Mahdi ahs
  • in Quran
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    Mahdia & Esaa



    باب اول      - در بیان ثبوت مہدیت حضرت مہدی علیہ السَّلام

    ۳ 

    حضرت مہدی علیہ السَّلام در ثبوتِ مہدیتِ خود ایں آیت خواند ند۔۔ افمن کان علیٰ بینة من ربہ و یتلوہ شاھد منہ ومن قبلہ کتا ب موسیٰ اماما و رحمتہ اولئک یومنون بہ ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ‘ فلاتک فی مریت منہ انہ الحق من ربک وٰلکن اکثر الناس لا یومنون (جزء۲۱ رکوع ۲) بیان کردہ فرمودند کہ ازحق تعالیٰ بے واسطہ می شنوم کہ ایں آیت در حق تست۔ و مراد از من کہ در افمن کان مذکو است ذات تست و مراد از بینة اتباع ولایت ۳ حضرت مصطفی است قولاًوفعلا وحالاً ۴ کہ تعبیر از ولایت محمدی دارد کہ ولایت خاص است مرذات مصطفی رااست صلی اللہ علیہ وسلم و مراد از شاھد قرآن است و تورایت ۵ ومشاِرالیہ ازاولئک اتباع امم و مراد از ضمیر بہ ذات مہدیست ۔ و مراد از ضمیر بہ دےگر نیز ذات مہدی علیہ السلام است۔
    ترجمہ:۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے اپنی مہدیت کے ثبوت میں یہ آیت پڑھی ہے ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) کیا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے بینہ پر ہو۔ اور اس کے پیچھے اس کے رب کی طرف سے گواہ (قرآن) ہو اور اس کے پہلے (کی )کتاب موسیٰ (توریت) جو امام و رحمت ہے (وہ بھی اسکی) گواہ ہو (کیا وہ اورطالب حیات دنیا دونوں برابر ہوجائیں گے؟) وہ لوگ (جو اسوقت مختلف جماعتوں میں بٹے ہوئے ہونگے) اس پر ایمان لائیں گے ۔ اور ان جماعتوں میں کا جو شخص اس سے کفر کرےگا ۔ پس اسکی وعد ہ گاہ جہنم ہے۔ پس (اے محمد ) تو اس کے متعلق شبہ میں نہ رہ بلا شبہ وہ تو تیرے رب کی طرف سے حق ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔ (اس آیت کی تفسیر) بیان کرتے ہوئے آپعلیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے بلا واسطہ سن رہا ہوں کہ یہ آیت تیرے حق میں ہے اور اَفَمَن کَانَ میں مَن جو مذکور ہے اس سے مراد تیری ہی ذات ہے۔ اور بینہ سے مراد حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولایت کی اتباع ہے۔قولاً و فعلاً وحالاً اور ولایت محمدیہ سے مراد ہی خاص ولایت ہے جو حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے مخصوص ہے اور شاھد سے مراد قرآن اور توریت ہے اور اولئک کا مشارالیہ اتباع کرنے والی امتّیں ہیں ۔ اور پہلی ضمیر بہ سے مراد مہدی علیہ السلام کی ذات ہے ۔ اور دوسری ضمیر بہ سے بھی مہدی علیہ السلام کی ذات ہی مراد ہے۔


    ۴ 

    و نیز فرمودند ہر کہ مراد از لفظ قرآن مجید بہ رائے خود گوید اودریں آیت داخل است۔ فَمَن اظلم ممن افتری علی اللّٰہ کذبا (جز ئ۸ رکوع ۴) بندہ ہرچہ مےگوید بہ رائے خود ۲نمی گوید بلکہ بامراللہ بے واسطہ مےگوید۔ فان یک کاذباً فعلیہ کذبہ وان یک صادقاً یصبکم بعض الذی یعدکم (جزء۴۲ رکوع ۸)
    (ترجمہ) نیز فرمایا کہ جو شخص قرآن کے الفاظ کی مراد اپنی راے سے بیان کرے وہ اس آیت (کی وعید) میں داخل ہے (ترجمہ آیت) پھر اس شخص سے بڑھکر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے (جز ۸ رکوع ۴) بندہ جو کچھ کہتا ہے اپنی رائے سے نہیں کہتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بے واسطہ حکم سے کہتا ہے (ترجمہ آیت) اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے کذب کا وبال اسی پر پڑے گا اگر سچا ہے تو تم پر اس (عذاب ) کا کچھ حصہ تو عاید ہوگا جس کا یہ تم سے وعدہ کرتا ہے۔


    ۵ 

    دورآیات سے دیگر نیز فرمود کہ فرمان میشو دکہ ازیں تابع ذات تو مراد است۔ اظہار بکن والّا عاصی شو۔ دیگر ۔ فان حاجوک فقل اسلمت وجھی للّٰہ ومن اتبعن (جز ئ۳ رکوع ۸) دیگر۔ و اوحی الیّ ھذا القران لا نذرکم بہ ومن بلغ (جزئ۴ رکوع ۸) دیگر۔ یاےھا النبی حسبک اللّٰہ ومن اتبعک من المومنین (جز ۰۱ رکوع ۴) دیگر ۔ قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللّٰہ علی بصیرة انا ومن اتبعنی سبحان اللہ وما انامن المشرکین (جزء۳۱ رکوع ۶) وامثالھا۔
    ترجمہ:۔ اور دوسری آیات کے بارے میں بھی فرمایا کہ حکم ہورہا ہے کہ تابع سے تیری ہی ذات مراد ہے۔ (پس اپنے منصب مہدیت کو) ظاہر کردے ورنہ تو نافرمان ہوگا۔ چنانچہ (قرآن مجید میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر تجھ سے حجت کریں تو کہدے ( اے محمد ) کو میں نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیا ہے اور میرا تابع (بھی یہی کریگا) (جزء۳ رکوع۰۱) اور فرمایا ہے یہ قرآن میرے پاس اس لئے بھیجا گیا ہیکہ میں اس کے ذریعہ تم کو ڈراوں اور وہ شخص (بھی ڈرائیگا) جس کو (مہدی کو) یہ قرآن پہونچے (جز ء۷ رکوع ۸) اور فرمایا ہے۔ اے نبی اللہ تیرے لئے کافی ہے۔ اور اس شخص کے لئے بھی کافی ہے جو مومنین میں تیرا تابع (مہدی ) ہوگا (جزئ۰۱ رکوع۴) اورفرمایا ہے۔ کہدے (اے محمد) یہ میرا راستہ ہے میں تم کو اللہ کی طرف بصیرة پر بلاتا ہوں اور وہ شخص (بھی بلائیگا) جو میرا تابع (مہدی) ہے ۔ سبحان اللہ ہم دونوںمشرک نہیں ہیں (جزء۳۱ رکوع ۵)


    ۶ 

    نیز فرمودند کہ بندہ ۲ را حق تعالیٰ برخلق فرستادو اعلام کرو کہ تمام عالم کہ دعوے دین و اسلام میکند برسم و عادت و بدعت مشغول شدہ است و حقیقتِ مقصود دینِ اسلام در ایشاں نما ندہ است مگر در مجذوباں۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ نے (ایسے وقت) دنیا میں بھیجا اور (ایسے وقت بندے کی مہدیت کا) اعلان کیا (جب) کہ دنیا کے وہ تمام لوگ جو دین ِ اسلام (کے اتباع) کے دعوے دار ہیں رسم و عادت و بدعت میں مشغول ہوچکے ہیں۔ اور دین اسلام کی حقیقت اور اس کا اصل مقصود ان میں باقی نہیں رہا ہے مگر ہے تو صرف مجذوبوں میں ہے۔


    ۷ 

    و فرمان شد کہ کلید خزانہِ ایمان بدستِ تودا ہ ام و ناصر دین محمد ی ترا گر ۱ د ایندہ ام دمن ناصر تو ام برو ۲ دعوت کن ہر کہ ترا قبول کند مومن باشد و ہر کہ انکار کند کافر گردو۔
    ترجمہ: اور فرمان ہوا کہ میں نے ایمان کے خزانہ کی کنجی تیرے ہاتھ میں دیدی ہے تجھکو دین محمدی کا ناصر بنایا ہے اور تیرا ناصر میں ہوں ۔ جاوِ دعوت (مہدیت ) کرو۔ جو شخص تم کو قبول کرے مومن بنے گا اور جو انکار کرے کافر ہوجائیگا۔


    ۸ 

    وباز فرمان شد کہ علم اولین و آخرین و بیان چہار ۳ کتاب و فرقان بمراد اللہ ترا داوم۔
    ترجمہ: پھر فرمان ہوا کہ تجھ کو اولین و آخرین کا علم اور چاروں کتو (جن میں قرآن بھی ہے) کا بیان اللہ کی مراد کے موافق میں نے تجھے دیا ہے۔


    ۹ 

    و نیز حضرت مہدی علیہ السَّلام فرمودند کہ اگر بندہ در خلوت قرآن مطالعہ کردہ درو معانی اندیشدہ بیرون آمدہ ۴ میکند بندہ ظالم و مفتری علی اللہ باشد بندہ ہر چہ میگوید و میکند و میخواند باامر اللہ و با ذ نہ ۵ میگو ید ومی کندد میخو اند ہر آیتے کہ می نما یند بندہ میخو اند ۶ و ہر بیانے کہ تعلیم میکند بیان میکند ۔ علمت من اللّٰہ بلا واسطةٍ جدید الیوم حال بندہ است۔
    ترجمہ :۔ نیز حضرت مہدی علیہ السَّلام نے فرمایا کہ اگر بندہ خلوت میں قرآن کا مطالعہ کرکے معانی سونچ کر باہر آتا اور بیان کرتا ہے تو بندہ ظالم اور اللہ پر بہتان لینے والا ہوگا۔ بندہ جو کچھ کہتا ہے کرتا اور پڑہتا ہے۔ جو آیت بھی بندہ کو دکھائیں بندہ پڑہتا ہے ۔ اور جیسے بیان کی تعلیم (اللہ تعالیٰ ) بندے کو دے بیان کرتا ہے۔ علمت من اللہ بلاواسطة جدید الیوم (مجھے اللہ کی جانب سے روزانہ تعلیم ہوا کرتی ہے) بندہ کا حال ہے۔


    ۱۰ 

    و نیز فرمودند کہ فرمان می شود کہ ثم ان علینا بیانہ درحق تست وتر اوارث ولایت خاص محمدی گردانیدم و اتباع تام ترا روزی کردم ہرکہ تراشناخت مرا شناخت و ہر کہ ترا نہ شناخت مرانہ شناخت۔
    ترجمہ: نیز فرمایا کہ حکم ہورہا ہے کہ آیہِ ثم ان علینا بیانہ تمہارے حق میں ہے اور میں نے تم کو خاص ولایت محمدیہ کا وارث بنایا اور تمہیں اتباع تام عطا کیا ہے جس نے تمہیں پہچانا مجھے پہچانا ۔جس نے تمہیں نہ جانا مجھے نہ جانا۔


    ۱۱ 

    و نیز فرمودند کہ حق تعالیٰ بندہ را مراتبِ انبیا و اولیا و مومنین و مومنات و احوال جملہ موجودات ہمچناں معلوم کردہ است چنانچہ کسے چیزے در دست د اردو بہ ہر طرف آن چیز را میگرداند ۱ تا کما حقہ‘ بشنا سد چنانچہ صراف می کندا واقف شود بر جیات دور داوت مہر زر ۲ و نقرہ ۔
    ترجمہ :۔ نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بندہ کو تمام انبیاءاولیا و مومنین و مومنات کے مراتب اور تمام موجودات کے حالات اس طرح معلوم کردیا ہے جیسا کہ کوئی شخص کسی چیز کو ہاتھ میں لیکر ہر طرف پھیر پھیر کر دیکھ سکتا ہے تا کہ کما حقہ تحقیق کرسکے ۔ جیسا کہ صراف سونے چاندی کی خوبی یا خرابی سے واقف ہوسکتا ہے۔


    ۱۲ 

    باز فرمودند کی مقدار بست سال شدہ است کہ بند ہ را ۳ ازغیب آوازمی آید کہ تو مہدی موعود ہستی و بندہ ہضم میکرد چونکہ بندہ در گجرات بقصبہ ‘ بڑلی بعد از اخراج از شہر نہروالہ رسید فرمان بعتاب رسید کہ چرا اظہار نمی کنی۔ از خلق می ترسی پس بندہ ۴ اظہار کرد کہ فرمان حق تعالیٰ چنیں می شود کہ تو مہدی موعود علیہ السلام ہستی چوں ایں خبر در شہر ۵ پراگندہ شد بعضے علماءآمد ند و پر سیدند کہ شما خود را مہدی موعود علیہ السلام می گویا یند فرمودند کہ بندہ نمی گویا یند بلکہ فرمان حق تعالیٰ چنیں میشود کہ تو مہدی موعود علیہ السلام ہستی دعوے مہدیت بکن۔
    بعد ہ‘ سوال کردند کہ نام مہدی ‘ محمد بن عبداللہ باشد و نام شما محمد بن سید خان است فرمودند کہ خدائے رابگوئید کہ پسرِ سید خاں را مہدی موعود علیہ السلام چرا کردی خدائے تعالیٰ قادر است ہر چہ خواہد بکند۔ باز فرمودند پدر حضرت رسالت پنا ہ مشرک بود عبداللہ چوں باشد ایں سہو کاتب است عبارت در اصل محمد عبداللہ است و مہدی نیز عبداللہ است ۶

    ترجمہ:۔ پھر فرمایا کہ بیس ۰۲ سال کی مدت ہوئی ہے کہ بندہ کو غیب سے آواز آرہی ہے کہ تو مہدی موعود علیہ السلام ہے اور بندہ ہضم کرتا رہا۔ اب جبکہ بندہ شہر نہروالہ سے اخراج کے بعد علاقہِ گجرات کے قصبہِ بڑلی میں پہنچا ہے تو عتاب کے ساتھ فرمان ہورہا ہے کہ تو (مہدیت) کو ظاہر کیوں نہیں کرتا۔ (اور کیوں ) خلق سے ڈرتا ہے۔ پس بندہ نے اظہار کیا کہ ” اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہورہا ہے کہ تو مہدی موعود علیہ السلام ہے “ جب یہ خبر شہر میں مشہور ہوئی تو بعض علما ءآئے اور پوچھا کہ تم اپنے آپ کو مہدی موعود علیہ السلام قرار دیتے ہو آپعلیہ السلام نے جواب دیا بندہ نہیں قرار دیتا بلکہ (خدائتعالیٰ کا) فرمان ایسا ہی ہورہا ہے کہ تم موہدی موعود علیہ السلام ہو مہدیت کا دعوی ظاہر کردو۔ اس کے بعد علماءنے سوال کیا کہ امام مہدی علیہ السلام تو محمد بن عبداللہ ہوں گے حالانکہ آپ کا نام محمد بن سید خاں ہے۔ فرمایا کہ خدا سے کہو کہ سید خاں کے بیٹے کو مہدی موعود کیوں بنایا۔ خدائے تعالیٰ قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ پھر فرمایا کہ حضرت رسالت پناہ صلعم کے والد تو مشرک تھے عبداللہ کیسے ہوتے یہ کاتب کا سہو ہے عبارت اصل میں محمد عبداللہ ہے ۔ اور مہدی بھی عبداللہ ہے۔


    ۱۳ 

    چونکہ بعد از دعوے مہدیت علماءحکم اخراج کردند حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند بہ ہر دو طریق در روز قیامت روئے حاکماں و عالماں سیا گرد وزیر ا کہ اگر من برحق باشم چرا نصرت دین نکروند و اگر برحق بناشم چراحبس نہ کردند ۔ و ہریکے محضر کردہ مرا تفہیم چرانہ کردند و اگر تفہیم نہ شوم چرا قتل نہ کنند ۱ زیر ا کہ ہر جاکہ خواہم رفت بر حقیقتِ خود دعوت ۲ خو اہم کرو۔ و خلق را گمراہ خواہم ساخت دوبال برگردنِ ایشاں خواہد ماند۔
    (ترجمہ) دعوئے مہدیت کے بعد جب کہ علماءنے اخراج کا حکم جاری کیا تو حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامت کے دن دو وجہ سے حاکموں اور عالموں کو رو سیاہی نصیب ہوگی کیونکہ اگر میں حق پر ہوں تو انھوں نے مدد کیوں نہ کی۔ اگر میں حق پر نہیں ہوں تو مجھے قید کیوں نہ کیا۔ اور سب (علماءحکام نے) مجلس کرکے میری تفہیم کیوں نہ کی۔ اگر میں نے تفہیم قبول نہ کی تو مجھے قتل کیوں نہ کردیا۔ اس لئے کہ میں جہاں جاونگا اپنی حقیقت کے لحاظ سے دعوتِ (مہدیت) کرتا رہونگا۔ اور (انکے نقطئہ نظر سے ) مخلوق کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ اور (اس کا) وبال اِن علماءو حکام ) کی گردن پر رہیگا۔


    ۱۴ 

    باز علماءسوال کردند کہ بر مہدی علیہ السلام تمام خلق ایمان خواہد آورد کسے ۳ منکر نخواہد ماند حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ مومناں ایمان ۴ آرند یا کافراں علما ءجواب دادند کہ مومناں حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ ہمہ مومناں ایمان آور دندو اطاعت کردند۔
    ترجمہ:۔ پھر ایک مرتبہ علما نے سوال کیا کہ مہدی علیہ السلام پر تمام مخلوق ایمان لائے گی کوئی منکر نہ رہے گا حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ مومن ایمان لائیں گے یا کافر ؟ علما نے جواب دیا کہ مومن فرمایا کہ مومنین ہی ایمان لائے ہیں اور اطاعت قبول کی ہے۔


    ۱۵ 

    یکروز بعضے علماءبطریق امتحان سوال کردند قال اللّٰہ تعالیٰ وما تشاوِن الا ان یشاءاللّٰہ (جز ئ۹۲ رکوع ۹۱) یعنی بندہ ہیچ نمی خواہد مگر آنکہ آنرا خدائتعالیٰ میخو اہد پس باید کہ ہر چند بندہ میخواہد یشود و بسیاءچیز است کہ بندہ میخواہد و نمی شود؟فرمودند کسے کہ اندک در علم شریعت واقف باشد ۱ ایں چنیں سوال نہ کند معنی ایں آیت انیست کہ چنانچہ افعال و اقوال بندگان بجز ۲مشیت حق تعالیٰ نیست ہمچناں خاطر و آرزو ہائے بندہ بے ارادت و مشیت حق تعالیٰ نیست
    (ترجمہ) ایک روز علماءنے امتحان کے طور پر سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہیکہ ما تشاوِ ن الا ان یشاءاللّٰہ یعنے بندہ وہی چاہتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ پس لازم ہوا کہ بندہ جو چاہے پورا ہوجائے حالانکہ بسا اوقات بندہ جو چاہتا ہے پورا نہیں ہوتا؟ حضرت مہدی علیہ السَّلام نے فرمایا جو شخص علم شریعت سے تھوڑی واقفیت بھی رکھتا ہو ایسا سوال نہیں کرتا۔ اس آیت کا مطلب یہ ہیکہ جس طرح بندوں کے اقوال و افعال اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہیں اسی طرح (اندرون دل و دماغ سے تعلق رکھنے والی باتیں) ارادے اور آرزویں بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر نہیں ہیں۔


    ۱۶ 

    باز سوال کردند کہ شما ولایت رابر نبوت فضل مید ہید حضرت مہدی علیہ السَّلام فرمودند کہ بندہ فضل مید ہید یا رسول اللہ فضل مید ہند کما ۳ قال علیہ السلام الولایت افضل من النبوة علماءگفتند کہ معنی ایں حدیث آنست کہ ولایت بنی افضل از نبوت اوباشد حضرت میرانعلیہ السلام فرمودند کہ من کدام وقت گفتم کہ ولایت من افضل از نبوت بنی است یا من افضل ۴ از بنی ہستم یا ولی رابر بنی فضیلت است بعدہ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند بارے بدایند کہ معنی نبوت چیست ولایت چہ چیز است۔
    ترجمہ:۔ علماءنے پھر ایک دفعہ سوال کیا کہ آپ ولایت کو نبوت پر فضیلت دیتے ہیں؟ فرمایا کہ بندہ فضیلت دیتا ہے یا رسول اللہ صلعم دیتے ہیں چنانچہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ “ ولایت نبوت سے افضل ہے “ علماءنے کہا کہ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ نبی کی ولایت اس نبی کی نبوت سے افضل ہے یا میں نبی سے افضل ہوں یا ولی کو نبی فضیلت ہے۔ اس کے بعد حضرت مہدی علیہ السَّلام نے فرمایا کہ ایک بار پھر غور تو کرو کہ نبوت کے معنی کیا ہیں اور ولایت کیا ہے۔


    ۱۷ 

    باز سوال کردند کہ شما ایمان راز یادت و نقصان میگوئید و امام اعظم فرمودہ اند کہ الا یمان لا یزید ولا ینقص حضرت میراں علیہ السَّلام فرمودند کہ حق تعالیٰ فرمودہ است انما المومنون الذین اذا ذکر اللّٰہ وجلت قلو بھم واذا اقلیت علےھم اٰیاتہ زادتھم ایمان ۱ (جز ئ۹ رکوع ۵۱) و آنچہ امام اعظم علیہ السلام گفتہ انداز ایمان خود خبرد ادند کہ ایمان امام بکمال رسیدہ بود بعد از کمال نہ زیادہ شود نہ نقصان۔
    ترجمہ:۔ علماءنے پھر ایک مرتبہ سوال کیا کہ آپ ایمان کی کمی و زیادتی کے قائل ہیں حالانکہ امام اعظم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ” ایمان بڑھتا ہے نہ گھٹتاہے“ حضرت میراں علیہ السَّلام نے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ بیشک جو لوگ مومنین ہیں جب (ان کے سامنے ) اللہ کی یا کیجائے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب ان کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ (آیتیں) انکا ایمان بڑھادیتی ہیں (جز ۹ رکوع ۵۱) اور امام اعظم علیہ السلام نے جو کہا ہے (فی الحقیقت ) اپنے ایمان کی خبر دی ہے کیوں کہ ان کا ایمان کمال کو پہنچ چکا تھا۔ کامل ہوجانے کے بعد ایمان نہ گھٹتا ہے نہ بڑہتا ہے۔


    ۱۸ 

    باز سوال کردند کہ شما کسب را حرام میگوئید حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند مومن را کسب حلال است مومن با ید شد درقرآن مجید تامل باید کرد کہ مومن کر ا میگونید۔
    (ترجمہ)علماءنے پھر سوال کیا کہ آپ کسب کو حرام کہتے ہو؟ آپ نے فرمایا کہ مومن کے لئے کسب حلال ہو مومن بننا چاہئیے اور قرآن میں غور تو کرو کہ مومن کس کو کہتے ہیں۔


    ۱۹ 

    باز سوال کردند کہ شما میگو ئید کہ خدا ئتعالیٰ را در دار ۲ دنیا کہ دارفنا است بچشم سر می تواں دید حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ حقتعالیٰ میگوید یا بندہ؟ (کما قال اللّٰہ تعالیٰ) من کان فی ھذہ اعمٰی فھو فی الاٰخرة اعمٰی واضل سبیلا (جز ئ۵۱ رکوع ۳) ایضاً فمن ۳ کان یرجو لقاءربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادة ربہ احدا (جز ئ۶۱رکوع ۳) ایضاً الا انھم فی مریت من لقاءربھم اِلا انہ بکل شئی محیط (جزء۵۲ رکوع ۱) بعد ازاں سوال کردند کہ قرار سنت و جماعت آنست کہ مراد ازیں آیات دیدن خدا در آخرت است فرمودند کہ وعدہِ خدائتعالیٰ مطلق است ما ہم مطلق می گوئیم مقید نمی کنیم و سنت و جماعت ہم ناجائز و ناممکن در دار دنیا نہ گفتہ ۴ اندر کلام ایشاں خوب طریق فہم باید کرو کہ چہ گفتہ اند۔
    (ترجمہ) علماءنے پھر سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ اس دنیا میں جو کہ دارِ فنا ہے خدا کو چشم سر سے دیکھ سکتے ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السَّلام نے فرمایا کہ خدائتعالیٰ فرماتا ہے یا بندہ کہتا ہے (چنانچہ اللہ نے فرمایا)۔ جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ آحرت میں بھی اندھا اور گمراہ رہیگا (جزء۵۱ رکوع ۸)ایضاً ۔ جو شخص اپنے رب کے لقاءکا امیدوار ہو اسے چاہئیے کہ عمل صالح کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے ۔(جزء۶۱ رکوع۳) ۔ ایضاً ۔ جو لوگ اپنے رب کے لقاءکے بارے میں مبتلائے شک ہیں ان کو خبردار ہوجانا چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ بیشک ہر چیز پر محیط ہے ۔ (جزئ۵۲ رکوع ۱)(ان آیات کے بارے میں) علما ءنے پھر سوال کیا کہ علماءاہل سنت و جماعت نے تو ان آیات سے آخرت میں دیدار خدا مراد لی ہے ‘ آپ علیہ السلام نے فرمایا خدائتعالیٰ کا وعدہ تو مطلق ہے ہم بھی مطلق کہتے۔ مقید نہیں کرتے اور اہل سنت و جماعت نے بھی داردنیا میں ناجائز اور نا ممکن نہیں کہا ہے۔ ان کے کلام کو بہت اچھی طرح سمجھنا چاہئیے کہ انھوں نے کیا کہا ہے۔


    ۲۰ 

    بعد ازاں سوال کردند کہ شما آیاتِ رحمت در جاکمتر بیان میکنید و آیات قہر و خوف بیشتر بیان می کنید تا بندہ نا امیدمی شود۔ حضرت مہدی علیہ السَّلام فرمودند قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اخوک من حذرک لا من غرک۔
    (ترجمہ اس کے بعد علماءنے سوال کیا کہ آپ آیت رحمت در جا بہت کیم بیان کرتے ہیں اور آیاتِ قہر و خوف زیادہ؟ اس سے بندہ نا امید ہوجاتا ہے۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا ۔آنحضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ تیرا بھائی وہ ہے جس نے تجھے ڈرایا نہ وہ جس نے تجھے دھوکہ میں ڈالدیا۔


    ۲۱ 

    باز گفتند کہ شما از علم خواندن ہم منع می کنید حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ بندہ تابع محم رسول اللہ صلی علیہ وسلم است۔ آنچہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع نہ کردہ باشند بندہ چگو نہ منع کند۔ بندہ ذکر دوام را فرض میگوید با مرااللہ و بحکم کتاب اللہ ہر چہ مانع ذکر است آں ممنوع است چہ علم خواندن وچہ کسب کردن وچہ باخلق اختلاط کردن و مشغول ۱ شدن وچہ خوددن و خسپیدن غفلت حرام است و ہرچہ ۲ موجب غفلت است حرام ۳ است۔
    ترجمہ:۔ علماءنے سوال کیا کہ آپ علم پڑہنے سے بھی منع کرتے ہیں؟ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع ہے۔ جو کچھ حضرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہو بندہ کیسے منع کریگا۔ بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حکم سے ذکر دوام کو فرض کہتا ہے جو کچھ مانع ذکر ہو وہ ممنوع ہے۔ خواہ علم پڑہنا اور کسب کرنا‘ خواہ لوگوں سے میل جول رکھنا‘ خواہ کھانا و سونا ہو(بہرحال) غفلت حرام ہے اور جو کچھ موجب غفلت ہے حرام ہے۔


    ۲۲ 

    باز گتند کسانِ شما از استاداں و پیراں بر گشتہ اند و بے ادبی میکنند بلکہ ازیشاں بیزار شدہ اند۔ برایشاں ۱ عیب می کنند حضرت مہدی علیہ السام فرمودند کہ شما مسئلہ شرعی فراموش کردید کہ اگر کسے دختر خود بہ کسے ۲ نکاح کردہ داد بعد از مدتے ظاہر شد کہ عنین است۔ در شرع شریف تفریق کنند یا نہ کنند۔ وہ کالائے کہ بہ گمان سلامتی خرید مینند واگر عیب شرعی درو ظاہر شود واپس می وہند یا نہ ؟ پس مقصود دینی از مقصود دنیاوی کمتر شد کہ حاصل شودیا نہ شود پیوند نہ باید برید و بیزارنبا ید شد و مقصود ۳ دینی از جائے دیگر طلب نہ باید کرد۔ زہے طلب دنیا و زہی طلب دیدار خدائے تعالیٰ کہ در طلب مقصود دنیاوی تفریق و بیزاری و جدائی ردامی دراند و در حصول مقصود دینی ردانمی ۔ رحم اللہ من النصف۔
    باز گفتند کہ با شما بحث چوں تواں کردکہ شما مقید بہ مذہب نسیتند ۔ ہر چہ جو اب میگوئید مطلق از قرآن میگوئید و در قرآن تفہیم نداریم ما مقید بہ مذہبامام ابو حنیفہ علیہ السلام کو فی ایم۔ حضرت میراں علیہ السلام فرمودند کہ من بہ ہیچ مذہب مقید نہ ام اما مذہب ما کتاب اللہ است و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ با ینہم قرارد ہید کہ ہر کہ از مذہب امام اعظم ۴ پیرو باشد و عامل برخلاف مذہب باشد حکم او چسیت باز فرمودند کہ نا دان معنی مذہب چہ دانستہ اند معنی مذہب رفتار امام است یہ گفتار تمام معاملات شرعی کہ در کتب فقہ مذکور است گفتار پیغمبر است نہ عمل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پس مذہب امام اعظم علیہ السلام عمل امام است کہ مشہور است۔

    ترجمہ:۔ علماءنے پھر سوال کیا کہ آپ کے لوگ استادوں اور پیروں سے بر گشتہ ہوگئے ہیں اور بے ادبی کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں سے بیزار ہوگئے ہیں۔ ان پر عیب لگاتے ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ تم شرعی مسئلہ بھول گئے ہو کہ اگر کوئی شخص اپنی لڑکی کو کسی کے نکاح میں دیدے اور کچھ عرصہ بعد معلوم ہو کہ عنین ہے تو از روئے شرع شریف حدا کردیتے ہیں یا نہیں؟ اور جس مال کو اچھا سمجھکر خرید لیتے ہیں اگر اس میں شرعی عیب ظاہر ہوجائے تو واپس کردیتے ہیں یا نہیں (تم لوگوں کے پاس) دینی مقصود‘ دنیاوی مقصود سے کمتر ہوگیا ہے کہ حاصل ہو یا نہو تعلق نہ توڑا جائے اور بیزار نہوں۔ اور مقصود دینی دوسری جگہ سے طلب نہ کریں۔ کہا طلب دنیا؟ اور کہا طلب دیدار خدائے تعالیٰ (افسوس) کہ دنیاوی مقصود ہیں تو تفریق و بیزاری و جدائی جائز رکھتے ہیں مقصود دینی کے حصول میں جائز نہیں رکھتے !! اللہ اس پر رحم فرمائے جو انصاف کر۔
    علماءنے کہا کہ آپ کیساتھ بحث کیسے کیجائے جبکہ آپ کسی مذہب کے پابند نہیں ہیں ۔ جو کچھ جواب دیتے ہیں مطلق قرآن سے دیتے ہیں اور ہم قرآن سے دیتے ہیں اور ہم قرآن کے بارے میں سمجھ نہیں رکھتے ۔ ہم امام ’ ابو حنیفہ علیہ السلام ‘ کے مذہب کے پابند ہیں حضرت میراں علیہ السلام نے فرمایا کہ میں کسی مذہب کا پابند نہیں ہوں لیکن میرا مذہب کتاب اللہ و سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ اس کے باوجود فرض کروکہ جو شخص امام اعظم علیہ السلام کے مذہب کا پیرو ہے اور اس مذہب کے خلاف عمل کرتا ہے تو اس پر کیا حکم ہے؟ پھر فرمایا کہ نادان لوگوں نے مذہب کے کیا معنی سمجھ رکھے ہیں۔ مذہب کے معنی امام کی رفتار ہے نہ کہ گفتار اور تمام شرعی معاملات کے بارے میں جو مسائل کتب فقہ میں مذکور ہیں گفتار پیغمبر ہے نہ کہ عمل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پس امام اعظم علیہ السلام کا مذہب ان کا عمل ہے جو کہ مشہور ہے۔


    ۲۳ 

    باز گفتند شما مسلمان را کافر میگوئید و امر میکنید کہ مومن شوید۔ حضڑت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ ما مذہب کتاب اللہ پیش کردہ ایم ہر کرا کتاب اللہ مومن می گوید مامون میگو یم و ہرکرا کتاب اللہ کافر گوید اور ا کافر می گوئیم از خود چیزے نمی گوئیم ما تابع کتاب اللہ ہستیم کتاب خدائے را پیش کردہ ایم و خلق را سوئے توحید و عبادت دعوت میکنیم و من برائے ایں کارموریم از حضرت باری تعالیٰ ۔ و علما مخالفت می کنند ۔ معلوم نمی شود کہ موجب مخالفت ایشاں چسیت ۔ اگراز بندہ سہو ے ۱ شدہ باشد برایشاں فرض است کہ اعلام ۲ کنند تا اتفاق کردہ بر کتاب اللہ عمل کردہ شود ۳ و براں دعوت کردہ شود ۔ کما قال اللہ تبارک و تعالیٰ ون تنازعتم فی شئی فردوہ الیٰ اللّٰہ ۔ (جز ئ۵ رکوع ۴) الیٰ کتاب اللہ ۔ ہر کہ از کتاب خدائے تعالیٰ قدم بیرون نہاد ہ باشد توبہ کندو اگر توبہ نہ کندو اجب القتل است۔
    ترجمہ:۔ علماءنے سوال کیا کہ آپ مسلمان کو کافر کہتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ مومن بنو؟ حضرت مہدی علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہم نے کتاب اللہ کا مذہب پیش کردیا ہے جس کسی کو کتاب اللہ مومن کہتی ہے ہم بھی مومن کہتے ہیں اور جس کسی کو کتاب اللہ کافر کہتی ہے اس کو ہم بھی کافر کہتے ہیں۔ اپنی طرف سے کوئی حکم نہیں لگاتے ہیں ۔ ہم کتاب اللہ کے تابع ہیں۔ خدا کی کتاب پیش کردئیے ہیں اور مخلوق کو توحید و عبادت کی طرف بلاتے ہیں اور ہم بارگاہ رب العزت کی طرف سے اسی کام پر مامور ہیں ۔ اور علماءہماری مخالفت کرتے ہیں لیکن مخالفت کا سبب معلوم نہوا۔ اگر بندہ سے کوئی سہو ہوگیا ہے تو ان کا فرض ہے کہ معلوم کریں تاکہ اتفاق کے ساتھ کتاب اللہ پر عمل کیا جاسکے اور اسی پر دعوت کیجاسکے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” اگر تم میں کسی مسئلہ کے متعلق اختلاف ہوجائے تو اس اختلاف کو اللہ کی طرف رجوع کردو“ (جزئ۵ رکوع ۴) یعنی اللہ کی کتاب کی طرف۔ جو شخص کتاب اللہ سے بے راہ ہوگیا ہو اس کو توبہ کرلینا چاہئیے اگر توبہ نہ کرے (مُصِر رہے) تو وہ واجب القتل ہے۔


    ۲۴ 

    باز گفتند کہ علامت مہدی موعود علیہ السلام آنست کہ بردے شمشیر کار نہ کند حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ کار شمشیر بریدن است و کار آب غرق کردن است و کار آتش سوختن است پس معنی حدیث رسول اللہ آنست کہ کسے بر مہدی قادر نہ شود نتواند گشت۔
    ترجمہ:۔ علماءنے پھر سوال کیا کہ مہدی موعود علیہ السلام کی علامت تو یہ ہے کہ ان پر تلوار کار گر نہ ہوگی؟ حضرت مہدی موعود علیہ السام نے فرمایا کہ تلوار کا کام کاٹنا ہے اور پانی کا کام غرق کردینا ہے۔ آگ کا کام جلانا ہے۔ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہہ ہے کہ کوئی طاقت مہدی علیہ السلام پر قادر ہو ہی نہ سکیگی۔


    ۲۵ 

    واز اکثر یاراں روایت کردہ شدہ است کہ چوں حضرت مہدی صلی اللہ علیہ وسلم در خراسان رفتند و بہ شہر فراہ اقامت کردند خبر پراگندہ شد کہ سیدے آمدہ دعوی ۱ می کنند کہ من مہدی موعود علیہ السلام ہستم و برخلق تصدیقِ من ثابت و لازم است۔ قاضی آںشہر مر کو توال را گویانید ۲ کہ بردو جملہ ۳ اسباب خردو بزرگ ِایں گردہ را تا راج کردہ بیار۔ بعدہ کوگوال کسانِ خودرابابنو ہے فرستاد ۔ چوں ایشاں آمدند آں زماں حضرت میراں علیہ السلام بایاران بیروں نشستہ بودند ۔ یاراں ۴ باختیاری جنگرخصت سے طلب کردند۔ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ بندہ تابع فرمان حضرت رب العامین است ومن تابع فکر کسے یا فکر خودع نہ ام صبر بکنید اگر دنبال من ہستید و برمن تصدیق داریدہ بعدہ کسان کوتوال جملہ اسباب فقراءمرداں و زناں تا سر پوشِ زناں ہم تاراج کردند۔ بعدہ پیش حضرت مہدی علیہ السلام آمدہ طلب شمشیر و سلاح کردند حضرت مہدی علیہ السلام اول شمشیرِ خود ازخود علحدہ کردہ پیش نہادند بعدہ ہمہ یاراس تسلیم شدندو موافقت امام خود کردند۔اوشاں تمام اسباب ۵ بردند ہمدراں شب حاکم آں ۶ ولایت بخواب دید کہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم ایستادہ نیزہ ۷ بر سینہِ اونہادہ فرمودند کہ در مملکت تو بر فرزند من چنیں ظلم شدہ ۸ است پس ۹ حاکم ہیبت زدہ جواب داد کہ یا رسول اللہ من خبر ندارم ۱ ۔ علا الصباح ۲ تفحص کنم ۔ فی الحال بیدارشدہ کوتوال را طلبیدہ گفت کہ من چنین خواب دیدہ ام توچہ کردہِ کو توال آنچہ کیفیت بود مِن وعَن فرانمود ۔ ۳ بعدہ بادشاہ قاضی را طلبیدہ حبس کردہ از عہدہِ او دور گردانید ۔ و بملازمت حضرت گویایند کہ آنچہ حکم حضرت باشد بر قاضی چناں کنیم و بعضے علماءو منصفانِ خود را پیش حضرت مہدی علیہ السام بطریق عذر خواہی و بطریق تحقیق کردنِ احوال دعوے مہدیت حضرت امام علیہ السلام فرستادو گویانید کہ آنچہ تلف شدہ باشد تدکرہ کردہ بد ہیدتا اضعاف خواہم فرستاد ۴ ۔ ایشاں آمدہ عذر خواہی کردند تذکرہ‘ تلفِ اسباب کردند۔ بعدہ حضرت مہدی علیہ السام فرمودند کہ امز آنِ ما ہیچ تلف نہ شدہ است۔ ماجز خدایِ تعالیٰ ہیچ نداریم و خدائے من از من تلف نہ شدہ است بعدہ ایشاں چند سوال ہائے علمی کردند حضرت مہدی علیہ السلام ایشاں را جواب با صواب فرمودند ایشاں واپس گشتہ آنچہ مذاکر بودمِن و عَن گفتند و کسے کہ درمیان ایشاں عالمتر بودو گفت اے ۵ بادشاہ علم من پیش علم آن سید ہمچوں قطرہ پیش ذریاست پس بادشاہ با وزیر معتبر و محتشم و مہیب مسمی بہ میر ذوالنون مشورت کردکہ ۶ دعوے کلا است چہ باید کرداو گفت کہ من با شوکت و قوت وبا اسباب جنگ و با قہر و غلبہ پیش او میردم اگر طاقت آں ندار دو بہ ماتوجہ کند التفات نماید کاذب باشد والا ۷ اگر بے نیازی کند و مارا ہیبتِ اوآید و من توجہ سوےَ اوکنم لاشک مہدی موعود علیہ السلام باشد کہ جز مہدی ایں طاقت کسی ۸ ندار و بادشاہ را سخن و زیر قابل ۹ آمد رضا داد کہ ہمچنیں بکن علی الصباح چنانچہ گفتہ بود ہمچناں کرد چوں آواز مزامیر لشکر در گروہ فقراءرسید و دبدبہ لشکر دید ندو آواز شد کہ لشکر برائے قتل و نہب و تاراج آمد بعضی فقیراں در تحیر افتادندیکے برائے خبر کردن پیش حضرت مہدی علیہ السلام آمد عرض ۰۱ کردکہ لشکر بادشاہ آمدچہ تدبیر باید کرد حضرت میراں علیہ السلام بروتنگ آمدہ فرمودند کہ بادشاہ یکی است کہ بے وزیراست ہم دراین لشکر در رسید و تمام حجر ہارا گرد کردہ ۱۱ ایستاود میر ذوالنون خودبا ہیبت و استغناءپیش حضرت مہدی علیہ السام آمد کسی التفات با او نکرد او متحر شداز اسپ فرود آمد و ہیبت دردل اوپدید ۲۱ گشت بہ ادب بہ نشت حضر ت ۳۱ مہدی علیہ السلام دعوت شروع کردند ۴۱ بہ اطمینان چنانچہ ہمیشہ میکر دند میر ذوالنون بہ ادب دعوت شنید گرفت حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند نزدیک بیا۔ نزدیک بیامد باز فرمودند نزدیک تر بیا۔ نزدیک ۵۱ شدولے درد لے ادہیبت ۶۱ دیدار و ہیبت دعوت پدیدآمد ۷۱ ولے ۸۱ قوت گرفتہ عرض نمود اگر شما مہدی لغوی باشید منقول ۱ است و اگر اصطلاحی ہستید ۲ حجت و برہان باید نمود ۔ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ حجت و برہان نمودن کا ر حق تعالیٰ است و برما کا ر تبلیغ است۔ دانشمندے کامل در آں مجلس ہمراہ و زیر ۳ بود اسم آں ملا نور کوزہ گر بہ بلند آواز گفت اگر مہدی آمد نیست پس ہمیں مرد است و گر نہ ہر گز نخواہد آمد۔ شمانکو طریق بدینید بعدہ میر ذوالنون گفت مانوکر مہدی علیہ السلام ایم۔ وما غلام ۴ مہدی علیہ السلام ایم۔ ہر جاکہ تیغ زدنی باید تیغ زنیم ۔ ومخالفانِ مہدی علیہ السلام را بکشیم شما مہدی علیہ السلام ماومانا صر شما ایم حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند کہ تیغ بر نفس خود بزن کے دربے راہی نیفگند و ناصر مہدی حق تعالیٰ است ۵ و ناصر گروہ مہدی نیز حقتعالیٰ ۔ ایں سخن فرمودند و سلام علیکم گفتہ برخاستند ۶ و بطرف حجرہ رواں شدند میرذوالنون دنبال شدتا وداع کند۔ کسے عرض رسانید کہ میرذوالنون اِذن می خواہد تا باز گردو۔ بہ سوے او التفات کردند و فرمودند السلام علیکم ودرون حجرہ رفتند ۔ میرذوالنون باز گشت بعد ازاں اکثر خلق مطیع شدندو تصدیق کردند و رسوم ۷ و عاداتِ خود ترک کردند در فرمودہِ حضرت میراں علیہ السلام انقیاد نمودند۔
    ترجمہ:۔ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت کیگئی ہے کہ جب حضرت مہدی صلی اللہ علیہ وسلم خراسان تشریف لے گئے آپ نے شہر فراہ میں اقامت فرمائی اور یہ کیفیت مشہور ہوئی کہ ایک سید آئے ہوئے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ میں مہدی موعود علیہ السلام ہوں اور خلق پر میری تصدیق ثابت و لاز ہے ۔ اس شہر کے قاضی نے خاص طور پر کوتوال کو حکم دیا کہ جاوِ۔ اس جماعت کے چھوٹے بڑوں کو جو کچھ بھی ان کا اسباب ہو تاراج کرکے پکڑلاوِ۔ کوتوال نے اپنے پولیس کے جوانوں کی کثیر جماعت روانہ کی۔
    جب پولیس یہا ں آئی اس وقت حضرت مہدی علیہ السلام اپنے صحابہ علیہ السلام کے ساتھ باہر تشریف فرما تھے۔ صحابہ علیہ السلام نے جنگ کی تیاری کے لئے اجاز ت طلب کی۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ بندہ حضرت رب العالمین کے فرمان کا تابع ہے ۔ کسی کی فکر بلکہ خود اپنی فکر کا تابع نہیں ہے۔
    اگر تم میری اتباع میں ہو اور میری تصدیق کرتے ہو تو صبر کرو ۔ بالآخر جو انان پولیس نے فقراءکا اور ان کے زنانہ حصہ کا پورا سامان حتیٰ کہ عورتوں کی چادریں تک تاراج کردیں۔ اس کے بعد مہدی علیہ السلام کے پاس آکر انہوں نے تلوار و ہتیار طلب کئے ۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے سب سے پہلے اپنی تلوار اپنے سے الگ کرکے حوالے کردی پھر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی اپنے اپنے ہتیار حوالے کردئیے انھوں نے اپنے امام کی پوری اتباع کی۔وہ لوگ تمام اسباب لیکر چلے گئے ۔ اسی رات اس شہر کے حاکم (اعلیٰ) نے خواب دیکھا کہ حضرت رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس کے سینہ پر نیزہ رکھکر فرمارہے ہیں کہ تیری مملکت میں میرے فرزند پر کتنا ظلم ہوا ہے؟ حاکم نے ہیبت کے عالم میں جواب دیا کہ یا رسول اللہ مجھے خبر نہیں۔ علی الصباح تحقیق کروں گا۔ اسی حال میں بیدار ہوا۔ کوتوال کو بلایا اور خواب کا حال بیان کرکے پوچھا کہ تونے کچھ کیا ہے؟ کوتوال نے ساری روئداد تفصیلاً پیش کردی۔ اس کے بعد بادشاہ نے قاضی کو طلب کیا اور قید کرکے عہدہِ قضاءت سے بر طرف کردیا اور حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کروایا کہ قاضی کے بارے میں آپ جو حکم دیں عمل کروں گا۔ اور اپنے بعض علماءاور بعض منصفین کو عذر خواہی اور دعوی مہدیت کی تحقیق کے لئے حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا اور عرض کرو ایا کہ جو سامان تلف ہوچکا ہے اس کی فہرست دی جائے تا کہ دوگنا سامان بھیجدوں ۔ ان لوگوں نے عذر خواہی کی اور تلف شدہ سامان کی فہرست طلب کی حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ ہماری آن(مِلک) کا کچھ حصہ بھی تلف نہیں ہوا ہے۔ ہم بجز خدائے تعالیٰ کے کچھ نہیں رکھتے اور ہمارا خدا ہم سے چھوٹا نہیں اس کے بعد ان لوگوں نے چند علمی سوالات کئے حضرت مہدی علیہ السام نے ان کے باصواب جواب دئیے۔
    ان لوگوں نے واپس آکر جو کچھ گزرا پورا پورا بیان کردیا اور ایک شخص جو اس جماعت میں بڑا عالم تھا اس نے عرض کیا کے اے بادشاہ میرا علم ان سَّید صاحب کے علم کے مقابلہ میں قطرہ اور دریا کی نسبت رکھتا ہے۔
    پس بادشاہ نے اپنے معتبر و محتشم و مہیب و زیر میر ذوالنوں سے مشورہ کیا کہ دعوی تو بہت بڑا ہے کیا کرنا چاہئیے ۔ اس نے رائے دی کہ میں شوکت و قوت اور اسباب جنگ اور شانِ قہر و غلبہ کے ساتھ ان کے پاس جاتا ہو ں اگر وہ اس کی تاب نہ لاسکیں اور میری طرف متوجہ ہوجائیں تو ان کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ ورنہ اگر بے نیاز ی برتیں اور ہم پر ان کا رعب طاری ہوجائے اور ہمارے دل انکی طرف مائل ہوجائیں تو بے شک مہدی موعود علیہ السلام ہیں۔ کیوں کہ بجز مہدی موعود علیہ السلام کے کوئی ایسی طاقت نہیں رکھتا۔ وزیر کا یہ مشورہ بادشاہ کو پسند آیا۔ اور اجازت دی کہ یہی تدبیر اختیار کرے۔ دوسری صبح کو وزیر نے یہی کیا۔ جب فوج کے باجوںکی آوازیں آنے لگیں اور مشہور ہوا کہ یہ لشکر قتل و تاراج کے لئے آرہا ہے اور فقراءنے لشکر کا دبدبہ دیکھا تو بعض فقراءحیرانی میں پڑگئے ۔ اور ایک فقیر تو خبر دینے کے لئے مہدی علیہ السلام کی خدمت میں چلے آئے ۔ اور عرض کیا کہ بادشاہ کی فوج آچکی ہے کیا تدبیر کیجائے۔ حضرت میراں علیہ السلام نے ان فقیر پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ بادشاہ تو ایک ہی ہے جس کا کوئی وزیر نہیں۔ اتنے میں فوج آہی گئی اور (دائرہ فقراءکے) تمام حجروں کا اس نے محاصرہ کرلیا اور میرذوالنون رعب و استغناءکے ساتھ حضرت مہدی علیہ السام کی طرف بڑہنے لگے۔ (اہل دائرہ سے ) کسی نے ان کی طرف توجہ نہ کی۔ میر ذوالنون پر حیرت طاری ہوئی اور گھوڑے سے اتر پڑے اور دل دہلنے لگا۔ ادب سے بیٹھ گئے۔ حضرت مہدی علیہ السام نے دعوت ِ مہدیت کا بیان شروع فرمادیا۔ اسی طمانیت و سکون کیساتھ جیسا کہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے۔ میر ذوالنون باادب بیان سننے لگے ۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا نزدیک آجاِو میر ذوالنون قریب ہوئے۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا اور قریب آجاوِ ۔ وہ اور قریب ہو تو گئے لیکن دل پر ہیبت طاری ہونے لگی(اسکے باوجود) انھوں نے دل تھام کر عرض کیا کہ اگر آپ لغوی مہدی علیہ السلام ہیں تو یہ ایک معقول بات ہے اگر اصطلاحی مہدی علیہ السلام ہیں تو حجت و برہا ن چاہئیے۔! حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ حجت و برہان دکھانا تو خدائے تعالیٰ کا کام ہے ہمارا کام صرف تبلیغ ہے۔ اس مجلس میں ایک فاضل سمجھدار صاحب بھی وزیر موصوف کے ساتھ موجود تھے جن کا نام ملّا نورکوزہ گر تھا انھوں نے بلند آواز سے کہا اگر مہدی موعود علیہ السلام آنا ہی ہے تو وہ یہی ہستی ہیں۔ ورنہ پھر کوئی مہدی علیہ السلام ہرگز نہوسکیگا۔ آپ لوگ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو! اس کے بعد میر ذوالنون نے کہا کہ ہم مہدی کے غلام ہیں۔ اور انھیں کہ ملازم ہیں ۔ جس جگہ تیغ چلانے کی ضرورت ہوگی ہم تیغ چلائیں گے اور مہدی علیہ السلام کی مخالفت کرنے والوں کو قتل کریں گے۔ آپ ہمارے مہدی علیہ السلام ہیں اور ہم آپ کے ناصر ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا کہ تیغ اپنے نفس پر چلاوِ تاکہ وہ گمراہ نہ کردے اور مہدی کا ناصر تو اللہ ہے۔ اور مہدی علیہ السلام کی جماعت کا ناصر بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ بیان فرمایا اور السلام علیکم کہکر اٹھ گئے اور حجرہ کی طرف تشریف لے جانے لگے میر ذوالنون بھی پیچھے چلنے لگے تاکہ رخصت چاہیں۔ کسی نے حضرت سے عرض کی کہ میر ذوالنون رخصت ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ حضرت مہدی علیہ السلام میرذوالنون کی طرف پلٹ کر صرف السلام علیکم کہتے ہو ئے حجرہ میں داخل ہوگئے میر ذوالنون بھی واپس چلے گئے۔ اس کے بعد بہت زیادہ لوگوں نے تصدیق و اطاعت کا شرف حاصل کیا اور اپنے طور طریق چھوڑ کر حضرت کی تعلیم کی پیروی اختیار کی۔


    ۲۶ 

    ونیز ۱ منقول است کہ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند تاثیر حق ہمچوماہ اول است و حجت داون کار خداوندیست حجت دہدیانہ دہد۔ بندہ را دریں چہ کا راست بر ما تبلیغ است۔
    ترجمہ:۔ نیز روایت ہیکہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا حق کی تاثیر پہلے دن کے چاند کے مانند ہے دلیل پہنچانا خدا کا کام ہے وہ چال دلیل پہنچائے یا نہ پہنچائے بندہ کو اس میں کیا دخل ہے ہمارا کام صرف تبلیغ ہے۔


    ۲۷ 

    نقلست کہ حضرت مہدی علیہ السلام فرمودند تاثیر حق ہمچو ماہ اول روز است کہ ہرروز زیادہ تر شودتا آنکہ بکمال رسد و تاثیر بطلان ۱ ہمچو ماہ شب چہاردہم است کہ ہر روز نقصان میشود تانا پید گردد کما قال سبحانہ ۲ و تعالیٰ ھوالذی ارصل رسولہ یالھدیٰ و دین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ (جزئ۰۱ رکوع ۱۱) و ایضاً قل جاءالحق و زھق الباطل ان الباطل کان زھوقا (جز ء۵۱ رکوع ۹)
    ترجمہ:روایت ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام نے فرمایا حق کی تاثیر پہلی تاریخ کے چاندکے مانند ہے کہ ہر روز زیادتی ہوتی رہتی ہے حتیً کہ کامل ہوجاتی ہے اور باطل کی تاثیر چودھویں شب کے چاند کے مانند ہے کہ ہر روز کمی ہوتی رہتی ہے حتی کہ روشنی نا پید ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
    ”وہ وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو پورے دین پر غالب کردے۔“ نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” کہدو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا۔ بیشک باطل تو مٹنے ہی والا ہے“ ۔ (جزئ۵۱ رکوع ۹)





    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.