Mahdi ahs
  • His Nasab
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    Nooriana Audio Player

    Download urdu fonts   
    for better viewing




    باب پنجم      - منقولات حضرت مہدی علیہ السلام در بیان نصیحت

    ۵۶ 

    حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ وجود حیات دنیا کفر است یعنی زیستن بجان کہ آں راہستی و خودی گویند و ہرچیزے را کہ در کتاب اللہ متاع حیاة دنیا نام کردہ اند ‘ حب زنان و فرزنداں و اموال و حیوانات وزراعات و تجارت و عمارات و ملبوسات و ماکولات وجز آں ہر کہ ایں اشیاءرا مرید و محب باشد و بدیں مشغول گردو او کافر است ۔ اگر کسے با او صحبت کند یا بخانہِ اوبرود یا با او الفت و محبت و ارد او از آن مہدی واز آن رسول علیہ السلام واز آن خدا نیست۔ کما قال اللہ تعالی۔ زین للناس حب الشھوات من النساءو البنین والقناطیر المقنطرة من الذھب و الفضة والخیل المسومة والانعام والحرث ذالک متاع الحٰیوة الدنیا واللّٰہ عندہ حسن الماب (جز ء۳ رکوع ۰۱) ای من ترک ھٰذا الاشیا ءفھو مومن ۱ ومن لا ترک ۲ ھٰذہ الاشیاءفھو کافر۔ قال اللہ تعالیٰ وویل للکافرین من عذاب شدید ن الذین یستحبون الحیاة الدنیا علیٰ الاخرة (جزء۳۱ رکوع۳۱) وقال اللہ تعالیٰ ۔ من کا ن یرید الحیاة الدنیا وزینتھا نوف الےھم اعمالھم فےھا وھم فےھا لا یبخسون۔ اولئک الذین لیس لھم فی الآ خرة الا النار وحبط ما صنعو ا فےھا و باطل ما کانو ایجلون (جز ۲۱ رکوع ۲) وقال اللّٰہ تعالیٰ ۔ فاما من طغی و آثر الحاة الدنیا فان الجھیم ھی الماویٰ واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھویٰ فان الجنة ھی الماویٰ (جز ۰۳ رکوع ۴) دریں باب آیتہا بسیار است۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم الدنیا لکم والعقبٰی لکم المولٰی لی۔ حضرت میراں علیہ السلام چنیں بیان کردہ اند الدنیا لکم یا اےھا الکافرون والمنافقون ۳والعقبیٰ لکم یا ےھا المومنون الناقصون والمولٰی لی ولمن اتبعنی
    ترجمہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ وجود حیات دنیا کفر ہے یعنی جان سے جینا کہ جسے ہستی و خودی کہتے ہیں۔ اور وہ امور جن کو کتاب اللہ میں متاع دنیا کہا گیا ہے۔ عورتوں اور بچوں کی محبت اور اموال و حیوانات و تجارت و زراعت و عمارات و ملبوسات و ماکولات وغیرہ کا جو شخص عاشق و مرید ہوگا اور اس میں منہمک و مشغول رہیگا وہ کافر ہے اگر کوئی اسکی صحبت اختیار کرے یا اس کے گھر جائے یا اس سے الفت و دوستی رکھے وہ آنِ مہدی علیہ السلام و آنِ خدا تعالیٰ سے نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” زینت دےئے گئے ہیں لوگ خواہشات کی محبت سے عورتوں اور بچوں سے متعلق اور سونے و چاندی کے جمع کردہ خزانوں اور نشان زدہ گھوڑوں اور چوپایوں اور کھیتیوں سے متعلق یہ سب متاع حیات دنیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ (جو معبود برحق ہے) سب نیکیاں اسی کی طرف پھر جانے والی ہیں“ (جز ۳ رکوع ۰۱) یعنی جس نے ان چیزوں کو ترک کیا وہ مومن ہے جس نے ترک نہ کیا وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے شدید عذاب کا رنج و غم ان کافروں کے لئے ہے جو آخرت کے مقابلہ میں حیات دنیا سے محبت رکھتے ہیں۔ (جز ئ۳۱ رکوع ۳۱) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو شخص حیات دنیا و زینتِ دنیا کا مرید ہو ہم ان کے اعمال کا بدلہ اس دنیا ہی میں پورا کردیں گے۔ اس دنیا میںان کے لئے کوئی کمی نہ کیجائیگی ۔ یہ سب وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش دوزخ کے سوائے کچھ نہیں ہے۔ اور انھوں نے جو کچھ (نیکیاں) اس دنیا میں کی ہیں وہ سب حبطہ ہوجائیں گی اور وہ جو (اچھے) کام کرتے ہیں باطل ہے۔ (جز ئ۲۱ رکوع ۲) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے لیکن جو شخص حد سے گذر گیا اور حیات دنیا کے پیچھے ہوگیا تو بیشک اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اور جو شخص اپنے رب کے (عقاب کے) موقع پر ڈرا اور اپنی نفس کو (فاسد) خواہش سے روکا تو بیشک اس کا ٹھکانہ جنت ہے (جزء۰۳ رکوع ۴) اس باب میں آیات قرآنی بہت ہیں۔
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تمہارے لئے ہے اور آخرت بھی تمہارے لئے ہے اور میرے لئے مولیٰ ہے ۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے اس کی توضیح یوں فرمائی ہے کہ دنیا تمہارے لئے ہے اے کافرو و منافقو۔ اور آخرت تمہارے لئے ہے اے ناقص مومنو ۔ اور مولیٰ میرے (یعنی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) لئے ہے اور اس کے لئے ہے جو میرا تابع (مہدی موعود ) ہے۔


    ۵۷ 

    و نیز بگوجری فرمودند تم کون بھوجن ہم کون پیو۔
    ترجمہ نیز گوجری زبان میں فرمایا کہ تم کو بھوجن ہم کو پیو۔


    ۵۸ 

    نقل است کہ در شہر نہروالہ عہدہ دارے کہ چیزے علم شریعت داشتہ بود برائے ملاقات آمد حضرت میراں علیہ السلام آیت من کان یرید الحیاة الدنیا الخ بیان فرمودند او گفت کہ ایں آیت در حق کافراں است حضرت فرمودند آئے ہر کہ دروایں صفات باشد بلا شبہ کافر است ۔ باز او گفت کہ ایں صفات در بادشاہ و ملوک و قاضی و علماءموجود است ح؟ضرت فرمودند کہ خدائتعالیٰ من کان فرمودہ است ما ہم من کان می گوئیم و اسم کسے مقید نمی کنیم باز او گفت ایں صفت درمن موجود است فرمودند در مسلمان ایں صفت نہ باشدو۱ نہ باید کرت دوم گفت کہ ایں صفت درمن موجود است فرمودند کہ شما کلمہ رسول اللہ می گوئیدایں صفت درشماں چوں باشد۔ کرت سوم ہم او ہمیں گفت کہ دوبار گفتہ بود۔ حضرت فرمودند کہ اگر در توایں صفت ہست و تواقر ار میکنی پس خدائے تعالیٰ بر تو حکم کفر کرد ۔ و تو کافر ہستی۔
    کما قال اللہ تعالیٰ زین للذین کفر وا لحیاة الدنیا و در حق زنان پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ایں آیت نازل شد یاےھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیاة الدنیا و زینتھا فتعالین و امتعکن و اسرحکن سراحا جمیلا (جزء۱۲ رکوع ۰۲)
    ودرحق یارانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایں آیت نازل شد کہ منکم من یرید الحیاة الدنیا ومنکم من یرید الآحزہ ثم صرفکم عنھم لیبتلیکم ولقد عفا عنکم واللّٰہ ذو فضل علی المومنین (جزء۴ رکوع ۷) در حق جملہ امت ایں آیت نازل شد۔
    ا ن الذین لا یرجون لقاءنا و رضوا بالحیاة الدنیا و اطما نوابھا والذین ھم عن اٰیاتنا غافلون اولئک ماوھٰم النار بما کا نوا یکسبون (جزء۱۱ رکوع ۶)

    ترجمہ:۔ روایت ہیکہ شہر نہروالہ میں ایک عہدہ دار جو کہ کچھ علم شریعت سے واقف تھا مہدی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت مہدی علیہ السلام آیت من کا ن یرید الحیاة الدنیا پر بیان فرما رہے تھے اس نے عرض کیا کہ یہ آیت تو کافروں کے حق میں ہے۔ مہدی علیہ السلام نے فرمایا۔ ہاں جس شخص میں یہ صفات ہوں وہ بلاشبہ کافر ہے اس نے کہا کہ یہ صفات بادشاہ اور قاضی و علما میں موجود ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ من کا ن فرمایا ہے ہم بھیمن کا ن کہتے ہیںکسی کے نام کو مخصوص نہیں کرتے اس نے عرض کیا یہ صفت مجھ میں موجود ہے حضرت نے فرمایا کہ مسلمان میں یہ صفت نہیں ہوتی ہے اور نہ ہونا چاہئیے۔ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ مجھ میں یہ صفت موجود ہے۔ مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم رسول اللہ کا کلمہ پڑہتے ہو یہ صفت تم میں کیسے ہوسکتی ہے اس نے تیسری بار بھی وہی کہا جو دوبار کہہ چکا تھا ۔ حضرت نے فرمایا اگر تم میں یہ صفت ہے اور تم کو اس کا اقرار بھی ہے۔تو خدائتعالیٰ تم پر کفر کا حکم عاید فرماتا ہے اور تم کافر ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” دنیا کی زندگی کافروں کیلئے زینت دیگئی “ ۔ (جز ئ۲ رکوع ۰۱)اور ازواج مطہرات حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ اے نبی اپنی بیویوں سے آپ کہدو کہ اگر تم حیات دنیا اور زینت دینا چاہتی ہو تو آو میں تمہیں متاع دونگا اور تمہیں بہترین طریقہ پر رہا کردوں گا۔ (جز ء۱۲ رکوع ۰۲)۔
    اور صحابہ رضی اللہ عنہم حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ” تم میں سے جو حیات دنیا کا مرید ہے اور جو آخرت کا مرید ہے۔ پھر اللہ نے باز رکھا تم کو ان (کافروں) سے تا کہ تمہیں آزمالے اور البتہ تحقیق کہ تم کو معاف کردیا۔ اور اللہ تعالیٰ مومنین پر فضل (فرمانے) والا ہے (جزئ۴ رکوع ۷)
    اور تمام امت کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ ہماری لقا کی آرزو نہیں رکھتے اور حیات دنیا سے خوش اور مطمئن ہوگئے۔ اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں وہ سب ایسے لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور جو کچھ انھو نے کیا ہے۰ (یہ اسکی سزا ہے) جز ئ۱۱ رکوع ۶)


    ۵۹ 

    حضرت مہدی علیہ السلام را پر سید ند اگر کسے برفاقہ صبر کردن نہ تو اند ۱ چہ کند فرمودند بمیرد باز پر سید ند کہ اگر نہ تواندچہ کند۔ فرمودند کہ بمیرو باز پر سیدند کہ میرانجیو اگر بے چارہ نتواند بہ صبر کردن تا چہ کند ۔ فرمودند کہ بمیرد۔ بمیرد۔بمیرد۔
    ترجمہ:۔ حضرت مہدی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی شخص فاقہ پر صبر نہ کرسکے تو کیا کرے فرمایا کہ مرجائے پھر عرض کیا گیا اگر نہ کرسکے تو کیاکرے فرمایا مرجائے پھر عرض کیا گیا کہ میرانجی! اگر بے چارہ صبر کرنے کی تاب و تواں نہ رکھتا ہو تو کیاکرے ۔ فرمایا کہ مرجائے ۔مرجائے ۔ مرجائے۔ (۰۶) و نیز نقل است کہ اگر کسے یکروز ایک چتیل را کسب کند دوم روز دو چتیل را خواہد طالب دنیا باشد۔ ترجمہ: نیز روایت ہیکہ اگر کوئی شخص ایک دن ایک چیتل کسب کرے اور دوسرے دن دو چیتل کی خواہش کرے تو وہ طالب دنیا ہے۔


    ۶۰ 

    و نیز نقل است کہ اگر کسے یکروز ایک چتیل را کسب کند دوم روز دو چتیل را خواہد طالب دنیا باشد۔
    ترجمہ: نیز روایت ہیکہ اگر کوئی شخص ایک دن ایک چیتل کسب کرے اور دوسرے دن دو چیتل کی خواہش کرے تو وہ طالب دنیا ہے۔


    ۶۱ 

    نقل است ہر کہ سہ روز پے در پے کسب کند طالب دنیا است۔
    ترجمہ:۔ روایت ہیکہ جو شخص تین دن پے درپے کسب کرے وہ طالب دنیا ہے۔


    ۶۲ 

    باز فرمودند کہ کسب کردن تجارت کردن کہ در شریعت رخصت است اما رخصت آنست کہ اگر کاسب و تاجر راینت آں باشد کہ تا عبادت کردن تو اند بر اداے اوامر و اجتناب نواہی تقویت یا بد کہ مبادا در طمع و خیانت افتد۔ واگر ایں ملاحظہ نہ باشد و دردل تفا خرو تکاثر بگرز و یا مجرد خوردن و تمتع گرفتن بلکہ اگر کسب ۱ نہ کندو شب و روز بعبادت و تعلیم علمِ شریعت و عزلت۲ از خلق مشغول باشد ومراد ازیں کارہا دنیا باشد جاے وے در آتش دوزخ است با خلود باشد۔
    ترجمہ:۔ پھر (ایک دفعہ) فرمایا کہ کسب و تجارت کی شریعت میں اجازت تو ہے لیکن اجازت کی خصوصیت یہ ہے کہ کاسب و تاجر کی نیت یہ رہے کہ عبادت کرسکے اور احکام بجا لانے اور ممنوعات سے بچنے کے لئے اس میں قوت و توانائی رہ سکے۔ اور ڈرتا رہے کہ کہیں حرص و خیانت میں مبتلا نہ ہوجائے ۔ اگر کسب و تجارت میں یہ لحاظ نہ رہے اور دل میں تفاخر و تکا ثر پیدا ہوجائے یا صرف کھانے اور کمانے میں منہمک ہوجائے۔ (یہ تو بڑی بات ہے) اگرچہ کسب نہ بھی کرے اور دن رات عبادت اور تعلیم علمِ شریعت میں اور عزلت خلق میں مشغول بھی رہے لیکن اسکی نیت ایسے کاموں سے صرف دنیا ہی دنیا ہوتو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے جس میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رہنا ہوگا۔


    ۶۳ 

    بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند آنچہ حق است باید گفت اگرچہ کردن نہ تواند زیر اچہ ناکردن تقصیر بندہ است و ناگفتن حق پوشی است و تقصیر بندہ گنا است و حق پوشیدن کفر است ۔ نعوذ باللہ منھا۔ پس ہر کہ روش و بیان ِ مہدی دیا ران دے دیدہ یا شیندہ باشد قصد کند تا براں عمل کندر اگر برتمام عمل کردن نہ تو اند بارے از گفتن شرم یا ترس نکند ۴ نادریں آیت داخل نہ شود ولا تکتمو ا الشھادة ومن یکتمھا فانہ آثم قلبہ (جز ۳ رکوع ۵)
    ترجمہ: حضرت بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو کچھ حق ہے کہنا چاہئیے اگر چہ عمل نہ کرسکتا ہو کیونکہ عمل نہ کرنا تقصیر بندہ ہے اور نہ کہنا حق پوشی ہے اور تقصیر بندہ گناہ ہے اور حق پوشی کفر ہے۔ نعوذ باللہ منھا پس جس نے مہدی علیہ السَّلام اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کرام کی روش دیکھی ہو اور جو بیان کو سنا ہے اسکو چاہئیے کہ اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے اگر پوری طرح عمل نہ کرسکتا ہو تو اپنی اس بے عملی کی وجہ احکام مذہب سنانے میں شرم یا خوف نہ کرے ۔ ورنہ اس آیت کے حکم میں داخل ہوجائیگا (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) اور نہ چھپاوِ گواہی کو اور جو چھپائیگا بیشک اس کا دل گنہگار ہے (جز ۳ رکوع ۵)





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.