![]() Mahdi ahs Naqliyath - Hazrath Bandagi Miyan Abdul Rasheed |
بعثت
مہدی موعود علیہ
السلام
یہ نا
قابل انکار حقیقت
ہیکہ ہر شخص
اپنی جدو جہد
سے نبی و خلیفة
اللہ نہیں بن
سکتا
خدائتعالیٰ
جس کو چاہتا
ہے اس منصب کے
لئے منتخب
فرمالیتا ہے
اور ابتداءہی
سے اسکو ایسی
استعداد و
صلاحیت عطا
کردی جاتی ہے
کہ وہ اس بار
نبوت و خلافت
کا حامل بن
سکے اور اللہ
تعالیٰ کی ذات
سے استفاضہ
کرسکے اسی لئے
خلیفة اللہ کی
پیدائش کے وقت
ہی سے مافوق
العادت سے
امور کا اظہار
ہونے لگتا ہے
جن کو علمائے
کرام علامات
ارہاصیہ کہتے
ہیں پس جس طرح
نوع انسان میں
مختلف قسم کی
استعداد
رکھنے والے
اصناف پائے
جاتے ہیں
مثلاً ادیب ‘
شاعر فلسفی
مہندس وغیرہ
اسی طرح
خلفائے الہٰی
بھی ایک صنف
ہے اور نوع
انسانی کی اس
بلند پایا صنف
کو چند ایسی
خصوصیات و
لوازم عطا
کردئیے جاتے ہیں
کہ اس کو
دوسرے اصناف
انسانی سے
ممتاز بنادیں۔ اس
مقدس صنف کی ایک
اہم خصوصیت ”
استفاضہ و
افاضہ“ ہوتی ہے
یعنی اللہ
تعالیٰ سے فیضان
حاصل کرنا اور
اس کو عام
انسانوں تک
پہنچانا۔ یہ
وہبی علم
کہلاتا ہے ۔
وہبی علم کے تین
ذرائع ہیں۔ وحی
۔ الہام ۔ کشف
پھر وحی کی بھی
دو قسمیں ہیں۔
ایک وحی توسط
جو مخصوص
فرشتے کے ذریعے
بھیجی جاتی ہے۔
دوسری وحی بلا
توسط جس میں
کسی ذریعہ کے
بغیر خود ذات
باری تعالیٰ
سے علم حاصل
ہوتا ہے۔ وحی
ایک قطعی و یقینی
امر ہے اس لئے
وحی کو جس طرح
خود موحیٰ الیہ
(نبی یا خلیفة
اللہ) کے لئے
قطعی اور یقینی
قرار دیا گیا
ہے اسی طرح
دوسروں کے لئے
بھی یقینی و
قطعی اور قابل
حجت و عمل
قرار دیا گیا
ہے ۔ اس کے بر
خلاف الہام و
کشف صرف اسی کی
حجت ہے جس پر
وہ ظاہر ہو
اور دوسروں کے
لئے ظنی قرار
دیا گیا ہے۔
من ریِ الھلال
فعلیہ الصوم۔ اس
مختصر توضیح
سے ظاہر ہیکہ
خلیفة اللہ کا
صاحب وحی ہوتا
اس کی ایک اہم
خصوصیت ہے اور
جب حضرت محمد
مصطفی صلعم
افضل و خاتم
الانبیاءہیں
تو بدرجہِ اولیٰ
صاحب وحی ہیں
چنانچہ اللہ
تعالیٰ
فرماتا ہے۔
اس
آیہِ کریمہ
میں ” وما
ینطق “ کے
الفاظ عمومیت
نامہ کا مفہوم
رکھتے ہیں اس
لئے آنحضرت
صلعم کا ہر
قول وحی ہے
خواہ وہ آیات
قرآنی ہوں یا
احادیث شریفہ
‘ جن کی سند
حضرت رسول
اللہ صلعم کیطرف
صحیح ہو۔ اسی
لئے علماءنے
حضرت محمد
مصطفی صلعم سے
متعلق وحی کی
دو قسمیں قرار
دی ہیں۔ وحی
متلو وحی غیر
متلو ۔ وحی
متلو میں جو
الفاظ اللہ
تعالیٰ کی طرف
سے معلوم
کرائے جاتے ہیں
ان کی پابندی
و حفاظت لازم
ہوتی ہے اور
اسکو کلام
اللہ یا آیات
قرآنی کہا
جاتا ہے۔ اور
وحی غیر متلو
میں ایسی
پابندی نہیں
ہوتی بلکہ
رسول
منشاءالہٰی کی
توضیح اپنے
الفاظ میں بیان
کرناہے ۔ گویا
احادیث شریفہ‘
آیات کلام
اللہ کی صحیح
تفسیر اور تعمیل
قوانین قرآنی
کی تعلیم کا
فائدہ دیتی ہیں
حاصل کلام یہ
کہ جب آپ صاحب
وحی ہیں اور
آپ کا ہر قول
تعلیم خداوندی
پر مبنی ہے تو
صاف ظاہر ہے
کہ حضرت مہدی
علیہ السلام کی
بعثت کے بارے
میںجو کچھ
احادیث صحیحہ
بصورت اخبار
مغیبہ موجود ہیں
وہ من جانب
اللہ ہیں۔اس
لئے انکار مہدی
علیہ
السلام کو
کفر قرار دیا
گیا ہے کیونکہ
آیات الہٰی
اور احادیث
رسول کا انکار
لازم آتا ہے۔ آنحضرت
صلعم نے مہدی
موعود علیہ
السلام کی
ضرورت بعثت سے
متعلق کئی طریقوں
سے اہمیت و
تفصیل کے ساتھ
خبریں دی ہیں۔
طبقہ ِ انبیاءمیں
کسی نبی کے
بارے میں پیشنگوئی
کی ایسی نظیر
نہیں ملتی ۔
چنانچہ دار
قطنی ‘ طبرانی‘
ابو نعیم‘
حاکم وغیرہ
محدثین نے ابن
مسعودعلیہ
السلام سے
روایت کی ہے
کہ:۔
امام
احمد بن حنبل
نے اپنی مسند
میں ابو سعید
خدری سے روایت
کی ہے کہ:۔
اور
ابو داﺅد نے
بھی اس طرح کی
ایک روایت کی
ہے:۔
اس
حدیث شریفہ میں
خصوصاً ” لطول اللہ
ذالک الیوم “
کے الفاظ
ضرورت بعثت کی
قطعیت کو ثابت
کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ ایسی
احادیث بھی
ملتی ہیں جن
سے زمانہِ بعثت
کا بھی علم
ہوسکتا ہے۔چنانچہ
مسند امام
احمد بن حنبل
میں عبداللہ علیہ
السلام ابن
عباس رضی اللہ
عنہ سے اور
کنز العمال میں
حضرت علی رضی
اللہ عنہ سے
اور مشکوة میں
با ختلاف
الفاظ یہ روایت
امر دی ہے۔
اس
روایت سے نہ
صرف زمانہ
بعثت ظاہر
ہوتا ہے بلکہ
مہدی علیہ
السلام کا
حضرت رسول
اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی
طرح دافع
ہلاکت امت
ہونا بھی ثابت
ہورہا ہے اس
کے علاوہ ایسی
روایات بھی
ملتی ہیں جن
سے مہدی علیہ
السلام کا خلیفہ
اللہ ہونا
ثابت ہوتا ہے۔
چنانچہ العرف
الوری فی
اخبار المہدی
میں ابن ماجہ
اور حاکم اور
ابو نعم کے
حوالے سے حضرت
ثوباںعلیہ
السلام کی جو
روایت لکھی گئی
ہے یہ الفاظ
بھی ہیں۔
اس
حدیث شریفہ سے
ثابت ہے کہ
مہدی علیہ
السلام خلیفة
اللہ ہیں۔ اور
ان کی بیعت
فرض ہے کیونکہ
فبایعوہ“
کا مستفاد یہی
ہے اور ” لوحبوا علی
الثلج“ کے
الفاظ تاکید
اکید اور ” فانہ خلیفة
اللہ“ کے
الفاظ توجیہہ
فرضیت پر
دلالت کر رہے
ہیں۔ اس کے
علاوہ ایسی
روایات بھی
ملتی ہیں جن
سے حضرت مہدی
علیہ السلام
کا معصوم عن
الخطا ہونا
ثابت ہوتا ہے
چنانچہ
اکابرسلف
صالحین اہل
سنت نے اس حدیث
سے استدلال کیا
ہے کہ حضرت
رسول اللہ صلی
اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا۔
شیخ اکبر
محی الدین ابن
عربی نے
فتوحات مکیہ
کے باب (۶۶۳)
میں
تحریر فرمایا
ہے کہ۔
علامہ
طحطاوی نے حاشیہ
دارالمختار میں
تحریر فرمایا
ہے کہ:۔
امام
عبدالوہاب
شعرانی نے
چشمہ پر ایک
درخت کا نقشہ
کھینچتے ہوئے
شریعت اور
احکام کی تصویر
ان الفاظ میں
بیان کی ہے۔
اور حضرت مہدی
علیہ السلام
کو معصوم عن
الخطا ثابت کیا
ہے۔
ہوجائےگی
جیسا کہ ارباب
کشف نے اس کی
تصریح کردی ہے
اور مہدی علیہ
السلام ایسے
احکام بیان کریں
گے جو شریعت
محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کے
بالکل مطابق
ہوں گے اس طرح
کہ اگر رسول
اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم بھی
موجو د ہوں تو
مہدی علیہ
السلام کے
تمام احکام (کی
صداقت) کا
اقرار کریں گے
جیسا کہ اس
بات کا اشارہ
ذکر مہدی کی
حدیث میں بھی
پایا جاتا ہے
کہ وہ میرے
نقش قدم پر
چلےگا خطا نہیں
کرےگا۔ غرض
حضرت مہدی علیہ
السلام سے
متعلق جتنی
احادیث کثیرہ
موجود ہیں اتنی
کثرت کسی
دوسرے مسایل
کے بارے میں
کم ملےگی۔
برزنجی نے ” اشارہ فی
اشراط بساعہ “ میں
لکھا ہے کہ:۔
جب علماے
حدیث و اصول
نے احادیث کی
اتنی کثرت دیکھی
اور سب حدیثوں
کو بعثت مہدی
علیہ السلام کے
بارے میں متفق
پایا تو انھوں
نے مسئلہ مہدیت
کو تواتر معنوی
کے درجہ میں
داخل کرلیا
چنانچہ علامہ
قاضی منتجب
الدین جویزی
نے تحریر فرمایا
ہے کہ:۔
شیخ
ابن حجر ہشیمی
نے ” القول
المختصر“ میں
تحریر فرمایا
ہے کہ:۔
شیخ
عبدالحق محدث
دہلوی نے ” لمعات
شرح مشکوة کے
باب الساعة میں
لکھا ہے کہ:۔
نیز
لکھتے ہیں کہ:۔
بحرالعلوم
عبدالعلی ملک
العلماءنے ” اشراط
الساعة “ میں
لکھا ہے کہ:۔
اکابر
اہل سنت و
علماءحدیث و
اصول کے ایسے
بہت سارے
اقوال ہیں جن
سے ثابت ہوتا
ہے کہ مہدی علیہ
السلام کی
بعثت کی احادیث
تواتر معنوی
ہونے پر جمہور
کا اتفاق ہے کیونکہ
سب احادیث آمد
مہدی علیہ
السلام کے
بارے میں ایک
زبان ہیں
البتہ اختلاف
ہے تو آثار و
علامات میں ہے۔ نیز
یہ امر بھی
ذہن نشین ہونا
چاہئیے کہ جو
امور تواتر کے
درجے میں ہوں
ان سے قطعی و یقینی
علم حاصل ہوتا
ہے۔ جن کا انکار
نقل و عقل کے
خلاف ہے۔ محدث
علامہ حافظ
ابن حجرکی نے
”شرح نخبة
الفکر“ میں
تحریر فرمایا
ہے کہ:۔
اور
اصول فقہ کی
معتبر کتاب ”
اصول الشاشی“
میں لکھا ہے
کہ:۔
ہم
نے مختصر اً
جن امور کی
توضیح کی ہے
اس سے ناظرین
کرام اندازہ
کرسکتے ہیں کہ
یہ کیسی مہتم
بالشان پیشنگوئی
ہے جس طرح قیامت
وغیرہ پیشنگوئیوں
پر اعتقاد
لازم ہے۔ اسی
طرح بعثت مہدی
علیہ السلام کی
پیشنگوئی بھی
نا قابل انکار
ہے اور حق تو یہ
ہے کہ سلف
صالحین اہل
سنت کا پیرو ایسی
مستند و
مستحکم پیشنگوئی
سے ہرگز رو
گردانی نہیں
کرسکتا۔ ابن
خلدون نے ”محی
مہدی“ کے بارے
میں جو اختلاف
کیا ہے یہ
مسلمات اہل
سنت کے صریح
مغائر ہے اور
اس نے جن روایات
پر جرح کی ہے
اس کی تعدیل
بھی کیجاتی رہی
ہے۔ حال میں ہی
ایک کتاب ”
ابراز الوہم
المکنون من
کلام ابن خلدون“
و مشق شام سے
شائع ہوئی ہے
جس میں ابن
خلدون کے
اوہام باطلہ
کو رد کردیا گیا
ہے۔ یہاں اس کی
توضیح طوالت
کا باعث ہوگی۔
اور مناظر
احسن گیلانی
صدر شعبہ دینیات
جامعہ عثمانیہ
نے ” مکاتیب
امام غزالی“
کے مقدمہ میں
لکھا ہے کہ:۔ ”
اس قسم کا
مغالطہ جس سے
ابن خلدون نے
مسلمانوں کے ”
نظریہ مہدویت“
کو مضمحل کرنے
میں کام لیا
تھا ابن خلدون
نے اپنی تاریخ
کے مقدمہ میں
اس کا تذکرہ
کرکے کہ آئندہ
مہدی علیہ
السلام کی شکل
میں مسلمانوں
کو ایک نجات
دہندہ ملےگا
اس خیال کو اس
نے غیر عقلی
عقیدہ قرار دیا
ہے وجہ یہ بیان
کی ہے کہ
قوموں کا حال
بھی افراد کا
ہے بچپن جوانی
بڑھاپا کے دور
سے جیسے افراد
گذرتے ہیں
قوموں کو بھی
ان ہی ادوار
سے گذرنا پڑتا
ہے مسلمان
جوانی کے بعد
پیرانہ سالی
کے حدود میں
داخل ہوچکے ہیں
اب دوبارہ ان
کی نئی زندگی
کی امید ایسی
ہوئی جیسی کسی
بوڑھے آدمی کے
متعلق جوان
ہونے کی خوش خیالی
میں کوئی
مبتلا ہو۔ لیکن
ابن خلدون نے یہ
نہیں سوچا کہ
اسلام اور امت
اسلامیہ کا
تعلق کسی خاص
نسل یا خون یا
وطن کے
باشندوں سے نہیں
ہے۔ یہ ہوسکتا
ہے کہ ایک قوم
مثلاً عرب یا
ترک اپنے
ادوار ختم
کرچکی ہوں لیکن
کوئی دوسری
تازہ دم قوم
مسلمان ہوکر
اسلام کو پھر
ترو تازگی بخش
سکتی ہے۔ تیرہ
سو سال سے اس
کا تجربہ
ہورہا ہے اور
ہوتا رہےگا
اور اسی ابن
خلدون کے خیال
کی غلطی ظاہر
ہوتی ہے۔ باقی
مہدی علیہ
السلام کے
متعلق جو حدیث
کی کتابوں میں
روایتیں ہیں
ان پر ابن
خلدون نے جو
اعتراضات کئے
ہیں ان کی بھی
محدثانہ حیثیت
سے کوئی وقعت
نہیں ہے اور
مہدی علیہ
السلام کا عقیدہ
اہل سنت
والجماعت کا ایک
مسلمہ عقیدہ
ہے (مکاتیب
امام غزالی
صفحہ (۳۲)مطبوعہ
کراچی
(پاکستان) فی
الواقع ابن
خلدون کی جرح
خلاف اصول ہے
کیونکہ تواتر
کی صورت میں
راویوں کے ضعف
و قوت سے بحث
نہیں کیجاتی ۔
محدث علامہ
حافظ ابن حجر
کی شارح بخاری
نے ”شرح نخبتہ
الکفر “ میں
تحریر فرمایا
ہے کہ:۔
اس
کے علاوہ سلف
صالحین اہل
سنت و اکابر
علما ءحدیث و
اصول کے
مقابلہ میں ایک
مورخ کے ذاتی
خیالات کو ترجیح
نہیں دیجاسکتی۔ نیز
یہ کہنا بھی
صحیح نہیں ہے
کہ ” خلفائے
بنی عباس کے
زمانے میں اس
قسم کی احادیث
پروپگنڈے کے کیلئے
وضع کرلی گئی
ہیں “ یہ بات
اصول منقول کے
خلاف ہے اور غیر
معقول ۔ کیونکہ
ان روایات سے
صاف ظاہر ہیکہ
راویوں کے
زمانے اور
ظہور مہدی علیہ
السلام کے
زمانے میں صدیوں
کا فاصلہ ہے۔
پس جن لوگوں
نے اپنی ذاتی
ضروریات و
مصالح کے لئے
بعثت مہدی علیہ
السلام کی
روایات وضع
کرلی ہوں ‘ ان
کو ایسی روایات
کی وضع کرنے
سے ان کی ضروریات
و مصلحتوں میں
کیا فائدہ
پہنچ سکتا تھا
جن کا وقوع صدیوں
بعد ہونے کی
خبر دےگئی ہے۔! |
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||