Mahdi ahs
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa



    باب دوم      - در بیان انکار حضرت مہدی علیہ السَّلام

    ۲۸ 

    حضرت مہدی علیہ السَّلام فرمودند ہر حکمے کہ بیان می کنم از خدا و بامر خدا بیان می کنم ہر کہ ازیں احکام ایک حرف را منکر شود او عند اللہ ماخوذ گردو۔
    ترجمہ: حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا جو حکم کہ بیان کرتا ہوں خدا کی طرف سے خدا کے حکم سے بیان کرتا ہوں جو شخص ان احکام سے ایک حرف کا بھی منکر ہوگا وہ اللہ تعالی کے پاس ماخوذ ہوگا۔


    ۲۹ 

    وفرمودند ہر کہ از مہدیت ایں ذات منکر شود اواز خدا واز رسول خدا منکر باشد۔ اکثر مہاجراں متفق علیہم ۱ ایں نقل کردہ ان۔ در محضرہ ۲ کہ ہمہ یکجات شدہ بودند در موضع کھانبیل بندگیمیاں شاہ نعمت رضی اللہ عنہ با آواز بلند فرمودند کہ اے یاراں ایں نقل بشنویدتا اعتقاد درست گردو۔ میانسید خوندمیرعلیہ السلام را فرمودند کہ ایں نقلِ کسانِ خودرا بشنوانید تا اعتقاد درست گردو۔ بندگیمیانسید خوندمیرعلیہ السلام فرمودند کہ ایشاں شب و روز ہمیں میشنوند۔ ہمہ ۳ برادراں درآں مجلس قراردادند کہ بغیر عبارت کسے را کافر نگیند یعنی منکرانِ مہدی علیہ السلام را ۴ ۔ بندگیمیاں ملکو فرمودند کہ ایں مقدار بیاموزد کہ قال اللّٰہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ۔(جزء۲۱ رکوع ۲) قال البنی صلی اللہ علیہ وسلم من انکر المھدی فقد کفر۔ و نیز ہر یکے اقرار کردند کہ در خراساں ۵ پیش حضرت مہدی علیہ السلام بعضے یاران التماس کردند کہ بعضے برادران در شہر میروند و خلق را کافر میگویند فرمودند کہ ایشاں را تغریر کنید و باز فرمودند کہ بیچارگاں را بداں سبب تعزیر مکنید کہ گفتن نمید انندا کنوں مارا ہم میباید کہ بغیر عبارت مذکور کسے را کافر نگوئم ۶ وبعدہ میانسید خوندمیر و میاں نعمت رضی اللہ عنہما فرمودند اگر کسے بیچارہ را عبارت نمی آید ا وچہ کند باقی مہاجراں فرمودند اگر چیزے نمی داندایں مقدار عبارت یاد کند قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم من انکو المھدی فقد کفرو میانسیدع خوندمیرعلیہ السلام فرمودند اگر کسے را ایں مقدار ہم نیا ید اوچہ کند۔ باز فرموند کہ ناکر دن تفصسیر بندہ و حق پوشی کفر است یعنی حجت آموختن تقصیر است وحق نبی و مہدی پوشیدن کفر است پس ہریکے خاموش شد ند۔
    ترجمہ:۔ اور فرمایا کہ جو شخص اس ذات کی مہدیت سے انکار کرے۔ وہ خدا اور رسول خدا کا منکر ہے اکثر مہاجرین علیہ السلام نے اس روایت کو بالاتفاق بیان کیا ہے۔ اور بمقام موضع کھانبیل ایک مجلس میں مہاجرین جمع ہوئے تھے۔ بندگی میاں شاہ نعمت رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے فرمایا کہ اے صحابیو! اس نقل شریف کو سنو تاکہ اعتقاد درست رہ سکے اور میاں سید خوندمیرعلیہ السلام سے کہا کہ یہ نقل شریف اپنے متبعین کو بھی سنادیں تا کہ اعتقاد درست ہو۔ بندگیمیاں سید خوندمیر علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ لوگ تو دن رات یہی سنتے ہیں۔ تمام بردران مجلس نے طے کیا کہ کسی کو یعنے منکران مہدی علیہ السلام کو بغیر عبارت کا فر نہ کہیں۔
    بندگی میاں ملک جوعلیہ السلام فرمایا کہ (عبارت) کی یہ مقدار (کم ازکم) سیکھ لینا چاہیےِ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص اس (مہدی علیہ السلام) کا انکار کر اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ (جز ئ۲۱ رکوع۲) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مہدی علیہ السلام کا انکار کرے کافر ہے۔ اور ہر ایک نے (اس روایت کی بناءپر) اقرار کیا کہ خراسان میں حضرت مہدی علیہ السلام کے سامنے بعض صحابہ علیہ السلام نے عرض کیا کہ بعض برادراں شہر میں جاتے ہیں اور لوگوں کو کافر کہتے ہیں۔ مہدی علیہ السلامنے فرمایا کہ ان لوگوں کو سزا دو پھر فرمایا کہ بیچار وں کو سزانہ دو کیوں کہ وہ کہنا نہیں جانتے ہیں اس روایت کے لحاظ سے اب ہم کو بھی چاہئیے کہ بغیر عبارت مذکور کسی کو کافر نہ کہیں اس کے بعد میاں سید خوندمیر و میاں نعمت رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر کسی کو(قرآن یا حدیث کی) عبارت نہ آ ئے تو کیا کرے۔ مہاجرین نے فرمایا کہ اگر کچھ نہ جانتا بھی ہے تو یہ عبارت (ضرور) یاد کرے۔ قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم من انکر المھدیعلیہ السلام فقد کفر۔ میاں سید خوندمیر علیہ السلام نے فرمایا اگر کسی کو اتنی عبارت بھی نہ آتی ہو تو کیا کرے۔ پھر آپعلیہ السلام ہی نے (یہ بھی) فرمایا کہ (عبارت یاد) نہ کرنا بندہ کی تفصیر ہے اور حق پوشی کفر ہے۔ یعنی دلیل نہ سیکھنا تقصیر ہے۔ اور نبی و مہدی علیہما السلام کے برحق ہونے کو چھپانا کفر ہے۔( اس توضیح کے بعد) سب خاموش ہوگئے۔


    ۳۰ 

    نیز نقلست کہ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ انکار کردن از مہدیت سید محمد بن سید خاں کفر است۔
    ترجمہ:۔ نیز نقل ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ سید محمد بن سید خاں کی مہدیت کا انکار کفر ہے۔


    ۳۱ 

    و نیز پوست خود بہر دو انگشتِ خود گرفتہ فرمودند کہ ایں پوست و گوشت و استخواں و موبموئے بندہ کہ است ہر کہ از مہدیت ایں ذات منکر شود کافر است۔
    ترجمہ:۔ نیز حضرت نے اپنی دو انگشتِ مبارک سے اپنے جسم مظہر کا پوست پکڑ کر فرمایا کہ یہ پوست و گوشت و استخواں اور بال بال جو بندہ کا ہے ۔ جو شخص اس ذات کی مہدیت سے انکار کرے کافر ہے۔


    ۳۲ 

    و نیز نقلست کہ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند انکار مہدی انکار محمد رسول اللہ علیہ السلام است و انکار محمد رسولعلیہ السلام انکار قرآن است و انکار قرآن انکار خدا است۔
    ترجمہ:۔ نیز حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ انکار مہدی انکار محمد رسول اللہعلیہ السلام ہے اور انکا ر محمد رسول علیہ السلام انکار قرآن ہے انکار قرآن انکار خدا ہے۔


    ۳۳ 

    و نیز فرمودند کہ اِنکار مہدی انکار محمد است و انکار محمد انکار ہمہ پیغمبر ان است و انکار ہمہ پیغمبراں انکار خدا است۔
    ترجمہ:۔ اور نیز فرمایا کہ مہدی علیہ السلام کا نکار محمد کا انکار ہے اور محمد کا انکار تمام پیغمبروں کا انکار ہے اور تمام پیغمبروں کا انکار خدا کا انکار ہے۔


    ۳۴ 

    ونیز فرمودند کہ انکار مہدی علیہ السلام انکار ہمہ کتابہاو ہمہ صحیفہائے انبیائے پشینیان است ۲ و انکار ہمہ پیغمبراں است۔
    ترجمہ:۔ نیز فرمایا کہ مہدی کا انکار اگلے انبیاءکے تمام کتابوں اور صحیفوں کا انکار ہے اور تمام پیغمبروں کا انکار ہے۔


    ۳۵ 

    نقلست کہ کسے میراں سید محمود رضی اللہ عنہ را سوال کردکہ شما منکر مہدی علیہ السلام را چہ میگوئید فرمودند کافر میگویم باز گفت چہ میگوئید فرمودند ۳ اکفر میگویم باز گفت چہ میگوئید فرمودند کہ اظلم میگویم آں سائل گفت فتح خاں می پرسد فرمودند کہ فتح خاں کدام کس است اگر سلطان محمود انکار مہدی کند کافر گرود۔
    ترجمہ:۔ روایت ہے کہ حضرت میراں سید محمود رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ منکر مہدی علیہ السلام کو کیا کہتے ہیں۔ فرمایا کافر کہتا ہوں ۔ پھر سوال کیا کیا کہتے ہو؟ فرمایا اکفر کہتا ہوں ۔ پھر کہا کیا کہتے ہو فرمایا اظلم کہتا ہوں۔ سائل نے کہا فتح خاں دریافت کرتے ہیں۔ فرمایا کہ فتح خاں کون شخص ہے اگر سلطان محمود (شاہِ وقت) بھی انکار کرے تو کافر ہے۔


    ۳۶ 

    و نیز نقلست کہ سید محمد مصظفیٰ عرف غالب خاں میرانسید محمود رضی اللہ عنہ را پرسید کہ منکران مہدی راچہ میفر مایند فرمودند کافر می گویم باز پرسید کہ اگر من انکار کنم؟ فرمودند اکفرمی گویم۔ سید مذکور پس پا باز گشت۔ دراں محفل ۴ اکثر مہاجراں حاضر بودند۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ سید محمد مصطفی عرف غالب خاں نے میرانسید محمود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ منکرین مہدی علیہ السلام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کافر کہتا ہوں ۔ پھر پوچھا کہ اگر میں انکار کروں؟ فرمایا اکفر کہتا ہوں۔ سید مذکور واپس لوگئے اس مجلس میں اکثر مہاجرین علیہ السلام موجود تھے۔


    ۳۷ 

    نیز نقلست کہ روزے بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں ملکجو علیہ السلام و بندگیمیاں دلاور رضی اللہ عنہ و بندگیمیاں لاڑ امام علیہ السلام و بندگیمیاں لاڑشہ علیہ السلام نوشتہ ۱ نز د بندگیمیاں سید خوندمیرعلیہ السلام فرستاوند کہ خلق را کافرنگوئیم اما منکران مہدی را کافر میگوئیم برحکم عبارت چنانچہ در قرآن و احادیث مذکور است اعتقاد داریم اگر کسے سوال کند کہ منکر ان مہدی راچہ میگوئید بریں وجہ جواب گوئیم کہ قال اللّٰہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ و قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ من انکر المھدی فقد کفر۔
    ترجمہ:۔ نیز نقل ہے کہ ایک روز بندگیمیاں نعمت رضی اللہ عنہ اور بندگیمیاں نظام رضی اللہ عنہ‘ اور بندگیمیاں ملکجو رضی اللہ عنہ اور بندگیمیاں دلاور رضی اللہ اور بندگیمیاں لاڑ امام رضی اللہ عنہ‘ اور بندگیمیاں لاڑشہ رضی اللہ عنہ ‘ نے ایک تحریر بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ کے پاس روانہ کی کہ” ہم بجز منکرین مہدی علیہ السلام کے کسی کو کافر نہیں کہیںگے اور اسی عبارت کے حکم پر جو قرآن و احادیث میں مذکور ہے اعتقاد رکھتے ہیں۔
    اگر کوئی سوال کرے کہ منکرین مہدی علیہ السلام کو کیا کہتے ہو تو ہم اس طرح جواب دیتے ہیں کہ قال اللہ تعالیٰ ومن یکفر بہ من الا حزاب فالنار موعدہ۔ وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ من انکر المھدی فقد کفر


    ۳۸ 

    و نیز نقلست از بندگیمیاں دلاور رضی اللہ عنہ کہ گفتند از زبان حضرت مہدی علیہ السلام شنیدیم کہ فرمودند وقتے کہ در دانا پور بودم حذبہ شد اول مرتبہ تجلی ذات شدو فرمان ۲ رسید کہ ترا علم مراد اللہ و ادیم و کتاب ۳ خود امیراث تو گردانیدیم وبر اہل ایمان ترا آمر گرد انیدیم و انکار من انکارِ تو۔ و انکار تو انکار من۔ آرے چرا نبا شد کہ ایں ولایت خاص محمد است و ازیں مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خبر دادہ اند حا کیاً عن اللہ تعالیٰ ۔لولاک ۴ لما خلقت الا فلاک ۔ لو لاک لما اظھر ت الربوبیت یا نور نوری و یاسر سری و یا خزائن معرفتی افتدیت ملکی علیک یا محمد۔
    پس انکار او انکار خدا چرانباشدایں حکایت از زبان مہدی علیہ السلام شنیدیم از خود نمی گوئیم کسے قبول کند۱ خوب و اگر قبول نکند ۔ بندہ را حجت از زبان حضرت مہدی علیہ السلام شدہ است۔ من رایِ الھلال فعلیہ الصوم۔

    ترجمہ:۔ نیز حضرت بندگیمیاں دلاور رضی اللہ عنہ‘ سے روایت ہے کہ انھوں نے بیان کیا کہ ہم نے حضرت مہدی علیہ السلام سے سنا ہے آپ نے فرمایا کہ جس وقت میں دانا پور میں تھا مجھ پر جذبہ ہوا اور پہلی مرتبہ تجلی ذات ہوئی اور فرمان پہونچا کہ ہم نے تم کو ہماری مراد کا علم عطا کیا ہے اور کتاب قرآن کو میراث قراردی ہے۔ اور اہل ایمان پر تم کو حاکم بنایا ہے۔ میرا انکار تمہارا انکا ر اور تمہارا انکار میرا انکار ہے ہاں کیوں نہو جبکہ یہ ولایت خاص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے ۔ اور اس مرتبہ کی خبر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منجانب اللہ دی ہے کہ اگر تو نہوتا تو میں یہ افلاک نہ پیدا کرتا ۔ اگر تو نہوتا میں ربوبیت ظاہر نہ کرتا۔ اے میرے نور کے نور‘ اور اے میرے بھید کے بھید‘ اے میری معرفت کے خزانے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم میری سلطنت تجھ پر فدا ہے پس اس کا انکار خدا کا انکار کیونکر نہوگا۔ یہ روایت حضرت مہدی علیہ السلام کی زبان مبارک سے میں نے سنی ہے۔ اپنی طرف سے نہیں بیان کر رہا ہوں ۔ کوئی قبول کرتا ہے تو اچھا ہے ۔ اگر قبول نہیں کرتاہے (تو اچھا نہیں) بندہ کے لئے حضرت مہدی علیہ السلام کی زبان مبارک حجت ہے۔ من راٰی الھلال فعلیہ الصوم۔ (جس نے چاند دیکھا روزہ اسی پر فرض ہے)


    ۳۹ 

    نیز نقلست کہ ملا سید احمد خراسانی اہل علم بود و چند ماہ صحبت با میراں سید محمود رضی اللہ عنہ کردہ بود و چند سال بادیگر یاران حضرت مہدی علیہ السلام صحبت کردہ بود۔ یک روز میرانسید محمود رضی اللہ عنہ را پر سید کہ منکر مہدی علیہ السلام را چہ میگوئید فرمود کافر میگوئیم ۔ سید احمد گفت اگر من انکار کنم؟ فرمودند اگر بایزید بسطامی باشد انکار مہدی کند کافر گردو۔
    ترجمہ: نیز روایت ہے کہ ملا سید احمد خراسانی طبقہ علماءسے تھے انھوں نے چند مہینے حضرت میراںسید محمود رضی اللہ عنہ سے بھی صحبت حاصل کی تھی اور چند سال دیگر صحابہِ حضرت مہدی علیہ السلام کی صحبت سے بھی انھوں نے فیض حاصل کیا تھا۔ ایک روز میرانسید محمود رضی اللہ عنہ سے انھوں نے سوال کیا کہ منکر مہدی علیہ السلام کو آپ کیا کہتے ہیں۔ فرمایا کہ کافر کہتا ہوں سید احمد نے کہا کہ اگر میں انکار کردوں؟ فرمایا کہ اگر بایزید بسطامی (کے درجے کا آدمی ) بھی مہدی علیہ السلام کا انکار کرے تو کافر ہوجاتا ہے۔


    ۴۰ 

    و نیز نقلست کہ روزے معلمے با حضرت میراں علیہ السلام سوال و جواب بسیار کرد میاں شیخ بھیک سرا ز حجرہ‘ خود بیرون کردہ گفتند کہ میرانجیو چرا سر خالی میکنید فرمودند کہ بندہ را خدائے تعالیٰ برائے ۱ سر خالی کردن فرستادہ است۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہے کہ ایک عالم حضرت مہدی علیہ السلام سے بہت سوال جواب کر رہا تھا۔ میاں شیخ بھیک علیہ السلام نے اپنے حجرہ سے سر باہر نکالکر عرض کیا کہ میرانجی آپ کیوں سر خالی فرما رہے ہیں حضرت نے فرما یا کہ خدائے تعا لیٰ بندہ کو سر خالی کرنے کے لئے ہی بھیجا ہے۔


    ۴۱ 

    و نیز معلوم بادکہ اگر کسے با بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ عنہ ‘ سوال کردے از برادران دائرہ یا بیگانہ درون دعوت یا بحضور مہاجراں اگر آں ۲ سائل سوال بے عبارت کردے۔ میاں رضی اللہ عنہ عبارت آموختے و فرمودے کہ مقصودِ شما ازیں سوال انیست ولے تنگ نیا مدے بلکہ‘ ہیچ ۳ مہاجر برسوال کنندہ تنگ نیا مدے ۴ ۔ و نگفتہ اند کہ سوال مکن۔ و برگفتہِ من اعتقاد کن بلکہ فرموداند کہ آں چہ مشکل شود پرسیدہ تحقیق کنید والّا وبال آں برشماست۔
    ترجمہ :۔ نیز واضح ہو کہ کوئی شخص خواہ برادران دائرہ سے ہو یا بیگانہ ہو‘ دعوت و تبلیغ کی مجلس میں ہو یا مہاجرین کی مجلس میں ہو۔ بندگیمیاں سید خوندمیر رضی اللہ سے بے عبارت (ٹوٹا پھوٹا) سوال کرتا تو حضرت اسکو عبارت سکھاتے اور فرماتے کہ اس سوال سے تمہارا مقصد یہ ہوگا لیکن تنگ نہ ہوتے ۔ بلکہ کوئی مہاجر بھی سوال کرنے والے پر تنگ نہ ہوتے تھے۔ اور یہ نہ کہتے کہ سوال نہ کرو۔ اور صرف میرے کہنے پر اعتقاد رکھو ۔ بلکہ فرماتے رہے ہیں کہ جو کچھ مشکل معلوم ہو پوچھکر تحقیق کرلیا کرو ورنہ اس کا وبال تم پر رہیگا۔





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.