Mahdi ahs
  • in Hadith
  • The last words
  • The Life History

  • Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed

    وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
    And say: "Truth has (now) arrived, and Falsehood perished: verily Falsehood is (by its nature) bound to perish."Al-Qur'an, 017.081
    نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و المھدی الموعود علیہ الصلوات و التسلیم
    السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    Syed Mohammed Juanpuri Mahdi e Mau'ood ahs:

           Syed Mohammed Juanpuri Mahdi e Mau'oodahs, is one of the caliphs (viceregents) of Allah, came and departed from this world. He was a servant of Allah ('ABDULLAH) and a follower of Shariath of Prophet Muhammed. He was not a MUJTAHID (religious director). He was directly taught by Allah. He is innocent (M'ASOOM-AN-IL-KHATA) - free of mistakes. He claimed to be Mahdi Mau'ood ahs (The promised Mahdi) after Allah commanded him to do so. Following him is obligatory. The reason is that he is a caliph of Allah. Any hadith that contradicts the word of Mahdi ahs is void. In the light of the sayings of the mujtahideen he is a GHAIR - MUQALID (The one who does not follow the Imams of the four schools of fiqh. He is the seal of Vilayath e Muhammedia (Muhammedan Sainthood) and the exponent of the secrets of Muhammedan reality (Israr e haqiqat e Muhammadia). This infact is his mission. He is the follower of the laws of Shar'iat of Prophet Muhammad pbuh. Under his orders, the desire to see Allah is obligatory and a person who is desirous of seeing Allah is the (true) believer (Momin).

           To say one's prayers under the leadership (Imamat) of a person who has not reposed faith in Syed Muhammad ahs being the Imam Mahdi ahs is not permitted.

           In his character, the Imam Mehdi ahs is equal to Prophet Muhammad pbuh, except for Prophethood Nubuwwat and Messengership risalat. Imama Mahdi ahs was not a Prophet (nabi) or Messenger (rasool) of Allah. Both Prophethood and Messengership ended with Prophet Muhammad pbuh. As the Viceregent of Allah, Imam Mahdi ahs is better (afzal) than Abu Bakr Siddiq rz, the Caliph of Prophet Muhammad pbuh



    Imamana said...    -    نقل ہے کے...

    Some migrant-companions are narrated to have told Imam Mahdi ahs: “We will remain near your mausoleum after you.” The Imam ahs said: “Open my grave and see. If I (my body) am there (in the grave), I am not the Mahdi. As long as our aim and scope (that is, the Vision of Allah) remains among you. This servant will be among you, wherever you are.”

    Hashiya Insaaf Naama: 77



    Featured Articles
  • پیرِ کامل کی تلاش فرض ہے
    Peer e kamil ki talaash farz hai
  • اللہ نے دیا ہے - Allah ne diya hai
  • عود دینا - 'ood dena
  • کثرت الخبیث - If Mahdi ahs has come and departed, then why are his followers few in number??
  • دائرہ مہدویہ - Daira-e-Mahdavia
  • عزلت عن الخلق - Uzlat us khalq
  • ترک دنیا - Tark e duniya
  • صحبت صادقین - Sohbat e sadiqeen
  • توکل علی اللہ - Tawakkal
  • ذکر اللہ - Zikrullah
  • دیدارِ خدا - Deedar e Khuda
  • عشر - Ushr
  • دعا - Dua

  • 

    بعثت مہدی موعود علیہ السلام        یہ نا قابل انکار حقیقت ہیکہ ہر شخص اپنی جدو جہد سے نبی و خلیفة اللہ نہیں بن سکتا خدائتعالیٰ جس کو چاہتا ہے اس منصب کے لئے منتخب فرمالیتا ہے اور ابتداءہی سے اسکو ایسی استعداد و صلاحیت عطا کردی جاتی ہے کہ وہ اس بار نبوت و خلافت کا حامل بن سکے اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے استفاضہ کرسکے اسی لئے خلیفة اللہ کی پیدائش کے وقت ہی سے مافوق العادت سے امور کا اظہار ہونے لگتا ہے جن کو علمائے کرام علامات ارہاصیہ کہتے ہیں پس جس طرح نوع انسان میں مختلف قسم کی استعداد رکھنے والے اصناف پائے جاتے ہیں مثلاً ادیب ‘ شاعر فلسفی مہندس وغیرہ اسی طرح خلفائے الہٰی بھی ایک صنف ہے اور نوع انسانی کی اس بلند پایا صنف کو چند ایسی خصوصیات و لوازم عطا کردئیے جاتے ہیں کہ اس کو دوسرے اصناف انسانی سے ممتاز بنادیں۔

              اس مقدس صنف کی ایک اہم خصوصیت ” استفاضہ و افاضہ“ ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ سے فیضان حاصل کرنا اور اس کو عام انسانوں تک پہنچانا۔ یہ وہبی علم کہلاتا ہے ۔ وہبی علم کے تین ذرائع ہیں۔ وحی ۔ الہام ۔ کشف پھر وحی کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وحی توسط جو مخصوص فرشتے کے ذریعے بھیجی جاتی ہے۔ دوسری وحی بلا توسط جس میں کسی ذریعہ کے بغیر خود ذات باری تعالیٰ سے علم حاصل ہوتا ہے۔ وحی ایک قطعی و یقینی امر ہے اس لئے وحی کو جس طرح خود موحیٰ الیہ (نبی یا خلیفة اللہ) کے لئے قطعی اور یقینی قرار دیا گیا ہے اسی طرح دوسروں کے لئے بھی یقینی و قطعی اور قابل حجت و عمل قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے بر خلاف الہام و کشف صرف اسی کی حجت ہے جس پر وہ ظاہر ہو اور دوسروں کے لئے ظنی قرار دیا گیا ہے۔ من ریِ الھلال فعلیہ الصوم۔

              اس مختصر توضیح سے ظاہر ہیکہ خلیفة اللہ کا صاحب وحی ہوتا اس کی ایک اہم خصوصیت ہے اور جب حضرت محمد مصطفی صلعم افضل و خاتم الانبیاءہیں تو بدرجہِ اولیٰ صاحب وحی ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

     

    وما ینطق عن الھویٰ ان ھو الا وحی یوحی (نجم)

    (حضرت محمد صلعم ) جو بولتے ہیں اپنی طرف سے نہیں بولتے بلکہ وہی بولتے ہیں جو ان کو وحی کیجاتی ہے

     

              اس آیہِ کریمہ میں ” وما ینطق “ کے الفاظ عمومیت نامہ کا مفہوم رکھتے ہیں اس لئے آنحضرت صلعم کا ہر قول وحی ہے خواہ وہ آیات قرآنی ہوں یا احادیث شریفہ ‘ جن کی سند حضرت رسول اللہ صلعم کیطرف صحیح ہو۔

              اسی لئے علماءنے حضرت محمد مصطفی صلعم سے متعلق وحی کی دو قسمیں قرار دی ہیں۔ وحی متلو وحی غیر متلو ۔ وحی متلو میں جو الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم کرائے جاتے ہیں ان کی پابندی و حفاظت لازم ہوتی ہے اور اسکو کلام اللہ یا آیات قرآنی کہا جاتا ہے۔ اور وحی غیر متلو میں ایسی پابندی نہیں ہوتی بلکہ رسول منشاءالہٰی کی توضیح اپنے الفاظ میں بیان کرناہے ۔ گویا احادیث شریفہ‘ آیات کلام اللہ کی صحیح تفسیر اور تعمیل قوانین قرآنی کی تعلیم کا فائدہ دیتی ہیں حاصل کلام یہ کہ جب آپ صاحب وحی ہیں اور آپ کا ہر قول تعلیم خداوندی پر مبنی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی بعثت کے بارے میںجو کچھ احادیث صحیحہ بصورت اخبار مغیبہ موجود ہیں وہ من جانب اللہ ہیں۔اس لئے انکار مہدی علیہ السلام کو کفر قرار دیا گیا ہے کیونکہ آیات الہٰی اور احادیث رسول کا انکار لازم آتا ہے۔

              آنحضرت صلعم نے مہدی موعود علیہ السلام کی ضرورت بعثت سے متعلق کئی طریقوں سے اہمیت و تفصیل کے ساتھ خبریں دی ہیں۔ طبقہ ِ انبیاءمیں کسی نبی کے بارے میں پیشنگوئی کی ایسی نظیر نہیں ملتی ۔ چنانچہ دار قطنی ‘ طبرانی‘ ابو نعیم‘ حاکم وغیرہ محدثین نے ابن مسعودعلیہ السلام سے روایت کی ہے کہ:۔

     

    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یذھب الدنیا حتیٰ یبعث اللہ تعالیٰ رجلاً من اھل بیتی یواطی اسمہ اسمی واسم ابیہ اسم ابی الخ           

     حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا ختم نہوگی جبتک کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسے شخص کو مبعوث          نہ کرے جو میرے اہل بیت سے ہوگا اس کا نام میرے نام کے اور اس کے باپ کا نام کے جیسا ہوگا۔ الخ

     

              امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ:۔

     

    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا تقوم والساعة حتی یملک رجل من اھل بیتی الخ

    حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک نہوگی جبتک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص مالک نہوجائے الخ

     

    اور ابو داﺅد نے بھی اس طرح کی ایک روایت کی ہے:۔ 

             

    عن زر بن عبداللہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لو لم یبق من الدنیا الا یوم واحد لطول اللہ ذالک الیوم حتیٰ یبعث رجلا من اھل بیتی یواطی اسمہ واسم ابیہ اسم ابی۔

    حضرت زر بن عبداللہ علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر بالفرض دنیا ختم ہونے کو ایک ہی دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس ایک ہی دن کو اتنا طویل فرمادےگا کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص مبعوث ہوجائے جس کا نام میرے نام کے اور جس کے والد کا نام    میرے والد کے نام کے مشابہ ہوگا۔

     

              اس حدیث شریفہ میں خصوصاً ” لطول اللہ ذالک الیوم “ کے الفاظ ضرورت بعثت کی قطعیت کو ثابت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی احادیث بھی ملتی ہیں جن سے زمانہِ بعثت کا بھی علم ہوسکتا ہے۔چنانچہ مسند امام احمد بن حنبل میں عبداللہ علیہ السلام ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور کنز العمال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور مشکوة میں با ختلاف الفاظ یہ روایت امر دی ہے۔

     

    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لن تھلک امة انا فی اولھا وعیسیٰ ابن مریم فی اخرھا والمھدی فی وسطھا۔

    حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت ہرگز ہلاک نہوگی(کیونکہ) میں اس کے           شروع میں ہوں اور عیسیٰ ابن مریم اس کے آخر میں اور مہدی علیہ السلام درمیان میں ہیں۔

     

              اس روایت سے نہ صرف زمانہ بعثت ظاہر ہوتا ہے بلکہ مہدی علیہ السلام کا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح دافع ہلاکت امت ہونا بھی ثابت ہورہا ہے اس کے علاوہ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے مہدی علیہ السلام کا خلیفہ اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ العرف الوری فی اخبار المہدی میں ابن ماجہ اور حاکم اور ابو نعم کے حوالے سے حضرت ثوباںعلیہ السلام کی جو روایت لکھی گئی ہے یہ الفاظ بھی ہیں۔

     

    ثم یحیِ خلیفة اللہ المھدی فاذاسمعتم بہ فاتوہ فبایعوہ ولو حبو اعلی الثلج فانہ خلیفة اللہ المھدی

    پھر اللہ کا خلیفہ مہدی آئےگا پس جب تم اس کی خبر سنو تو اس کے پاس جاﺅ اور اس کی بیعت کرو اگرچہ کہ تمہیں برف پر سے رینگتے ہوے جانا پڑے کیونکہ مہدی اللہ کا خلیفہ ہے۔

     

              اس حدیث شریفہ سے ثابت ہے کہ مہدی علیہ السلام خلیفة اللہ ہیں۔ اور ان کی بیعت فرض ہے کیونکہ فبایعوہ“ کا مستفاد یہی ہے اور ” لوحبوا علی الثلج“ کے الفاظ تاکید اکید اور ” فانہ خلیفة اللہ“ کے الفاظ توجیہہ فرضیت پر دلالت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی روایات بھی ملتی ہیں جن سے حضرت مہدی علیہ السلام کا معصوم عن الخطا ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ اکابرسلف صالحین اہل سنت نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

     

    المھدی منی یقضو ا اثری ولا یخطی۔

    مہدی علیہ السلام میری اولاد سے ہوگا میرے نقش قدم پر چلےگا خطا نہ کرےگا۔

     

    شیخ اکبر محی الدین ابن عربی نے فتوحات مکیہ کے باب (۶۶۳) میں تحریر فرمایا ہے کہ۔

     

    ما نصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی امامہ من ائمة الدین یکون بعدہ یرثہ و یقفوا اثرہ ولا یخطی الا المھدی خاصةً فقد شھد بعصمتہ کما شھد الدلیل العقلی بعصمة رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی امام کی نسبت یہ نہیں فرمایا کہ وہ میرے بعد وارث ہوگا اور میرے نقش قدم پر چلےگا اور خطا نہیں کرےگا۔ خاص مہدی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے۔ پں آنحضرت نے مہدی علیہ السلام اور احکام مہدی علیہ السلام کو عصمت کے بارے میں اسی طرح شہادت دی ہے جس طرح کہ خود آنحضرت صلعم کی عصمت پر دلیل عقلی شاہد ہے۔

     

    علامہ طحطاوی نے حاشیہ دارالمختار میں تحریر فرمایا ہے کہ:۔

     

    المھدی لیس بمجتھد اذا المجتھد یحکم بالقیاس وھو یحرم علیہ القیاس لان المجتھد یخطی وھو لا یخطی قط فانہ معصوم فی احکامہ بشھادة البنی و ھو مبنی علی عدم جواز الاجتھاد فی حق الانبیائ

    مہدی مجتہد نہیں ہیں کیونکہ مجتہد کے احکام قیاسی ہوتے ہیں اور مہدی کے لئے قیاس حرام ہے اس لئے کہ مجتہد خطا کرتا ہے اور مہدی علیہ السلام سے ہرگز خطا نہیں ہوتی کیونکہ وہ اپنے احکام میں معصوم ہے جس کی شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دی ہے اور آنحضرت کی یہ شہادت اس امر پر مبنی ہے کہ انبیاءو خلفائے الہٰی کے لئے اجتہاد جائز نہیں۔

     

              امام عبدالوہاب شعرانی نے چشمہ پر ایک درخت کا نقشہ کھینچتے ہوئے شریعت اور احکام کی تصویر ان الفاظ میں بیان کی ہے۔ اور حضرت مہدی علیہ السلام کو معصوم عن الخطا ثابت کیا ہے۔

     

    فانظر یا اخی الی الفروع والاغصان والثمار تجدھا کلھا متفرعة من عین الشریعة فالفروع الکبار مثال اقوال ائمة المذاھب والفروع الصغار مثال اقوال اکابر المقلدین والاغصان المتفرعة عن جوانب الفروع مثال اقوال طلبة ھولاءالمقلدین۔ والنقط الحمرة التی فی اعالی الاعصان الصغار مثال المسایل المستخرجة من اقوال العلماء فی کل دور من ادوار الزمان الٰی ان یخرج المھدی علیہ السلام فیطسل فی عصرہ التقلیدبالعمل بقول من قبلہ من المذاھب کما صرح بہ اھل الکشف ویلےھم الحکم بشریعة محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحکم المطابقة بحیث لو کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجوداً لا قرہ‘ علی جمیع احکامہ کما اشار الیہ فی حدیث ذکر المھدی بقولہ یقفوا ثری ولا یخطی

    (المیزان جلد ۱ فصل ۹۲)

    اے بھائی اس چشمہ کو دیکھو جو درخت کے نیچے ہے اور ان پھاٹوں شاخوں اور پھلوں کو بھی دیکھو جو سب کے سب اسی چشمہ شریعت سے بہرہ ور ہیں۔ بڑے بڑے پھاٹے ائمہ مذاہب (اربعہ ) کے اقوال کی مثال ہیں ۔ اور چھوٹی چھوٹی ڈالیاں ‘ اکابر مقلدین کے اقوال کی مثال ہیں جو ڈالیاں شاخ در شاخ ہیں وہ انھیں مقلدین کے تلاندہ کے اقوال کی مثال ہیں اور چھوٹی چھوٹی ڈالیوں پر سرخ نقاط جو دکھائے گئے ہیں ‘ اقوال علماءکے ان مسائل مستخرجہ کی مثال ہیں جو خروج مہدی علیہ السلام تک ہر زمانے میں پائے جاتے ہیں اور (جب مہدی علیہ السلام کی بعثت ہوجائےگی تو) مہدی علیہ السلام کے زمانے میں ان سے پہلے کے سارے مذاہب کی تقلید بالعمل باطل

     

    ہوجائےگی جیسا کہ ارباب کشف نے اس کی تصریح کردی ہے اور مہدی علیہ السلام ایسے احکام بیان کریں گے جو شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مطابق ہوں گے اس طرح کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجو د ہوں تو مہدی علیہ السلام کے تمام احکام (کی صداقت) کا اقرار کریں گے جیسا کہ اس بات کا اشارہ ذکر مہدی کی حدیث میں بھی پایا جاتا ہے کہ وہ میرے نقش قدم پر چلےگا خطا نہیں کرےگا۔

              غرض حضرت مہدی علیہ السلام سے متعلق جتنی احادیث کثیرہ موجود ہیں اتنی کثرت کسی دوسرے مسایل کے بارے میں کم ملےگی۔ برزنجی نے ” اشارہ فی اشراط بساعہ “ میں لکھا ہے کہ:۔

     

    واعلم ان الا حادیث الواردة فیہ علی اختلاف روایاتھا لا تکاد تنحصر ولو تعرضنا لتفصیلھا لطال الکتاب و خرج عن موضوعھا

    واضح ہو کہ مہدی علیہ السلام سے متعلق مختلف احادیث اتنی کثیر وارد ہوئی ہیں کہ ان کا حصر نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر ہم اسکی تفصیل کریں تو کتاب طویل ہو جائےگی اور یہ اس کا موضوع بھی نہیں۔

     

    جب علماے حدیث و اصول نے احادیث کی اتنی کثرت دیکھی اور سب حدیثوں کو بعثت مہدی علیہ السلام کے بارے میں متفق پایا تو انھوں نے مسئلہ مہدیت کو تواتر معنوی کے درجہ میں داخل کرلیا چنانچہ علامہ قاضی منتجب الدین جویزی نے تحریر فرمایا ہے کہ:۔

     

    واما ما اختارہ‘ السلف واتفقوا فی شانہ فقد ذکر فی القرطبی وقد تواتر الاخبار و استقاضت بکثرة رواتھا عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی المھدی (مخزن الدلایل)

    بہر حال سلف نے جو اختیار کیا اور مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو اتفاق کیا ہے وہ قرطبی میں مذکور ہے مہدی علیہ السلام سے متعلق جو حدیثیں ہیں اپنے روایوں کی کثرت کی وجہ تواتر کے درجے کو پہنچ گئی ہیں۔

     

              شیخ ابن حجر ہشیمی نے ” القول المختصر“ میں تحریر فرمایا ہے کہ:۔

     

    قال بعض ائمة الحفاظ ان کون المھدی من ذریت علیہ السلام تواترت عنہ علیہ السلام

    بعض حفاظ ائمہ حدیث نے فرمایا ہے کہ مہدی علیہ السلام کا آل رسول علیہ السلام سے ہونا حضرت رسول علیہ السلام سے تواتراً مروی ہے۔

     

              شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے ” لمعات شرح مشکوة کے باب الساعة میں لکھا ہے کہ:۔

     

    قدوردت فیہ الاحادیث کثیرة متواتر المعنی

    مہدی علیہ السلام کے بارے میں متواتر المعنی کثیر احادیث وارد ہیں۔

     

              نیز لکھتے ہیں کہ:۔

     

    قد تظاھرت الاحادیث البالغة حد التواتر معنافی کون المھدی من اھل بیت من ولد فاطمة

    مہدی علیہ السلام اہل بیت رسول علیہ السلام اولاد فاطمہ سے ہونے کی احادیث تواتر معنوی کی حد تک پہنچ گئی ہیں۔

     

              بحرالعلوم عبدالعلی ملک العلماءنے ” اشراط الساعة “ میں لکھا ہے کہ:۔

     

    احادیثے کہ دال اند بر خروج امام مہدی کثیر اند کہ مبلغ آں بتواتر رسیدہ

    مہدی کی بعثت پر دلالت کرنے والی حدیثیں اتنی کثیر ہیں کہ تواتر معنوی کی حد کو پہنچ گئی ہیں۔

     

              اکابر اہل سنت و علماءحدیث و اصول کے ایسے بہت سارے اقوال ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مہدی علیہ السلام کی بعثت کی احادیث تواتر معنوی ہونے پر جمہور کا اتفاق ہے کیونکہ سب احادیث آمد مہدی علیہ السلام کے بارے میں ایک زبان ہیں البتہ اختلاف ہے تو آثار و علامات میں ہے۔

              نیز یہ امر بھی ذہن نشین ہونا چاہئیے کہ جو امور تواتر کے درجے میں ہوں ان سے قطعی و یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ جن کا انکار نقل و عقل کے خلاف ہے۔ محدث علامہ حافظ ابن حجرکی نے ”شرح نخبة الفکر“ میں تحریر فرمایا ہے کہ:۔

     

    وھذا کون المتواتر مفید اللعلم الیقین و ھو المعتمد لان خبر المتواتر یفید العلم الضروری وھو الذی یضطر الانسان الیہ بحیث لا یمکنہ رفعہ

    متواتر سے علم یقین کا فائدہ ہوتا ہے اور لائق اعتبار ہے۔ کیونکہ خبر متواتر علم ضروری کا ایسا فائدہ دیتی ہے کہ جس کو ماننے پر ہر آدمی مجبور ہوتا ہے حتی کہ اس کا رد کرنا ممکن نہیں۔

     

              اور اصول فقہ کی معتبر کتاب ” اصول الشاشی“ میں لکھا ہے کہ:۔

     

    ثم المتواتر یوجب العلم القطعی و یکون ردہ کفوا

    حدیث متواتر سے علم قطعی واجب ہوتا ہے اور اس کا رد کرنا کفر ہے۔

     

              ہم نے مختصر اً جن امور کی توضیح کی ہے اس سے ناظرین کرام اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہ کیسی مہتم بالشان پیشنگوئی ہے جس طرح قیامت وغیرہ پیشنگوئیوں پر اعتقاد لازم ہے۔ اسی طرح بعثت مہدی علیہ السلام کی پیشنگوئی بھی نا قابل انکار ہے اور حق تو یہ ہے کہ سلف صالحین اہل سنت کا پیرو ایسی مستند و مستحکم پیشنگوئی سے ہرگز رو گردانی نہیں کرسکتا۔

              ابن خلدون نے ”محی مہدی“ کے بارے میں جو اختلاف کیا ہے یہ مسلمات اہل سنت کے صریح مغائر ہے اور اس نے جن روایات پر جرح کی ہے اس کی تعدیل بھی کیجاتی رہی ہے۔ حال میں ہی ایک کتاب ” ابراز الوہم المکنون من کلام ابن خلدون“ و مشق شام سے شائع ہوئی ہے جس میں ابن خلدون کے اوہام باطلہ کو رد کردیا گیا ہے۔ یہاں اس کی توضیح طوالت کا باعث ہوگی۔ اور مناظر احسن گیلانی صدر شعبہ دینیات جامعہ عثمانیہ نے ” مکاتیب امام غزالی“ کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ:۔

              ” اس قسم کا مغالطہ جس سے ابن خلدون نے مسلمانوں کے ” نظریہ مہدویت“ کو مضمحل کرنے میں کام لیا تھا ابن خلدون نے اپنی تاریخ کے مقدمہ میں اس کا تذکرہ کرکے کہ آئندہ مہدی علیہ السلام کی شکل میں مسلمانوں کو ایک نجات دہندہ ملےگا اس خیال کو اس نے غیر عقلی عقیدہ قرار دیا ہے وجہ یہ بیان کی ہے کہ قوموں کا حال بھی افراد کا ہے بچپن جوانی بڑھاپا کے دور سے جیسے افراد گذرتے ہیں قوموں کو بھی ان ہی ادوار سے گذرنا پڑتا ہے مسلمان جوانی کے بعد پیرانہ سالی کے حدود میں داخل ہوچکے ہیں اب دوبارہ ان کی نئی زندگی کی امید ایسی ہوئی جیسی کسی بوڑھے آدمی کے متعلق جوان ہونے کی خوش خیالی میں کوئی مبتلا ہو۔ لیکن ابن خلدون نے یہ نہیں سوچا کہ اسلام اور امت اسلامیہ کا تعلق کسی خاص نسل یا خون یا وطن کے باشندوں سے نہیں ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک قوم مثلاً عرب یا ترک اپنے ادوار ختم کرچکی ہوں لیکن کوئی دوسری تازہ دم قوم مسلمان ہوکر اسلام کو پھر ترو تازگی بخش سکتی ہے۔ تیرہ سو سال سے اس کا تجربہ ہورہا ہے اور ہوتا رہےگا اور اسی ابن خلدون کے خیال کی غلطی ظاہر ہوتی ہے۔ باقی مہدی علیہ السلام کے متعلق جو حدیث کی کتابوں میں روایتیں ہیں ان پر ابن خلدون نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کی بھی محدثانہ حیثیت سے کوئی وقعت نہیں ہے اور مہدی علیہ السلام کا عقیدہ اہل سنت والجماعت کا ایک مسلمہ عقیدہ ہے (مکاتیب امام غزالی صفحہ (۳۲)مطبوعہ کراچی (پاکستان)

              فی الواقع ابن خلدون کی جرح خلاف اصول ہے کیونکہ تواتر کی صورت میں راویوں کے ضعف و قوت سے بحث نہیں کیجاتی ۔ محدث علامہ حافظ ابن حجر کی شارح بخاری نے ”شرح نخبتہ الکفر “ میں تحریر فرمایا ہے کہ:۔

     

    والمتواتر لا یبحث عن رجالہ بل یجب العمل بہ من غیر بحث لا یحابہ الیقین وان وردعن الفساق بل عن الکفوة

    (ماخوذاز ابراز الو ہم المکنون)

    خبر متواتر کی شان یہ ہے کہ اس کے روایوں سے بحث نہیں کیجاتی بلکہ اس پر بغیر بحث کے عمل کرنا واجب ہے کیونکہ خبر متواتر موجب یقین ہوتی ہے اگرچہ وہ روایت فاسقوں بلکہ کافروں سے ہوتی ہے

     

              اس کے علاوہ سلف صالحین اہل سنت و اکابر علما ءحدیث و اصول کے مقابلہ میں ایک مورخ کے ذاتی خیالات کو ترجیح نہیں دیجاسکتی۔

              نیز یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ ” خلفائے بنی عباس کے زمانے میں اس قسم کی احادیث پروپگنڈے کے کیلئے وضع کرلی گئی ہیں “ یہ بات اصول منقول کے خلاف ہے اور غیر معقول ۔ کیونکہ ان روایات سے صاف ظاہر ہیکہ راویوں کے زمانے اور ظہور مہدی علیہ السلام کے زمانے میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ پس جن لوگوں نے اپنی ذاتی ضروریات و مصالح کے لئے بعثت مہدی علیہ السلام کی روایات وضع کرلی ہوں ‘ ان کو ایسی روایات کی وضع کرنے سے ان کی ضروریات و مصلحتوں میں کیا فائدہ پہنچ سکتا تھا جن کا وقوع صدیوں بعد ہونے کی خبر دےگئی ہے۔!

     

     

     

    hit counter

    Copyright © 2007 Nooriana. All rights reserved.