Mahdi ahs
  • His Nasab
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    Nooriana Audio Player

    Download urdu fonts   
    for better viewing




    باب ہفتم      - دربیان حکم منافقی کردن

    ۸۸ 

    میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ اگر آں بیان کہ حضرت میراں علیہ السلام کردہ اندآں بیان کنیم کسانیکہ موافق مہدی علیہ السلام ہستعند مارا سنگسار کنند در یک شہر یک سال دو سال ما ندن نتوانیم زیر اکہ مہدی علیہ السلام را پیش از دعوی مہدیت از چند جا اخراج ۱ کردند بہ سبب بیان حق ۔ ایں سخن کرت و مرت فرمودہ اند۔
    ترجمہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ بیان جو حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے اگر میں بیان کروں تو جو لوگ کہ موافق مہدی موعود علیہ السلام ہیں وہی سنگسار کریں گے۔ اور ہم کسی شہر میں سال دو سال رہ نہ سکیں گے چنانچہ دعوے مہدیت سے قبل محض بیان حق کی وجہ چند مقامات سے اخراج کیا گیا ہے یہ بات حضرت بار بار بیان فرمایا کرتے تھے۔


    ۸۹ 

    و میاں دلاور رضی اللہ عنہ ہم ایں سخن کرات و مرات فرمودہ اند کہ آنچہ از حضرت مہدی علیہ السلام شنیدہ ام اگر آں پیش بعضے مہاجراں بگوئم ایشاں مرا سنگسار بکنند۔
    ترجمہ:۔ میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے بھی بار ہا بیان فرمایا ہے کہ حو کچھ حضرت مہدی علیہ السلام سے میں نے سنا ہے اگر بعض مہاجرین سے بیان کروں تو وہ مجھے سنگسار کریں گے۔


    ۹۰ 

    نیز ۲ نقلست از بندگی میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند در آخر وقت دین نقصان خواہد شد و ہردو مباحثہ کنند گاں جاہل۔ دراں وقت اثبات بایدیکے در معنی غلو کنند ویکے در ظاہر بحث کنند ہر دو گروہ را دریں فائدہ نیست۔
    ترجمہ: حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا آخر زمانہ میں دین گھٹ جائیگا ۔ مباحثہ کرنے والے دونوں جاہل (رہیں گے) اس وقت مومنین کو ثابت (قدم ) رہنا چاہئیے (ایک جماعت کے جاہل لوگ) معنی (یعنے باطن کے مسائل ) میں غلو کریں گے (اور ایک جماعت کے جاہل لوگ صرف) ظاہر (کی حیثیت) میں بحث کریں گے ۔ ان ہر دو کو اس میں کوئی بہرہ نہیں ہے۔


    ۹۱ 

    واز میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ منقول است کہ حضرت میراںعلیہ السلام فرمودند کہ کساینکہ مہدی را قبول نمی کنندہ و نام رسول اللہ می شنو ند د و در و دمی فرستند اگر (بالفرض) رسول اللہ دریں وقت حاضر باشند د ایشاں را وحی خدائتعالیٰ برسانند اگر سنگسار نہ کنند ایں بندہ کذاب است و ہر چہ میگوید ہمہ دروغ است۔
    ترجمہ:۔ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا جو لوگ مہدی کو قبول نہیں کر رہے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنتے ہیں اور درود بھیجتے ہیں اگر (بالغرض) رسول اللہاس وقت موجود بھی ہوجائیں اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ وحی پہونچائیں تو یہ لوگ (مہدی علیہ السلام) پر سنگسار نہ کریں تو سمجھنا کہ یہ بندہ کذاب ہے۔ اور جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے۔


    ۹۲ 

    بزرگوارے فرمودہ اند کہ حکایت دین اسلام دریں زماں چنیں شدہ است کہ قصا بے پر کا لہائے گوشتِ گاوِ دارلحرب در محلہ۱ زنارداراں بر سر کردہ بآواز بلند بگوید کہ کسے گوشت گا ۲و میخرد ضرور خلق اور ابکشد۳ یا نہ؟ ایں حکایت میاں شاہ نعمت رضی اللہ عنہ کردہ اند و گفتہ اند کہ ایں حکایت دروشِ حضرت میراں علیہ السلام دیارانِ دے ہمچنیں شدہ ۴ است کہ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان الدین بدءغریباً و سیعود الدین کما بدء فطروبیٰ للغربائ
    ترجمہ:۔ ایک بزرگ کا بیان ہے کہ اس زمانے میں دین اسلام کا بیان ایسا ہوگیا ہے جیسا کہ کوئی قصاب گائے کا گوشت دارالحرب میں‘ برہمنوں کے محلہ میں سر پر لے جائے اور پکا ر پکار کر کہنے لگے کہ کوئی ہے جو گائے گوشت خریدے۔ لازماً وہاں کے لوگ اس کو ماریں گے یا نہیں؟ یہ روایت حضرت شاہ نعمت رضی اللہ عنہ نے بیان کی اور فرمایا کہ یہی حال حضرت میراں علیہ السلام اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ بیشک دین شروع ہوا اس حال میں کہ وہ غریب (اجنبی) تھا اور جیسا کہ شروع ہوا تھا ویسا ہی مستقبل میں ہوجائیگا ۔ پس خوشخبری ہو غرباءکے لئے یعنی ان لوگوں کیلئے جن کو ان کی مذہبی پابندی کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ کسی اجنبی کے ساتھ کیا جاتا ہے)


    ۹۳ 

    نیز منقول است کہ میاں شیر ملکعلیہ السلام حضرت میراں علیہ السلام را پر سیدند کہ آنچہ خوندکار می گویند ہمہ حق است پس علما ءچرا مخالفت می کنند۔ فرمودند کہ ایشاں ضعیف اند۔ اگر ایشاں را قوت باشد مرا سنگسار کنند کہ دنیا محبوب ایشاں است وہر کہ محبوب کسے را ہر روز و شنام دہد چوں خوش آید۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ میاں شیر ملک رضی اللہ عنہ نے حضرت میراں علیہ السلام سے سوال کیا کہ خوندکار جو کچھ فرماتے ہیں سب حق ہے پھر علماءکیوں مخالفت کرتے ہیں۔ فرمایا کہ یہ لوگ کمزور ہیں۔ اگر ان میں سکت ہوتی تو مجھے سنگسار کرتے کیونکہ دنیا ان کی محبوب ہے اور جو شخص کسی کے محبوب کو ہر روز برا کہتا ہو تو ان کو بھلا کیسے معلوم ہوگا۔


    ۹۴ 

    میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ خلق تا آں زماں کہ با ما مخالف است امید دین ہست ۔ ہر وقت کہ خلق با ما موافق ۱ شود معلوم شودکہ ازمیان ۲ ما دین کلی برفت۔
    ترجمہ:۔ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مخلوق جبتک ہم سے مخالفت کرتی رہیگی دین( باقی رہنے ) کی امید ہے۔ جب موافق ہوجائیگی تو پھر معلوم ہوجائیگا کہ ہم میں سے دین نکل چکا ہے۔


    ۹۵ 

    نیز فرمودند د در عقیدہ نبشتہ اند ہر کہ مہدی را قبول کندو از ہجرت و صحبتِ مہدی علیہ السلام باز ماند اور احکم منافقی حضرت میراں علیہ السلام بحکم ایں آیت فرمودند لا یستوی القاعدون من المومنین غیر اولی الضر الآیہ (جز ئ۵ رکوع ۰۱) حاصل معنی ایں آیت آنست کہ ۳ مجاہدان براولی الضرر بیک مرتبہ فاضل اند و برغیر اولی الضرر بہ مرا بتہائے بسیار فاضل اند پس ایشاں را بجائے درجات درکات باشد و بجاے مغفرت عذاب باشد و حکم نفاق بر قاعداں کہ غیر اولی الضرر بودند معلوم است۔
    ترجمہ:۔ نیز حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص مہدی علیہ السلام کو قبول کرتا ہے اور فرض ہجرت اور حضرت کی صحبت سے باز رہتا ہے حضرت مہدی علیہ السلام نے اس کے لے منافقی کا حکم اس آیہِ شریف کی رو سے بیان فرمایا ہے۔ ” مومنین سے جو غیر اولی الضرر قاعدین ہیں وہ برابر نہیں ہیں“ (مومنین اولی الضرر کے ) (جز ء۵ رکوع ۰۱)
    اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مجاہدین ‘ اولیٰ الضرر پر ایک مرتبہ کی فضیلت رکھتے ہیں اور غیر اولی الضرر پر کئی مراتب کی فضیلت رکھتے ہیں۔ پس ان لوگوں کو درجات کے بجائے خسارات ہوں گے اور مغفرت کے بجائے عذاب ہوگا اور قاعدین غیر اولی الضرر پر نفاق کا جو حکم ہے ظاہر ہے۔


    ۹۶ 

    بندگی ملک معروف رضی اللہ عنہ را در شہر نہروالہ زحمت بسیرا شدہ بود ۔ بعدہ از یک سال در جالور رفتند رحلت کردند۔ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ خدائے تعالیٰ ملک معروف را ہجرت کنانیدہ وصال روزی کردو فرمودند چنانچہ در عہد پیغمبر ہجرت فرض بودودر عہد مہدی علیہ السلام ہم ہجرت فرض است ۱ بحکم آیت ہجرت۔
    ترجمہ: بندگی ملک معروف رضی اللہ عنہ کو شہر نہروالہ میں (مرض کی) بہت تکلیف ہوگئی تھی ایک سال بعد جالور گئے اور آپ نے وہیں رحلت فرمائی۔ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ نے ملک معروف کو ہجرت کا موقع دیکر وصال روزی کیا ہے ۔ اور فرمایا کہ جیسا کہ حضرت رسول کے زمانے میں ہجرت فرض تھی اسی طرح حضرت مہدی علیہ السلام کے زمانے میں بھی ہجرت کی آیت کے حکم کے بموجب فرض ہے


    ۹۷ 

    حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ہیچ آیت قرآن منسوخ نیست و در قرآن تکرار و جملہ معترضہ د حرف زایدہ نیست
    ترجمہ:۔حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن شریف کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے اور قرآن شریف میں تکرار و جملہ معترضہ و حرف زاید بھی نہیں ہے۔


    ۹۸ 

    نیز فرمودہ اند ہر کہ از گجرات ہجرت کردہ بخراسان آمدہ اند اگر میل دل او بوطنِ پیشین ۴ باشد ظالم است۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ جو لوگ گجرات سے ہجرت کرکے خراسان میں آئے ہیں اگر ان میں سے کسی کا دل اپنے وطن کی طرف مائل ہو تو وہ ظالم کے حکم میں ہے۔


    ۹۹ 

    وبراں معنی فرمودند کہ ایک ہزار کس در طلبِ حق تعالیٰ قدم می نہادند و دنیا و آنچہ در دنیا است ترک می کنند و بہ عبادت و تقویٰ چنانچہ شاید ۶ و باید مشغول می شوند و فرشتگان را فرمان می شود کہ دنیا آراستہ بنمائید ایشاں را فتح و فتوح روے می نما ید نہصد بدیں ۷ مشغول شوند د یکصدمی مانند باز فرشتگاں را فرمان میشود کہ عقبیٰ برایشاں آراستہ بہ نمائید از ایشاں نود بہ عقبیٰ توجہ می کنند اکوں دہ کس می مانند ۔ باز فرمان میشود کہ برایشاں بلا ہا نامزد و کنید فقر و فاقہ و ایذاے خلق و اخراج از خانہا۔ نہُ کس از بلا ہا بگریزند پس ازمیان ۸ ہزار طالب کہ طلب حق اختیار کردہ بودند یک کس ۹ بخدارسید سبحانہ و تعالیٰ
    ترجمہ۔ اور اسی مطلب کو ظاہر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ایک ہزار آدمی اللہ تعالیٰ کی طلب کا ارادہ کرتے ہیں اور دنیا و اہل دنیا سے ترک تعلق کرتے ہیں۔ عبادت و تقویٰ میں جیسا کہ مشغول ہونا چاہئیے مشغول ہوتے ہیں۔ (ادھر) فرشتوں کو حکم ہوتا ہے کہ دنیا آراستہ کرکے ان کو دکھائی جائے اور ان کو فتح و فتوح بھی بتلائی جائے۔ (اس صورت میں) نو سوا فراد اس طرف مشغول ہوجاتے ہیں اب ایک سورہ جاتے ہیں پھر فرشتوں کو حکم ہوتا ہے کہ آخرت آراستہ کرکے ان کو دکھائی جائے(اس صورت میں) نو د افراد اس جانب مائل ہوجاتے ہیں۔ اب ان میں دس رہ جاتے ہیں ۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ان پر بلائیں نازل کیجائیں فقر و فاقہ اور خلق کی ایذا اور گھروں سے اخراج میں مبتلا کیا جائے (اس صورت میں) نو افراد بھاگ نکلتے ہیں ایک ہزار افراد میں سے صرف ایک طالب رہ جاتا ہے جو حق سبحانہ‘ و تعالیٰ کو پہنچ سکتا ہے


    ۱۰۰ 

    نیز منقول است کہ وقتی میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ از جالور بموضع بھدری والی با دائرہ آمد ند و بعضی عزیزاں خیلخا نہائے خویش بطرف شہر نہروالہ رواں کروند بے رخصت بندگی میاں رضی اللہ عنہ چونکہ بندگیمیاں رضی اللہ عنہ شنید ند بسیار تنگ آمد ند و بایاراں وبا بعضے ہمرازاں مشورت کردنک کہ بندہ سفر ۱ حواہد کرد۔ ودر دائرہ نخواہد ماند شمارا باید کہ یک شتر فلاں جا مستعد کردہ بدارید در شب من آنجامی آیم ایشاں ہمچناں کردند بندگی میاں بآخر شب از دائرہ بیرون شدند ہیچکس راخبر نہ کردند ملک حماد علیہ السلام را معلوم شد نبال شدند مقدارے راہ رفتند و جاے کہ وعدہ کردہ بود آنجا رسید ند آں برادارں کہ حوالہ اشتر بودند دانستند کہ کسانِ دائرہ ۲ شب خبر شدہ است و از دائرہ براے مزاحم شدن می آیند از انجابا شتر پیشتر شد ند و بندگی میاں با صفت ہستی می روند ۳ ہیچ التفات چپ و راست می کنند معلوم نیست کہ ملک حماد دنبال می آیند ۔ زیر درخت قرار کردند۔ و بمنا جات حق مشغول می شدند کہ الہی من لائق مرشدی نیم و بجاے میراں سید محمد نشستن سزا وار گردایندم و چندیں خلعتہا ترا ادم و معانی قرآن ترا عطا کردم بندگی میاں رضی اللہ عنہ بار دیگر عذر خواہی کردند باز ہمیں شنید ند کہ باتو کار بسیار است ۴ تو کجا میروی ۔ بعد ازاں میاں رضی اللہ عنہ ہشیار شد ند و ملک حماد علیہ السلام را پس خود دید ند طلبیدہ پرسید ند کہ را ہ دائرہ کدام طرف است بعدہ رواں شدند ملک حماد علیہ السلام پر سیدند کہ دو آواز شنیدیم دومی آواز تراں کہ بود ۵ ۔ فرمودند ازانِ حق بود چوں درونِ دائرہ آمد ند بعد اشراق آنکساں را کہ خیلخانہا رواں کردہ بودند طلبیدہ بسیار زجر کردند و آیات قرآن برایشاں بیان کردند۔
    یا ےھا الذین آمنولا تتخذوا آباءکم و اخوانکم اولیاءان استحبو الکفر علی الایمان ومن یتولّٰھم منکم فاولئک ھم الظالمون ہ قل ان کان آبائکم و ابنائکم و اخوانکم و ازواجکم و عشیرتکم و اموال ن اقتر فتموھا و تجارة تخشون کسادھا و مسٰکن ترضونھا احب الیکم من اللّٰہ و رسولہ وجھا د فی سبیلہ فتربصوا حتی یاتی اللّٰہ بامرہ۔ واللّٰہ لا ےھدی القوم الفاسقین (جزء۰۱ رکوع ۹) لا تجد قوما یومنون باللّٰہ والیوم ۵ الآخر یو ادون من حاد اللّٰہ و رسولہ ولو کانوا آباءھم او ابناءھم و اخوانھم او عشیرتھم اولئک کتب فی قلوبھم الایمان و ایدھم بروح منہ و ید خلھم جنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فےھا رضی اللّٰہ عنھم و رضواعنہ اولئک حزب اللّٰہ الا ان حزب اللّٰہ ھم المفلحون۔(جزء۸۲ رکوع ۳) لن تنفعکم ارحامکم ولا اولادکم یوم القیامة یفصل بینکم واللّٰہ بما تعملون بصیر۔ قد کانت لکم ا سوة حسنة فی ابراہیم والذین معہ اذ قالو القو مھم اِنّا برئٰ وامنکم ومما تعبدون من دون اللّٰہ کفرنا بکم وبدءبینا و بینکم العداوة والبغضاءابدا حتی تومنو ا باللّٰہ وحدہ (جز ئ۸۲ رکوع ۷) مانندایںآیتہا۱ بسیار خواند ند و تا یکپاس روز بیان کردند و زجر کردند بصفت جلالیت ۔ بعدہ برادرانِ دائرہ رجوع کردند و خطائے ۲ خود قبول کردند و خیلخانہا برخود واپس طلبید ند۔

    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ جس وقت میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ جالور سے موضع بھدری والی میں مع دائرہ تشریف لائے اور چند عزیزوں نے اپنے خاندان والوں کو بندگی میاں رضی اللہ عنہ کی اجازت کے بغیر شہر نہروالہ کی جانب روانہ کردیا ۔ جب بندگی میاں رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہو تو بہت رنجیدہ ہوئے بعض صحابہ و ہمراز حضرات سے بطور مشورہ فرمانے لگے کہ بندہ سفر کریگا۔ دائرہ میں نہ رہیگا۔ آپ لوگوں کو چاہئیے کہ ایک اونٹ فلاں جگہ تیار رکھیں ۔ رات کو میں وہا ں آجاونگا ۔ ان حضرات نے یہی عمل کیا۔ بندگیمیاں رضی اللہ عنہ آخری شب میں دائرہ سے نکل گئے آپ نے کسی کو اس کی خبر نہ دی ملک حماد رضی اللہ عنہ کو کسی طرح معلمو ہوگیا پیچھے دوڑے (بندگیمیاں رضی اللہ عنہ ) اس مقام پر پہنچے جہاں کہ آنے کا وعدہ تھا۔ لیکن وہ حضرات جن پر اونٹ لانے کی ذمہ داری تھی ۔ اس خیال سے کہ دائرہ کے لوگوں کو خبرہوجاے اور مزاحم ہوں اس جگہ سے اونٹ لیکر اور آگے بڑھ گئے تھے۔ اور بندگیمیاں رضی اللہ عنہ مستانہ انداز میں کسی جانب التفات کئے بغیر چل رہے تھے آپ کو علم نہ تھا کہ ملک حماد علیہ السلام پیچھے چلے آرہے ہیں۔ بندگیمیاں رضی اللہ عنہ ایک درخت کے نیچے ٹھیر گئے اور اللہ تعالیٰ سے مناجات میں مشغول ہوگئے کہ الہی میں مرشدی کے لائق نہیں رہا۔ اور حضرت میراں سید محمد کا جانشین ہونے اور پسخوردہ وسویت دینے کے قابل نہیں رہا ۔ غیب سے آواز آئی کہ ” اے سید خوندمیر میں نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور سید محمد کی جا نشینی کے قابل بنایا ہے اور بہت کچھ خلعیتں تم کو عطا کی ہیں اور فہم معانی قرآن بھی تم کو عطا کیا ہے۔ “ بندگیمیاں رضی اللہ عنہ نے پھر عذر خواہی کی اس دفعہ بھی آپ نے وہی آواز سنی کہ ” تم پر تو ابھی بہت کچھ کام ہے کدھر جاتے ہو“ اس کے بعد (بندگی میاں رضی اللہ عنہ) ہوش میں آے۔ اور ملک حماد رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے دیکھکر آپ نے قریب بلایا۔ اور دریافت فرمایا کہ دائرہ کا راستہ کدھر ہے اور پھر چلنے لگے۔ ملک حماد علیہ السلام نے سوال کیا کہ میں نے دو آوازیں سنی ہیں۔ دوسری آواز کس کی تھی؟ فرمایا کہ حق تعالیٰ کی جانب سے تھی جب دائرہ میں تشریف لائے تو اشراق کے بعد ان لوگوں کو جنھوں نے اپنے خاندان والوں کو روانہ کیا تھا بلا کر آپ نے بہت ڈانٹا۔ اور قرآن شریف کی آیا ت پر بیان سنایا۔
    ” اے ایمان والو! تمہارے باپ ‘ بھائی‘ اگر ایمان کے مقابلہ میں کفر کو پسند کریں تو تم ان سے محبت اختیار نہ کرو۔ اور تم میں سے کوئی شخص ان سے محبت اختیار کرے گا تو ایسے تمام لوگ ظالم ہیں(اے محمد صلعم) آپ کہدیجئے کہ اگر تمہارے باپ تمہاری اولاد تمہارے بھائی تمہاری بیویاں تمہارے قرابتدار اور تمہارا مال جسے تم نے جمع کیا ہے اور (تمہاری) تجارت جس کے بند ہوجانے سے تم ڈرتے اور تمھارے گھر جن کو تم عزیز رکھتے ہو (یہ سب) اللہ و رسول اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے سے تمہیں عزیز ہیں تو اس وقت کا انتظار کرو جب کہ (جلد یا بدیر)اللہ تعالیٰ قہر نازل کرے ۔ اور اللہ تعالیٰ فاسقین کی جماعت کو ہدایت نہیں فرماتا۔ (جزء۰۱ رکوع ۹) تم ایسی قوم کو جو اللہ و آخرت پر ایمان لا چکی ہو اس شخص سے محبت کرتی نہ پاوگے ۔ جس نے اللہ و رسول کی مخالفت کی ہو (اور یہ مخالفت کرنیوالے) اگرچہ ان (مومنین ) کے باپ ہوں یا اولاد ہوں یا بھائیاں ہوں یا قرابتدار ہوں۔ ان سب( مومنین )کے دلوں میں اللہ تعالےٰ نے ایمان قائم فرمادیا ہے اور اپنے نور ہدایت سے ان کی مدد فرمائی ہے اور ان کو ایسی جنت میں داخل فرمائیگا جس میں نہریں بہتی ہیں جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی جماعت ہیں باخبر ہوجاوِ کہ اللہ کی جماعت ہی فلاح یافتہ ہے (جزئ۸۲ رکوع ۳) تم کو قیامت کے دن تمہارے قریبی قرابتدار اور تمہارے بچے ہرگز فائدہ نہ پہونچاسکیں گے ۔ تم کو (کفر و ایمان کی وجہ اس دن) جدا جدا کردیگا اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے تحقیق کہ تمہارے لئے ابراہیم کا اور ان کے ساتھ والے مومنین کا اسوہ حسنہ موجود ہے کہ اس وقت (ابراہیم اور ان کے مومنین نے) اپنی (مخالف) قوم سے کہدیا تھا کہ ہم تم سے بیزار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سواے تم جن کی عبادت کرتے ہو ان سے بھی بیزارہیں۔ ہم نے تمہارے دین سے کفر کیا ہے۔ اور تمہارے ہمارے درمیان بغض و عداوت ہمیشہ رہیگی یہانتک کہ تم اس ایک خدا پر ایمان لے آو۔ (جزء۸۲ رکوع ۷)
    ایسی بہت آیات سنائیں اور ایک پہر تک بیان فرماتے رہے اور آپ نے پرُ جلال انداز میں تہدید فرمائی اس کے بعدبرادران دائرہ نے رجوع کیا اپنی غلطی تسلیم کرلی اور اپنے خاندان والوں کو واپس بلالیا۔


    ۱۰۱ 

    نیز منقول است کہ ملک الہداد علیہ السلام وقتے از جالور آمدند و چند روز نزدیک شہر نہروالہ فرود آمد ہ فرمودند کہ مبادا کسے براے ملاقات قرابتاں برود ۔ اگر ایشاں ایں جابیانید ملاقات کنید ۱ و اگر شما بروید بعد ازاں در دائرہ نیا ئید ہر جاکہ خواہید بمانید۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ ملک الہداد رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ (جبکہ) جالور سے آکر چند دن شہر نہر والہ کے قریب قیام فرمایا تو حکم دیا کہ کوئی اپنے عزیزوں سے ملاقات کیلئے نہ جائیں۔ البتہ وہ خود یہاں آجائیں تو ملاقات کرسکتے ہیں۔ اگر تم خود چلے جائیں تو پھر دائرہ میں نہ آئیں جس جگہ جی چاہے رہ جائیں۔


    ۱۰۲ 

    منقول است ملک معروف ۲ پیش حضرت میراں علیہ السلام عرض کردند کہ از نزد مادر من مکتوب آمدہ است کہ یکبار براے ملاقات بیائید ۔ اگر رضا باشد میردم ۔فرمودند کہ جواب چنیں ۳ بنویسید کہ ملک معروف ۴ مرد۔
    ترجمہ :۔ روایت ہے کہ ملک معروف رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی علیہ السلام سے عرض کیا کہ میری والدہ صاحبہ کے پاس سے خط آیا ہے کہ ایک دفعہ تو ملنے کے لئے آوِ اگر اجازت ہو تو جاتا ہوں فرمایا کہ یہ جواب لکھدو کہ ملک معروف مرچکا۔


    ۱۰۳ 

    منقول است کہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ آں کساں را کہ بخانہائے موافقاں برفتند راہ خرچ دادہ از دائرہ بیرون ۵ کردند۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو جو موافقین کے گھر گئے ہوں خرچ سفر دیکر دائرہ سے خارج فرمادیا۔


    ۱۰۴ 

    منقول است وقتی کہ بعضے یاران از کاہہ۱ باز گشتند میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ ہم رواں شدہ اند برخصت میراں علیہ السلام بعضے یاراں پیشِ حضرت میراں علیہ السلام معلوم ۲ کردندکہ میراں جیو علیہ السلام میانسید خوندمیر را رفتن مدہید کہ اقار بان ایشاں اہل دنیا اند باز آمدن نخواہند داد بعد ہ فرمودند کہ رخصت بندہ ۳ است بفرستادنِ ایشاں خدائتعالیٰ دین خودرا زیارت خواہد کرد۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم مقام کاہہ سے جب واپس ہوے تو میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ بھی حضرت مہدی علیہ السلام کی اجازت سے روانہ ہوگئے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت مہدی موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ میرانجی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کو جانے نہ دیجئے کیوں کہ ان کے قرابتدار اہل دولت ہیں ان کو واپس آنے نہ دیں گے آپعلیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ کی اجازت ہے ان کو روانہ کرنے میں (مصلحت یہ ہے کہ) خدائتعالیٰ اپنے دین میں ترقی عطا فرمائیگا۔


    ۱۰۵ 

    منقول است از میاں دلاور رضی اللہ عنہ کہ روزے حضرت میرانعلیہ السلام در حق کسانیکہ باز گشتہ اند بہ گجرات رفتند حکم منافقی و مرتدی کردند۔ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ و میاں نعمت رضی اللہ عنہ یکدیگر گفتند کہ مانیز رفتہ بودیم حال ما چسیت میاں نعمت رضی اللہ عنہ پیش حضرت میرا ں علیہ السلام عرض کردند میرانجیو یک لمحہ مراقبہ کردہ بعد ہ فرمودند کہ فرمان میشود کہ ایشاں قبول شدند باز آں کسانیکہ حضرت میراں علیہ السلام برایشاں حکم منافقی کردہ بودند در دائرہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ آمدہ رجوع کردند د ثابت قدم ماند ند د در دائرہ مردند۔ بعضے یاراں میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ را سوال کردند کہ در حق ایشاں چہ می فرمایند فرمودند کہ بندہ را چہ مجال است ایں جادم زینم و لیکن چونکہ رجوع کردند و ثابت قدم تا آخر دم یا تضرع و زاری ماند ناد امید قبول است چوں باقاعداںغیر اولی الضرر دوستی و ملاقات روانیست ایشاں را میراث ہم نیست ۴ کہ میراں علیہ السلام بر ایشاں نسبتِ حکم منافقی کردہ اند۔
    ترجمہ:۔ میاں دلاور رضی اللہ عنہ سے روایت ہیکہ اُن لوگوں کے حق میں جو گجرات کی طرف لوٹ گئے حضرت مہدی علیہ السلام نے منافق و مرتد کا حکم صادر فرمایا۔ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ اور میاں نعمت رضی اللہ عنہ آپس میں کہنے لگے کہ ہم بھی گئے تھے ہم پر کیا حکم ہوگا۔ میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں اس گفتگو کا ذکر کردیا حضرت نے ایک لمحہ مراقبہ کرنے کے بعد فرمایا کہ فرمان ہورہا ہے کہ یہ لوگ مقبول ہیں کچھ عرصہ بعد جن لوگوں پر حضرت مہدی علیہ السلام نے منافقی کا حکم صادر فرمایا تھا وہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں آکر رجوع ہوے اور ثابت قدم رہے اور دائرہ ہی میں وفات پائی۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ان لوگوں کے حق میں کیا فرماتے ہیں آپعلیہ السلام نے یہ فرمایا کہ بندہ کی کیا مجال ہے کہ اس جگہ دم بھی مار سکے لیکن چونکہ انھوں نے رجوع کیا ہے اور یہ لوگ گر یہ وزاری کرتے ہوے آخر تک ثابت قدم رہے ہیں۔ اس لئے ان کے مقبول ہونے کی امید ہے جب قاعدین غیر اولی الضرر سے دوستی و میل ملاپ روا نہیں ہے تو وہ مستحق میراث بھی نہیں ہیں کیونکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ان پر منافقی کا حکم صادر فرمایا ہے۔


    ۱۰۶ 

    نقل است در ناگور در دائرہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ مردے متوفت شد پنجاہ فیروزی ترکہ گذاشت ودر ہو ۱ لخہ ورثہِ او بودند میاں نعمت رضی اللہ عنہ حکم کردند کہ درمیان فقیران دائرہ قسمت کنانید وایں آیت خواندند ان الذین اٰمنو او ھاجروا اوجاھدوا باموالھم و انفسھم فی سبیل اللّٰہ والذین اٰو واوّ نصروا اولئک بعضھم اولیاءبعض والذین اٰمنوا ولم ےھا جرو ا ملکم من ولا یتھم من شئی حتی ےھاجروا ۔
    ترجمہ:۔ روایت کہ بمقام ناگور میاں نعمت رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں ایک صاحب کا انتقال ہوگیا پچاس فیروزی انھوں نے ترکہ چھوڑا مقام وہولخہ میں ان کے ورثاءموجود تھے لیکن میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ فقراے دائرہ پر تقسیم کردیا جائے اور آپ نے یہ آیہ ِ شریفہ سنائی۔ تحقیق کہ جو لوگ ایمان لاے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مال و جان سے اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے اُن کو پناہ دی اور ان کی مدد کی وہ سب (مومنین) ایک دوسرے (کی میراث) کے ولی ہیں۔ (ترجمہ آیہ) جو لوگ ایمان لاے اور انھوں نے ہجرت نہ کی ان کی ولایت سے تمہارے لئے اسوقت تک کوئی حصہ نہیں جبتک کہ وہ ہجرت نہ کریں۔


    ۱۰۷ 

    بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ یکبار ترکہ میت فقیر کہ در دائرہ ایشاں بود بورثہ کہ بیرون دائرہ بودند تسلیم کردند چوں میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ شنید ند فرمودند کہ نیک نہ کردند ایں حقِ فقیرانِ دائرہ بود و چوں قاعداں ہجرت کردہ در دائرہ بیایند میراث گیرندو در ایمانِ مہاجراں۲ قاعداںبرابر باشند و لیکن حد مراتب ہر گز ۳ برابر نیا یند گفتند کہ نباید گفت۔
    ترجمہ:۔ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ نے ایک بار ایسے فقیر کا ترکہ جو دائرہ میں رہنے والے تھے ان کے ایسے ورثاءکو دیا ہے جو بیرون دائرہ رہتے تھے۔ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنکر فرمایا کہ یہ کام اچھا نہ ہوا کیونکہ یہ تو دائرہ کے فقیروں کا حق ہے قاعدین میراث اس وقت لے سکتے ہیں جبکہ ہجرت کرکے دائرہ میں آجائیں اور اس صورت میں بھی قاعدین ازروئے ایمان مہاجرین کے برابر تو ہوجائیں گے لیکن از روے مراتب بربر نہ ہوں گے ۔ فرمایا کہ کہنا نہ چاہئیے۔


    ۱۰۸ 

    نیز نقلست کہ یکبار در شہر احمدآباد اکثر مہاجراں بطریق محضرہ یکجا شدہ بودند بعضے قاعداں ہم دراں مجلس بودند میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ قاعداں را از مجلس بیروں کنید بعد۱ اتفاق خو اہم طلبیدد فرمودند کہ باقاعداں مشورت نباید کرد کہ ایشاں سوی خود کشند ۔
    ترجمہ روایت ہے کہ اکثر مہاجرین ایک دفعہ شہر احمدآباد میں محضرہ کے طور پر ایک جگہ جمع ہوئے تھے بعض قاعدین بھی اس مجلس میں موجود تھے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قاعدین کو مجلس سے خارج کردیا جائے (مسئلہ) طے ہوجانے کے بعد بلا لوں گا۔ اور فرمایا کہ قاعدین کو شریک مشورہ نہ کرنا چاہئیے کیونکہ یہ لوگ اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کریں گے۔


    ۱۰۹ 

    منقول است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ اگر کسے عبادت ہزار سال کردہ باشد و آں عبادت مقبول شدہ باشد تا ہم برابر یک نظر بندہ نہ باشد۔
    ترجمہ روایت ہے کہ حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص ایک ہزار سال عبادت کرے اور وہ عبادت مقبول شدہ بھی ہو تو وہ بندہ کی ایک نظر کے اثر کے برابر نہیںہے۔


    ۱۱۰ 

    نیز فرمودند کہ اگر کسے صحبت بندہ ایں مقدار کنند کہ از پا افراز ۲خاک بیند از د گناہ تمام عمر اور ا مغفرت ۳ گرود۔
    ترجمہ:۔ نیز فرمایا کہ اگر کوئی شخص بندہ کی صحبت اتنی دیر اختیار کرے جتنی دیر میں کہ جوتوں سے گرد جھاڑی جاتی ہے تو اس کے تمام عمر کے گنا ہ معاف ہوجائیں گے۔


    ۱۱۱ 

    نیز حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ہر کہ اول روز در دائرہ ہجرت کردہ آمدہ است مرشدِ آنکس است کہ آخر روز آمدہ است زیر اچہ سابق امام مسبوق است۔
    ترجمہ:۔ نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص صبح میں ہجرت کرکے دائرہ میں آچکا ہو وہ اس شخص کا مرشد ہے جو شام میں آیا ہو ۔ کیونکہ سابق مسبوق کا امام ہوتا ہے۔


    ۱۱۲ 

    نیز حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ پیش ایں بندہ تصحیح میشود۔ فرمان میشود کہ ہر کہ پیش تو صحیح شود او مقبول است او عنداللہ مقبول است وہ ہر کہ ۱ صحیح نشود او عنداللہ مردہ و است۔
    ترجمہ نیز حضرت میراں علیہ السلام نے فرمایا کہ اس بندے کے سامنے تصحیح ہوتی ہے۔ فرمان ہوتا ہے کہ جو شخص تمہارے سامنے صحیح نکلے اور مقبول ہو وہی اللہ تعالیٰ کے پاس مقبول ہے۔ اور جو شخص صحیح نہ نکلے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس مردود ہے۔


    ۱۱۳ 

    میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ در عہد خود فرمودند ہر کہ ایں زماں ہجرت می کنندد در دائرہ مستقیم می مانند ہر کہ بعد ازیں خواہد آمد آنکسانند کہ ارواح ایشاں پیشِ حضرت مہدی علیہ السلام صحیح شدہ بودند۔ انگلہ۲ بر بیان ما کسے ترکِ دنیا می کندو تصدیق مہدی علیہ السلام می کند ۳ ایں ہم از نتیجہ آں تصحیح است۔ وبرماسببہاست کہ از سبب دعوتِ ما ایشاں را توفیق رفیق کردہ دادہ شد و کلام مارادلیل استماعی و استدلالی ۴ باید گفت زیر اچہ ما بندہ فرمانِ حضرت امیر صلی اللہ علیہ وسلم ہستیم۔
    ترجمہ: میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہِ ارشاد میں فرمایا کہ جو لوگ اس زمانہ میں ہجرت کرتے ہیں اور دائرہ میں رہتے ہیں۔ اور جو لوگ اس کے بعد آئیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کی ارواح پہلے حضرت مہدی علیہ السلام کے سامنے صحیح ہوچکی ہیں اس وقت جو لوگ ہماری تبلیغ پر ترک دنیا کرتے اور مہدی علیہ السلام کی تصدیق کرتے ہیں یہ بھی اسی تصحیح کا نتیجہ ہے۔ اور ہمارے پاس منجملہ اسباب کے یہ سبب بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ہماری دعوت کی وجہ ان لوگوں کو توفیق رفیق عطا ہوئی ہے اور (فی الحقیقت) ہمارے کلام کو دلیل استماعی و استدلالی کہنا چاہئیے کیونکہ ہم حضرت امیر صلی اللہ علیہ السلام کے بندہ فرمان ہیں۔


    ۱۱۴ 

    نیز ۵ فرمودند کہ باقاعداں صحبت نباید کرد بلکہ صحبت با صادقاں باید کرد قال اللہ تعالی یا ےھا الذین اٰمنو اتقو اللہ وکونو ا مع الصادقین (جزء۱۱ رکوع ۴)
    ترجمہ:۔ نیز فرمایا کہ قاعدین کی صحبت اختیار نہ کرنی چاہئیے ۔ بلکہ صحبت با صادقاں چاہئیے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاوِ ۔ (جز ئ۱۱ رکوع ۴)


    ۱۱۵ 

    نیز فرمودند کہ روز عید و جمعہ در مجلس مخالفاں باستعداد سلاح و جامہِ نو پوشیدہ باز ینت باید رفت تا مخالفان سوختہ شوند۔ پس طالبان حق را باید کہ علی الخصوص جامع مسجد و عید روندو ہیچ کیفیت نکنند۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ عید و جمعہ کے روز مخالفین کی مجلس میں ہتیار لگائے ہوئے نئے کپڑے پہنے ہوئے بازیب و زینت جانا چاہئیے تا کہ مخالفین سوختہ ہوجائیں پس طالبان حق کے لئے لازم ہے کہ خصوصاً جامع مسجد اور عید گاہ کو جائیں تو (تبلیغ کے سواے) کوئی کیفیت نہ کریں۔


    ۱۱۶ 

    حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ کسانیکہ ہجرت کردہ در راہ خدا آمد ندانچہ می کنند از امور معیشت آب آوردن و ہیز م۱ ساختن و طعام پختن وزیر دیگدان آتش کردن و چیزے ۲ بر گردن آدر دن و لعب ۳ باز نان وکو دکان کردن ہمہ عمل صالح است بحکم کتاب اللہ تعالیٰ ۴۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو لوگ ہجرتکرکے خداہ کی راہ میں آئے ہیں وہ امر معیشت میں سے جو کام بھی کرتے ہیں ۔ پانی لانا لکڑی پھوڑنا ۔کھانا پکانا۔آگ جلانا۔ اور کوئی چیز گردن پر رکھکر لانا اور بیوی بچوں سے دل بہلائی کرنا سب کچھ ازروے حکم کتاب اللہ تعالیٰ عمل صالح میں داخل ہے۔


    ۱۱۷ 

    منقول است۵حضرت میراں علیحہ السلام فرمودند مہاجران کبار رابا قاعداں مصاہرت نباید کرد ۔یعنی دختر نباید داد۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا مہاجرین کبار کو قاعدیں سے رشتہ ِ ازدواج قائیم نہ کرنا چاہئیے ۔ یعنی اپنی لڑکی نہیں دینی چاہئیے۔


    ۱۱۸ 

    نیز حضرت میراں علیہ السلام فرمودند اگر طالبِ حق در دائرہ بیاید فی الحال اورازنِ دائرہ ۶نکاح کردہ نباید داد یکسال باید آزمود اگر بعد یکسال صدق اوظاہر شود دختر دائرہ نکاح کردہ باید داد و شرط باید کرد کہ اگر چہ نعوذ باللہ منہا از دائرہ بیرون رودزن رانہ برد۔
    ترجمہ : نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا اگر کوئی شخص حق کی طلب میں دائرے میں آئے تو اسیوقت دائرے کی کسی عورت کا عقدِ نکاح اس سے نہ کرنا چاہئیے ۔ ایک سال تک آزمایش کرنی چاہئیے ایک سال بعد بھی وہ صداقت پر قائم رہے تو اسوقت دائرہ کی عورت کا عقدِ نکاح کرسکتے ہیں اور شرط لگا دینی چاہئیے کہ اگر نعوذ باللہ وہ شخص دائرے سے باہر ہوجانا چاہے تو بیوی کو ساتھ نہ لیجا سکیگا۔


    ۱۱۹ 

    واز ۱ میاں نعمت رضی اللہ عنہ منقول است طالبے کہ پدر او غنی بود دختر میاں نعمت رضی اللہ عنہ بزنی خواست جو اب فرمودند دختر خود را بہ کسے خواہم داد کہ جامہِ او پر پیوند باشد یعنی طالب کامل۲
    ترجمہ: حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک طالب (حق) نے جن کے والد مالدار تھے حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ کی دختر نیک اختر سے شادی کی درخواست کی۔ حضرت نے فرمایا کہ میں اپنی لڑکی اس شخص کو دوں گا جس کے کپڑے پیوند بھرے ہوں یعنی وہ طالب کامل ہو۔


    ۱۲۰ 

    میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نیز دختران خویش بفقیران دائرہ دادہ اند۔
    ترجمہ:حضرت میاں سید خوند میر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی لڑکیوں کی شادیاں فقرا سے ہی کی ہیں۔


    ۱۲۱ 

    میاں نعمت رضی اللہ عنہ دو دختر خود را بفقیران غیر کفو در دائرہ ادند یاراں ملامت کردند۔ فرمودند کہ من نسب ۳ ایشاں ند یدیم دین ایشاں ویدم و بریں آیت عمل کردم کما قال اللہ تعالیٰ ان اکرمکم عندہ اللّٰہ اتقکم (جزء۶۲ رکوع ۴۱)
    ترجمہ حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے اپنی دو لڑکیوں کی شادی دائرے کے ایسے فقرا سے کی ہے جو غیر کفو تھے ۔ صحابہ علیہ السلام نے اس عمل کو بُرا قرار دیا۔ حضرت نے فرمایا کہ میں نے ان کا نسب نہیں دیکھا ہے بلکہ ان کی دینداری کا لحاظ رکھا ہے ۔ اور میں نے اس آیہِ شریفہ پر عمل کیا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ تم میں زیادہ شریف دہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے“ (جزء۶۲ رکوع ۳۱)


    ۱۲۲ 

    میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ بر میاں عادل شاہ بسیارزجر کردند سبب آنکہ دختر خودرا بطالب دنیا دادند ۔ و ازاں جہت ایشاں را از دائرہ بیرون کردند۔
    ترجمہ: حضرت میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے حضرت میاں عادل شاہ پر اس وقت بہت تہدید فرمائی جبکہ انھوں نے اپنی لڑکی کا عقد نکاح طالب دنیا سے کیا۔ اور اسی بناءپر ان کو دائرہ سے خارج فرمادیا۔


    ۱۲۳ 

    نیز بر میاں قطب الدین بسیار زجر کردند و چند ماہ روے ایشاں ندید ند و سخن ہم نگفتند سبب آنکہ زن ایشاں ذحتران ِ خودرا بطالب دنیا نکاح کردہ دادہ بودو فرمودند دختر ایشاں باید آوردو لیکن ایشاں را دختر خودنباید داد سبب آنکہ حضرت مہدی علیہ السلام طالب حیات دنیار ا کافر فرمودہ اند۔
    ترجمہ : نیز میاں قطب الدین پر بھی آپ بہت ناراض رہے اور چند ماہ تک آپ نے انکی صورت بھی نہ دیکھی اور نہ شرف تکلم بخشا ۔ وجہ یہی تھی کہ انھوں نے اپنی لڑکیوں کا عقد نکاح طالب دنیا لوگوں سے کیا تھا۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کی لڑکی سے شادی کر تو سکتے ہیں لیکن ان کو اپنی لڑکی نہ دینا چاہئیے کیونکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے طالب حیات دنیا کو کافر فرمادیا ہے۔


    ۱۲۴ 

    از میاں لاڑشہ رضی اللہ عنہ منقول است کہ در ولایت خراسان حضرت مہدی علیہ السلام از مسجد ۱ جامع باز گشتند درمیانِ راہ خانہِ خراسانی بود کرئت و مرءت مزاحم می شدے کہ کرم کنید درخانہِ من قدم سعادت فرمائید ۔ ہر بار ہمیں جواب فرمودند عفو کنید بعد از منت بسیار بعضے یاراں را رضا داد ندکہ شما بروید ۔ ایشاں رفتند ۲ ۔ میاں دلاور رضی اللہ عنہ نرفتند میانسید سلام اللہ رضی اللہ عنہ تنگ آمدہ گفتند ۳ کہ شماچراینامدے مدے حکم میراں علیہ السلام بر شمانما ند حضرت میراں علیہ السلام سراز حجرہ بالاکردہ فرمودند آں کسانیکہ برفتند از ۴ رضاے ماہر فتند و آنکسانیکہ نہ رفتند بسیار خوب کردند۔
    ترجمہ: حضرت میاں لاڑشہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ ملک خراسان میں حضرت مہدی علیہ السلام جامع مسجد سے واپس تشریف لارہے تھے راستہ میں ایک خراسانی کا مکان تھا ۔ اس نے بار بار عرض کیا کہ گھر میں تشریف لاکر سعادت سے مشرف فرمائیے ‘ ہر بار حضرت نے یہی جواب فرمایا کہ معاف کرو بہت کچھ منت سماجت کے بعد بعض صحابہ علیہ السلام کو آپ نے اجازت مرحمت فرمائی کہ تم جاوِ ۔ یہ حضرات گئے۔ حضرت میاں دلاور رضی اللہ عنہ نہیں گئے۔ حضرت میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ پر بار خاطر ہوا اور کہنے لگے کہ آپ کیوں نہیں آئے حضرت مہدی علیہ السلام کے حکم کی تعمیل سے آپ باز رہے ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے سر نکالکر فرمایا کہ جو لوگ گئے ہیں میری اجازت سے گئے اور جو لوگ نہیں گئے انھو ں نے بہت اچھا کیا ۔


    ۱۲۵ 

    نیز منقول است کہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ درد یہ بھیلوٹ ساکن بودند اکثر مہاجراںعلیہ السلام دریں دائرہ بودند یکے مصدق کرءت و مرءت میانسید سلام اللہ علیہ السلام را بسیار مزاحم شدے کہ مہمان بیائید ایشاں جواب دادندا گر میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بشنوند مرا فضیحت و رسواکنند۔ او گفت بعد از مغرب بیائید نماز عشاءآنجاگزار ید بعدہ رفتند ۱ بندگیمیاں سومارعلیہ السلام مہاجر میراں علیہ السلام بودند حوالہ باب دائرہ بدیشاں بود میاں سومار گفتند کہ خوند کار کجا بروند بندگیمیاں سلام اللہ فرمودند کہ ایں رائیز ہمراہ باید کرد ورنہ بزودی بملازمت عالی عرض میرساند و از دائرہ بدر کناند اد و ایشاں ہر دوکس بمیاں سومال بسیار جہت کردہ بربہیلی اسپاں سوار نمودہ برفتند طعام موجود بود تناول کردندو دختر اور امکتب بود بسم اللہ گویایند و بزد دی باز گشتند تا بہ اول رکعت نماز عشاءپیوستند ۔ معتاد میاں سومار بود کہ درون حجرہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ثانی مہدی براے خدمت و حجامت بیامدے یہ شب درازبملا زمان حضرت در رسید ند و آنچہ مذاکرہ مکتب کہ شدہ بودمن وعن فرانمود ند میراں سید محمود رضی اللہ عنہ را چناں تضرع و ابتہال و حزن قیام نمد کہ تا بسحر گر یہ از چشم مبارک نہ ایستاد پس بعد مطلع فجر میاں سید سلام اللہ را طلبیدہ بسیار ز جر کردندد فرمودند کہ دریں باب بار دیگر حرمت شما نخواہم داشت از دائرہ بیروں خواہم کرنہ و میاں سید سلام اللہ یک دنیم ماہ بحضور میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نیا مد ند و روے خود بسبب شرمندگی نہ نمدند بعد ازاں دستار خویش در گلو کردہ برپاے میراں سید محمود رضی اللہ عنہ افتاد ند و گفتند کہ ایں گناہ لللّٰہ فی اللہ بہ بخشیدا گرچہ ۲ بہ نسبت کلاں بودند لیکن بحکم حضرت امام علیہ السلام ایں چنیں انقیاد کردندو میانسید سلام اللہ رضی اللہ عنہ گفتند کہ روے من سیاہ ۳ شدہ است نیز سیاہ کردہ تعزیر فرمایندکہ بارد گر بسہود خطا گرفتار نخوا ہم آمد ۔ یا عفو فرمایند ۔ بعد ازاں قبول کردند۴۔ اے طالب حق یہ ہیں کہ دین حق این است و جزائے بے دینی و ناحقی انیست۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے قریہ بھیلوٹ میں قیام فرمایا تھا۔ اکثر مہاجرین بھی اس دائرہ میں تھے ایک مصدق نے بہت اصرار کیساتھ حضرت میانسید سلام اللہ رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ مہما ن آئیے ۔ انھوں نے جواب دیاکہ اگر میراں سید محمود رضی اللہ عنہ سن لیں گے تو مجھے برا کہیں گے۔ اور رسوا کریں گے۔ اس نے عرض کیا کہ مغرب کے بعد آئیے اور (جلد واپس آکر) نمازعشاءیہیں دائرے میںپڑھئے ۔ اس وقت آپ تشریف لیجانے لگے۔ حضرت بندگیمیاں سومار رضی اللہ عنہ جو مہاجر حضرت مہدی علیہ السلام تھے اور دائرہ کے باب الداخلہ کی نگرانی انھیں کے تفویض تھی۔ انھوں نے پوچھا کہ خوندکار کہاں تشریف لیجارہے ہیں۔ بندگیمیاں سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے (داعی سے) فرمایا کہ ان کو بھی ساتھ لے لینا چاہئیے۔ ورنہ فوراً خدمت عالیہ میں خبر پہنچادیں گے اور دائرہ سے باہر کروادیں گے۔ داعی اور میانسید سلام اللہ علیہ السلام ان دونوں نے میاں سومار علیہ السلام کو رضا مند کرنے کی بہت کوشش کی اور گھوڑوں کی گاڑی پر سوار ہوکر سب چلے گئے ۔ کھانا تناول فرمایا۔ داعی کی لڑکی کی تسمیہ خوانی تھی ۔ بسم اللہ پڑھواکر اتنا جلدی جلدی واپس آگئے کہ نماز عشاءکی پہلی رکعت میں شریک جماعت ہوسکیں۔ میاں سومارعلیہ السلام کی عادت تھی کہ(رات میں) حضرت سید محمود ثانی مہدی رضی اللہ عنہ کی خدمت اور ہاتھ پیر دابنے کے لئے حجرہ میں آیا کرتے تھے۔ زیادہ رات کو حضرت کی خدمت میں پہنچے اور تسمیہ خوانی کا جو کچھ واقعہ گزرا آپ نے پورا پورا عرض کردیا حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ پر رنج و ملال طاری ہوگیا اور اتنا رونے لگے کہ صبح صادق تک چشم مبارک سے آنسو تھم نہ سکے دن نکلنے کے بعد میاں سید سلام اللہ کو بلاکر آپ نے سخت تہدید کی اور فرمایا کہ اس بارے میں دوبارہ آپ کی حرمت کا لحاظ نہ رکھونگا۔ دائرے سے خارج کردوں گا۔ میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ دیڑھ مہینہ تک حضرت کے سامنے نہیں آئے۔ اور شرمندگی سے منھ چھپاتے رہے اس کے بعد اپنی پگڑی گلے میں ڈالے ہوے حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ کے پیر پر گر گئے اور کہنے لگے کہ اس خطا کو اللہ کے لئے معاف کردیجئے اگرچہ رشتہ میں بڑے تھے لیکن انھوں نے حضرت مہدی علیہ السلام کے حکم کی ایسی اتباع کی ہے۔ اور میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میرامنھ سیاہ ہوگیا ہے مزید سیا ہ کرکے تعزیر کردیجئے تاکہ دوبارہ ایسی سہو د خطائیں گرفتار نہونے پاوِں ۔ یا معاف فرما دیجئے ۔ اس وقت حضرت نے قبول فرمالیا۔
    اے طالب حق! دیکھ دین حق یہ ہے اور بے دینی و ناحقی کا ثمرہ یہ ہے۔


    ۱۲۶ 

    المقصود خوشنودی تمام مہاجراں علیہ السلام دریں بود کہ کسے طالب بخانہ موافق برائے طعام خوردن نرو د بلکہ موافقاں را بحضور طلبیدہ و بسیار زجر کردہ منع فرمودند کہ بندگان خداے را خوار مکنید ۔ ومال خود را ضائع مکنید ۔ اگر در راہِ خدا خرچ کردن می خواہید آں فقیراں رابد ہید کہ بر خدا توکل کردہ اند و از شما استغنا کردہ اند ۔ شمارا دریں اجر نیست بلکہ خود را دبندگان خدائے را زیاں میکنید کہ در توکل ایشاں خلل می افتد ہر کہ بخانہ شما بیاید با اوایں معاملہ مکنید تا اورا ایں عادت انشود۔
    ترجمہ: حاصل کلام یہ کہ تمام مہاجرین رضی اللہ عنہم کی خوشی اسی میں تھی کہ کوئی طالب ‘ موافقین کے گھر کھانے کے لئے نہ جائیں ۔ بلکہ موافقین کو حضوری میں طالب کرکے بہت تہدید سے منع فرماتے کہ بندگانِ خدا کو ذلیل مت کرو اور اپنے مال کو ضائع نہ کرو۔ اگر خدائتعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہو تو ان فقیروں کو دو جو خدائتعالیٰ پر توکل کئے ہوے ہیں ۔ اور تم سے بے پروا ہیں ۔ (ورنہ) تم کو اجر نہ ملے گا بلکہ اپنے آپ کو اور بندگان خدا کو مبتلاے نقصان کروگے ۔ کیونکہ ان کے توکل میں خلل واقع ہوگا۔ جو تمہارے گھر آجائے تم اس کے ساتھ ایسا طریقہ اختیار نہ کرو کہ اس کی عادت میں فرق آجائے۔


    ۱۲۷ 

    نیز منقول است براے میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ مصدقے چہار صد تنکہ کہنہ آوذرہ بود پیش نظر بیادردیک مہاجر ستدد خود خرچ کرد۱ ہیچ نہ گفتند د گاہے ذکر آںمال نہ کردند۔ بلکہ بعضے صدقہ خواران بندگی میاں ہمخپاں کردہ بودند۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے لئے ایک مصدق چار سو قدیم تنکے (سکے) لایا تھا اس نے پیش نظر کئے ایک مہاجرعلیہ السلام نے لے لئے اور خود خرچ بھی کرلئے آپ نے کچھ نہ فرمایا اور کبھی اس مال کا ذکر تک بھی آپ نے نہ فرمایا۔ بلکہ بعض متبعین ایسا ہی کیا کرتے تھے۔


    ۱۲۸ 

    نقلست اگر طالب سے بہ مہاجراںعلیہ السلام سلام دینا داراں آدردے فرمودندے کہ شما براے چہ کا ر آنجار فتہ بودید کہ سلام او آدر دید و اگر چیزے مال بیادردے قبول نہ کردندے فرمودندے کہ خود خواہد۲ آدرد۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ اگر کوئی طالب‘ مہاجرین رضی اللہ عنہم کے لئے کسی دنیا دار کا سلام لے آتے تو فرماتے کہ تم وہا ںگئے کیوں تھے اور ان کا سلام لاے کیوں ہو۔ اگر کچھ مال وغیرہ لاتے تو قبول نہ کرتے تھے۔ فرماتے کہ وہ خود لائے گا۔


    ۱۲۹ 

    نیز منقول است کہ یکبار دختر سلطان محمود بیگڑہ میراںسید محمود رضی اللہ عنہ را مکتوب۳فرستادہ بودویدند و بریں بسیار گریستند و فرمودند کہ ہنوز نام من در مکوب اہل دنیا است۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ایک مرتبہ سلطان محمود بیگڑہ کی لڑکی نے حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں خط روانہ کیا تھا۔ دیکھکر آپ نے بہت زاری کی اور فرمایا کہ ابھی میرانام اہل دنیا کے مکتوبہ میں (لیا جارہا ہے)


    ۱۳۰ 

    نیز نقل است کہ کسے پیش فتح خاں برفت و گفت کہ من از دائرہ میانسید محمود رضی اللہ عنہ آمدہ ام فتح خاں کسان خود را گفت کہ بزنید و خود ہم بدوید کہ تا بزند ۔ چاکراں گفتند کہ فقیر است خان مذکور گفت فقیرانِ آں دائرہ مرا بجاے سگ نمی شمر ندمی خواہم کہ بعد ازاں ہیچ کس نام پا کان دائرہ بہ دروغ نگوید فقیران آن دائرہ بدرمن ہر گز نیایند مرا یقین است من کرءت و مر ءت مشرف شدہ ام و فقیران دائرہ را دیدہ ام۔
    ترجمہ: روایت ہیکہ کوئی شخص فتح خاں کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں حضرت میاں سید محمود رضی اللہ عنہ کے دائرہ سے آیا ہوں فتح خاں نے اپنے ملازین سے کہا کہ اس کو مارو اور خود بھی مارنے کے لئے دوڑا ملازمین نے کہا کہ یہ فقیر ہے فتح خاں نے کہا کہ اس دائرہ کے فقراءتو مجھے کتے کے برابر بھی شمار نہیں کرتے ہیں میں یہ چاہتا ہوں کہ پھر کوئی شخص دائرہ کے پاک لوگوں کے نام اس طرح جھوٹ نہ کہنے پائے۔ اس دائرہ کے فقراءمیرے در پر ہرگز آنے والے نہیں ہیں۔ مجھے یقین ہے میں نے بارہا حاضری کا شرف حاصل کیا ہے اور دائرہ کے فقراء(کے حالات بچشم خود) دیکھے ہیں۔


    ۱۳۱ 

    نیز منقول است کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کسانیکہ پیشن من برفتند گوے ۱ برندو کسانیکہ ماندہ اند افتاد برسر بے چارگاں۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا جو لوگ میرے سامنے گزر گئے بازی جیت چکے جو لوگ رہ گئے ہیں ان بے چاروں کے سر پر آپڑی ہے۔


    ۱۳۲ 

    نیز فرمودند کہ در دائرہ مہدی علیہ السلام ہر سہ گروہ ہستند چنانچہ در دائرہ مصطفی علیہ السلام بودند مومن و منافق و کافر و لیکن ایشا نرا خدائتعالیٰ از دائرہ نمی راند (نہ میراند) اگر کسی را دوستی با خداد مصطفی دبا یارن دے و با مہدی و با یارانِ دے بود شب و روز بصدق می خواہد ومی گوید کہ دنیا و خلق ۲ دنیا را ترک کنم و دریں طلب ثابت و صادق باشد اور احکم منافق و کافر نباید کرد اگر چہ بیرون دائرہ بغیر ترک دنیا میر و زیرا کہ حضرت مہدی علیہ السلام ایں چنیں کساں را بشارت ۳ ایمان دادہ اند و لیکن ایشاں غیر ۴ ترک باشند حجت نباید کرد۔ ایں بشارت مہدی علیہ السلام عطائے باری تعالیٰ است ۵ و فرمودند کہ کردار می باید و لیکن نظر بر کردار نشاید۶ ایں کلما ت فرمودند: بیت گر بامنی ودر یمنی پیش منی         ور بے منی پیشِ منی در یمنی
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ مہدی علیہ السلام کے دائرے میں تینوں قسم کی جماعتیں ہیں جیسا کہ حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہے میں تھیں ۔ مومن۔۲۔منافق۔۳۔کافر۔ لیکن خدائتعالیٰ ان کو دائرے میں موت نہیں دیتا ہے (یعنی مرنے سے پہلے نکل جائیگا) اگر کسی کو خدائتعالیٰ اور محمد مصطفی اور آپ کے صحابہ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام اور ان کے صحابہ علیہ السلام سے محبت ہو۔ دن رات صدق دل سے چاہتا ہو اور کہتا ہو کہ دنیا وخلق کو چھوڑ دوں گا۔ اور وہ اس طلب ِ دین میں ثابت قدم اور صادق رہیگا تو اس کے لئے منافق یا کافر کا حکم نہ لگا نا چاہئیے۔اگر چہ کہ وہ دائرے کے باہر بغیر ترک دنیا ہی مرگیا ہو ۔ کیونکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے ایسے لوگوں کی نسبت بھی ایمان کی بشارت دی ہے۔ لیکن اگر یہ بے ترک ہوں تو حجت نہ کرنا چاہئیے ۔ یہ بشارت جو حضرت مہدی علیہ السلام نے دی ہے عطاے باری تعالیٰ ہے۔ اور فرمایا کہ ” کردار“ چاہئیے لیکن کردار پر نظر نہ کرنی چاہئیے اور یہ کلمات بھی آپ نے فرمائے ہیں:۔
    اگر میری اتباع میں ہو اور یمن میں رہتے ہو تو سمجھو کہ میرے سامنے ہیں ۔اگر میری اتباع میں نہو اور میرے سامنے بھی رہتے ہو تو سمجھو کہ یمن میں ہیں۔


    ۱۳۳ 

    نقل است اگر کسے از حضرت میراں علیہ السلام بطریق تبرک جامہ یا کفش طلبیدے فرمودے اگر پوست بندہ بہ پوشید نجات نیابید تا آنکہ عمل نہ کنید آنچہ بندہ می گوید۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ اگر کوئی شخص حضرت مہدی علیہ السلام سے بطور تبرک کپڑا یا نعلین مبارک طلب کرتا تو فرماتے کہ بندہ کا پوست بھی پہن لوگے تو نجات نہ پا سکوگے مگر اس وقت جب کہ بندہ جو کہتا ہے اس پر عمل کریں


    ۱۳۴ 

    باز فرمودند کہ روز قیامت خداے تعالیٰ از نسب ۱ نخواہد پر سید کہ ایں پسر کسیت از عملہ با اخلاص خواہد پر سید۲۔
    ترجمہ : پھر فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نسب کے بارے میں نہیں پوچھیگا کہ یہ کس کا لڑکا ہے بلکہ پر خلوص عمل کے بار ے میں سوال فرمائیگا۔


    ۱۳۵ 

    نیز منقول است کہ یکے معلمے از جہت فتح خاں چند۳ تنکہ آورد قبول کردند باز بعد از یکماہ ہمیں مقدار آور د قبول کردند و ۴ بازیک ماہ ہمیں مقدار بیاورد قبول نہ کردند و فرمودند کہ مگر فتح خاں مارا تعین کردہ است حضرت میراں علیہ السلام تعین را لعین فرمودند ۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ایک معلم فتح خاں کی جانب سے چند تنکے لایا تھا آپ نے قبول فرمالئے ایک ماہ بعد اتنی ہی مقدار لایا آپ نے قبول فرمالیا۔ اور ایک ماہ بعد اتنے ہی تنکے لایا تو آپ نے قبول نہ کیا فرمایا کہ فتح خاں نے تو ہمارے لئے (ماہانہ )مقرر کردیا ہے حضرت مہدی علیہ السلام نے تعین کو لعین فرمایا ہے۔


    ۱۳۶ 

    نیز منقول است چونکہ بی بی الہدادتی رضی اللہ عنہا متوفی شدند از جامہ دانی ِ ایشاں تنکہ زر بیرون آمد حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند گرم کردہ برپیشانی ایشاں داغ و ہید پیغمبر ہمچناں کردہ اند چونکہ ایں خبر پراگندہ شد میاں سلام اللہ علیہ السلام ۶ کہ استعداد قبر می کردندشنیدہ بشتاب آمد ند و سوگند خوردند کہ ازاں بی بی ایں زر نیست بلکہ از آن بی بی فاطمہ علیہ السلام است فرمودند ہر کسے را کہ ایں باشد بد و تسلیم کنید۱ باز حضرت امیر علیہ السلام فرمودند بی بی را بجز خدائے تعالیٰ ہیچ نیست دانستہ ام کہ بی بی متوکل بودندد دعوے توکل ہم داشتند و بی بی از بیبیاں بی بی اند و طالب ذاتِ و حدت بودند ہر کہ از جامہِ بی بی تسہد خرچ کرد توافتہ شد و ہر کہ آب از جرہ بی بی نشید نواختہ شد و ہر کہ از پسخوردہ بی بی آوند پاک کردونوختہ شد و بی بی مذکورہ مقدار دواز دہ سال باشد کہ بغیر دیدار خدا سجدہ نکردند ۔ بی بی مذکور را ازاں حصہ کافی ۲ است۔ وشکم بی بی بر گزیدہ گشت۔
    ترجمہ: روایت ہے جب کہ بی بی الہدادی رضی اللہ عنہا وفات پائیں تو ان کی دامنی سے سونے کا ایک تنکہ نکلا ۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ گرم کرکے ان کی پیشانی پر داغ دو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ہے۔ جب یہ خبر مشہور ہوئی تو میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ جو کہ قبر کی تیاری کررہے تھے سُن کر جلد آگئے اور تسمیہ کہنے لگے کہ یہ تنکہ بی بی کا نہیں ہے بلکہ بی بی فاطمہ کا ہے فرمایا کہ جس کسی کا ہو اس کے حوالہ کردو ۔ اس کے بعد حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بی بی کو صرف خدائتعالیٰ ہی سے کام رہا ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ بی بی متوکل تھیں اور توکل کا دعویٰ رکھتی تھیں ۔ بیبیوں میں یہ بی بی ممتاز تھیں۔ ذات و حدت کی طالب تھیں جس نے بی بی کے جامہ سے کچھ حصہ صرف کیا نوازاگیا۔ جس نے بی بی کے جامہ سے کچھ حصہ صرف کیا نوازا گیا۔ جس نے بی بی کے برتن کا جمع شدہ پانی پیا نوازا گیا۔ جس نے بی بی کے پسخوردہ سے برتن پاک کیا نوازا گیا۔ بارہ سال سے بی بی نے بغیر دیدار خدا سجدہ نہیں کیا ہے ۔ بی بی کیلئے اس سے دیدار حصہ کافی ہے اور بی بی کا شکم بر گزیدہ ہوگیا ہے۔


    ۱۳۷ 

    نقل است کہ میرانسید محمود رضی اللہ عنہ را از ار پارہ پارہ شد بود میاں بابن علیہ السلام را عہدہ سویت بود و عشر ہم تسلیم ایشاں بود روزے ازارش نوساختہ پیش میرانسید محمود رضی اللہ عنہ آوردند پر سیدند ازکجا بیادرددید گفتند میرانجی از میانِ عشر چند درم ماندہ بود ازدسا ختیم بسیار خشمناک شدند دفر مودند ایں پوشیدن رواینیست حق مضطر ان است۳ نباید پوشید میاں بابن گفتند کہ گاہ گاہ حضرت میراں علیہ السلام برخویشتن از میان عشر چیزے تصف نمودہ ند چشم پر آب کردہ گفتند کہ مہدی موعود بود ہر چہ کرد بفرمان رب العزت کرد مارا بفعل حضرت صاحب تحقیق ہم مقابلہ ناجائز است۔ بروید و بزودی فروختہ نقدآں میان عشر جمع کردہ بدارید ۔ ناچار میاں بابن اور افرد ختند وزرا او میان عشر مجتمع نمودند۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ کا پائجامہ بہت پھٹ گیا تھا۔ میاں بابن جنکو سویت کا عہدہ دیا گیاتھا۔ اور عشر کی سویت بھی انھیں کے تغویض تھی۔ ایک روز انھوں نے نیا پائجامہ تیار کرکے حضرت سید محمود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا آپ نے فرمایا کہاں سے لائے ہو۔ عرض کیا کہ میرانجی عشر سید چند درہم بچ رہ گئے تھے اس سے بنوالیاں ہوں۔ آپ بہت غصہ ہوے اور فرمانے لگے یہ پہنناجائزنہیں۔ کیونکہ یہ تو مضطروں کا حق ہے ۔ غیر مضطر کو نہ پہننا چاہئیے میاں بابن علیہ السلام نے عرض کیا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنے لئے کبھی کبھی عشر سے تصرف فرمایا ہے آپکی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمانے لگے کہ وہ مہدی موعود علیہ السلام تھے وہ جو کرتے رب العزت کے حکم سے کرتے تھے۔ اس ذاتِ صاحب تحقیق کی برابری کرنا ہمارے لئے روا نہیں۔ جاوِ جلد اس کو فروخت کرکے اسکی قیمت عشر میں جمع کردو۔ آخر میاں بابنعلیہ السلام نے اس پائجامہ کو فروخت کردیا اور اسکی قیمت عشر میں جمع کردی۔


    ۱۳۸ 

    منقول است کہ بی بی کد بانوعلیہ السلام میاں دلاور رضی اللہ عنہ را فرمودند میرانسید محمود رضی اللہ عنہ ا بگوئید کہ چندسویت مارا زیادہ کنید از جہت خرچ مہماناں۔ میاں دلاور رضی اللہ عنہ عرض کردند میرانسید محمود رضی اللہ عنہ چشمہاپُر آب کردہ فرمودند کہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ شما از خود نمی گوئید از گویا یندہِ کسے می گوئید بی بی کد بانو علیہ السلام پیش بندہ از نصیب دنیاوی چیزے می طلیبیدند ایں بندہ را حضرت میراں علیہ السلام و ہ سویت کہ دادہ اند ہمیں بس است ۔ بعد ازاں چند فرزند تولد شدند و چند کنیزک ہم شدند اما میراں سید محمود رضی اللہ عنہ ازدہ سویت زیادہ نہ گرفتند۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ بی بی کد بانو رضی اللہ عنہا نے حضرت میاں دلاور رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میرانسید محمود رضی اللہ عنہ سے (بطور خود) کہو کہ ہمارے لئے مہمانوں کے اخراجات کی غرض سے سویت کے چند حصے زیادہ کیجئے ۔ میاں دلاور رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اور فرمایا کہ میاں دلاور رضی اللہ عنہ یہ آپ خود نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کسی نے کہا یا ہو بی بی کد بانوعلیہ السلام بند ہ سے اسباب دنیا کا کچھ حصہ طلب کر رہی ہیں اس بندہ کے لئے حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے سویت کے دس حصے جو مقرر فرمائے ہیں یہی کافی ہیں اس کے بعد چند فرزند بھی تولد ہوئے اور چند کنیزیں بھی آپ کے پاس ہوگئی تھیں اس کے باوجود حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے سویت کے دس حصوں میں سے کچھ زیادہ نہ لیا۔


    ۱۳۹ 

    منقول است ازاکا برانِ مہاجراںعلیہ السلام کہ حضرت میراں علیہ السلام سویت بہ حضور خود می کنا نید ند عوزے ملک شرف الدین علیہ السلام ۱ قمست کنندہ روی بالا کردہ یکے را پرسید کہ شمارا چند قسمت است حضرت میراں علیہ السلام فرمودند سر بالا ۲ کردہ مپرسید کہ مبادا بعد رودیدن رعایت کسے کردہ شود بلکہ باید سر فرد کردہ بہ پر سید کہ شمارا چند قسمت است تا رعایت کردہ نشود۔
    ترجمہ: اکابرمہاجرین رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام اپنی حضوری میں سویت دلایا کرتے تھے ایک روز ملک شرف الدین رضی اللہ عنہ جو قاسمِ سویت تھے انھوں نے سر اٹھاکر کسی سے پوچھا کہ آپ کے کتنے حصے ہیں حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ سر اٹھا کر نہ پوچھو ایسا نہو کہ کسی کی صورت دیکھنے کے بعد اس کی رعایت عمل میں آجائے اس لئے نظریں نیچی رکھکر پوچھنا چاہئیے تا کہ کسی کی رعایت عمل میں نہ آسکے۔


    ۱۴۰ 

    منقول است کہ بعضے وقت بندگی میراں علیہ السلام عشر ہم مضطراں را قسمت کنانیدہ دہا نیدہ اند پرسیدند کہ چیزے ہست؟ جواب دادند کہ چیزے نماندہ است بعدہ بر خواستندد بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ ہم بعضے اوقات ہمچنیں۱ کردہ اند۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ بعض وقت حضرت مہدی علیہ السلام نے مضطروں وغیرہ پر عشر خود تقسیم فرمایا ہے (تقسیم کے بعد) آپ نے دریافت فرمایا کہ کچھ باقی رہ گیا ہے؟ حاضرین نے جواب دیا کہ کچھ باقی نہیں رہا ہے اس وقت آپ نے وہاں سے برخواست کی اور حضرت بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ نے بھی بعض اوقات ایسا ہی کیا ہے۔


    ۱۴۱ 

    منقول است حق تعالیٰ حضرت میراں علیہ السلام را انگور رسانیدہ بودیکے خوشہ میاں حیدر مہاجر رضی اللہ عنہ بدست میاں سید حمیدعلیہ السلام بدادند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ حق فقیراں چرا دا ادید او گفت میرانجی بہ بخشید ۲ فرمودند کہ پیش ہمہ فقیراں بہ بخشانید ۳۔ می گویند یک دانہ کہ میانسید حمید علیہ السلام درد ہن کردہ بودند حضرت میراں علیہ السلام بہ انگشت مبار خویش از دہن ایشاں بیرون کردند۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ نے انگور بھجوائے تھے حضرت میاں حیدر مہاجر رضی اللہ عنہ نے ایک خوشہ حضرت میاں سید حمیدعلیہ السلام (کمسن بچہ) کے ہاتھ میں دیدیا حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ فقیروں کا حق ہے تم نے کیوں دیا انھوں نے عرض کیا میرانجی معاف فرمادےئجے فرمایا کہ تمام فقراءسے معافی چاہو۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دانہ جو میانسید حمیدعلیہ السلام نے منھ میں ڈال لیا تھا حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنی انگشت مبارک سے ان کے منھ سے نکال دیا۔


    ۱۴۲ 

    منقول است کہ در دائرہ بندگیمیاں رضی اللہ عنہ عہد ہ سویت ملک الہدادر رضی اللہ عنہ را بود دری خدائتعالیٰ گندم رسایند ۔ میاں نظام فرمودند ملک الہدادعلیہ السلام شمایک سویت زیادہ بگیرید ملک گفتند بندہ حق فقیراں چوں بگیرد ۔ میاں نظام رضی اللہ عنہ فرمودند بندہ را میر سدد بندہ می دہد۔ ملکعلیہ السلام گفتند کہ حق فقیران است چند۱ بار ایں سخن تکرار شد ملک علیہ السلام زیادہ نگر فتند۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں سویت کی خدمت حضرت ملک الہداد رضی اللہ عنہ کے سپرد تھی ایک روز اللہ تعالیٰ نے گیہوں بھجوائے تھے میاں نظام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ملک الہداد علیہ السلام آپ ایک سویت زیاد لے لیں ملکعلیہ السلام نے کہا بندہ فقیروں کا حق کیسے لیگا۔ میاں نظام رضی اللہ عنہ نے فرمایا بندہ کو یہ اختیار ہے اور بندہ دے رہا ہے۔ ملکعلیہ السلام نے کہا کہ فقیروں کا حق ہے چند بار باہم یہی گفتگو ہوتی رہی آخر ملکعلیہ السلام نے زاید سویت نہ لی۔


    ۱۴۳ 

    نیز منقول است کہ در دائرہ میاں نظام رضی اللہ عنہ یکہزار تنکہ از غیب رسید ملک الہداد علیہ السلام قسمت می کردندمیاں نظام رضی اللہ عنہ چند بار فرمودند کہ یک سویت شما زیادہ بگیر ید مرا می رسد کہ کسے را زیادہ کنم دکسے را نقصان کنم باز ملکعلیہ السلام ہماں گفتند کہ حق فقیران است و بعد از دہ ۲ سال ازیں دائرہ در دائرہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ رفتند۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ میاں نظام رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں غیب سے ایک ہزار تنکے آگئے ملک الہداد رضی اللہ عنہ تقسیم کر رہے تھے ۔ میاں نظام رضی اللہ عنہ نے چند بار توجہ دلائی کہ آپ ایک حصہ زاید لے لیں مجھے اختیار ہے جس کو چاہوں (حسب ضرورت ) زیادہ دوں جس کو چاہوں (حسب ضرورت ) کم دوں پھر بھی ملک الہداد رضی اللہ عنہ یہی کہتے رہے کہ فقیروں کا حق ہے اور دس سال گزارنے کے بعد آپ اس دائرہ سے میاں سید خوند میرعلیہ السلام کے دائرہ میں چلے گئے۔


    ۱۴۴ 

    نقلست کہ برادران دائرہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ میاں نعمت رضی اللہ عنہ را گفتند ہمہ پیروی ۳ حضرت میراں علیہ السلام درمیان خوندکار تمام ہست مگر یک پیروی ماندہ آنرا چرانمی کنید کہ حضرت میراں علیہ السلام بی بی ملکانعلیہ السلام راسہ سویت دادہ اند شمادر خانہ خود چرانمی وہید میاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند ہمہ یاراں اتفاق کردہ بی بی رادہانیدہ انداز جہت آں کہ مہماناں بسیار می آمدند۔ بردراں گفتند کہ ماہمہ راضی ہستیم پیروی حضرت میراں علیہ السلام بکنید بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند حضرت میراں علیہ السلام مرشد بودند میا طالب ہستیم حضرت میراں علیہ السلام بندہ را یک سویت دہایندہ بودند ہمیں یکے بسند است بعدہ ہمہ یاراں اتفاق کردہ سے سویت دادہ بودند یک روز بگذشت دوم روزے۴ برادراں را فاقہ شد آں سویت کہ برادراں را دہ بودند ہمہ پیش برادراں آوردہ سویت کنا نید ند۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ کے برادران دائرہ نے ایک دفعہ حضرت میاں نعمت رضی اللہ عنہ سے کہا کہ خوندکار میں حضرت مہدی علیہ السلام کی پور پیروی ہے ۔ صرف ایک امر کی اتباع جو باقی رہ گئی ہے آپ کیوں نہیں کرتے؟ وہ یہ کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے بی بی ملکان علیہ السلام کو سویت کے تین حصے دئیے ہیں۔ آپ بھی اپنے گھر میں کیوں نہیں دیتے میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمام صحابہ کے متفق ہونے پر مہدی علیہ السلام نے بی بی علیہ السلام کو تین حصے دئیے تھے وہ بھی بہت سارے مہمانوں کے اخراجات کے لحاظ سے ۔ برادران دائرہ نے عرض کیا کہ ہم بھی سب کے سب متفق ہیں آپ حضرت مہدی علیہ السلام کی پیروی کیجئے ۔ بندگی میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت میراں علیہ السلام مرشد تھے ہم طالب ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے بندہ کو سویت کا ایک حصہ عطا فرمایا تھا وہی ایک حصہ کافی ہے بعد میں ایک روز تمام برادران دائرہ نے با ہم اتفاق کرکے (حضرت کے گھر میں) تین حصے دئیے تھے ایک دن گزرا دوسرے ہی دن برادران دائرہ میں فاقہ پڑا ۔ جو سویت کہ برادران دائرہ نے (حضرت کے گھر میں) دی تھی وہ سب برادران دائرہ کے سامنے لا کر تقسیم کردی۔


    ۱۴۵ 

    منقول است معتاد حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ چنیں بود کہ وقتی دردن دائرہ اضطرار شدے و خبر شنیدے اگر دراں وقت طعام می خوردے دست باز کشیدے و طعام نہ خوردے و فرمودے کہ چگو نہ بخورم کہ یاراں گر سنہ اند بعدہ‘ بی بی کد بانوعلیہ السلام چیزے گذرانید ے انگہ بخوردے ۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ جب کبھی دائرہ میں اضطرار کی کیفیت پیدا ہوجاتی اور آپ کو اطلاع ہوجاتی تو اگر چہ آپ تعام تناول فرما رہے ہوں ہاتھ کھینچ لیتے اور کھانا تناول نہ فرماتے تھے اور فرماتے کہ رفقا بھوکے ہیں کس طرح کھاوں حضرت بی بی کد بانو رضی اللہ عنہا فوراً کچھ گذران دیتیں اس وقت حضرت تناول فرماتے۔


    ۱۴۶ 

    نقل است کہ بعضے وقت بندگی میاں سومار علیہ السلام بردر میراں سید محمود رضی اللہ عنہ آمدہ آواز دادے آنمہدی علیہ السلام دائی رتنی را فرستادہ پر سیدے کہ چہ میگویند میاں سومارعلیہ السلام گفتے کہ در دائرہ بعضے کسار را فاقہ شدہ است و اگر دراں وقت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ طعام میخوردے دائی خبرنکروندے بعدہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ بآواز بلندمی پر سید ے کہ میاں سومار علیہ السلام چہ میگویند دائی چیزے نگفتے میاں سومار علیہ السلام گفتے ہیچ نیست می بینم کہ میراں علیہ السلام چہ می کنند بعد ازاں تاکید کردہ پرسیدے کہ راست بگوئید برائے چہ کار آمدہ بودید بعد ازاں میاں سومار علیہ السلام گفتے کہ برادران دائرہ گر سنہ اند بعدہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ چشم پر آب کردہ فرمودے کہ طعام بردارید ایں بندہ خاک بخورد برادرانِ دائرہ گرسنہ اند و بندہ بخورد بعد ازاں بی بی علیہ السلام چیزے گزرانیدے انگہ میراںعلیہ السلام طعام خوردے۔ و ازاں چیزے غلہ آدردہ ندا کردندے کہ ہر کہ مضطر باشدیگر و مضر نہ باشد نگیر وغیر مضطران نگر فتندے گفتے کہ ما امروز خوردہ ایم پر سیدندے کہ از کجا خوردید جواب دادندے کہ قرض کردہ خورد ۱ ایم حکم کردے کہ قرض کردہ نباید خورد بر بغتةً باید ماند کہ شرط توکل مطلق بر بغتة ً است۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ایک وقت حضرت بندگیمیاں سومارعلیہ السلام نے حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کے دروازہ پر آکر آواز دی دائی رتنی کو بھیج کر حضرت نے پوچھوایا کہ کیا کہتے ہو میاں سومار علیہ السلام نے کہا کہ دائرہ میں بعض لوگوں پر فاقہ پڑہے اس وقت تناول فرمارہے تھے وائی رتنی نے یہ اطلاع نہ دی (باہر ہی ٹہری رہیں) حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے خود دریافت فرمایا کہ میاں سومارعلیہ السلام کیا کہتے ہو وائی ادھر ساکت ہوگئیں اور میاں سومار نے کہدیا کہ کچھ عرض کرنا نہیں ہے میں دیکھنے آیا کہ حضرت کیا کر رہے ہیں اس پر بھی آپ نے تاکید اً فرمایا کہ سچ کہو کس لئے آئے ہو اس وقت میاں سومارعلیہ السلام نے کہا بعض برادران دائرہ فاقہ میں ہے حضرت میرانسید محمود رضی اللہ عنہ نے آنکھوں میں آنسو لاکر فرمایا کہ کھانا اٹھالو بندہ کیا خاک کھائیگا جبکہ برادران ِ دائرہ فاقہ میں ہوں اس کے بعد بی بی علیہ السلام نے کوئی چیز پیش کردی اس وقت میراں رضی اللہ عنہ نے تناول فرمایا اور اس چیز سے غلہ منگواکر ندا کیگئی کہ جو مضطر ہوں لے لیں جو نہ ہوں نہ لیں جن پر اضطرار کی کیفیت نہ تھی انھوں نے نہ لیا اور کہدیا کہ ہم نے آج کھا لیا ہے۔پوچھا گیا کہ کہاں سے کھائے ہو جواب دیا کہ ہم نے قرض کرکے کھایا ہے۔ حکم دیا کہ قرض کرکے نہ کھانا چاہئیے ۔ دفعتہ (بے شان و گمان اچانک جو پہنچ جائے اسی پر) رہنا چاہئیے کیونکہ توکل کی شرط مطلق بغتةً پر ہے۔


    ۱۴۷ 

    نقلست کہ بندگیمیاں الہداد شاعر رضی اللہ عنہ روزے پیش حضرت میراں علیہ السلام چیزے مبلغ آوردند حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ایں مبلغ پیش خود بدارید میاں الہداد علیہ السلام اور امانت بداشتند بعدہ حضرت میراں علیہ السلام بعد از مدتے آں مال طلبید ند میاں الہداد فی الحال تسلیم کردندے حضرت میراں علیہ السلام سویت کنا نید ند باایں۲ ہم میاں الہداد علیہ السلام گفتند کہ من در فقیراں مردار خوار ہستیم۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ حضرت بندگی میاں الہداد شاعر رضی اللہ عنہ نے ایک دن کچھ رقم حضرت مہدی موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی حضرت نے فرمایا کہ یہ رقم اپنے پاس رکھو میاں الہداد علیہ السلام نے اسکو امانتاً رکھا کچھ عرصہ بعد حضرت مہدی علیہ السلام نے اس رقم کو طلب فرمایا میاں الہدادعلیہ السلام نے اسی وقت حاضر کردی اور حضرت مہدی علیہ السلام نے سویت کرادی اس کے باجود میاں الہدادعلیہ السلام نے کہا کہ میں فقراءکی جماعت میں مردار خوار ہوں۔


    ۱۴۸ 

    نقلست کہ شیخ صدر الدین۱ سندھینیم شب دست درون حجرہ فراز کردہ نا نہا با شارت میدادے کہ کسے نہ دانستے کہ کدام کس مید ہد بعد از دو شب طالبان خدا پیش حضرت میراں علیہ السلام فریاد و زاری کردند کہ میرانجی رہزنی می شود فرمودند کہ چہ می شود عرض کردند دو شب شدہ است کہ کسے دست خودرا درون حجرہ فرازمی کند و نا نہا مید ہد لیکن معلوم نمی شود کہ کدام کس است بعدہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ طالبان خدائے را ایذا مد ہید۔ تا خاطر برغیر خدا نہ رود۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ شیخ صدر الدین سندھی رضی اللہ عنہ آدھی رات کو حجرہ میں ہاتھ بڑھا کر روٹیاں رکھدیتے تھے کہ کسی کو خبر تک نہ ہوتی تھی کہ کس نے دیا ہے یہ واقعہ دو رات پیش آیا طالبان خدا نے حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں بحالت زاری فریاد کی کہ میرانجی رہزنی ہورہی ہے حضرت نے دریافت فرمایا کیا ہورہا ؟ عرض کرنے لگے کہ دو راتوںسے یہ واقعہ پیش آرہا ہے کہ کوئی شخص حجرہ میں اپنا ہاتھ دراز کرکے روٹیاں رکھدیتا ہے معلوم نہیں ہوسکتا کہ کون شخص ہے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ طالبانِ خدا کو ایذا مت دو ! تاکہ دل غیراللہ کی طرف مائل نہونے پائے۔


    ۱۴۹ 

    نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام را کسے مال آوردو گفت چند تنکہ برائے سید حمید ۲ و چند تنکہ برائے بی بی ملکانعلیہ السلام و چند تنکہ برائے بی بی بون جیعلیہ السلام و چند تنکہ برائے بی بی ہدنجی علیہ السلام ۳ و چند تنکہ برائے بیبیانِ سید احمد و برائے بی بی ہدیتہ علیہ السلام ۴ و چند تنکہ برائے فقیراں۔ میراں علیہ السلام درخشم شدہ فرمودند کہ اگر برائے خدا آوردے بیا در الاّ ہمہ راہبر۔ بعدہِ آرندہ گفت ایں ہمہ برائے خدائے تعالیٰ آوردہ ام ہر چہ رضا باشد بکنید بعدہ قبول کردند و جملہ سویت کنا نید ند۔
    ترجمہ : روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں کوئی شخص کچھ تنکے لایا اور کہنے لگا کہ چند تنکے (سکے) سید حمیدعلیہ السلام کیلئے اور چند تنکے بی بی ملکانعلیہ السلام کے لئے اور چند تنکے بی بی بون جی علیہ السلام کے لئے اور چند تنکے بی بی ہدنجیعلیہ السلام کے لئے اور چند تنکے سید احمد کی ببیبیوں کے لئے اور بی بی ہدیتہ اللہ علیہ السلام کے لئے اور چند تنکے فقرائے دائرہ کے لئے ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے جلال بھرے لہجہ میں فرمایا کہ اگر خدائتعالیٰ کے لئے لائے ہو تو لاوِ ورنہ یہ سب لے جاوِ۔اس وقت رقم لانے والے نے عرض کیا کہ یہ سب خدائتعالیٰ کے لئے لایا ہوں آپ کی مرضی کے مطابق صرف کیجئے اس کے بعد آپ نے قبول فرمایا اور پوری رقم سویت کروادی۔


    ۱۵۰ 

    نیز نقل است کہ در جالور پیش بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ کسے چیزے زر آور دو نام یک یک زن علیحدہ کردہ گفت کہ فلاں را ایں مقدارو فلاں را ایں مقدار بعدہ میاں شاہ نعمت رضی اللہ عنہ نقل حضرت میراں علیہ السلام فرمودند آں را قبول نکردند بعدہ آرند مال گفت کہ برائے خدا آدردہ ام بعدہ قبول کرند ہمہ یکجا کردہ سویت کردند۔
    ترجمہ روایت ہے کہ جالور میں حضرت بندگی میاں نعمت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کوئی شخص کچھ زر لے آیا اور ایک ایک بی بی کا نام علیحدہ علیحدہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ فلاں کو اتنا فلاں کو اتنا اس وقت حضرت میاں شاہ نعمت رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی علیہ السلام کا (مذکور الصدر) فرمان سنایا اور اس زر کو قبول کرنے سے انکار کردیا لانے والے نے عرض کیا کہ خدائتعالیٰ کے لئے لایا ہوں حضرت نے سب زر اکٹھا کرکے سویت فرمادی۔


    ۱۵۱ 

    نیز ۱ نقل است ملک حسین بھٹی ۲ چند من برتی ۳ فرستادند بدیں طریق ہر کہ مہاجراں باشند دو من بر تی بستا نند۔ و آنچہ باقی مان فقیراں بستانند بندگی میاں دلاور رضی اللہ عنہ فرمودند مارانباید کہ قبول کنم۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ملک حسین بھٹی نے چند من برتی خدمت میں روانہ کیا مگر اس طرح کہ جو مہاجرین ہوں دو من برتی لے لیں اور جو بچ رہے باقی فقرا لیں حضرت بندگیمیاں دلاور رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ قبول کرنا ہمارے لئے روا نہیں ہے۔


    ۱۵۲ 

    نیز نقل است ملک حسین بھٹی ۴ میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ راسہ ۵ صد من جواری برات بدیہے کردہ فرستاد و گویانید کہ یک آدمی بفرسید تا بیارد۔ قبول نہ کردند و فرمودند کہ بندگان خدا از جہت غلہ گرفتن دیہ بدیہ نروند ہر چہ ۶ بجاے نشستہ بے واسطہ برسد بگیرند۔
    ترجمہ روایت ہے کہ ملک حسین بھٹی نے حضرت میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے لئے تین سو من جواری دینے کے لئے قصبہ والوں کے نام چٹھی لکھکر مہدی علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا اور کہلایا کہ کسی ایک آدمی کو بھجوادیا جائے تاکہ وہ (دائرہ میں) لالے۔ مہدی علیہ السلام نے قبول نہ فرمایا اور کہدیا کہ بندگان خدا غلہ حاصل کرنے کے لئے قریہ قریہ نہیں پھرتے۔ اپنی جگہ بیٹھے ہوے جو کچھ بیواسطہ پہنچ جاتا ہے وہی قبول کرتے ہیں۔


    ۱۵۳ 

    نقل است ۱ روزے بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ یکے را در شہر فرستادہ بودند باگردوں برائے کار ملک فخر الدین برہماں گردوں چیزے غلہ دروغن فرستاد بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بسیار ۲ در غضب شدند د واپس فرسادند و فرمودند کہ بدست کسان ما فرستادیدآں ۳ را نباید گرفت۔ بعدہ ملک مذکور غلہ در و غن بدستِ کسانِ خود باعذر خواہی بسیار فرستادِ قبول کردند۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ایک روز حضرت بندگی میا ں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے ایک صاحب کو بنڈی کے ساتھ کسی کام سے شہر میں روانہ فرمایا تھا ملک فخر الدین نے اسی گاڑی پر واپسی میں کچھ غلہ اور تیل بھیج دیا۔ حضرت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے بہت ہی ناراضی ظاہر فرمائی اور واھس فرمادیا اور فرمایا کہ ہمارے دائرے کے لوگوں کے ذریعہ جو روانہ کیا جاتا ہے اس کو قبول نہ کرنا چاہئیے اس کے بعد ملک مذکور نے اپنے آدمیوں کے ذریعہ غلہ اور تیل نہایت عذر خواہی کیساتھ روانہ کیا۔ اس وقت آپ نے قبول فرمایا۔


    ۱۵۴ 

    نقل است از احمد نگر ملک نظام الملک ٹھانہ دار را گفت کہ سی ۴ صد ہون و ذو بست ۵ کھنڈی گندم تسلیم بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ کن و ٹھانہ دار پیش بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ آمد و گفت یک نوکر شما بفر سید برابر ما ۔ تا بدکان صراف بیاید مہر ہا نمودہ بدہم۔ فرمودند ما را نوکراں نیستند بعد ازاں او گفت کہ پیش ِ شما کدام کسانند۔ فرمودند کہ برادراں اند گفت یک برادر را ہمراہ من بفرسید فرمودند اور نخواہد ۶ آمد و یاران را فرمودند مبادا کسے بردو۔ بعدہ نہ ہون آمدو نہ گندم۔
    ترجمہ: روایت ہے کہ ملک نظام الملک نے احمد نگر سے ٹھانہ دار کو کہلا بھیجا کہ تیس سو ہون (۰۰۰۰۳) اور بائیس کھنڈی گیہوں حضرت بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کرو اور ٹھانہ دار نے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ آپ کے ایک نوکر کو میرے ساتھ بھیجدیجئے تا کہ صراف کی دکان تک چلے اور میں اس کو مہر دکھا کر دیدوں ۔ فرمایا کہ ہمارے کوئی نوکر نہیں ہیں اس نے عرض کیا کہ آپکے پاس یہ کون لوگ ہیں۔ فرمایا کہ برادراں ہیں۔ عرض کیا کہ کسی ایک بھائی کو میرے ساتھ روانہ فرمادیجئے آپ نے فرمایا کوئی ایک بھا ئی بھی نہ آئیگا ۔ اور برادرانِ دائرہ سے فرمایا کہ خبردار کوئی نہ جائیں۔ اس کے بعد نہ تو ہون آے نہ وہ گےھوں۔


    ۱۵۵ 

    نقل است کہ ملک الہداد علیہ السلام را کسے گفت کہ بندہ نیت کردہ است کہ عشر در راہ خدا بدہم و لیکن نزدیک مانوکراں دیانت دار نیستند خوندکار چناں بکنید کہ دو کس از بندگانِ خدا فرستادہ ۱ بطلبند تا از د یہ تحصیل کردہ بیارند۔ ملکعلیہ السلام فرمودند لعنت بر کسے کہ برائے عشر گرفتن کس بردو۔
    ترجمہ روایت ہے کہ حضرت ملک الہداد رضی اللہ عنہ سے کسی نے عرض کیا کہ بندہ نے نیت کی ہیکہ راہ خدا میں عشر دے لیکن بندہ کے پاس دیانتدار نوکر نہیں ہیں خوندکار اتنی(مدد ) کریں کہ دو بندگانِ خدا کو بھیجکر منگوالیا کریں تا کہ وہ قریہ سے وصول کرکے لائیں۔ حضرت ملک الہداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس شخص پر لعنت ہے جو عشر وصول کرنے کسی کے پاس جائے۔


    ۱۵۶ 

    نقل است کہ ملک دولت شہ ناگوری یکبار چند گردوں غلہ در دائرہ ملک الہدادعلیہ السلام فرستاد قبول نہ کردند بہ سبب آں کہ یک طالب برابر گردوں ہابود۔
    ترجمہ رواہے ہے کہ ملک دولت شاہ ناگوری نے ایک بار حضرت ملک الہداد رضی اللہ عنہ کے دائرہ میں چند گاڑیا ں اور غلہ روانہ کیا آپ نے اس وجہ سے قبول نہ فرمایا کہ ایک فقیر ان گاڑیوں کیساتھ تھے۔


    ۱۵۷ 

    نقل است کہ برادران بی بی کد بانوعلیہ السلام پیش میراں سید محمو د علیہ السلام مبلغے گزرانید ند قبول کردند و فرمودند کہ بسبب اقار بی بی دہیدا گر براے اللہ بدہید تا چندیں دائرہ ہستند چرانمی دہید بعدہ بطریق پنہاں بی بی کد بانوعلیہ السلام را دادند بعد از چند روز چونکہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ را معلوم شد بسیار زجر کردند و فرمودند کہ بروید درخانہاے برادران خویش ایں مال بخورید ۲ بعد بی بی ہمہعلیہ السلام مالِ مذکور کہ بود پیش آدردند۔ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ آں را سویت کنا نید ند۔
    ترجمہ روایت ہے کہ بی بی کد بانو رضی اللہ عنہا کے بھائیوں نے حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کچھ رقم پیش کی حضرت نے قبول نہ فرمایا اور فرمایا کہ قرابتداری کے لحاظ سے دے رہے ہو اگر اللہ کے لئے دینا مقصود ہوتا تو اتنے دائرے جو موجود ہیں وہاں کیوں نے دیتے۔ اس کے بعد انھوں نے پوشیدہ طور پر بی بی کد بانو رضی اللہ عنہا کو دیدیا چند دنوں بعد جب حضر ت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے بہت تہدید فرمائی۔ اور فرمایا کہ جاوِ اپنے بھائیوں کے گھر بیٹھ کر وہیں رقم کھا وِ ۔ اس وقت بی بیعلیہ السلام نے تمام رقم حضرت کی خدمت میں پیش کردی ۔حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے وہ ساری رقم سویت کروادی۔





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.