باب ششم
- دربیان استغنائ
۶۴
بندگیمیاں سیدخوندمیررضی اللہ عنہ از گجرات ہجرت کردہ بہ جالور قرار کردند میاں خواجہ محمود عرض کردند کہ اگر رضا باشد از جہت آوردن اسباب جماعت خانہ گردو نہاے بفرسیم فرمودند حاجت نیست۔ باز گفت کہ برشگال آمدہ است تشویش خواہد شد فرمودند نخواہد شد بسبب عذر بر شگال برادراں نماز خود بخانہِ خود خواہند گز ارد۔ اوکرت مرت گفت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ہر بار ہمیں جواب فرمودند کہ حاجت نیست چوں بطرف حجرہ رواں سدند بابرادراں ۱ استادہ فرمودند کہ اہل نفس را فرمایش نباید کرد۔ و فرمودند ۲ کہ اہل نفس طلب فرمایش خواہند ۔ بازفرمودند بندہ دوستو راں ویک گردوں کہ داشتہ است از جہت برادراں کہ مبادا ۳ پیشِ کساں حاجت بطلب افتد سوال کند۔
ترجمہ:۔ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے گجرات سے ہجرت کرکے جالور میں قیام فرمایا تھا۔ میاں خواجہ محمود نے عرض کیا کہ اگر اجازت ہو جماعت خانہ کا سامان لانے کے لئے گاڑیاں روانہ کرتا ہوں۔ فرمایا کہ ضرورت نہیں ۔ پھر عرض کیا کہ بارش کا موسم آچکا ہے تکلیف ہوگی فرمایا نہوگی‘ بارش ہو تو برادراں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیں گے۔ اس نے بار بار معروضہ کیا۔ بندگیمیاں سید خوندمیررضی اللہ عنہ ہر دفعہ یہی جواب فرماتے رہے کہ ضرورت نہیں۔ اور حجرہ میں تشریف لیجاتے ہوے اپنے متبعین سے فرمایا کہ اہل نفس سے فرمایش نہیں کرنی چاہئیے۔ اور فرمایا کہ اہل نفس طلب ِ فرمایش ہوا کرتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ دو بیل اور ایک بنڈی اسی لئے رکھی گئی ہے کہ برادران دائرہ کو ضرورت کے وقت سوال کرنے کی نوبت نہ آنے پائے۔
۶۵
بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ راعادت بود کہ بوقت نماز جمعہ و عید پیادہ بیروں می شدے چوں درمیان راہ کسے مرکب بیادر وے یکبار فرمودندے کہ حاجت نیست استغناءنمود ۴ او باز عرض نمودے کہ سوار شوید بعد قبول کردے۔
ترجمہ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی عادت تھی کہ نماز جمعہ و عید کے وقت پیدل باہر تشریف لیجاتے تھے اثناءے راہ اگر کوئی سواری پیش کرتا تو فرماتے کہ ضرورت نہیں بے پروائی برتتے وہ پھر عرض کرتا کہ سوال ہوجائیے تو قبول فرمالیتے۔
۶۶
و دیگر مہاجراں را ہم اغلب ہمیں معتاد بود کہ ہمیشہ بہ بودن احتیاجِ تام بصفت استغناءزندگانی کردندے۔
ترجمہ: دوسرے مہاجرین ِ کرام کی عادت بھی عموماً یہی رہی کہ زیادہ سے زیادہ ضرورت رہنے کے باوجود استغنا سے زندگی بسر فرماتے تھے۔
۶۷
حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند ہر چہ خواہی از خدا خواہ ۔ اگر آب و نمک و ہیزم خواہی از خدا خواہ رخصت انیست و عزیمت آنست کہ گفتہ اند۔ بیت
ہشت جنت گرد ہندت سر بسر ۱ ۔ تو مشوراضی ازا نہا‘ در گزر
عالی ہمت باش دل با حق بہ بند ۔ تو ہماے قاف قربی رو بلند
ترجمہ:۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا جو کچھ چاہتے ہو خدا سے چاہو۔ پانی نمک۔ لکڑی بھی چاہتے ہو تو خدا ہی چاہو ۔ یہ رخصت ہے۔ عالیت تو وہ ہے جو بیان کرتے ہیں کہ:۔
اگر پوری آٹہہ جنتیں بھی تجھکو دیدی جائیں تو ان سے خوش نہو بلکہ طلب میں اور آگے بڑھ جا ۔
بلند ہمت رہ اللہ سے دل کو وابستہ رکھ۔ جبتک تو قاف قربی کا ہما ہے بلند اڑتا چلا جا۔
۶۸
نقل است۲ ہر چہ خواہی از خدا خواہ ‘ اگر دنیا خواہی از خدا خواہ د اگر عقبیٰ خواہی از خدا خواہ۔
ترجمہ:۔ روایت ہے (حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا) جو چاہتے ہو خدا سے چاہو ۔ دنیا چاہتے ہو خدا سے ہی چاہو آخرت بھی چاہتے ہو تو خدا سے ہی چاہو۔
۶۹
و نیز نقل است حضرت مہدی علیہ السلام دائم ایں چنیں می فرمودند کہ تسلیم کنسید۔ ذاتِ خود را بخدائے تعالیٰ و با ہیچکس نہ پردازید و ہیچ چیز نخواہید جز ذات حق تعالیٰ ویک ذرہ بامخلوق احتیاج نہ نمائید۔ اصحاب صفہ ‘ قوم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ مشہور بدیں نام بود۔ موصوف بدیں صفات بودندو گروہ حضرت مہدی علیہ السلام نیز مشہور ۳ بدیں صفات اند ۴ ۔ زیر اچہ ایشاں مامور با تباع خلیل اللہ اند و خلیل اللہ صلوٰة اللہ علیہ وسلم بوقت اتبلا و نمرود لعین چناں تسلیم شد کہ بجبرئیل علیہ السلام التفات نہ کرد۔ واز حضرت ۵ حقتعالیٰ جز ذات مطلق نخواست ۶ ۔ آنجا کہ گفت جبرئیل علیہ السلام ھل لک حاجة یاابراھیم۔ قال لا ۔ قال قد سئل ربک قال ابراھیم حسبی سوالی علمہ بحالی۔ کما قال اللّٰہ تعالیٰ ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للّہ وھو محسن و اتبع ملة ابراھیم حنیفا (جز ء۵ رکوع ۵۱) پس مصدقانِ مہدی را باید کہ ہمہ حال تسلیم باشند واز مراد۱ دارین فارغ شوند و جز لقاءاللہ طلب۲ اونبا شد۔
ترجمہ :۔ روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ اپنی ذات خدائتعالیٰ کے حوالے کردو۔ نہ کسی شخص کیساتھ مشغول رہو نہ کسی چیز کی خواہش رکھو بجز خدائتعالیٰ کی ذات کے مخلوق سے ذرا بھی احتیاج نہ رکھو اصحاب صفہ جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور جماعت تھی۔ وہ جماعت انہیں صفات سے متصف تھی اور حضرت مہدی علیہ السلام کی جماعت بھی انہیں صفات سے متصف مشہور ہے کیونکہ اس جماعت پر حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کی اتباع لازم کی گئی ہے حضرت خلیل اللہ علیہ السلام نے نمرود لعین کے ظلم ڈھانے کے وقت تسلیم و رضاءاس درجہ اختیار فرمائی تھی کہ جبرئیل علیہ السلام کی طرف بھی آپ نے التفات نہ فرمایا اور بارگاہ رب العزت سے ذات حق کے سواے کسی اور طلب سے آپ نے سروکار نہ رکھا جب کہ جبرئیل علیہ السلام نے آپ سے پوچھا کہ ” اے ابراہیم کہو کیا ضرورت ہے ؟ فرمایا کچھ نہیں جبرئیل علیہ السلام نے کہا تمہارے رب نے پوچھا ہے ؟ فرمایا کہ حسبی سوالی علمہ بحالی (اس کا میرے حال کو جاننا میرے سوال کو کافی ہے) جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” اور از روے دین اُس شخص سے کوئی اچھا بھی ہے جس نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کردیا؟ اور وہ نیکی کرنے والا ہے اور اس نے حضرت ابراہیم کے دین کی پیروی اختیار کی ہے “ (جز۵ رکوع ۵۱) پس مصدقین حضرت مہدی علیہ السلام کو چاہئیے کہ ہر حالت میں تسلیم و رضا پر عامل رہیں۔ دونوں جہان کا مقصدع حاصل کریں دیدار خدا کے سواے کوئی اور طلب نہ رکھیں۔
۷۰
نیز نقل است از بندگی میاں شاہ دلاور رضی اللہ عنہ کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند اگر خدائتعالیٰ در حال ۳ حسرت برائے چیزے بسیار رساند دوسہ بار کردہ دردنِ دائرہ خرچ کنندہ کہ ایشاں مستحق فتوح اند‘ نہ غیر ایشاں مگر بطریق۴ طفیل ایشاں کسے را برسد۔
ترجمہ ۔ حضرت بندگیمیاں شاہ دلاوررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ تنگدستی کے وقت اگر خدائتعالیٰ و (حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے )عرس کے لئے کچھ زیاد بھیجدے تو اس سے اہل دائرہ کے لئے دو تین وقت کا خرچ چلانا چاہئیے ۔ کیوں کہ یہی مستحق فتوح ہیں۔ دوسرے نہیں ہیں ۔ مگر ان کے طفیل میں کسی کو پہنچ جائے (تو وہ اور بات ہے)۔
۷۱
نیز نقل است از بعضے مہاجراں کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ہر کہ منتظر فتوح باشد متوکل نباشد۔
ترجمہ: بعض مہاجرین کرام نے یہ روایت بیان فرمائی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص فتوح کا منتظر ہو وہ متوکل نہیں ہے۔
۷۲
نیز نقل است فرمودند ہر کہ از سا کنان دائرہ بدر خانہ اغنیاءبگذردو اغنیا اور اچیزے بدہند یا بدست او بر۱ دائرہ بفرسندآں فتوح نباشد۔ نباید ۲ خورد و مرشدِ دائرہ رانباید ستد۔
ترجمہ نیز روایت ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اہل دائرہ سے کوئی شخص دولتمندوں کے گھر جائے اور دولتمند لوگ اس کو کچھ دیں یا ایل دائرہ کے لئے اس کے ذریعہ کچھ بھیجدیں تو اس پر فتوح کا حکم نہو سکیگا۔ اس کو استعمال نہ کرنا چاہئیے ۔ اور دائرہ کے مرشد پر لاز ہے کہ اس کو قبول نہ کرے۔
۷۳
حضرت میراں علیہ السلام فرمودند اند ہر چہ با ختیار بندہ بموافقت شرع می رسد حلال است و لیکن حلال طیب نیست و حلال طیب آنست ۳ کہ بے اختیار برسد۔ و برحلال محاسبہ است و بر حلالِ طیب محاسبہ نیست۔ کما قال اللّٰہ تعالیٰ کلما دخل علےھا زکریا المحراب وجد عندھا رزقاً ۔ قال یا مریم انیّٰ لک ھذا ۔ قالت ھو من عند اللّٰہ ان اللّٰہ یرزق من یشاءبغیر حساب (جزء۳ رکوع ۲۱) وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی ۴ شئی حلالھا حساب و حرامھا عذاب و طیبھا بلا حساب۔
ترجمہ:۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بندے کو اختیار و کوشش سے شرع کے موافق جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ حلال ہے لیکن حلال طیب نہیں ہے۔ حلال طیب تو وہ ہے کہ بے اختیار پہنچ جائے اور حلال پر محاسبہ ہے ‘ حلال طیب پر محاسبہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب کبھی زکریا علیہ السلام مریم علیہ السلام کے پاس کوٹھری میں داخل ہوتے وہاں رزق موجود پاتے ۔ انھوں نے کہا اے مریم ! یہ (رزق) تمہارے لئے کس طرح پہونچتا ہے؟ (مریم علیہ السلام) نے جواب دیا یہ اللہ کے پاس سے (آتا) ہے بیشک اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے (جز ء۳ رکوع ۲۱) حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز حلال ہو اس کا حساب ہوگا اور جو حرام ہو اس پر عذاب ہوگا۔ اور جو طیب ہو وہ بے حساب ہے۔
۷۴
نیز نقل است وقتی کہ خدائتعالیٰ چیزے رسانید یاراں گفتند کہ حلال طیب است ۱ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ حلال است حلال طیب نیست ۔ و دوسر روز شدہ است ۲ کہ خبر ایں رسید ہ بود کہ اور فرستادن می خواہد و نیز فرمودند کہ تعین ۳ لعین است۔
ترجمہ: روایت ہے کہ ایک دفعہ خدائے تعالیٰ نے کچھ بھیج دیا صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ حلال طیب ہے حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ حلال ہے۔ حلال طیب نہیں ہے (کیونکہ) دو تین روز قبل یہ معلوم ہوچکا تھا کہ وہ بھیجنے والا ہے ۔ نیز فرمایا کہ تعین لعین ہے
۷۵
نیز نقل است کہ بندگی میاں نعمت رضی اللہ عنہ فرمودند کہ یک مردار خوار مسلمان شدہ بود بخانہ‘ مردار خواراں برائے ملاقات رفت وقت باز گشتن مردار خوراں گفتند طعام خوردہ برد او گفت من مسلمان شدہ ام بخانہ‘ شما چوں خورم گفتند آوند ۴ نود آب و ہیز و مصالح بگیر و خود بہ پر و بخور ۔ گفت خوب باشد۔ چوں نان خورد ن گرفت ۵ مردار خواراں را گفت چیزے نان خورش ہست ؟ ایشاں گفتند ہست ولے تومی دانی آنچہ کہ ہست گفت اند کے چیزے شوربہ آب بریز۶ او بدہن آدند دست داد۔ ایں گفت کہ دست باز کن آنچہ برابرِ آب افتد افتادن بدہ۔ پس بخور دوباز آمد ۔ وکسے کہ متوکل باشد و بخانہ اہل دنیا برود و نان طلبیدہ طعام ایشاں بخور و حکم ۷ او ہمین است۔
ترجمہ حضرت بندگی میاں نعمت رضی اللہ عنہ نے ایک روایت بیان فرمائی کہ ایک مردار خوار مسلمان ہوگیا تھا ۔ کسی مردار خوا کے گھر ملنے گیا۔ واپسی کے وقت مردار خواروں نے کہا کچھ کھا کر جاوِ ۔ اس نے کہا میں مسلمان ہوچکا ہوں تمہارے پاس کیسے کھا سکتا ہوں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نیا برتن۔ پانی لکڑی مصالح لو خود پکا کر کھاوِ ۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ جب روٹی کھانے لگا۔ مردارخواروں سے پوچھا کہ سالن چٹنی کچھ ہے؟ ان لوگوں نے جواب دیا۔ہے لیکن جو کچھ ہے تم جانتے ہو۔ کہا تھوڑا سا شوربہ ڈالدو۔ اس نے ہانڈی پر ہاتھ رکھکر ڈالنا چاہا۔ اس نے کہا ہاتھ ہٹا دو شوربہ کیساتھ جو ڈھلک جائے ڈھلکنے دو۔ غرضکہ سب کچھ کھا کر وہ واپس ہوا۔ اسی طرح جو شخص متوکل ہو اور مالداروں کے گھر جاکر روٹی کھانا مانگ کر کھاتا ہو اس کا حکم بھی ٹھیک وہی ہے۔
۷۶
نیز نقل است کہ میاں سومارو میاں دولت خاں رضی اللہ عنہما ہر دو مہاجراں بودند وازخانہائے موافقاں دوغ آور ۱ دہ بودند میراں سید محمود رضی اللہ عنہ آوند ہائے ایشاں شکستند و میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ ہمچنیں کردہ اند۔ و بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ چوں برائے دعوت نشستے اکثر ایں ابیات خواندے۔
خدا از عابداں آں را گزیند کہ در راہ خدا خود را نہ بیند
خاک شو خاک تا برود گل کہ بجز خالک نیست مظہر کل
ترجمہ:روایت ہے کہ میاں سو مار اور میاں دولت خاں رضی اللہ عنہما دونوں مہاجر تھے ۔ یہ حضرتات ایک دفعہ موافقین کے گھر سے دہی لائے تھے میراں سید محمود رضی اللہ عنہ نے ان کے برتن توڑ دئیے اور میاں سید خوندمیر و میاں شاہ نعمت رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔ اور بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ طعام دعوت پر تشریف فرما ہوتے تو اکثر یہ ابیات پڑہتے تھے۔
انہی عابدوں کو اللہ تعالیٰ بر گزیدہ بناتا ہے ۔ جو خدا کی راہ میں خود بینی سے بچتے ہوں۔
خاک بنجاوِ خاک بنجاوِ تاکہ اس خاک سے پھول کھلے ۔ کیونکہ خاک بنے بغیر مظہر کل نہیں بن سکو گے۔
۷۷
بیت:۔
ہرگز نشوی شیر بیابان حقیقت
تا خوارشدہ چوں سگِ بازار نگردی
حضر ت میراں علیہ السلام در وقت خواندن این بیت بزبان مبارک فرمودند ماخوار۲ انیم ماخوارانیم ما خوارانیم
مثنوی:۔
در زمان مصطفی ایں ہر چہار
بود دائم بر صحابہ آشکار
جوں و جاں بازی وذل و غربت نیست
چوں بود ایں چار پنجم قربت است
در گہہ شاہ محمد مہدی آخر زماں
می نماید پنج چیزاں دایماً بر مہدیاں
جان و تن را بذل کردن خانماں بگذاشتن
جو و خواری پیشہ کردن صبر برپا داشتن
ہر کہ مہدی رابگر د و گفت اودر دل کند
بیجایش رویت اللہ بالیقین حاصل کند
ترجمہ بیت:۔
جب تک بازار طریقت میں کتے کے مانند ۔ خوار نہ بن جاوگے بیابان حقیقت کے شیر نہ بن سکو گے ۔ اس (اوپر کے) شعر کو بیان فرماتے ہوے حضرت مہدی علیہ السلام اپنی زبا ن مبارک سے فرماتے تھے کہ ہم خوار ہیں ۔ ہم خوار ہیں ۔ ہم خوار ہیں۔
ترجمہ مثنوی: حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ان چار صفات سے متصف تھے۔
فاقہ۔ جانبازی ۔ ذلت۔ غربت ۔ جب یہ چار حاصل تھے تو پانچویں صفت قربت بھی انکو
حاصل تھی۔ حضرت مہدی آخر زماں کے دربار میں ۔ مہدوی پانچ صفات سے متصف ہیں
۱۔جان و تن کو قربان کرنا۔ ۲۔گھر وطن چھوڑنا۔ ۳۔ فاقہ ۴۔خاکساری اختیار کرنا۔
۵۔ صبر پر قائم رہنا ۔ جو شخص حضرت مہدی علیہ السلام کا گرویدہ انکی تعلیم کو دلنیشن کرلے
یقینا دیدار الہی سے مشرف ہوگا۔
۷۸
نیز منقول است کہ اکثر معتاد مہاجران مہدی علیہ السلام ایں بود کہ اگر خود بربالائے ۱ چیزے نشستہ بودے ویک دوبرادران دائرہ برائے ملاقات بیامدے برابر خود نشاندے و بر زمین نشستن ندادے وگر بسیار بیامدے و برابر خود جائے ندیدے خود برخاستے و بر زمین بہ نشستے و اگر خسپیدہ بودندے وکسے برادرے آمدے نشستہ با اوحکایت کردے خسپیدہ نہ ماندے و اگر چہ او مزاحم شدے کہ تکلف نہ کنید۔
ترجمہ روایت ہے کہ مہاجرین حضرت مہدی علیہ السلام کی اکثر یہ عادت رہی ہے کہ اگر خود کسی اونچی چیز پر تشریف رکھے ہوتے اور کسی دائرہ سے ایک دو صاحب ملنے آجاتے تو ان کو اپنے بازو بٹھالیتے تھے ۔ نیچے بیٹھنے نہ دیتے تھے۔ اگر بہت حضرات آجاتے اور اپنے بازو جگہ نہ پائی جاتی تو خود اپنی جگہ سے ہٹ جاتے اور سب کیساتھ نیچے بیٹھ جاتے تھے۔ اگر لیٹے ہوتے اور کوئی برادر آجاتے تو بیٹھکر ان سے بات چیت کرتے تھے۔ اگر چہ کہ آنے والے مجبور کرتے کہ آپ تکلف نہ کریں ۔ لیکن یہ لیٹے رہنا پسند نہ فرماتے تھے۔
۷۹
نیز اگر برائے ملاقاتِ برادر رفتے خود تنہا برفتے و اگر کسی ہمراہ شدے منع کردے۔
ترجمہ ۔ نیز اگر خود کسی بھائی سے ملنے جاتے تو تنہا جاتے تھے کوئی ساتھ چلنا چاہتے تو روکدیتے تھے۔
۸۰
نیز مگس راندن کسے را ازن ندادے بلکہ منع کردے ۔ والسلام علیک اول خود گفتے تو منتظر سلام کسی نہ شدے کہ اول سلام او گوید۔
ترجمہ: نیز کسی کو اپنے پر سے مکھیاں اڑانے کی اجازت تک نہ دیتے تھے۔ بلکہ منع فرماتے تھے اور السلام علیک خود پہلے کہتے تھے ۔ کسی کے سلام کے منتظر نہ رہتے تھے۔
۸۱
نیز کسے را کغش برداشتن و نہادن ندادے و باغنیاءاستغنا ءمی نمودندے ۔ المقصود طریق تواضع در ایشاں مبالغت ۱ بود کہ تفصیل آں متعذر است۔
ترجمہ:۔ کسی کو اپنے نعلین اٹھانے یا رکھنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔ اور مالداروں سے مستغنی رہا کرتے تھے حاصل کلام یہ کہ ان حضرات کا طریقہ ‘ تواضع اتنا زیادہ تھا اسکی تفصیل یہاں بیان کرنا مشکل ہے۔
۸۲
روزے میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بایاراں ایستادہ بودند ملک فخرالدین و ملک لطیف و ملک شرف الدین باملوکی ۲ ہریکی علحدہ سر برپائے بندگی میاں رضی اللہ عنہ می نہاونہ۔ بندگی میاں رضی اللہ عنہ‘ ہیح التفات نہ کردند۳ بعد لمحہ سر ایشاں بدستِ خود بالا کردند۔
ترجمہ:۔ ایک روز حضرت میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ملک فخر الدین و ملک لطیف و ملک شرف الدین رئیس ہونے کے باوجود ہر ایک آپ کے پیر پر سر رکھدیتے تھے حضرت التفات تک نہ فرماتے تھے۔ کچھ دیر بعد اپنے ہاتھ ان کا سر اٹھا دیتے تھے۔
۸۳
دچند بار دیدم کہ ملوکاں‘ وقت دعوت پس ۴ پشت می نشستند و دعوت می شنید ند و نمی گفتند کہ پیش بیائید۔ واگر کسے اہل فہم بودے اگر چہ۵ فقیر فرمودے پیشتر بیائید بہ تائید (بتاکید) و تکرار۶ فرمودے نزدیکتر بیائید و یاراں را می فرمودے کہ جائے بدہید و فرمودے کہ معتاد حضرت میراں علیہ السلام چنیں بود کہ اہل فہم را پیش ِ خود طلبیدے۔
ترجمہ میں نے کئی بار دیکھا ہے کہ بیان قرآن کے وقت امراءپچھلے حصہ میں بیٹھکر بیان سنتے تھے۔ اور حضرت کبھی ان سے نضر ماتے کہ سامنے آوِ ۔ اگر کوئی سمجھدار ہوتا اگرچہ وہ محتاج و مفلس ہی کیوں نہ ہو فرماتے کہ سامنے آو۔ بار بار تاکید سے فرماتے کہ زیادہ نزدیک آجاﺅ اور اپنے فقرا سے فرماتے کہ جگہ دو۔ اور فرماتے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی عادت بھی یہی تھی کہ اہل فہم کو اپنے قریب بلا لیتے تھے۔
۸۴
نقل است روزے ملک حمید ۱ الملک در جالور وقتِ عصر در حال دعوت برائے ملاقات آمد و بعضے چاکرانِ او پیش از و آمدہ بودند کسے تعظیم اونہ کردند۔ نہ چا کرے نہ اہل دائرہ۔ بعدہ پس پشتِ یکے نشست چوں نماز مغرب شروع شد بہ دنبال گزاردہ چونکہ باز گشت بہ چاکراں و قرابتانِ خویش گفت کہ شما چرا تعظیم من نہ کردید ایشاں گفتند کہ عظمت میاں سید خوندمیر دل را چنیں گرفتہ بودکہ تعظیم شما کردن نتوانسیتم۔
ترجمہ:۔ روایت ہے کہ ایک روز ملک حمید الملک جالور میں عصر کے وقت جبکہ بیان قرآن ہورہا تھا ملنے کے لئے حاضر ہوئے۔ ان کے بعض ملازمین یہاں پہلے سے موجود تھے۔ ان کا کوئی ملازم یا کوئی اہل دائرہ کسی نے بھی ان کی تعظیم نہ کی اور وہ کسی ایک شخص کے پیٹھ کے پیچھے بیٹھ گئے۔ نماز مغرب میں شریک رہے واپس ہوتے ہوئے اپنے بعض ملازمین و اقرباءسے انھوں نے پوچھا کہ تم نے میری تعظیم کیوں نہ کی ؟ انھوں نے کہا کہ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کی عظمت سے ہمارے دلوں پر اسقدر طاری تھی کہ ہم آپ کی تعظیم بجانہ لاسکتے تھے۔
۸۵
(۵۸) نیز اگر کسی از دائرہ استقبال ِ دنیا دار و موافق کردے دیا وقت باز گشتن چند قدم برابراد رفتے بزجز منع فرمودے و مرمودے کہ اگر بہ ترک ِتعظیم ایشاں شمارا دردنیا ہم زیاں۲ شود بروز قیامت دامن من بگیرید در آخرت اجر بسیار است ۔ اگر ترک تعظیم ایشاں کنید۔
ترجمہ:۔ نیز اگر کوئی اہل دائرہ کسی دنیا دار اور موافق کا استقبال کرتے یا اس کی واپسی کے وقت چند قدم اس کے ساتھ جاتے تو سختی کیساتھ منع کردئیے جاتے تھے۔ اور (حضرت بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ) سختی کیساتھ اہل دائرہ سے فرماتے کہ ان لوگوں کی تعظیم چھوڑ دینے کی وجہ اگر دنیا میں بھی تمہارا کوئی نقصان ہو تو قیامت کے دن میرا دامن پکڑلو۔ حالانکہ آخرت میں بہت کچھ اجر ملے گا۔ بشرطیکہ ایسے لوگوں کی تعظیم چھوڑ دی جائے۔
۸۶
بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ از حضرت میراں علیہ السلام نقل کردہ اند کہ میراں علیہ السلام فرمودند کہ خلق ۳ ایں چنیں ہست کہ سالک را از آسماں بر زمین آر ند بدیں طریق چوں دید ند کہ با ایشاں التفات نمی کند معتقد شو ندو موافقت کنند چونکہ مہمانی شروع کنند الحاح کنند کہ بغیر خوند کار مہمانی ہر گز نہ شود اگر چہ بسیار عذر کند بے چارہ را ہرگز نہ گزارند تانہ برند چونکہ در خانہ یک کس رفت دیگر معتقد را حجت شد کہ من از و بدتر تا خوندکار بخانہ مننیائید و در مہمانی حاضر نشوید و شرف نہ سازید بے چارہ چہ کند ضرورةً برود ۔ سومے نیز ہمیں بکند بیچارہ را رفتن عادت شد دردل دانست کہ خلق مطیع شد کے بے من ہیچ کار نمی کند۔ و لیکن نمی داند کہ من مطیع ایشاں شدم و دربدر سرگرداں گشتم۔
ترجمہ:۔ بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے حضرت مہدی موعود علیہ السلام کی روایت بیان فرمائی ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مخلوق کا یہ حال ہے کہ سالک کو آسمان سے زمین پر لے آتی ہے ۔ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ (اہل اللہ) ان کی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں تو وہ معتقد ہوجاتے ہیں اور محبت کرنے لگتے ہیں ان کی دعوت کرنا چاہتے ہیں۔ عاجزی کرتے ہیں کہ خوندکار کے بغیر تقریب نہوسکیگی اگر چہ وہ کتنا ہی عذرے کرے بے چارہ کو ہرگز نہیں چھوڑتے آخر لے جاتے ہیں ۔ جب وہ کسی ایک کے گھر چلا جاتا ہے دوسرے معتقد کے پاس دلیل و نظیر ہوجاتی ہے۔(عرض کرتا ہے) کہ بندہ اس سے بدتر یا دور تر نہیں ہے جب تک خوند کار تشریف نہ لے چلیں شرف نہ بخشیں (تقریب نہ ہوسکیگی)بیچارہ کیا کرسکتا ہے مجبوراً چلے جاتا ہے۔ تیسرا بھی یہی طریقہ اختیار کرتا ہے اس طرح بے چارہ کو جانے کی عادت ہوجاتی ہے۔ اور دل میں سمجھنے لگتا ہے کہ مخلوق میری مطیع ہوچکی ہے۔ میرے بغیر کوئی انجام نہیں دیا جاتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ (فی الحقیقت) میں خود ان کا مطیع ہوگیا ہوں اور دربدر سرگرداں ہوں۔
۸۷
و بیاید دانست کہ خوشنودی حضرت میراں علیہ السلام و اکابر مہا جراں درین است کہ بخانہِ کسی بیرونِ دائرہ نباید رفت برائے طعام خوردن نہ درخانہ موافقاں ونہ مخالفاں دنہ ازایشاں چیزے حاجت خواستن ۔ وکسانیکہ برفتند برایشاں بسیار زجر کردند بلکہ بعضے را از دائرہ بیرون کردند۔ الغرض اکابرو مہاجراں نرفتہ اند مگر نا در کہ غلامی تمام داشتند ے بخانہ اوشاں رفتند و طعام خوردند و دعوت کردند۔ ولیکن کسے دیگرے را حجت نیست۔
ترجمہ:۔ جان لینا چاہئیے کہ حضرت مہدی علیہ السلام اور اکابر مہاجرین رضی اللہ عنہم کی خوشنودی اس میں نہ تھی کہ کھانے کے لئے دائرہ کے باہر کسی کے گھر جائیں نہ موافقین کے گھر نہ مخالفین کے گھر۔ اور نہ ان لوگوں سے کوئی سوال کیا جائے اور جو لوگ جاتے ان پر بہت سختی کرتے
تھے بلکہ بعضوں کو تو دائرہ سے باہر کردیتے تھے۔(مولف کتاب حضرت بندگی میاں عبدالرشید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ) غرض اکابر مہاجرین رضی اللہ عنہم نہیں گئے ہیں۔ مگر شاز و نادر ایسے لوگوں کے گھر گئے ہیں اور کھانا بھی کھایا ہے۔ جو پوری غلامی و اطاعت کیا کرتے تھے۔ لیکن یہ کسی اور کے لئے حجت نہیں۔