مولیٰ نیست خرم         مبادا ہیچ گاہے خالی از غم
    کس ایں کند کہ دل ازیار خویش برادرد         مگر کسے کہ دل از سنگ سخت تردارد
    کما قال اللہ تعالیٰ من اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکاً و نحشرہ یوم القیامة اعمٰی الآ یت (جز ۶۱ رکوع ۶۱) حدیث قدسی ۔ یا ابن اٰدم تفرغ ۱ لعبادتی املاءصمک غنیً ۲ و اشد فقرک وان لم تفعل اسلاءیدک شغلاولم اشدک فقرک ۴ قال اللہ تعالیٰ واذکر ربک فی نفسک تضرعاً و خیفة ودون الجھر من القول بالغدود الاٰصال ولا تکن من الغافلین۔
    ابیات مثنوی
    آں روز خود مبادا کہ بے یار بگذرد         گرچہ ہزار عیش بود زار بگذرد
    افسوس صد ہزار کہ بع تورود ولے         لعنت براں حیات کہ بے یار بگذرد
    مثنوی:۔
    سعدی چو وصل یار میسر نمی شود         بارے بیاد دوست زمانہ بسر پری
    با ما بزباں یاری دل باد گراں دار ی         انصاف چنیں باشد شاباش زہے یاری
    تا دل زوجود خویش بر کندہ نہِ         در بند خودی خدائے را بندہ نہِ
    گیرم کہ تو جانی و جہاں زندہ بہ تست         تا زندہ بجاناں نشوی زندہ نہِ
    ایں دم کسے دے واری در یاب کن یاری         ایں فرصت ایکدم را عمرے ابدی کر دانہِ
    زندگانی نتواں گفت حیاتے کہ مراست         زندہ آنست کہ با دوست وصالے دارد

    ترجمہ:۔ اسی مضمون کے متعلق آپ نے یہ بھی فرمایاکہ لا الہٰ الا اللہ سے مومن کے دل پر ایسا اثر ہونا چاہئیے جیسا کہ روئی سے بھرے ہوئے گھر میں ایک چنگاری کرسکتی ہے کہ جس سے ساری روئی جل جاتی ہے۔ لیکن لا الہٰ الا اللہ کی تاثیر تو یہ ہیکہ غیر اللہ کی محبت پور پوری سوختہ ہوجاتی ہے۔
    اپنے سانسوں کی نگرانی کر اگر تو عارف ہے ۔ دونوں جہاں کی بادشاہت تیری ملک ایک ہی سانس میں ہوجائیگی ۔ عمر کی ہر ایک سانس جو نکل رہی ہے ایک موتی ہے جسکی قیمت دونوں جہاں کی بادشاہت ہے۔ اس خزانہ کو رائگاں کرنا تو پسند نہ کر ایسا کریگا تو خاک میں بینوا اور خالی ہاتھ جائیگا۔ جو دل خدا کی یاد سے خوش نہیں ہے وہ کسی وقت بھی ایسا نہو کہ غم سے خالی رہے ۔ کوئی شخص اپنے محبوب سے دل اٹھالیتا ہے۔ تو شاید وہ شخص وہی ہے جس کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے۔
    جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔ جس نے میرے ذکر سے رو گردانی کی تو بیشک اس کی معیشت تنگ و سخت ہے۔ اور ہم اس کا حشر قیامت کے دن اندھوں میں کریں گے۔ (جزء۶۱ رکوع ۶۱) حدیث قدسی ہیکہ اے آدم کے بیٹے تومیری عبادت کے لئے (غیر حق ) سے خالی ہوجا اپنے دل کو تونگری سے بھر لے اور اپنی محتاجی کو شدید کردے۔ اگر تو ایسا نہ کریگا تو میں تجھے دنیاوی افکار سے بھردونگا اور تیرا محتاجی کو بند نہ کرونگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور صبح و شام ڈر اور عاجزی سے اپنے رب کا ذکر بغیر آواز کے اپنے دل میں کرو اور غافلین میں مت ہوجاﺅ (جزء۹ رکوع ۴۱)


    ۲۰۲ 

    و فرمودند یک وقت سلطان النہار دیگر وقت سلطان الیل ہر کہ ایں ہر دو وقت را بدیں ترتیب بگاہد ارد از وشب و روز ضائع نہ رود۔ ہر کہ ایں دو وقت ضائع ۱ کرد فقیر دین نباشد۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک وقت سلطان النہار ہے اور دوسرا سلطان اللیل ہے جو شخص ان دو وقت کی حفاظت کر رہا ہو(گویا) اس سے دن اور رات ضائع نہیں جارہے ہیں۔ ان دو وقتوں کو جو (فقیر) ضائع کر وہ فقیر دین نہیں ہے۔


    ۲۰۳ 

    وحکم ذکر پنج پاس ذکر کثیر است بدیں ترتیب فرمودند کہ اول صبح تا یک و نیم پاس و بعداز ظہر تا بہ عشا بیاد حق تعالیٰ باشد ۔ وذکر قلیل صفت منافقاں است۔ کما قال اللہ تعالیٰ لا یذکرون اللہ الا قلیلا (جز ء۵ رکوع ۷۱) وذکر چہار پاس را ذکر مشرکاں فرمودند ۔ کما قال اللہ تعالیٰ من الناس من یتخذ من دون اللہ انداداً یحبونھم کحب اللہ والذین اٰمنوا اشد حباً لللہ(جزئ۲ رکوع ۴)
    ترجمہ: اور پانچ پہر کے ذکر کا جو حکم ہے وہ ذکر کثیر ہے۔ اس کی ترتیب آپ نے یہ بیان فرمائی کہ ابتداءفجر سے ڈیڑھ پہر دن تک۔ اور ظہر سے عشاءتک اللہ کی یاد میں رہے۔ (اور فرمایا)کہ) ذکر قلیل منافقوں کی صفت ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا یذکرون اللہ الا قلیلا ۔ یعنی بہت تھوڑا ذکر کرتے ہیں (جزء۵ رکوع ۷۱) اور چار پہر کے ذکر کو مشرکوں کا ذکر فرمایا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ بعض لوگ غیر اللہ کو (اللہ تعالیٰ کا) شریک بنالیتے ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کی محبت کی طرح محبت کر تے ہیں۔ اور جو مومنین ہیں (وہ تو صرف) اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں سخت ہیں (جزء۲ رکوع ۴)


    ۲۰۴ 

    نقلست کہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بعد از ہفتہ محضرہ میکردے و دراں محضر اکثر مہاجراں بودند۔ ہمچو ۱ ملک معروف و میاں دلاور رضی اللہ عنہو میاں لاڑ علیہ السلامو میاں سید سلام اللہ علیہ السلام و چند طالباں کہ در دائرہ بودند میراں سید محمود ہر بار کہ محضر میکردند یک یک مہاجراں را نام ستدہ میفر مودند کہ ایں بندہ درمیان برادراں خورد تراست۔ آنچہ شما از حضرت میراں علیہ السلام معلوم کردہ ایدبگوئید بعدہ مہاجراں ہریکے فرمودند کہ شما بفرمائید چند بارایں سخن یک دیگر تکرار شد۔ بعدہ میراں سید محمود فرمودند کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ذکر کثیر کنید و ذکر کثیر بدیں ترتیب فرمودند از اول صبح تا یک و نیم پاس در حجرہ باشند و کس یک جا نشوند و بعد از ظہر تا وقت عصر مشغول باشند ۔و بعدہ تا مغرب بیان قرآن بشنوند و بعد از مغرت تا وقت عشاءبذکر مشغول باشند۔ واگر از حجرہ کسے دریں اوقات بیروں آید آں حجرہ را پارہ پارہ کنند ۔ اور ا از دائرہ بیروں کنند اگرچہ ایں بندہ باشد ہمچناں کنند ہمہ یاراں قبول کردند۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ہر ایک ہفتہ کے بعد محضرہ کرتے تھے اس اجماع میں اکثر مہاجرین رہا کرتے تھے ۔ مثلاً حضرت ملک معروفعلیہ السلام و حضرت میاں دلاور رضی اللہ عنہ و حضرت میاں لاڑ علیہ السلام و حضرت میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہم اور چند طالبان خدا جو دائرہ میں موجود تھے (سب جمع ہوتے تھے) حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ جب اجماع کرتے ہر دفعہ ایک ایک مہاجر مہدی علیہ السلام کا نام لیکر فرماتے کہ یہ بندہ آپ بھائیوں میں بہت چھوٹا بھائی ہے۔ آپ لوگ حضرت مہدی علیہ السلام سے جو معلوما ت حاصل کئے ہیں بیان کریں ہر ایک مہاجر یہی کہتے کہ آپ ہی فرمائیے۔ با ہم ایسی ہی تکرار کے بعد حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بیان کرتے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرما یا ہے کہ ذکر کثیر کرو۔ اور ذکر کثیر کی ترتیب یہ بیان فرمائی کہ اول فجر سے ڈیڑھ پہر دن تک حجرہ میں رہیں۔ دو آدمی ایک جگہ نہ ملیں۔ اور ظہر سے عصر تک مشغول رہیں اور عصر کے بعد مغرب تک بیان قرآن سنیں ۔ اور مغرب سے عشاءتک ذکر میں مشغول رہیں۔ اگر اپنے اوقات میں کوئی حجرہ سے باہر آجائے تو اس کے حجرہ کو پار ہ پارہ کردیں اور اس کو دائرہ سے باہر کردیں۔ اگر یہ بندہ بھی ہو تو یہی عمل کریں۔ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے قبول کیا۔


    ۲۰۵ 

    روزے میراں سید محمود رضی اللہ عنہ در حجرہ میاں خوند شیخ علیہ السلام پنہاں نشستند کہ بہ بنیم کدام کس از حجرہ بیرون آید بعداز ساعت یک مہاجر آہستہ آہستہ از حجرہ بیروں آمد میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بہ دید ندو فرمودند میاں خوند شیخ اورا گرفتہ بیارید فرمودند ہمہ برادراں چہ قرار ۱ دادہ اند۔ گفت دیروز ہیرم یکجا کردہ گزاشتہ آمدہ ام مبادا کسے ہبردبداں سبب بیروں آمدم ۔ فرمودند ہیچ کس ہیز شما نخواہد بردو اپس بروید فائدہ جمعیت ہیں است۔
    ترجمہ: ایک روز حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ‘ میاں خوند شیخ رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں چھپ کر بیٹھ گئے (اور فرمایا) کہ کون حجرہ سے باہر آتا ہے میں دیکھتا ہوں۔ ایک گھڑی بعد ایک مہاجر آہستہ آہستہ حجرہ سے نکل آئے۔ حضرت میاں سید محمود رضی اللہ عنہ نے دیکھکر فرمایا کہ میاں خوند شیخ علیہ السلام انکو پکڑ لاوِ (جب انکو پیش کیا گیا تو) آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ (تمہیں معلوم نہیں کہ) بھائیوں نے کیا طے کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ کل لکڑیاں جمع کرکے چھوڑ آیا ہوں‘ کوئی لے نہ جائے اس لئے باہر نکلا ہوں۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا کوئی تمہاری لکڑیاں نہ لیجائیگا ۔ واپس جاﺅ جمعیت (سب کے ساتھ داری) کا فائدہ یہی ہے


    ۲۰۶ 

    نقلست کہ وقت صبح حضرت میراں علیہ السلام در حجرئہ میاں سید امین محمد و میاں یوسف رضی اللہ عنہما جہت دفع سرما برتنور رفتند د ید ند کہ نان می پزند فرمودند ایں کار شمانیست ایشاں ۲ گفتند کہ میرانجیو تنور گرم شدہ بود بداں سبب کردینم فرمودند دریں وقت نباید پخت و نباید خورد۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ صبح کے وقت حضرت مہدی علیہ السلام میاں سید امین محمد و میاں یوسف رضی اللہ عنہما کے حجرہ میں سرما کی وجہ تنور کے پاس تشریف لیگئے ۔ آپ نے دیکھا کہ (حضرت مذکور) روٹی پکا رہے ہیں ۔ فرمایا یہ تمہارا کام نہیں ہے انھوں نے عرض کیا کہ میرانجی تنور گرم ہے اس لئے ہم نے روٹیاں پکالی ہیں ۔ فرمایا اس وقت نہ تو پکانا چاہئیے نہ تو کھانا چاہئیے۔


    ۲۰۷ 

    نقلست کہ فرمودند مبتدیاں را قرآن نباید خواند کہ دل غافل میشود۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مبتدیوں کو قرآن نہ پڑھنا چاہئیے دل (ذکر سے) غافل ہوجاتا ہے۔


    ۲۰۸ 

    نقل است کہ بندگی میاں سید خوندمیرعلیہ السلام اول وقت نماز بطعام مشغول شدے موذن را خبر کردے ۱ کہ تا خیر کند کہ میاں طعام میخوردند۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نماز سے پہلے اول وقت تناول طعام میں مشغول ہوجاتے تو (بعض اہل دائرہ) موذن کو مطلع کر دیتے تھے کہ ذرا ٹھیر جائے تا کہ میاں کھانے سے فارغ ہوجائیں۔


    ۲۰۹ 

    در دائرہ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ وقت ظہر جماعت شدہ بود میاں خوند شیخ مہاجرعلیہ السلام را یک دو رکعت نماز ا جماعت فوت شد۔ میاں نظام رضی اللہ عنہ فرمودند میاں خوند ۱ شیخ در شماصفت منفقی مینما ید کہ از شما دو رکعت نماز با جماعت فوت شد۔ گفتند چگو نہ تکبیر اولیٰ فوت شد؟ میاں خوند شیخ علیہ السلام گفتند بطعام خوردن نشستہ بودم بداں عذر تا خیر شد۔ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ فرمودند شما ایں چنیں متابعت حضرت میراں علیہ السلام میکنید حضرت میراں علیہ السلام بعد از شنیدن اذاں لقمہ کہ درست بودے نخوردے و فرد گذاشتے۔
    ترجمہ: حضرت بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں نماز ظہر کی جماعت کا وقت ہوگیا تھا۔نماز با جماعت سے میاں خوند شیخ مہاجر رضی اللہ عنہ کی ایک دو رکعت چھوٹ گئیں ۔ حضرت میاںنظام رضی اللہ عنہ نے فرمایا میاں خوند شیخ تم میں منافقی کی صفت پائی جارہی ہے جس کی وجہ دو رکعت چھوٹ گئیں ۔ اور فرمایا کہ تم نے تکبیر اولیٰ کیوں چھوڑدی۔ میاں خوند شیخ علیہ السلام نے عرض کیا کہ کھانے پر بیٹھا ہوا تھا اس لئے دیر ہوگئی۔ حضرت بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم حضرت مہدی علیہ السلام کی اتباع ایسی ہی کر رہے ہو؟ حضرت مہدی علیہ السلام تو اذاں سننے کے بعد جو لقہ کہ ہاتھ میں ہوتا چھوڑدیتے تھے اور کھانا نہیں کھاتے تھے۔


    ۲۱۰ 

    نقل است کہ یکے بدست خاشاک گرفتہ پارہ پارہ کردویکے دوالی شمشیر گرفتہ می جننا ند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ یک لمحہ فرشتگاں را فرصت دہید تا نہ نویسند۔
    ترجمہ : روایت ہیکہ ایک صاحب کاڑی ہاتھ میں لیکر تکڑے تکڑے کر رہے تھے۔ اور دوسرے صاحب تلوار کا پٹہ پکڑ کر گُھا رہے تھے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک لمحہ تو فرشتوں کو (نامہِ اعمال ) لکھنے سے فرصت دو۔


    ۲۱۱ 

    حضرت مہدی علیہ السلام در اوقاتِ ذکر حکایت دینی ہم لا یعنی فرمودہ اند۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے اوقات ذکر میں دینی گفتگو کو بھی لا یعنی فرمایا ہے۔


    ۲۱۲ 

    بعد از مغرب ملک معروفعلیہ السلام و میاں لاڑ علیہ السلام ۲ مذاکرہ آیت کے وقت عصر بیان شدہ بود ہمیں کردند ۳ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ فرمودند جمعیت را بشکنید ۔ پراگندہ ۴ شدید ۔ فاذا قضیت الصلوة فانتشر و ا فی الارض وابتغوا من فصل اللّٰہ واذکرو اللّٰہ کثیراً لعلکم تفلحون (جزء۸۲ رکوع ۲۱)
    ترجمہ: مغرب کے بعد حضرت ملک معروف و حضرت میاں لاڑ رضی اللہ عنہا اس آیت سے متعلق باہم گفتگو کر رہے تھے جس آیت پر عصر کے وقت بیان ہوا تھا۔ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جماعت (کے اتفاق ) کو توڑ رہے ہو منتشر ہوجاﺅ (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) جب نماز ادا کرلیجائے تو منتشر ہوجاﺅ اللہ تعالیٰ کے فضل کی جستجو میں ہوجاﺅ اور اللہ تعالیٰ کا بہت ذکر کرو تاکہ تم فلاح یاب ہوجاﺅ(جز۸۲ رکوع ۲۱)


    ۲۱۳ 

    نقل است کہ حضرت میراں علیہ السام دریں آیت ۔ یا ےھا الذین اٰمنوا لا تقربو الصلوٰة وانتم سکاریٰ (جزئ۵ رکوع ۴) ہستئی دنیا مراد داشتہ اند۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے آیہِ کریمہ یا اےھالذین اٰمنوا لا تقربو الصلوة وانتم سکاریٰ (اے ایمان والو ں نشہ کی حالت میں نماز نہ ادا کرو(جزئ۵ رکوع ۴ ) کے متعلق فرمایا کہ اس سے مراد دنیا کی نشہ بھی ہے۔


    ۲۱۴ 

    روزے یک خراسانی بآدند شراب در دائرہ بیامد برادراں اِذن طلبید ند کہ آونداو بشکنند فرمودند مستیِ او بعد از ساعتے خواہد رفت پیش بندہ مستان دنیا آمدہ ہشیارمی شوند۔
    ترجمہ: ایک روز(بیان قرآن کے وقت) ایک خراسانی شراب کا شیشہ لئے ہوئے دائرہ میں آیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کا شیشہ توڑدینے کی اجازت طلب کی۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا اسکی نشہتھوڑی دیر بعد جاتی رہیگی ۔ بندہ کے پاس تو دنیا کی نشہ والے آکر ہشیار ہوجاتے ہیں۔!!


    ۲۱۵ 

    ۱ منقول است از میاں نعمت رضی اللہ عنہ کہ در دائرہ خود بعضے زنان را یافتند کہ کشیدہ می کنندبرائے قوت خود۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند فتوح حق کسے است کہ بر خدائتعالیٰ توکل میکندد کسب ترک میکند قال اللہ تعالیٰ للفقراءالذین احصرو ا فی سبیل اللّٰہ (جزء۳ رکوع ۵)
    ترجمہ: حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اپنے دائرہ میں بعض مستورات کو اپنے قوت کیلئے کشیدہ کاری کرتے ہوئے پاتے تو فرماتے کہ فتوح ان لوگوں کا حق ہے جو خدائتعالیٰ پر توکل کرتے ہیں اور کسب ترک کر چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ان فقراﺅ ں کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے راستہ میں محصور ہیں ۔ (جزء۳ رکوع ۵)


    ۲۱۶ 

    نقل است یکے از یاراں پر سید ند میرانجیوعلیہ السلام بعضے کساں بعد از نماز فجر خواب می کنند۔ زجر بسیار کردند کہ نباید خفت یکے گفت حضرت ہم خواب می کنند تبسم کردہ فرمودند کہ بندہ بعد ازیں نخواہد خسپید۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ایک صحابیعلیہ السلام نے حضرت مہدی علیہ السلام سے عرض کیا کہ بعض فقراءنماز فجر کے بعد سوجایا کرتے ہیں۔ آپعلیہ السلام نے بہت تہدید کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ سونا چاہئیے۔ ایک نے عرض کیا کہ خود مہدی علیہ السلام بھی تو سوجایا کرتے ہیں۔ آپعلیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ بندہ اب نہیں سوئیگا۔


    ۲۱۷ 

    بعد از چند روز بعد نماز فجر ۱ حضرت میراں علیہ السلام در جماعت خانہ نشستند و سوئے قرآن خواں التفات کردند و فرمودند کہ بندہ را نشستن نمی دہد بسخن گوجری فرمودند کہ بندہ ۲ راپوٹ کردہ می انداز و ازیدن آں سبب پہلو بر زمین می نہم۔
    ترجمہ: چند روز بعد نماز فجر کے بعد حضرت مہدی علیہ السلام جماعت خانہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور قرآن خواں کی طرف پلٹ کر فرمایا کہ بندہ کو تم بیٹھنے نہیں دیتے ہو اور گوجری زبان میں فرمایا کہ بندہ کو بے تاب کردیا ہے۔ اس لئے پہلو زمین پر رکھتا ہوں۔


    ۲۱۸ 

    نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام بیان عشق می کردند۔ مولٰنا درویش محمد علیہ السلام نعرہ۳بزد و جامہ پارہ کرد و گفت عشق از کجا بیا ریم ۔ فرمودند بندہ عشق کسبی بیان می کند کار کنید تا عشق بیا بید عشق عطائی پیغمبراں ۱ را بود علیہم السلام۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام عشق کا بیان فرما رہے تھے مولٰنا درویش محمد علیہ السلام نے جامہ چاک کرکے نعرہ لگایا کہ ہم عشق کہاں سے لائیں۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا بندہ عشق کسبی بیان کر رہا ہے کام کرو تا کہ عشق حاصل ہوسکے عشق عطائی تو پیغمبروں کے لئے مخصوص ہے علیہم السلام۔


    ۲۱۹ 

    و نیز فرمودند کہ خدائے را بچشم سرور جہاں دیدنی است با یدید و برہریکے مرد و زن طلب دیدار خدا فرض است یا بچشم دل یادر خواب۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائتعالیٰ کو سر کی آنکھوں سے اس دنیا میں دیکھنا ہے دیکھنا چاہئیے اور ہر ایک مرد و عورت پر طلب دیدار خدا فرض ہے خواہ چشم دل سے ہو خواہ خواب میں۔


    ۲۲۰ 

    نیز فرمودند کہ ایمان ذات ۳ خدا ہست و حق تعالیٰ مرا فرستادہ است برائے بیان احکام ولایت محمدیہ کہ از بیان مہدی علیہ السلام تعلق وارد۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ایمان ذات خدا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے ولایت محمدیہ کے ان احکام کو بیان کرنے کے لئے مبعوث فرمایا ہے جو کہ مہدی موعود علیہ السلام سے متعلق ہیں۔


    ۲۲۱ 

    نیز فرمودند کہ آدم علیہ السلام گندم کاشت و نوح علیہ السلام آب داد ابراہیم علیہ السلام کشت پاک کرد وخاشاک بیرون انداخت و موسیٰ علیہ السلام دروکرد و عیسیٰ علیہ السلام خرمن کرد۔ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرد کردو نان پخت و خود چشید و برائے مہدی داشت واز مہدی بتابعاں رسید۔
    ترجمہ: (حضرت مہدی علیہ السلام نے) فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے گےھوں کی کاشت کی۔ اور حضرت نوح علیہ السلام نے کھیت کو پانی دیا۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کھیت کو رزواید سے پاک کیا اور کاڑی کچرا نکال پھینک دیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فصل کی کاٹی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے غلہ جمع کیا اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹا بنایا روٹی پکائی ‘ خود کھائی اور مہدی علیہ السلام کے لئے رکھ چھوڑا اور مہدی علیہ السلام سے اس کے متبعین کو بھی پہونچی۔


    ۲۲۲ 

    میاں سید خوندمیرعلیہ السلام کرت و مرت ایں حکایت فرمودند کہ وقت رحلت حضرت میراں علیہ السلام سر خود بکنار میاں سید امین محمد داشتہ بودند ہم دریں میاں سید خوندمیرعلیہ السلام آمدند میرانجیو فرمودند کہ کدام است جواب دا دہ شد کہ سید خوندمیرعلیہ السلام میرانجیوعلیہ السلام فرمودند نزدیک بیائید چوں نزدیک شدم سر خود بکنار من نہادند۔ آیتہ خواند ند ۔ قل ھٰذہ سبیلی ادو ا الی اللّٰہ علیٰ بصیرة انا ومن اتبعنی (جزئ۳۱ رکوع۶)۔ و نیز گوجری ہم فرمودند و فرمودند میاںسید خوندمیرعلیہ السلام شمارا فہم نمی شود آنچہ بندہ میگوید واضح گفتن نمی تواند اند کے زبان بستہ شدہ است ۔ و سبحان اللّٰہ وما انا من المشرکین۔ (جز ۳۱ رکوع۶) میاں سید خوندمیرعلیہ السلام یعنی چنیں فرمودند کہ اکثر مومناں مشرک اند۔
    ترجمہ: حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے بارہا یہ روایت بیان فرمائی کہ رحلت کے وقت حضرت مہدی علیہ السلام اپنا سر مبارک میاں سید امین محمد رضی اللہ عنہ کے گود پر رکھے ہوئے (لیٹے ) تھے اتنے میں میاں سید خوندمیر علیہ السلام آگئے میرانجی علیہ السلام نے پوچھا کون ہیں؟ جواب دیا گیا کہ سید خوندمیر ہیں میرانجی علیہ السلام نے فرمایا نزدیک آجاﺅ۔ جب میں نزدیک ہوا تو حضرت نے اپنا سر مبارک میرے گود پر رکھدیا اور یہ آیت شریفہ پڑھنے لگے۔ ”کہو یہ میرا راستہ ہے میں اللہ کی طرف بصیرت پر بلاتا ہوں۔ اور وہ بھی (بلائیگا) جو میرا تابع ہے(جزئ۳۱ رکوع ۶) نیز گوجری زبان میں بھی (کچھ ) فرمایا۔ اور فرمایا سید خوندمیرعلیہ السلام ! بندہ کی گفتگو تمہاری سمجھ میں نہ آرہی ہوگی قدرے زبان میں بستگی ہے بندہ واضح طور نہیں کہہ سک رہا ہے۰ (پھر یہ آیت آپعلیہ السلام نے پڑھی) ” سبحان اللہ ہم دونوں مشرکین سے نہیں ہیں(جزئ۳۱ رکوع ۶)۔ میاں سید خوندمیرعلیہ السلام یعنی ایسا فرمایا کہ اکثر مومنین مشرک ہیں۔


    ۲۲۳ 

    حضرت ایں آیت را بفرمان ِ خدائتعالیٰ در حق گروہ مہدی علیہ السلام داشتہ اند ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد و منھم سابق باالخیرات باذن اللّٰہ ط ذالک ھوالفضل الکبیر (جزئ۲۲ رکوع ۴) بیان چنین فرمودہ اند کہ بعضی ظالم لنفسہ باشند یعنی ملکوتی اند اند کے نباسوت ماندہ باشند و بعضی مقتصد باشند یعنی جبروتی و اند کے میل بملکوتی دار ندو بعضی سابق بالخیرات یعنی لا ہوتی۔ دریں مراتب مذکورہ سبب ایراث و اصطفینا از حق فضلی بزرگ و عبار تے دیگر نیز فرمودند ظالم لنفسہ آنکہ فنا چشیدہ باشد و مقتصد آنکہ نیم فنا شدہ باشد ازیں سہ فرقہ یکی علم الیقین داد ویکی عین الیقین ویکی حق الیقین چنانچہ ملکوتی۔جبروتی ۔لاہوتی۔ پس بہ ہین اے برادر توازیں مرتبہ مومن ملکوتی و میان جبروتی و لاہوتی ازیں سہ مقام بیروں ہستی ناسوتی۔ وایں مقام کافران است ۔ بیشک ہریکی ازیں سہ مقام ندار د و طلب و سعی ہم ندارد و ماتم نمی کند آں از گروہ مہدی علیہ السلام نباشد از مدعیاں و مکذباں باشد۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے اس آیت کو خدائتعالیٰ کے حکم سے مہدی کے گروہ کے حق میں بیان فرمایا ہے ۔ ” ہم نے ہمارے بندوں سے جس کو بر گزیدہ کیا اس کوپھر ہم نے کتاب(قرآن) کا وارث بنایا ان میں سے بعض ظالم لنفسہ ہیں اور بعض ” مقتصد“ (متوسط درجہ کے) ہیں اور بعض اللہ کی توفیق سے سابق بالخیرات (نیکیوں میں ترقی کرنے والے) ہیں ۔ یہ تو بہت ہی بڑا فضل ہے (جزئ۲۲ رکوع ۶۱) اس آیت کی یہ تفسیر بیان فرمائی کہ بعض لوگ ظالم لنفسہ ہیں یعنی ملکوتی ہیں تھوڑا سا ناسوت کا اثر ان میں باقی ہے۔ اور بعض ” مقتصد “ ہیں یعنے جبروتی ہیں تھوڑا سا ملکوت کا اثر انمیں باقی ہے ۔ اور بعض ” سابق بالخیرات “ ہیں یعنی لا ہوتی ہیں۔ ان مراتب میں وراثت اور برگزیدگی اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔
    نیز ایک مطلب یہ بھی بیا ن فرمایا کہ ” ظالم لنفسہ“ وہ ہے جو فنا چشیدہ ہو اور ” مقتصد“ وہ ہے جو نیم فنا ہو۔ ان تین جماعتوں میں ایک کو علم الیقین ایک کو عین الیقین ایک کو حق الیقین حاصل رہتا ہے ۔ چنانچہ ملکوتی ۔جبروتی۔ لاہوتی۔ پس اے بھائیو! تمہیں غور کر لینا چاہئیے کہ ملکوتی‘ جبروتی‘ لاہوتی مومن کے ان تین مقامات سے تم باہر تو نہیں ہے (اگر) ہیں تو (سمجھ لو کہ) تم ناسوتی ہو۔ اور یہ کافروں کا مقام ہے (اللّٰھم احفظنا من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا ومن کیدا لابلیس فقیر محمود غفرلہ) جو شخص ان تین مقامات سے کوئی مقام نہیں رکھتا اور کوشش بھی نہیں کرتا اور (اپنے نقص پر) رنج و غم بھی نہیں کرتا ہے بیشک وہ مہدی کی گروہ سے نہیں ہے ۔ دعویٰ کرنے والوں اور جھٹلانے والوں میں اس کا شمار ہوگا۔ (اللّٰھم اٰتنا تصدیق المھدی کما ھو تصدیقہ و احینیا فی زمرة المھدی و امتنافی زمرة المھدی و احشرنا یوم القیمة فی زمرة المھدی ۔ فقیر محمود غفرلہ)


    ۲۲۴ 

    نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ خدائتعالیٰ بندہ را انگہ فرستاد کہ از خلق معنی دین رفتہ بود مگر در مجذوباں۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائتعالیٰ نے بندہ کو اس وقت بھیجا جبکہ مخلوق میں دین کا مطلب باقی نہ رہا تھامگر (تھا تو صرف) مجذوبوں میں تھا۔


    ۲۲۵ 

    نیز فرمودند صورت بے معنی ۱ با صورت کمال سودندارد۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ (جس شخص کا باطن ) بے معنی ہو (اس کا) صورتاً (بظاہر) باکمال ہونا بے سود ہے)


    ۲۲۶ 

    نیز فرمودند آنچہ در بیان آید ہمہ شریعت است و حقیقت در بیان نیاید۔
    ترجمہ: نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کچھ بیان کیا جاسکتا ہے وہ سب شریعت ہے۔ اور حقیقت بیان میں نہیں آسکتی۔


    ۲۲۷ 

    نیز فرمودند کہ بندہ قدم بر قدم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آمدہ است در بنیائی چشم سر و چشم دل بصدقہ متابعت تمام۔ ولیکن بچشم سر و چشم دل یعنی موبموہمہ آئنیہ و چشم شدہ است۔
    ترجمہ: نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسم کے قدم بقدم چلتا آیا ہے۔ اور بینائی چشم سر و بینئی چشم دل میں آنحضرت ہی کی پوری پوری متابعت رکھتا ہے۔ لیکن چشم سر چشم دل (کی اطلاقیت اس درجہ پر پہنچ چکی ہے کہ) ایک ایک رونگٹا آئینہ در چشم بن چکا ہے۔


    ۲۲۸ 

    حضرت میراں علیہ السلام در خراسان میان مجمع بیان فرمودند کہ فرمان حق تعالیٰ شد کہ اے سید محمد خدائے را بچشم سر دیدہگفتم آرے خداوندا دیدہ ام ۔ باز فرمان شد خدائتعالیٰ راو رائے چشم سرد چشم دل یعنی موبمودیدئہ گفتم آرے خداوندا دیدہ ام فرمودند کہ دریں حضرت رسول علیہ السلام حاضر اند بپر سید گواہ شد ہ اند ۱ بر بینائی ما۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے خراسان میں ایک عام مجلس میں بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہورہا ہے اے سید محمد ! تم نے خدائتعالیٰ کو چشم سر سے دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں خداوندا میں نے دیکھا ہے ۔ پھر فرمان ہوا کہ خدائتعالیٰ کو چشم سر و چشم دل کے درے یعنے موبمو دیکھاہے ۔ میں نے عرض کیا ہاں خداوندا میں نے دیکھا ہے (آپعلیہ السلام نے یہ بھی) فرمایا کہ اس مجلس میں حضرت رسول علیہ السلام موجود ہیں پوچھ لو۔ وہ گواہ ہیں۔


    ۲۲۹ 

    روزے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ ایشاں سروران دین مصاحبان رسول علیہ السلام بودند ۲ و برابر ایشاں در فضیلت صحبت ہیچکس نبا شد اگر چہ کامل و اکمل اولیاء ۳ بودند لیکن در مرتبہ بینائی ہمچو خاتم الاولیاءہنہ بودند زیر اچہ بار امانت کما حقہِ ہمیں دو تن برداشتند محمد نبی و محمد مہدی علیہما السلام۔
    ترجمہ: ایک روز حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ (صحابہ نبوت) دین کے سردار اور حضرت رسول علیہ السلام کے مصاحب ہیں فضیلت ِ صحبت میں ان کے برابر کوئی شخص نہیں ہے اگر چہ کامل و اکمل اولیاءتھے لیکن بینائی کے مرتبہ میں خاتم الاولیاءکے جیسے نہیں تھے کیونکہ بار امانت کما حقہ صرف دوہی تن نے برداشت کیا ہے ایک محمد نبی دوسریے مہمی مہدی (صلی اللہ علیہما)


    ۲۳۰ 

    نقل است و قتے حضرت میراں علیہ السلام ایں بیت خواندند ۔ مصرعہ اولیٰ ۱ چند بار تکرار کردند بعدہ برخواستند۲ و بوریا از زیر ۳ خود برداشتند و بر زین خسپیدند۔ مصرعہ دوم خواند ۴ چند بار تکرار کردند غرض آنکہ سخن ۵ بر عمل از زبان مبارک بیرون نیامدہ است و آں بیت ایں است۔
    سوئے ۶ طریق سالکاں جز تو نظر کہ میکند         بر سر خاک خفتگاں جز تو گذر کہ میکند

    ترجمہ: روایت ہیکہ ایک وقت حضرت مہدی علیہ السلام نے یہ بیت پڑھی ایک مصرعہ آپعلیہ السلام نے بار بار پڑھا ۔ اس کے بعد برخواستہ ہوگئے اور بوریا اپنے نیچے سے (جو بچھا ہوا تھا ) اٹھا کر زمین پر لیٹ گئے پھر دوسرا مصرعہ بار بار پڑھنے لگے۔غرضکہ کوئی بات بغیر عمل کے زبان پر نہیں آئی ہے ۔ وہ بیت یہ ہے :۔
    سالکوں کے طریقہ کی‘ طرف تیرے سوائے ک