Mahdi ahs
  • His Nasab
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa

    Nooriana Audio Player

    Download urdu fonts   
    for better viewing




    باب چہارم      - در بیان رفتن بخانہِ مخالفاں و شنیدن وعظ ایشاں

    ۵۰ 

    نقل است کہ حضرت میراں علیہ السلام دعوت می فرمودند کہ معلمے بیامد با پسر خود و گفت کہ پسر مارا دعا بکنید حضرت میراں علیہ السلام فرمودند ‘ شیخ صدر الدین بہ بینید خوانندہ چہ می گوید۔ باز فرمودند کہ اگر حق تعالیٰ قوت وہد یعنے امر ۱ شود از ایشاں جز یہ بستانم۔ ایں مذاکرہ در ولایت سندھ بموضع تھٹہ بود۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت میراں علیہ السلام تبلیغ فرمارہے تھے کہ ایک معلم آیا اور عرض کی کہ میرے اس لڑکے کے لئے دعا فرمائیے ۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ شیخ صدر الدین ! دیکھو کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں پھر فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ قوت دے یعنے اللہ تعالیٰ کا حکم ہو تو اِن لوگوں سے جزیہ لوں۔ یہ واقعہ موضع تھٹہ شہر سندھ کا ہے۔


    ۵۱ 

    و نیز نقل است کہ در موضع کھانبیل بعضے مہاجراں بر بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کتبہِ ضلالت کردہ فرستادند میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ بعد شنیدن در جوش آمدند وہر بار ہمیں سخن فرمودند کہ ایشاں بحضور میراں علیہ السلام جو اب خواہند داد ایشاں رار جوع بایدکرد۔ چوںوقت عصر نزدیک آمد بندگی میاں ملکجوو بندگی میاں لاڑشہ رضی اللہ عنہما آمد ند و فرمودند ۵ کہ اے میانسید خوندمیر ما حلم شما دیدہ بودیم آں حلم شما چہ شد فرمودند کہ بندہ را معذور دارید ہر وقت کہ کسے سخن مہدی علیہ السلام را تاویل و تحویل میکند حلم بندہ نمی ماند ومی پرد ۶ بعد ہ ایشاں فرمودند الحال شماچہ می گوئید ۔ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ بندہ ہیچ نما گوید۔ مگر آنچہ میراں علیہ السلام فرمودہاند ہمچناں بگوید۔ اگر حق تعالیٰ ۷ قوت دہد از ایشاں جز یہ بستانم۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ موضع کھانبیل میں بعض مہاجرین نے بندگی میاں رضی اللہ عنہ کے پاس کتبہِ ضلالت روانہ کیا تھا۔ میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ سننے کے بعد جوش میں آگئے اور ہر بار یہی فرما رہے تھے کہ یہ لوگ حضرت مہدی علیہ السلام کے حضور میں جوابدہ ہوںگے۔ ان لوگوںکو رجوع کرنا چاہئیے جب عصر کا وقت نزدیک آیا۔ بندگی میاں ملک جیوو بندگی میاں لاڑشہ رضی اللہ عنہما آئے اور فرمانے لگے کہ اے میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ ہم آپ کا حلم دیکھے ہیں آپ کا وہ حلم کیا ہوگیا ۔ آپ نے فرمایا کہ بندہ کو معذور قرار دیجئے کیونکہ جس وقت مہدی علیہ السلام کے فرمان میں کوئی تاویل یا تحویل کرتا ہے تو بندہ کا حلم نہیں رہتا برخواست ہوجاتاہے۔ اس کے بعد ان حضرات نے کہا کہ اب آپ کیا فرماتے ہیں۔میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بندہ کچھ نہیں کہتا مگر جو کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا وہی کہتا ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ قوت دے تو ان لوگوں سے جز یہ لوں۔


    ۵۲ 

    و نیز منقول است کہ حضرت مہدی علیہ السلام شمشیر خود بدست خود گرفتہ بالاکردندو فرمودند کہ با ایشاں الحال ہمیں ۱ ماندہ است۔ ایشاں بعلم تفہیم نمی شوند باید ۲ وانست کہ ایشاں کلمہ گویاں بودند یا کافراں۔
    ترجمہ:۔ نیز منقول ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنی تلوار ہاتھ میں بلند کرکے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اب یہی رہ گئی ہے۔ یہ لوگ علم سے تفہیم نہیں حاصل کرتے ہیں۔ (اسی پر سے) سمجھ لینا چاہئیے کہ یہ لوگ کلمہ گو ہیں یا کافر۔


    ۵۳ 

    نیز حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ ایشاں حربی شدہ اند۔
    پس ازیں معلوم شد کہ ایشاں لائق جز یہ شدہ اند لیکن حضرت میراں علیہ السلام مامور ۴ ایں امر نہ شدہ اند بداں سبب جزیہ نہ گرفتند۔

    ترجمہ:۔ نیز حضرت میراں علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لوگ حربی ہوگئے ہیں۔
    پس اس سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ لائق جز یہ ہوچکے ہیں لیکن حضرت مہدی علیہ السلام اس پر مامور نہیں ہیں اس لئے آپ نے جز یہ نہیں لیا ہے۔


    ۵۴ 

    نیز خوشنودی میراں علیہ السلام دیاراں رضی اللہ عنہم نبود کہ بخانہ مخالفاں جہت علم خواندن و وعظ شنیدن بروند ۔
    ترجمہ:۔ نیز حضرت مہدی علیہ السلام اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنہم کی خوشنودی نہ تھی کہ کوئی مخالفین کے گھر علم پڑہنے یا ان کا وعظ سننے کے لئے جائے۔


    ۵۵ 

    بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ فرمودند کہ روزے ملاّ معین الدین شخصے فرستادو گویایند کہ یک دوکس را برائے علم خواندن پیش من بقر سید تاہیان ِ ماوشما صلح و اخلاص ۵ بہ شود بندہ بدو ۶ جواب داد کہ پیش شما ہیچ کس نخواہد آمد باز گویایند کہ یک کمینہ ہم فرسید تا صلح شود بندہ گفت کہ ہیچ کمینہ ۷ ہم از دائرہ ما پیشِ شما برائے علم خواندن نخواہد آمد۔ صلح شود یا نہ شود پس گفتند کہ اطاعت تکذیب کنند گاں حرام است۔ کما قال اللہ تعالیٰ فلا تطع المکذبین الا یہ (جز ئ۹۲ رکوع ۳) و ایضاً یا ےھا الذین آمنو ا ان تطیعو ا فریقا من الذین اوتو الکتاب یردوکم بعد ایمانکم کافرین (جزء۴ رکوع ۱) دریں باب آیتہا بسیاراست۔
    ترجمہ:۔ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک روز ملا معین الدین نے ایک شخص کو روانہ کیا اور کہلایا کہ ایک دو آدمیوں کو علم پڑہنے کے لئے ہمارے پاس روانہ کرو تا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان صلح اور اخلاص درست ہو۔بندہ نے اس کو جواب دیا کہ تم سے کوئی بھی صلح نہیں کرسکیگا ۔ اس نے پھر کہلایا کہ کسی کمتر آدمی کو تو روانہ کریں تا کہ صلح ہوجائے ۔ بندہ نے کہا کہ ہمارے دائرہ کا ایک کمتر آدمی بھی تمہارے پاس علم پڑہنے کے لئے نہ آئیگا ۔ صلح ہو یا نہ ہو اور فرمایا کہ جھٹلانے والوں کی اطاعت حرام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” تم جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کرو “ (جز ء۹۲ رکوع ۳) ۔ اور فرمایا کہ ” اے لوگو جو ایمان لاچکے ہو اگر تم اہل کتاب سے کسی فریق کی پیروی کروگے تو وہ تمہارے ایمان کے باوجود تم کو کفر کی حالت کی طرف پھیردیں گے (جزء۴ رکوع ۱) اس باب میں بہت سی آیات ہیں۔





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.