![]() Mahdi ahs Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed Mahdia & Esaa Nooriana Audio Player
|
مختصر حالات و خلاصہِ احکام و تعلیمات
تاریخ بین حضرات پر مخفی نہیں کہ نویں دسویں صدی ہجری میں قوم مسلم کی قیادت کے ذمہ دار اکثر افراد خواہ علما ہوں یا صوفیہ بلحاظ دینیات اپنے اپنے فرایض منصبی پر کس حد تک عامل تھے ۔ اور انھوں نے اپنے کو کن حالات و کیفیات میں مبتلا کر رکھا تھا۔ دیکھو تذکرہ ابوالکلام آزاد ۔
جب قائدین ملت کا یہ حال ہو تو عوام کا ذکر ہی کیا؟ ایسے وقت ضرورت تھی ایک ہادی برحق کی جو خلیفة اللہ و معصوم عن الخطاءکی خصوصیات کا حامل ہو اور درس اسلام کو اس کے حقیقی معنی و مفہوم کے ساتھ پھر ایک بارد ہرادے جس سے ثم ان علینا بیانہ ۱ کی شان پوری طرح جلوہ گر ہوجائے ۔ اور خوابیدہ و بے راہ مسلمانوں کو آگاہ کردے کہ ان کا ہر کام ان کی حرکت ان کی زندگی ‘ ان کی موت سب کچھ خداے واحد و برتری کے لئے ہو۔ اور معلوم ہوجائے کہ عشق و محبت اور وصال الیٰ المطلوب میں اقرب الطریق کیا ہے اور ہر مقام و ہر حال میں آداب شریعت کی پابندی کس درجہ لاز م ہے۔
ضرورت تھی ایک جماعت کی جو ولتکن منکم امة یدعون الی الخیر ویامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر کی علمبردار ہو اور وعدہ خداوندی فسوف یاتی اللہ بقوم یحبھم و یحبونہ کی پوری پوری مصداق ہو اور جس کی تعلیم جس کے اصول و اعمال اشد حبا للہ کا مظہر تام ہوں اس طرح کہ یفقو ا اثری ولا یخطی رسول خدا کی پیشنگوئی کا صحیح صحیح ثبوت ہے۔
قدرت کاملہ نے اس اہم ضرورت کو آیات و بنیات کا درجہ رکھنے والی کھلی نشانیوں کے ساتھ پورا کیا یعنے آفتاب ہدایت سیدنا امامنا حضرت سید محمد جونپوری مہدی موعود علیہ الصلوة والسلام کی ضیا پاشیوں میں صراط مستقیم کو اپنے بندوں پر واضح فرمایا ۔ جس سے قلوب منور ہوگئے ۔ باطنی جو ہر چمک اٹھے عرفان کے حقیقی رموز منکشف ہوے اور معراج المومنین کے اعلیٰ مدارج تک رسائی نصیب ہوئی۔
جو لوگ امامنا علیہ السلام کی تصدیق سے مشرف ہوے ہیں انھوں نے آپ کے دعوے کی صداقت کو اسی معیار پر پایا جن اصول و معیار پر انبیا علیہم السلام کی صداقت کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اخلاق و عادات احکام و تعلیمات اور معجزات وغیرہ ہر حیثیت میں آپ کی صداقت کا کام ثبوت موجود ہے۔
دعویٰ مہدیت سے قبل عبادت و ریاضت زہد و تقویٰ اور پر تاثیر مواعظ حسنہ کی وجہ سید الاولیا کے لقب کے ساتھ آپ کی شہرت ہوچکی تھی۔ اپنے پراے سب آپ کے تقدس مآب اخلاق و اعادات کے معترف رہے ہیں۔ البتہ یہ اور بات ہیکہ دعوے مہدیت کے بعد تسلیم دعوے کی حد تک اختلاف پیدا ہوجائے ۔ یہ خصوصیت بھی آپ کے اعلیٰ مراتب و بلند پایا شہرت کی بین دلیل ہے۔
عبادات کی تین قسمیں ہیں ۔ جسمانی ۔مالی قلبی ۔اکثر فقہا نے جسمانی و مالی عبادات کے متعلقہ مسائل کی خوب موشگافی کی ہے ۔ لیکن قلبی عبادات کا اسمیں کوئی ذکر ہی نہیں اور اکثر صوفیہ نے طریقت سے متعلقہ مسائل میں بڑی وقیقہ سنجی سے کام لیا ہے۔ اور بعضوں نے تو ایسا انہماک اختیار کیا کہ شرعی احکام کی خلاف ورزیاں سر زد ہونے لگیں۔ بلکہ بعض نفس پرستوں کو تو یہ موقع ہاتھ آگیا کہ طریقت کی آڑ میں شریعت کی کھلی خلاف ورزیاں عمداً کرنے لگے ۔ بدعات و منکرات میں اس درجہ مبتلا ہوگئے کہ اللہ کی پناہ !۔
امامنا علیہ السلام کو دیکھئے کہ جب رائے دلپت اور سلطان حسین مشرقی کی جنگ ہورہی تھی ۔ راے دلپت پر آپ کا غیبی طاقت والا ہاتھ ایسا چلا کہ تلوار کاٹتی ہوئی سینہ سے پار ہوگئی۔ راجہ کا دل باہر نکل پڑا آپ نے اس کے دل پر اس بت کی تصویر دیکھی جسکی وہ پوجا کرتا تھا۔دماغ مقام تصور ہے اور دل مقام تصدیق۔ یہ راجہ کی عقیدت کا کمال تھا کہ بت کا تصوراور اس تصور کی تصدیق اس درجہ رہی کہ دل میں تصویر قائم ہوگئی۔ پھر یہ کیفیت بھی ان آنکھوں نے دیکھی تو کیا تعجب! جن پر لطائف و ماوراے محسوسات اور انوارو تجلیات دیکھنے کی قوت و صلاحیت قدرت نے ودیعت فرمائی تھی۔
آپ پر جذبہ حقانی نمودار ہوگیا کہ ” باطل کا اسقدر اثر ہے تو حق کا کیا کچھ نہوسکتا ہے“ جذبہ الہٰی نے آپ کو متفرق کردیا متفقہ روایت ہیکہ بارہ سال جذبہ رہا سات سال تو ایسے گذرے کہ آ نے کچھ کھایا نے پیا ۔ اذاں ہوتی یا نماز کا وقت آتا تو صرف اتنا ہوش آجاتا کہ نماز ادا کرسکتے تھے۔ کسی وقت آپ سے خلاف شرع کوئی فعل صادر نہوا ایک دفعہ نماز کے وقت ہوش آیا تو بی بی نے زاری و عاجزی سے عرض کیا کہ عرصہ دراز سے ذرا سی غذا بھی آپ کو نہیں پہنچی ہے۔ فرمایا فکر نہ کرو بندہ کو برابر غذا پہنچتی ہے “۔
شیخ الرئیس بو علی ابن سینا اشارات میں فرماتے ہیں کہ:۔
امام فخر الدین رازی علیہ السلام نے شرح اشارات میں اسی مذہب کو اختیار کیا ہے شیخ شہاب الدین اشراقی نے یہ بھی کہا ہیکہ ” عارف کے دل کا خزانہ جب الہٰی معلومات اور ملکوتی حقائق سے مامور ہوجاتا ہے تو اس کو غذا کی ضرورت نہیں ہوتی حکمائے اشراقین و مشائین کے بھی ایسے ہی اقوال ہیں۔ اور ایسی کئی احادیث شریفہ بھی موجود ہیں۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صوم وصال رکھتے دیکھکر جب صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کی پیروی میں کئی کئی دن تک کا متصل روزہ رکھتے ہیں تو آپ ان کو منع کرتے ہیں اور اپنی نسبت فرماتے ہیں ئَ لکم مثلی ابیت یطعمنی ربی و یسقینی (بخاری کتاب الصوم) یعنی تم میں کون میرے مثل ہے میں رات گزارتا ہوں تو میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے (سیرة النبی سلیمان ندوی جلد (۴) ۲۱۱ )
حاصل کلام یہ کہ جذبہ کا عالم میں بھی امامنا علیہ السلام سے کوئی خلاف شرع فعل تو کیا صادر ہوتا نماز قضا نہونے پائی ۔ اتباع شریعت کی یہ خصوصیت بھی ولایت کے درجہ کمال کی دلیل ہے۔
امامنا علیہ السلام نے طریقت و معرفت کی تعلیم اس نہج پردی کہ کسی حال اور کسی مقام میں بھی شرک نہونے پائے اور آداب شریعت کی پابندی لازم قرار دیکر دھوکے اور فریب کے راستے بند فرمادئیے۔
اولیائے پیشین کی نسبت حضرت امامنا علیہ السلام نے فرمایا ۔ ” ہمارے بھائی نزدیک کا راستہ چھوڑ کر چکر کے راستے سے چلے۔ اور مقصود حاصل کیا کیونکہ وہ طلب میں سچے تھے اور مقصود خداتھا“۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا میرانجی ! نزدیک کا راستہ کونسا ہے اور گردش کا راستہ کونسا؟ مہدی علیہ السلام نے فرمایا ” راہ خدا میں بے اختیار کیوں نہوے کہ شریعت محمدی کے موافق یہی راستہ نزدیک تر تھا ۔ انھوں نے اپنے اختیار سے تمام عمر کے روزے کیوں رکھے؟ مباح و حلال چیزوں کو کیوں چھوڑ دیا سالہا سال کنووں میں سرنگوں کیوں لٹکے اور بارہ سال کی قید لگاکر روزے کیوں رکھے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام نہیں فرمائے ہیں اور حسب فرمان خداوندی من یتوکل علی اللہ فھو حسبہ (جو شخص اللہ پر توکل کرے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے) ۔تمام عمر توکل کا روزہ کیوں نہ رکھا؟ ان کو چاہئیے تھا کہ بے اختیار ہوجاتے (شواہد الولایت ۴۲)
بے اختیاری بڑے ناز ک مطالب پر حاوی ہے جنکو طالب صادق‘ اپنے مرشد کی صحبت میں رہکر بخوبی معلوم کرسکتا ہے نفس کے مطالبات تین قسموں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔ ابلیس کی مشارکت سے اس میں قوت مطالبہ اور بڑہجاتی ہے (۱) بقاے صحت و زندگی کیلئے اچھی غذا اچھے مشروبات کا مطالبہ (۲) راحت و آرام کے لئے اچھے مکان اچھے لباس اچھے اسباب کا مطالبہ (۳) بقائے نسل کے لئے جنس مقابل (شادی) کا مطالبہ نفس کے یہ مطالبات حاکم کیطرح نہیں بلکہ ایک محکوم و اطاعت گذار کی درخواست کے طور پر پیش ہونے چاہئیں ۔ مومن کی عقل و تمیز احکام خدا و رسول کی روشنی میں غور کرےگی جو مطالبہ جس وقت جس حد تک منظور کئے جانے کے قابل ہے منظور کرےگی ورنہ رد کردےگی خواہ اس کی وجہ کتنی ہی مصیبت اٹھانی پڑے اپنے اختیارات حاصلہ کو خدا و رسول کے احکام کے تابع کردینا ہی بے اختیاری ہے۔ اسی لئے امامنا علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا۔ ” بے اختیار شو بختیار باش“ ۔
تعلیمات مہدویہ پر ”رہبانیت“ کا شبہ کرنے والے غور کریں اور تعلیمات کے ایک ایک جز کو عقل سلیم سے جانچیں تو معلوم ہوگا کہ اتباع شریعت کو کیسے کیسے نازک موقعوں پر بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔”لا رھبانیت فی الاسلام “کی صحیح اتباع کیساتھ انبیاءو صحابہ و کاملین کی زندگی اختیار کرنے کا طریقہ اگر معلوم ہوسکتا ہے تو تعلیمات امامنا علیہ السلام ہی سے ہوسکتا ہے۔
غرض مہدویہ کے اصول و تعلیمات اسلام کے اعلیٰ ترین مقاصد کے حامل ہیں اور مسلمانوں کا کوئی فرق اکابر اہل سنت کا اتنا موافق مل نہ سکےگا۔ ہمارے اصول حدیث‘ اصول فقہ وہی ہیں اور معمول بہ کثیر مسائل ایمہ و اکابر اہل سنت رحمہم اللہ کے مسلمات سے ہیں مثلاً مہدویہ کے پاس میت کی زیارت چوتھے دن کیجاتی ہے۔ اور دےگر مسلمانوں کے پاس تیسرے دن۔ اس کی سند میں جو حدیث ہے اس کے دیکھنے سے معلوم ہوجائےگا کہ مہدویہ کا طریقہ مائل با حتیاط ہے۔ چنانچہ اسوہِ صحابہ کی عبارت من وعن ملاحظہ ہو:۔ ” حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوہر کے علاوہ دےگر اعزہ کے ماتم کے لئے صرف تین دن مقرر فرمائے صحابیات نے اس کی شدت کے ساتھ پابندی کی جب حضرت زینب حجش علیہ السلام کے بھائی کا انتقال ہوگیا تو (غالباً چوتھے دن) انھوں نے خوشبو لگائی اور کہا کہ مجھکو خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی‘ لیکن میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منبر پر سنا ہیکہ کسی مسلمان عورت کو شوہر کے سواے تین دن سے زیادہ کا ماتم کرنا جائز نہیں اسی لئے یہ اس حکم کی تعمیل تھی۔ جب حضرت ام حبیبہعلیہ السلام کے والدہ نے انتقال کیا تو انھوں نے تین دن کے بعد اپنے رخساروں پر خوشبو ملی اور کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہ تھی صرف اس کی تعمیل مقصود تھی (ابو داﺅد کتاب الطلاق باب احداد المتوفی عنہاز دجہا) (ماخوذ از اسوئہ صحابہ حصہ اول مولفہ عبدالسلام ندوی) ۔
ان احادیث سے ظاہر ہیکہ تیسرے دن اگر زیارت کیجائے تو عموماً تین دن پورے ہونے نہیں پاتے اس لئے مہدویہ کے پاس تین دن غم کے ہوتے ہیں چوتھے دن زیارت کیجاتی اور رفع غم کے طور پر پان بتا سے اور خوشبو کا تیل تقسیم کیا جاتا ہے۔ (یہ ایک قسم کا تیل ہوتا ہے جس میں خوشبودار چیزیں پیکر ملائی جاتی ہیں جس کو ” سوندا“ کہا جاتا ہے)اور بعض مرشدین کے پاس اس طریقہ میں کچھ فرق بھی ہے حاصل یہ کہ ہماری حقانیت و کتاب و سنت کی موافقت کو عمیق و انتہائی محتاط نظر سے جانچنے کی ضرورت ہے نیز اہل سنت کے اصول و عقائد کا بھی اچھی طرح مطالعہ کرلینا ضروری ہوتا ہے۔اس کیلئے جتنا قدیم تر زمانہ کیطرف رجوع ہوں گے اتنا ہی مطالعہ ہم بنتا جائےگا۔ علمائے متا خرین یا عام طور پر ملنے والی حال کی کتابوں سے اہل سنت کے اصل مسلمات کو متعین یا معلوم کرنے میں پوری کامیابی نہ ہوسکےگی نیز اہل سنت کے اکابر صوفیہ کے اصول و مسلمات پر بھی ایک نظر ڈال لینا ضروری ہوتا ہے کیونکہ ہمارا مذہب اسلام کی اس اعلیٰ تعلیم کیطرف رہبری کرتا ہے جو طلب و عشق و محبت خدا اور اس کے لوازم سے متعلق ہے۔
عموماً دہو کہ یہ ہوتا ہیکہ صرف ” خفیہ“ ہی اہل سنت ہیں حالانکہ چاروں ائمہ اہل سنت میں داخل ہیں ” الحق دائر بین الائمة الاربعة “ ہمارے پاس مسائل میں کسی ایک ہی امام کا التزام نہیں ہے۔ حضرت مہدی موعود علیہ السلام نے عالیت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور خود عمل کرکے عالیت کے راستے بتادئیے ہیں جس پر قوم کا عمل ہے۔ اسی لئے عبادات و دینیات کے مسائل کسی نہ کسی امام سے مطابقت رکھتے ہیں اور زیادہ تر مطابقت امام اعظم علیہ السلام ابو حنیفہعلیہ السلام سے پائی جاتی ہے اس سے ظاہر ہیکہ کسی ایک امام کے مسائل پیش نظر رکھکر ہمارے اصول و عقائد اور مسائل عبادات کو جانچنے کی کوشش بالکل نا کافی قرار پاتی ہے۔ نیز یہ امر بھی ذہن نشین رکھنا چاہئیے کہ مہدوی اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں اور جب کبھی موافقت اہل سنت کا ذکر کرتے ہیں تو اس سے مراد نبوت کے اکابر خیرالقرون (صحابہ تابعین و تبع تابعین رضوان اللہ عنہم اجمعین) ہوتے ہیں یا وہ ائمہ و اولیا اور انکی پیروی کرنیوالے صوفیہ و علمائے دین متین جو سیدنا امامنا علیہ السلام کے دعوے مہدیت سے قبل گذرے ہوں ۔ کیونکہ آنحضرت صلعم نے سنت کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے کہ ما انا علیہ و اصحابی یعنی جس پر میں اور میرے اصحاب ہوں۔
فی الحقیقت امامنا علیہ السلام کا دعویٰ یہی تھا کہ :۔ ” اگر کسے خواہد کہ صدق مارا معلوم کند باید کہ از کلام خداو اتباع رسول اللہ در احوال و اعمال ما بجوید یعنی اگر کوئی ہماری صداقت معلوم کرنا چاہتا ہے تو ہمارے احوال و اعمال کو کتاب اللہ و سنت رسول اللہ سے مطابق کرلے نیز فرمایا” مذہب ما کتاب اللہ و اتباع رسول اللہ “ اسی لئے ہمارے اصول و عقاید کتاب و سنت کے مطابق ہونا ضروری ہے۔
اگر ہمارا کوئی مسئلہ کسی بھی امام وغیرہ سے مطابق نہ پایا جائے تب بھی کوئی ہرج نہیں جبکہ کتاب و سنت کی موافقت پائی جاتی ہو عموماً نظریں اس طر جاتی ہیں کہ ہم سید محمد جونپوری کی نسبت فلاں فلاں عقیدہ رکھتے ہیں حالانکہ دیکھنا یہ چاہئیے کہ ان عقاید کی علت کیا ہے۔ اصل یہ ہیکہ حضرت سید محمد جونپوری کی ذات مہدی موعود مسلم ہونیکی وجہ حضرت سے متعلق ہے ہم انھیں عقاید کی پابند ہیں جو مہدی موعود علیہ السلام کی نسبت ہونے چاہیں۔ اور نہایت اہم بات یہ کہ حضرت کو مہدی موعود علیہ السلام تسلیم کرنے کیوجہ کتاب و سنت کی موافقت متاثر نہونے پائی۔آپکے ہمعصر بڑے بڑے علماءو مشائخین سے جن لوگوں نے آپکی تصدیق کی انھوں نے بھی اس خصوصیت کو اچھی طرح محسوس کیا۔ علامہ قاضی منتجب الدین جونیری علیہ السلام نے ثبوت مہدیت امامنا علیہ السلام پر عربی زبان میں ایک کتاب ” مخزن الدلائل “ تصنیف فرمائی ہے جس کے مقدمہ کا ایک چھوٹا سا جز وہم یہاں نقل کرتے ہیں جس سے واضح ہوسکتا ہیکہ ان علماءنے کتاب و سنت کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا تھا۔
حقیقت یہ ہیکہ امامنا علیہ السلام نے دعوی مہدیت کی صداقت کے ثبوت میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کو تحدی کیساتھ پیش فرمایا ہے اور آج صدیوں بعد بھی مہدوی‘ اپنی صداقت مہدویت کے ثبوت میں موافقت کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ہی کو پیش کرنے کے قابل ہیں ۔ مہدویوں نے حدیث ‘ فقہ اور کلام کی کتابیں الگ مرتب نہیں کی ہیں اس لئے ان کے استدلال کی بناءوہی کتابیں ہیں جو اکابر اہل سنت نے مرتب کیں اور انمیں معتبر و مسلم رہی ہیں۔
چونکہ ہم امامنا علیہ السلام کو مہدی موعود خلیفة اللہ معصوم عن الخطا ہونے کی وجہ منتہا ہے دلیل مانتے ہیں اس لئے آپ کے ہرحکم پر موافق کتاب و سنت ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں اور پوری معتقد انہ شان میں بلا طلب دلیل و حجت تسلیم کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ” مسئلہ مہدیت“ اور ” مذہب مہدویہ“ سے متعلقہ اعتراضات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آمد مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو لوگ معترض ہیں ان میں کے اکثر و بیشتر کا ماخذ ابن خلدون کے خیالات ہیں اور مذہب مہدویہ پر جو لوگ اعتراض کی جسارت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ زیادہ تر ” ہدیہ مہدویہ“ مولفہ زماں خاں شاہجہانپوری کا مطالعہ ہے۔ ابن خلدون کے نظریہ کی حقیقت تو آگے سر سری طور پر ظاہر کردےگئی جو بہت کافی ہے اور ” ہدیہ مہدویہ“ کے جوابات بھی دئیے جاتے رہے ہیں ” ختم الہدیٰ سبل السوی “۔ مصنفہ حضرت علامة العصر مولانا سید شاہ محمد صاحب جو ۹۸۲۱ءمیں مکمل ہوئی ۔ اور ۱۹۲۱ میں بنگلور سے شایع ہوئی اس کا ایک نسخہ کتب خانہ آصفیہ میں بھی ہے (کلام اردو نمبر ۶۰۸ ) اور ” کحل الجواہر“ مصنفہ علامة العصر حضرت مولناٰسید نصرت صاحب جو ۰۹۲۱ میں مکمل ہوئی جس کی ایک جلد حال میں طبع ہوکر شایع ہوئی ہے یہ دونوں کتابیں مولف ہدیہ مہدویہ کی نظر سے گزر چکی ہیں اور مولف موصوف ۶ ذلحجہ ۲۹۲۱ تک بقید حیات رہے ہیں اس کے علاوہ علامة العصر حضرت مولٰنا سید عیسیٰ عرف عالم میاں صاحب کے رسائل بھی اسی زمانہ میں شایع ہوچکے تھے ۔ نیز اس کتاب کے حصہ ” توضیحات“ میں” ہدیہ مہدویہ“ کے چند اعتراضات پر بھی مختصر بحث کےگئی ہے جس سے حقیقت ظاہر ہوسکتی ہے۔ اس کے قطع نظر ” ہدیہ مہدویہ“ میں انداز استدلال ہزل و ہجوٰ طنز و تہز ، طعن تشنیع اور سخت کلام بیجا احکام یہ سب امور ایسے واقع ہوئے ہیں کہ جنکی وجہ سے ہر دانشمند اَجنَب اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ اگرچہ آیں کتب مہدویہ کے حوالے درج ہیں پھر بھی لایق اعتبار نہیں کیونکہ مولف کے جذبات نگارش سے خصومت و عناد عیاں ہے لہذا کلام خصم پر سے بغیر تحقیق کسی جماعت کو یا کسی فرد کو مور دالزام نہیں قرار دیا جاسکتا جو لوگ اس عام مسلمہ اصول کو ملحوظ نہیں رکھتے یا محض مودر الزام کرنا جنکا مقصد ہوتا ہے اس کتاب یعنے ”ہدیہ مہدویہ “ سے یا اس سے استفادہ کی ہوئی کتابوں پر سے اعتراضات کرجاتے ہیں جو سراسر خلاف اصول ہے۔ استدلال کا ایک اصول یہ بھی ہیکہ مقابل کے مسلمات سے اپنا ثبوت مہیا کیا جائے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آسکتا کہ اس کے سارے مسلمات ہمارے مسلمات ہوجائیں اسی لئے ہم نے بعض مقامات میں غیر مہدویوں کے بعض مضامین کے حوالے اور دور جدید کے مشہور عالم اقبال کے بعض اشعار استعمال کئے ہیں کیونکہ اقبال نے اپنے کلام میں قرآن مجید کے مضامین اور حضرت مولنٰا ردم علیہ السلام کی مثنوی سے استفادہ کی خصوصیت کا خود ذکر کیا ہے:۔
قرآن و حدیث و اولیائے کرام کے کلام سے جو بھی استفادہ کرےگا اس کا کلام مذہب مہدویہ سے زیادہ تر موافق پایا جائےگا غرض ثبوت کی اکثر کتابوں میں اس اصول کی نظیریں موجود ہیں اور خودامامنا علیہ السلام نے دوہے دہرائے ہیں۔ غیر مہدوی علما و شعرا ءجو اغیار کے پاس معتبر و مسلم ہوں ان کے موافق استدلال کو تائید دلیل کی حیثیت سے استعمال کرنا جاذب توجہ اور یقینا محتاج غور و فکر ہوسکتا ہے ۔ توضیحات کا جر مضمون جس روایت سے تعلق رکھتا ہے ابتدا میں وہ روایت مع نمبر سلسہ درج کردی گئی ہے جس سے معلوم ہوسکےگا کہ وہ مضمون کس روایت سے متعلق ہے۔ ہمنے ہر مسئلہ کو صاف و روشن کرنیکی ممکنہ کوشش کی ہے تا ہم مخلص علمائے کرام قابل اصلاح امور کیطرف ہمکو متوجہ کرسکتے ہیں ۔ ایسے مخلصانہ اقدام کو ہم بخوشی قبول کریں گے اور دوسرے ایڈیشن کے وقت اسکو ملحوظ رکھیں گے۔ اور جو مہدوی نہوں لیکن صداقت شعارانہ جذبہ رکھتے ہوں اپنے شکوک و شبہات رفع کرنیکے لئے ربط قائم کرسکتے ہیں حتیٰ المقدور اظہار حق سے دریغ نہ کیا جائےگا ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا ہے کتاب نقلیات کی مکمل شرح نہ کیجاسکی ورنہ ضخامت بڑہجاتی موجود ہ نازک حالات کیوجہ طباعت کا انتظام دشوار ہوجاتا اور مقصد اولین یعنی اصل کتاب کی طباعت کا کام رہجاتا۔ اس لئے ہم نے فی الوقت چند خاص مضامینکی حد تک توضیحات کا حصہ مرتب کیا ہے۔ انشا اللہ تعالیٰ آیندہ مکمل شرح بھی قوم کے ہاتھ میں آسکے گی ۔ وما توفیقی الا باللہِ العلی العظیم
|
|||||||||||||||||||||||||||||||