باب ہشتم
- دربیان منع کردن از علم خواندن
۱۵۸
نقل است کہ از حضرت میراں علیہ السلام میاں نعمت رضی اللہ عنہ رخصت طلبید ند برائے علم خواندحضرت میراں علیہ السلام فرمودندکہ اگر شما پیش ازیں علم خواندہ بودے مرا قبول نکردے۔
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی موعود علیہ السلام سے علم پڑہنے کی اجازت چاہی حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایاکہ اگر تم اس سے پہلے علم پڑھے ہوتے تو مجھکو قبول نہ کرتے۔
۱۵۹
برادر دیگر پر سید اگر رضے میراں علیہ السلام شود وقت قیلولہ علم بخوانیم فرمودند بلکہ بہتر است کہ قیلولہ ۱ کنید۔
ترجمہ ایک دوسرے صحابی علیہ السلام نے درخواست کی کہ اگر حضرت کی اجازت ہو تو قیلولہ کے وقت علم پڑھ لیتا ہوں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ بہتر تو یہ ہے کہ قیلولہ کرلیں۔
۱۶۰
ملک بخن بازیوالعلیہ السلام میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ را پر سیدند کہ ازقرآن خواندن چیزے فائدہ ہست؟ فرمودند کہ اگر قرآن چنانچہ خاندن باید بخوانید ولے بردلِ مومن پر دہ نور ہم میان بندہ و حق تعالیٰ پیدامی شود۔ واز ذکر خدائتعالیٰ لا الہ الا اللہ است پر دہِ نور درید ہ میشود۔
ترجمہ: ملک بحن باڑی وال رضی اللہ عنہ نے حضرت میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ قرآن پڑہنے سے کچھ فائدہ بھی ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اگر قرآن جیسا کہ پڑہنا چاہئیے پڑھا جاے تو مومن کے دل پر بندہ اور خدا کے درمیان پردہ نور پیدا ہوجاتا ہے اور ذکر خدا جو کہ لا الہ الا اللہ ہے اس سے پردہ نور بھی اٹھ جاتا ہے ۔
۱۶۱
نیز نقل ۲ است میاں شاہ نظام رضی اللہ عنہ وقتی قیلولہ در حال خسپیدہ و دردست خبرداشتہ ۔ بندگی میراں علیہ السلام رسید ند و فرمودند میاں نظام رضی اللہ عنہ چہ مطالعہ کنید؟ گفتند خبر است ۔ فرمودند خبر را بیند ا زید دنبال ذکر باشید۔ بعد مدتے میراں علیہ السلام در حجرہ میاں نظام رضی اللہ عنہ آمد ندو فرمودند کہ آں خبر کجا است کہ شمار مطالعہ کردہ بودید۔ گفتند بجائے اند اختہ فراموش کردم فرمودند بیارید از جاے پیدا کردہ۔ باز از جائے پیدا کردہ آدردند ۔ حضرت میراں علیہ السلام فر ردند ایں
خبر مطالعہ کنید دریں ہم مقصود خدا است۔
ترجمہ: روایت ہے کہ میاں شاہ نظام رضی اللہ عنہ قیلولہ کے وقت ہاتھ میں حدیث کی کتاب رکھے ہوے سوگئے تھے (اتفاقاً) حضرت مہدی علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا کہ میاں نظام کیا مطالعہ کر رہے ہو؟ عرض کیا کہ حدیث (کی کتاب) ہے آپعلیہ السلام نے فرمایا حدیث (کی کتاب) رکھدو اور ذکر میں مشغول رہو ایک عرصہ گزرنے کے بعد حضرت مہدی علیہ السلام میاں نظام رضی اللہ عنہ کے حجرہ میں تشریف لائے اور فرمایا کہ وہ حدیث (کی کتاب ) کہا ں ہے جو تم مطالعہ کر رہے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ کہیں رکھکر بھول گیا ہوں فرمایا ڈھونڈ لاوِ۔ آپ نے وہ کتاب تلاش کرکے پیش کردی حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ حدیث کی اس کتاب کا مطالعہ کرو اس میں بھی خدا کا مقصود ہے۔
۱۶۲
و مہتر عیسیٰ صلوة اللہ علیہ وسلم فرمودند کہ من از ندہ کردن مردہ باذ ن اللہ ۱ عاجز نیم و لیکن از تفہیم کردن عالمِ احمق ۲ عاجزیم۔
ترجمہ مہتر عیسیٰ صلوٰة اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کردینے میں عاجز نہیں ہو ں لیکن عالم احمق کی تفہیم کرنے سے عاجز ہوں۔
۱۶۳
نیز نقل است کہ در خراسان عالمے پیش حضرت میرانجیو علیہ السلام آمد و گفت کہ یارانِ شما احکام نماز نمی دانند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند بندہ چہ می داند کہ ریش دراز کردہ اندوایں مقدار ندانستہ اند بگوئید کہ میان ِ یکدیگر بیا موند۔ باز بعد از چند روز گفت کہ یاران شما نماز گزاردن نمی دانند فرمودایں چنیں نماز شما بگزارید۔
ترجمہ روایت ہے کہ خراسان میں ایک عالم حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کے ساتھی نماز کے احکام نہیں جانتے ہیں حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا مجھے کیا معلوم کہ یہ لوگ داڑھیاں لمبی کرچکے اور اتنا بھی نہیں جانتے ۔ ان سے کہو کہ آپس میں معلوما ت حاصل کریں پھر چند دنوں بعد اسی عالم نے عرض کیا کہ آپ کے ساتھی نماز ادا کرنا نہیں جانتے ۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا ایسی نماز (جیسی کہ یہ ادا کرتے ہیں) تم ادا تو کرو !!!
۱۶۴
بعضے وقت حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ علم لابدی باید تا نماز و روزہ و احکامِ ۳ اوبشنا سد تا درست
شود۔
ترجمہ ایک وقت حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ علم لابدی چاہئیے تاکہ نماز روزہ اور اس کے احکام معلوم ہوں اور نماز درست طریقہ پر ادا ہوسکے ۔
۱۶۵
نیز فرمودند برائے فہم معانی قرآن نور ایمان بس است۔
ترجمہ نیز فرمایا کہ قرآن کے معنی سمجھنے کے لئے نور ایمان کافی ہے۔
۱۶۶
ایک روز میرانسید محمود رضی اللہ عنہ کتابے دردست داشتند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کدام کتاب است جو اب دادند کہ تمہید است فرمودند کہ کوشش ذکر بکنید تا حالے پدید آید وایں را فہم کردن بتوانید۔
ترجمہ ایک روز حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ میں کتاب رکھے ہوئے تھے حضرت میراں علیہ السلام نے پوچھا کونسی کتاب ہے آپ نے عرض کیا کہ ” تمہید “ ہے فرمایا کہ ذکر کی کوشش کرو تاکہ کیفیت پیدا ہو اور اس کو سمجھنے کی قوت حاصل ہو۔
۱۶۷
نیزنقل است بندگی میاں ابو بکر و بندگیمیاں سید سلام اللہ علیہ السلام میراں۱ سید محمود رضی اللہ عنہ را گفتند کہ علم بخوانید ۔ فرمودند کہ از حضرت میراں علیہ السلام رضا بگیرم۔ پیش حضرت میراں علیہ السلام عرض کردند فرمودند کہ شما در کوچہِ ایشاں مروید۔ دریا و خدائے تعالیٰ باشید تا باطن بکشاید۔
ترجمہ: روایت ہے کہ بندگیمیاں ابو بکر و بندگی میاں سلام اللہ رضی اللہ عنہما نے حضرت میرانسید محمود رضی اللہ سے کہا کہ آپ علم پڑہئیے ۔ آپ نے کہا حضرت مہدی علیہ السلام سے اجازت حاصل کرلیتا ہوں ۔حضرت سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم ان لوگوں کے کوچہ میں جاوِ ہی نہیں خدائتعالیٰ کی یاد میں رہو یہانتک کہ باطن کھل جائے۔
۱۶۸
حضرت میراں علیہ السلام بدست میاں نظام رضی اللہ عنہ کتابے دیدہ فرمودند کہ چسیت گفتند کہ انیس۲ الغربا نزہتہ الارواح است فرمودند مخوانید ۳ ودریا و حق مشغول شوید کہ پردہِ دیدار حق معائنہ روزی گردانیدہ شود بمنہ
ترجمہ : حضرت مہدی علیہ السلام نے حضرت میاں نظام رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھکر فرمایا یہ کیا
ہے۔ آپ نے عرض کیا کہ ”انیس الغربا نزہتہ الارواح “ ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ مت پڑہو اور اللہ کی یاد میں مشغول رہو تاکہ اس ذات کے فضل و احسان سے دیدار ِ حق نصیب ہوسکے۔
۱۶۹
باز بعد از چند روز بدست بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ کتابے دید ند باز ہمیں نوع منع کردند۴ بعدہ میاں نظام رضی اللہ عنہ بکلی ایں خیال دور کردند بعد از مدتے حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ میاں نظام آں کدام کتاب بود گفتند انیس ۱ الغربا۔ فرمودند کہ بخوانید و بہ بنیید کہ بحالِ شماآں کتاب موافق است ۔ بعدہ میاں نظام رضی اللہ عنہ آں کتاب گاہ گاہ خواند ند۔ بعد از مدتے حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ چیزے علم بخوانید۔
ترجمہ: چند روز بعد حضرت بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پھر آپ نے کتاب دیکھی اور اسی طرح منع فرمایا۔ اس کے بعد سے حضرت میاں نظام رضی اللہ عنہ نے اس خیال کو بالکل ہی دور فرمادیا ۔ ایک زمانہ بعد حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا میاں نظام رضی اللہ عنہ وہ کونسی کتاب تھی عرض کیا کہ ” انیس الغربا“ فرمایا کہ پڑھو مطالعہ کرو کیونکہ اب تمہارے حال کے مطابق ہے۔ اس وقت سے حضرت میاں نظام رضی اللہ عنہ کبھی کبھی وہ کتاب پڑہا کرتے تھے اور کچھ زمانہ بعد حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ کچھ علم بھی پڑھ لو۔
۱۷۰
و فرمودند کہ از حضرت باری تعالی جز امی لدنی عطانمی شود۔ یا امی اصلی باشد یا جعلی بندہ را پیش ازیں علم ظاہر بود آں علم را فرموش گردانید ند بعد ازاں بعلم قرب۲ مقرب کردند۔
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بارگاہ رب العزت سے علم لدنی کے سوئے کچھ عطا نہیں ہوتا ہے ۔ امی اصلی ہو یا جعلی (یعنے بعد میں امی بنادیا گیا ہو) بندہ کو اس سے قبل جو علم ظاہر تھا وہ بھلادیا گیا۔ اس کے بعد علم قرب سے مقرب کیا گیا ہے۔
۱۷۱
نیز فرمودند کہ امی راتختہ سینہ صاف ہست ہر چہ بشود بردل بہ نشیندکما قال اللّٰہ تعالٰی ھو الذی بعث فی الامیین رسولا (جزء۸۲ رکوع ۱۱)
ترجمہ: نیز فرمایا کہ امی کا سینہ صاف ہوتا ہے جو سنتا ہے دل نشین ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ وہی ہے
جس نے امیوں میں رسول کو بھیجا (جزء۸۲ رکوع ۱۱)
۱۷۲
نیز نقل است کہ ملک معروفعلیہ السلام بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ را گفتند شمارا چیزے خواند ن می آید فرمودند۳ لا بدی و چیزے اند کے بعدہ ملک معروفعلیہ السلام گفتند کہ بعد از شغل اندک اندک نسخہِ علم بکنیم ۔ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ گفتند کہ خوب باشد ۔ بعدہ ملک معروفعلیہ السلام فرمودند کہ ہر چہ م ی کنیم بغیر اذن حضرت میراں علیہ السلام نمی کنیم باید ۴ کہ رخصت بستانیم ہر دو کس بدیں نیت پیش میرانجیوآمد ند۵ چونکہ پیش نظر شدند حضرت میراں علیہ السلام نا پرسید ہ ایں رباعی خواند ند۔
علم بطلب کہ باتو ماند
آندم کہ ترازتو رہاند
تا علم فریتہ را نخوانی
تحقیق صفات حق ندانی
ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت ملک معروفعلیہ السلام نے بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو کچھ پڑھنا آتا ہے؟ فرمایا کہ کچھ تھوڑا سا یعنی لابدی حضرت ملک معروفعلیہ السلام نے کہا کہ ہم شغل(ذکر)کے بعد تھوڑا تھوڑا علم حاصل کرلیا کریں گے۔ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ نے کہا اچھی بات ہے۔ ملک معروفعلیہ السلام نے کہا کہ ہم جو کچھ کریں گے حضرت میراں علیہ السلام کی اجازت کے بغیر نہیں کریں گے۔ اجازت حاصل کرلینا چاہئیے ۔ یہ دونوں حضرات اس غرض سے حضرت میرانجی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے جب پیش نظر ہوئے تو حضرت میراں علیہ السلام کچھ پوچھے بغیر یہ رباعی پڑہنے لگے (ترجمہ رباعی) ایسا علم طلب کرو جو تمہارے ساتھ رہے۔ اور وقت پر تم کو تمہاری ہستی کے زندان سے نجات دلادے جبتک علم فریضہ حاصل نہ کروگے ۔ صفات حق کی تحقیق نہ جان سکو گے۔
۱۷۳
حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کسے کہ بسیار خواند بسیار خوار شدہ غلبہ ۱ طلب دنیا گردو گر نہ در عجب افتدو انچہ بندہ گوید براں عمل دار ید تا بینا گردید ۲
ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص بہت پڑھ لیتا ہے بہت خوار ہوجاتا ہے (کیونکہ ) طلب دنیا غالب ہوجاتی ہے یا عجب و غرور میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ بندہ جو کچھ تعلیم دیا کرتا ہے اسی پر عمل کر وگے تو بینا ہوجاو گے۔