Mahdi ahs
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa



    باب سوم      - ددر کیفیت نماز گزاردن بدنبال منکرانِ حضرت امام علیہ السَّلام

    ۴۲ 

    بداں ۱ اے عزیز کہ حضرت مہدی علیہ السلام بدنبال ِ منکران خود نماز گز اورن منع کردہ اند وفرمودہ اند کہ اگر کسے بسہو گزار دہ باشد بازگرداند۔
    ترجمہ:۔ اے عزیز جان لو کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنے منکرین کی اقتدا میں نماز ادا کرنے کو منع کیا ہے۔ اور فرمایا ہے کہ اگر سہو سے ادا کرلی ہو تو نماز لوٹالیں۔


    ۴۳ 

    نقل است آں روز کہ در شہر ٹھٹھ ۲ مخالفت ظاہر شدہ بود ۔ بحدے کہ لشکرنا مزدشدہ بود بعضے یاراں پیش حضرت مہدی علیہ السلام عرض کردند کہ امروز درون شہر نماز ہمراہ امام مخالف گزاردیم فرمودند باز گردانید ۔ پر سیدند کہ اگر یکاں دوگاں برویم چہ کنیم ۔ فرمودند کہ جماعت شدہ بروید و بایکد یگر جماعت کردہ نماز بگزارید۔ وحضرت ۳ میراں علیہ السلام برائے کارمردم فرستادے۔ دوکس را فرستادے ۔ برائے ہمیں کہ جماعت بایکد گر کردہ نماز ادا کنند ۔
    ترجمہ روایت ہے کہ اس زمانہ میں جبکہ شہر ٹھٹھ میں مخالفت پیداہوگئی اور اتنی کہ فوج کشی کیگئی تھی۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت مہدی علیہ السلام سے عرض کیا کہ آج چہر میں مخالف امام کے ساتھ ہم نے نماز ادا کی ہے۔ فرمایا کہ نماز لوٹا لو۔ سوال ہو ا کہ اگر ایک دو آدمی جائیں تو کیا کریں فرمایا کہ با جماعت جایا کرو اور اپنی جماعت سے نماز ادا کرو۔ اور حضرت مہدی علیہ السلام کسی کو کام کے لئے روانہ فرماتے تو کم از کم دو آدمیوں کو روانہ فرماتے ۔ تاکہ ایک دوسرے کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرسکیں ۔


    ۴۴ 

    و نیز نقلست کہ در موضع بھدری والی وقت عصر جملہ مہاجران و بندگیمیانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ و میاں نظام رضی اللہ عنہ و میاں نعمت رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں ملکجو رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں ابو بکر رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ ۴ و نیز دیگراں یکجا بودند میان ایشاں گفتگو ایں بود کہ اگر کسے بدنبال ِ منکر مہدی نماز گزارد اور ا خارجی گوئم ۔ بعدہ بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ ‘ بندگیمیاں ابو بکر و میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہما را گفتند کہ حال شما چون است کہ در دائرہ ۵ شما مخالفاں می مانند۔ بندگی میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ گفتند آنچہ مارا خواہد افتادہ خواہم دانست ۔ بعدہ بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ تبسم کردہ فرمودند کہ شما بحضور ِ ۱ مجلس خارجی شدید۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ موضع بھدری والی میں عصر کے وقت تمام مہاجرین اور بندگی میانسید خوندمیر و میاں نظام و میاں نعمت و میاں ملک جیو و میاں ابو بکر و بندگی میاں سید سلام اللہ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ عنہم ایک جگہ جمع ہوئے تھے۔ ان حضرات میں گفتگو یہ چھڑی کہ اگر کوئی شخص منکر مہدی علیہ السلام کی اقتداءمیں نماز ادا کرے تو ہم اس کو خارجی کہیں گے۔ اس کے بعد بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ نے بندگی میاں ابو بکر و میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ آپ کا کیا حال ہے۔ کیونکہ آپ کے دائرہ میں مخالفین بھی رہتے ہیں ۔ بندگی میاں سید سلام اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمکو جیسا موقع بن پڑتا ہے ہم سمجھ لیتے ہیں اس پر بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ اس مجلس میں خارجی ہوگئے۔


    ۴۵ 

    و نیز نقلست کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند چرا آنجاری رہ ید کہ بدنبال منکران حاجت ِ نماز گز اردن افتد ۲
    ترجمہ نیز روایت ہے کہ حضرت میراں علیہ السلام نے فرمایا کہ ایسی جگہ جاتے ہی کیوں ہو کہ جہاں منکرین کی اقتدار میں نماز ادا کرنے کی ضرورت پیش آئے۔


    ۴۶ 

    و نیز نقل است کہ بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ وقت ۳ عصر دعوت می کردند بعدہ‘ استادہ شدند و فرمودند کہ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ چرا آنجامی روید کہ بدنبال منکران نماز گزارون حاجت افتد۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ بندگی میاں نظام رضی اللہ عنہ عصر کے وقت تبلیغ فرما رہے تھے۔ اس کے بعد کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اس جگہ کیوں جاتے ہو کہ منکرین کی اقتداءمیں نماز ادا کرنے ضرورت پیش آجائے۔


    ۴۷ 

    و نیز نقل است کہ شیخ احمد معلم در شہر نہروالہ برائے امامت کردن پیش شدہ بود ۴ بوقت مغرب بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ دست او گرفتہ پس کردند ہ فرمودند کہ تو منکر مہدی موعود علیہ السلام ہستی بدنبال و نماز گزاردن روانیست۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ شیخ احمد معلم شہر نہر والہ میں مغرب کے وقت امامت کرنے کے لئے آگے بڑھا تھا۔ بندگی میانسید خوندمیر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کردیا اور فرمایا کہ تم منکر مہدی ہو تمہاری اقتداءمیں نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔


    ۴۸ 

    و نیز نقلست کہ در مجلس میراں سید محمود رضی اللہ عنہ معلمے خواست کہ امامت ۲ کند یکی و ستش گرفتہ پس کردو گفت کہ تو منکر مہدی ہستی دنبال تو نماز گزاردن روانیست
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کی مجلس میں ایک معلم نے خود امامت کرنے کی خواہش کی ایک اہل دائرہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کردیا اور کہا کہ تم منکر مہدی ہو تمہاری اقتداءمیں نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔


    ۴۹ 

    ونیز نقلست کہ اکثر مہاجران۴ امام الزماں خلیفة الرحمان المنزہ عن کل البدعة والطغیان محی السنة والایمان وما حی الرسوم بالا دیان یکجا بودند بعد از ظہر گفتگو ایں بو د یکے گفت اگر بدنبال منکران نماز گزاردن روانباشد پس حضرت میراں علیہ السلام نماز جمعہ و عیدین بدنبال منکران چوں گزاردند۔ بعدہ بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ و بندگی میاں نعمت رضی اللہ عنہ و بعضے دیگر ۵ یاراں فرمودند ۶ کہ ماوریں کیفیت نیفیتم ۔ آنچہ حضرت امام امیر الانام فرمودند۷ آں بکنیم۔ واز آنچہ منع کردن ازاں باز مانیم۔
    ترجمہ: نیز روایت ہے کہ امام زماں خلیفة الرحمن ہر قسم کی بدعت سے پاک اور سنت و ایمان کے زندہ کرنے والے۔ رسوم مذاہب (باطلہ ) کو میٹنے والے (مہدی موعود علیہ السلام) کے اکثر مہاجرین رضی اللہ عنہم ظہر کے بعد ایک جگہ جمع ہوئے تھے۔ گفتگو یہ تھی کہ ایک صاحب نے کہا کہ اگر منکرین کی اقتداءمیں نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے تو حضرت مہدی علیہ السلام نے نماز جمعہ و عیدین منکرین کی اقتداءمیں کیوں ادا فرمائی۔ اس کے بعد بندگی میاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ و بندگی میاں نعمت رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا کہ ہم اس کیفیت میں نہیں پڑتے جو کچھ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ہے ہم وہی کریں گے جس کام سے منع فرمایا ہے ہم اس سے باز رہیں گے۔





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.